دینی علوم کا دائرہ – ایک پیدا کردہ فکری مغالطہ


مذہبی مبلغین کی طرف سے عموماً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ درس نظامی اور سکول کالج کی تعلیم (ریاضی، کیمسٹری، بیالوجی وغیرہ) دو متضاد علوم ہیں، مثلاً عموماً نمازِ جمعہ کے موقع پر خطبا حضرات سے سنا گیا ہے کہ ”سکولوں میں تو بڑے شوق سے بچے بھیجتے ہو، مساجد میں علوم دینی کے لیے بچے بھیجتے ہوئے موت پڑتی ہے“ ۔

بس وہ یہیں سے ہی سکول اور کالج کے علوم کو دینی علوم سے خارج کر دیتے ہیں میرے نزدیک یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ”روزے تو بڑے شوق سے رکھتے ہو، نماز پڑھنے میں تکلیف ہوتی ہے کیا؟“ یعنی دو ایک جیسے احسن افعال کو متصادم قرار دے دینا۔

ایک مرتبہ تو ایک خطیبِ شعلہ بیان نے خطبہ جمعہ میں یہ چیلنج کر دیا تھا کہ ”یہاں کالجوں اور یونیورسٹیوں والے موجود ہیں، ان میں سے کوئی کھڑے ہو کے وہ دعا سنا دیں جو چار تراویح کے درمیان پڑھی جاتی ہے،“ یعنی انہوں نے کالج والوں کو خواہ مخواہ دشمن سمجھ رکھا ہے، ایک مرتبہ تو دل کیا کہ بندہ کھڑا ہو کے مولوی صاحب سے زمین کی کششِ ثقل کا قانون سن لے، لیکن مجھے یقین تھا کہ کشش ثقل تو دور کی بات، فاضلِ جلیل سے اسی دعا کے ترجمے کا تقاضا کیا جاتا تو حضرت کو سکون آ جاتا، بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ علوم کی درمیان تفریق نہایت نامعقول حرکت ہے، میں یہ بات ذرا صراحت کے ساتھ عرض کرتا ہوں۔

دیکھیے! سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و احادیث میں علم اور علماء کے جو جو فضائل بیان ہوئے ہیں ان سے مراد صرف مذہبی علوم اور مذہبی علماء ہیں؟ ، یعنی یہی لوگ جو تین سو سال پرانا مولوی نظام الدین کا مرتب کردہ آٹھ سالہ درسِ نظامی پڑھ لیتے ہیں، کیا علماء کے دائرے میں وہی لوگ ہی آتے ہیں؟ ہرگز نہیں

قرآن و احادیث میں جہاں بھی علم کی فضیلت کی بات ہوئی وہاں مطلقاً ”علم“ ہی آیا ہے، ایک حدیث ہے ”العلماء ورثہ الانبیاء“ اب مذہبی علماء اس حدیث میں بیان کردہ اعزاز اور فضیلت اپنی تھالی میں ہی کھینچ لاتے ہیں، کسی فزکس، کیمسٹری، جغرافیہ اور ادب والے کو اپنی صف میں گھسنے تک نہیں دیتے۔

یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا ہے ایک مرتبہ کسی مجلس میں پلاؤ کی ایک پرات پہ چار بندے اکٹھے آ گئے، جن میں سے ایک مولوی صاحب بھی تھے چاولوں میں دو لیگ پیس تھے، مگر شومئی قسمت وہ مولوی صاحب کے مخالف کنارے پہ تھے۔ مولانا نے تھوڑی دیر تو صبر کیا مگر چند ہی لمحوں بعد تھال کو ایسا گھماؤ دیا کہ وہ پیس مولانا کے عین سامنے آن ٹھہرے۔ ساتھیوں نے اعتراض کیا کہ حضرت یہ کیا؟ مولانا نے بڑے اطمینان سے کہا ”ارے ناہنجارو! کبھی ہمارے پاس آن بیٹھو تو دین کی بھی الف بے کا پتہ ہو، جاہلو، مرغے کی ٹانگیں عین قبلہ رخ پڑی تھیں اور تمہیں کچھ پرواہ تک نہ تھی، آخر مجھے ہی خیال آیا“ ۔ خیر، مولوی صاحب نے چکن اُڑایا اور باقیوں نے چھَڑے چاول۔ یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا، معاف کیجیے گا۔ دین کے ساتھ بھی کچھ ایسا معاملہ ہے کہ دینی اعزازات بھی یہ اپنی پلیٹ میں سمیٹ لیتے ہیں اور دنیا داروں کے ساتھ کمینے کا لاحقہ لگا دیتے ہیں۔

علماء، انبیاء کے وارث ہیں، اس حدیث کے ضمن میں ایک سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید کو ام العلوم تسلیم کرتے ہو؟ یقیناً آپ کا جواب ”ہاں“ میں ہو گا یعنی قرآن مجید تمام علوم (حدیث، فقہ، منطق، حیاتیات، فلسفہ، کیمیا، میقات، طبیعیات، معاشیات، سماجیات، ادب، حساب) کا سرچشمہ ہے یعنی یہ تمام علوم قرآنی ہیں اور بلاتامل یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآنی علوم ہی نبوی علوم ہیں، اب ذرا غور فرمائیے کہ فقہ، منطق، صرف، نحو، گلستان و بوستان کو تو نبوی علوم کے دائرہ میں شمار کیا جائے جبکہ فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، معاشیات، سماجیات، ادب اور ریاضی کو نبوی علوم سے خارج کر دیا جائے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ جس شخص نے صَرف نحو، تفسیر اور فقہ پڑھا ہو تو انبیاء کا وارث قرار پائے جبکہ فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی والے کو دنیاداری کے طعنے ملیں، یہ کیا معاملہ ہے؟ مختصر یہ کہ ”العلماء ورثہ الانبیاء“ کے حلقے میں جس طرح کریما، نامے حق، شرح مشکوٰۃ، نور الانوار پڑھنے والے شامل ہیں بعینہ اسی طرح فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی پڑھنے والے بھی شامل ہیں۔ معرکہِ بدر کے بعد رسول اللہ نے کفار مکہ کا فدیہ دس مسلم بچوں کو پڑھانا رکھا، یقیناً انہوں نے علم الاعداد، میتھمیٹکس، کیمیا اور طب ہی پڑھائی ہوگی۔

ایک اور حدیث میں صدقہ جاریہ کی تین اشکال میں سے ایک صورت ”علم ینتفع بہ“ شمار کی گئی ہے یعنی ایسا علم جو نفع بخش ہو، تو کیا خیال ہے کہ سکول و کالجز کے علوم ضرر رساں ہیں؟ پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہنے والوں کو بتایا جائے کہ اس کو سپرپاور فزکس والوں نے بنایا ہے،

اسی طرح ایک حدیث ہے
بے شک طالب علم کی رضا کے لیے فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں، اس حدیث کے زمرے میں وہ تمام طلباء آتے ہیں جو مدرسے، سکول یا کالج جاتے ہیں،

اسی طرح قرآن مجید میں ہے اللہ سے ڈرنے والے تو صرف علماء ہی ہیں اس آیت کے پس منظر میں علماء کی خاصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ جو دنیا کے سربستہ رازوں پہ غور و فکر کرتے ہیں، کیا سائنسی علوم غور و فکر کی دعوت نہیں؟

پس سکول اور کالج کے طالب علم بلحاظ فضیلتِ دینی، مدارس کے طلباء کے بالکل برابر اور مساوی ہیں، اپنے بچوں کو مدارس کے ساتھ ساتھ سکول اور کالج میں داخل کراتے ہوئے بھی مطمئن رہنا چاہیے کہ آپ کا یہ عمل عین عبادت ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ ثابت ہے۔

دین داری اور دنیا داری کی دو الگ الگ اصطلاحیں منبروں سے ترتیب پذیر ہوئی ہیں، ورنہ دنیاداری (معروف معانی میں ) بھی فی الحقیقت دین داری کی ہی شکل ہے، پس مدارس و مساجد کے علماء اور کالجز اور یونیورسٹیز کے پروفیسر فضیلت میں یکساں ہیں۔ اور مذہبی علماء کے ساتھ ساتھ فزکس کیمسٹری اور بیالوجی وغیرہ کا علم دینے والے پروفیسر/ٹیچر بھی انبیاء کے وارثوں میں شامل ہیں اور یکساں فضیلت مآب ہیں۔

Facebook Comments HS