ایڈ ورڈ سعیدکی کتاب‘‘Covering Islam ’’کی توضیحی قرأت


ایڈورڈ سعید بیسویں صدی کے نامور دانشوروں میں سے ایک تھے جو 2003 ء میں 67 سال کی عمر میں، کینسر کے عارضے میں مبتلا ہو کراس دنیا کو خیر باد کہ گئے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ عالم کی موت، ایک عالم کی موت ہوتی ہے۔ یہ قول ایڈورڈ ڈبلیو سعید کے حوالے سے صد فی صد درست ہے، وہ ہمہ جہت شخصیت تھے، اسی لیے ان کی موت دانشوری کے ایک باب کا اختتامیہ ثابت ہوئی ہے۔ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ، وہ نظریہ ساز، فلسفی اور مستشرق بھی تھے۔ انھیں زبانیں سیکھنے اور موسیقی سے بطور خاص لگاؤ تھا جس کا ثبوت ان کی موسیقی پر کتب Parallels and Paradoxes اور Musical Elaborationism سے دیا جا سکتا ہے۔ بہ ایں ہمہ وہ سیاسی تجزیہ کار بھی تھے، انھوں نے اپنے وقت کی طاقتور ترین شخصیات کے سامنے حقیقت کو بیان کرنے میں شمہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ سی این این اور فاکس ٹیلی ویژن ایسے چینلز اور برطانوی و امریکی اخبارات میں ان کے انٹرویوز پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ سنڈے ٹیلی گراف نے انھیں ”مغرب مخالف“ قرار دیا اور لکھا کہ ان کی تمام تحریریں مغرب کو الزام دینے کے سوا کچھ نہیں۔ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی عوام کے حقوق کے خواہاں تھے، اسی لیے فکری اور عملی سطح پر اس کے لیے فعال بھی رہے۔ اپنی قلم کی طاقت سے انھوں نے مشرقی دنیا کے بارے میں یورپی ڈسکورس کو بدلنے کی کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب رہے۔ یہیں سے مابعد نو آبادیاتی مطالعات کا باقاعدہ آغاز ہوا اور انھوں نے ”مشرق“ اور ”مغرب“ کے مابین Epistemological اور Ontological سطح پر فرق کرنے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں ان کی کتاب ”شرق شناسی“ (Orientalism) اہمیت کی حامل ہے۔ مذکورہ کتاب کا ترجمہ پاکستان میں محمد عباس نے کیا ہے جسے مقتدرہ قومی زبان، اسلام نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے برطانوی اور فرانسیسی مصنفین کی غلط بیانیوں کا محاکمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے مغربی مفکرین کی یہ کہ کر قلعی کھول دی کہ وہ مشرقی ثقافت اور باشندوں کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ یہ کتاب اس موقف کی تائید کرتی ہے کہ مغرب نے اسلامی ثقافت کو سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے اور مسلمانوں کے بارے میں جعلی اور بے بنیاد سوچ پر اپنے نظریات کی بنیادیں استوار کی ہیں۔ بعض ناقدین کے نزدیک، اس کتاب پر مشل فوکو کے خیالات کا اثر نمایاں نظر آتا ہے خاص طور پر مشل فوکو کی کتاب Truth۔ Knowledge۔ Power میں ان خیالات سے مماثلت موجود ہے لیکن ایڈورڈ سعید اس کی تردید کرتے ہیں۔

ان کی ایک اور کتاب ”ثقافت اور سامراج“ (Culture and Imperialism) ”شرق شناسی“ اور ”فلسطین کا سوال“ (The Question of Palestine) کا تسلسل ہے اور وہ نکات جو ”شرق شناسی“ میں بیان ہونے سے رہ گئے تھے وہ اس کتاب میں تفصیلاً بیان ہوئے ہیں۔ خاص طور پر نوآبادیات میں مغربی غلبے کے رد عمل کا بیان، ثقافتی مزاحمت، قوم پرستانہ شناخت اور قومی خود مختاری۔ یہ رجحانات نو آبادیاتی دور میں جس طرح پھل پھول رہے تھے جو آگے چل کر آزادی کی تحریکوں کی صورت میں نمایاں ہوئے، وہ مذکورہ کتاب کا موضوع ہیں۔ فرانز فینن نے اس سے پہلے اپنی کتابThe Wretched of the Earthمیں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ نو آبادیات میں نو آباد کار کسی قوم کے ماضی اور حال کی اپنے مخصوص ایجنڈے کے موافق، از سر نو تشکیل کرتا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے استشراق کی وضاحت کرتے ہوئے انٹونیو گرامچی کے Cultural Hedgemonyکے تصور کا بھی بار بار سہارا لیا ہے۔

ایڈورڈ سعید 1977 ء سے لے کر 1991 ء تک ”فلسطین نیشنل کونسل“ کے رکن رہے اور اپنی تقریروں کے توسل سے انسانیت کو اسرائیلی جارحیت، دہشت گردی اور بربریت سے آگاہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ امریکی حکمران مسلمانوں کے دشمن اور یہودیت کے پرستار ہیں۔ بعد ازاں وہ اوسلو معاہدے کے موقع پر اختلافات کی بنا پر ”فلسطین نیشنل کونسل“ سے مستعفی ہو گئے۔ ان کے خیال میں یاسر عرفات نے اوسلو معاہدے پر دستخط کر کے اسرائیل کو وہ رعایتیں دے دیں جس کا وہ حق دار نہیں تھا۔ وہ یاسر عرفات سے علاحدگی اختیار کرنے کے باوجود فلسطین کی آزادی کے لیے کام کرتے رہے جس کی وجہ سے انھیں عرب دنیا میں تکریمی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ایڈورڈ سعید تمام عمر یورپ کی مرکزی حیثیت کا استرداد کرتے رہے، مشل فوکو کی فکر کو اپناتے ہوئے مغربی ڈسکورس کو چیلنج کیا، ادب، کلچر، سیاست اور لسانیات ان کے خاص میدان رہے۔ ان کی فکر ژاں پال سارتر، مشل فوکو، انٹونیو گرامچی، جوزف کانریڈ، ابراہم ابولہود، فرانز فینن، ریمنڈ ولیمز اور نوم چومسکی کے خیالات سے متاثرہ دکھائی دیتی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی، امریکا سے ان کے پی ایچ ڈی کا تحقیقی کام جوزف کانریڈ پر تھا جس کارن انھیں جوزف کی تحریروں کا مطالعہ ژرف نگاہی سے کرنے کا موقع ملا، وہ انھیں عظیم فکشن نگار تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی ادب کا نمایندہ ناول نگار خیال کرتے ہیں۔ نوم چومسکی کے خیالات سے موافقت رکھنے کے باوجود بعض مقامات پر اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ نوم چومسکی کو مشل فوکو سے زیادہ اہم مفکر سمجھتے ہیں۔ وہ ویکو سے بھی متاثر ہیں جس کے اثرات ان کی پہلی کتاب Beginings میں واضح طور پر موجود ہیں۔ اسی کتاب میں انھوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا تھا کہ اسرائیل ایسا سماج ہے جس کی بنیادیں مذہبی اور علمی غلط فہمیوں پر استوار کی گئی ہیں۔

اب تک ان کی سیاست، ثقافت، موسیقی اور ادب کے موضوعات پر کم و بیش اٹھارہ کے قریب کتب شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں Orientalism، The politics of Dispossession، Reflection on Exile اورCulture and Imperialism، نے خاص شہرت حاصل کی۔ Covering Islamبھی ان کی اہم کتاب ہے جو پہلی بار ”انقلاب ایران“ کے دو سال بعد 1981 ء میں اشاعت پذیر ہوئی۔ اس کے بعد اضافوں اور ترامیم کے ساتھ 1997 ء میں دوبارہ شائع ہوئی جس میں ایڈورڈ سعید نے مغربی میڈیا کی کارستانیوں کو موضوع بنایا ہے۔ مغربی میڈیا نے گزشتہ دہائیوں میں جس طرح اسلام کے تصور میں بگاڑ پیدا کیا ہے اور اسے دہشت گرد اور انسانی حقوق سے لا تعلق بنا کر پیش کیا ہے اس پر کڑی تنقید اس کتاب میں موجود ہے۔ علم انسان کو سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام اہل علم اور جاہلوں میں فرق کرتا ہے۔ انسان جو فطری طور پر منطقی دماغ لے کر تخلیق ہوا ہے مغرب اسے غیر منطقی بنانے اور ان دائروں اور لکیروں میں سوچنے پر آمادہ کرتا ہے جو انھوں نے خود اپنے مفادات کے تابع رہ کر اختراع کی ہیں اور یہ کام وہ فلم، ٹی وی، اخبارات، رسائل، کتب، اشتہارات اور ریڈیو ایسے ذرائع ابلاغ کی مدد سے سر انجام دیتا ہے۔ مغربی میڈیا، وہ جو ان کے حق میں نہیں اسے چھپاتا ہے اور وہ جو ان کے مفادات میں ہے اسے نشر کرتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے بل بوتے پر وہ ایک ایسا ڈسکورس تشکیل دیتا ہے جو مبنی بر حقائق نہیں۔ مغربی اور امریکی ثقافتوں میں اسلام کی بابت غلط بیانی اور رومانی عکس بندی قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہے، جس میں تاحال تبدیلی وقوع پذیر نہیں ہوئی۔

اسلام کو یورپ میں جس طرح نمایاں کیا جاتا ہے وہ اسلامی روح کے خلاف ہے۔ مغربی میڈیا مسلمانوں کو کٹر، انتہاپسند، مذہبی جنونی، بے عقل، خواہشات کے اسیر، وحشی اور عیاش ثابت کرنے پر پورا زور صرف کرتا آیا ہے اور یہ سب اس لیے کیا جاتا رہا ہے کہ یورپ اسلام کو اپنا حریف خیال کرتا ہے کیوں کہ اسلام کے آغاز سے ہی اس کی عسکری فتوحات اور تہذیبی اثر و رسوخ کا دائرہ بڑھتا چلا گیا۔ پہلے ایران، شام اور مصر، پھر ترکی اور اس کے بعد شمالی افریقہ پر اسلام کے پھیلاؤ نے یورپی دنیا کو خوف زدہ کر دیا۔ اس کے بعد نویں صدی عیسوی تک سپین، سسلی اور فرانس کے کچھ حصے مفتوح ہونے کے بعد تیرہویں اور چودھویں صدی عیسوی میں مشرق بعید، انڈونیشیا اور چین کی سرحدوں تک اسلام کی وسعت نے یورپ کو مزید دہشت میں مبتلا کر دیا۔ عیسائی مصنفین جو اسلامی فتوحات کے مناظر دیکھ رہے تھے، اعلا درجے کے اسلامی تمدن کے متعلق صحیح اور حقیقی علم میں شمہ برابر دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔ وہ اسلام کی قوتوں کو کمزور شکل میں پیش کرتے تھے، وہ ایسا یورپ کی ضرورت کے پیش نظر کر رہے تھے۔ اس دور میں انھوں نے اسلام کو۔ 8 F ”Demonic Religion of Apostasy“ کہا اور اسے زیر کرنے کی غرض سے صلیبی جنگوں کا آغاز کیا۔ ان جنگوں میں تعصب، تنگ نظری، سفاکی، بد عہدی اور بد اخلاقی کا جو مظاہرہ یورپ نے کیا اس کی مثال تاریخ کے صفحات میں کہیں نہیں ملتی۔ ان جنگوں کا بنیادی محرک تو مذہبی تھا لیکن انھیں سیاسی، سماجی اور معاشی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ غور کریں تو یورپ کے لیے اسلام بلا وجہ دہشت اور خوف کی علامت نہیں بنا بلکہ صلاح الدین ایوبی کی فتوحات سے لے کر سترہویں صدی عیسوی تک یورپ پر عثمانی سلطنت کی طاقت مسلسل خطرہ بن کر مسلط رہی۔ ایڈورڈ سعید کے خیال میں، درحقیقت اسلام دہشت گرد نہیں، انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے والا مذہب ہے، وہ عورتوں کے بارے میں تنگ نظر نہیں بلکہ انھیں آزادی دینے کا خواہاں ہے۔ تشدد، ظلم، تنگ نظری اور رجعت پسندی کے پہلووں کو اجاگر کرنا اور اسلام کے عدل، انصاف، رواداری، ایثار اور باہمی سلامتی ایسے مثبت پہلوؤں سے صرف نظر کرنا مغربی میڈیا کا وتیرہ بنتا جا رہا ہے۔ اسلام کا یہ مخصوص تصور یورپی شاعروں، ناول نگاروں اور سماجی علوم کے ماہرین کی مشرق کے حوالے سے تحریر کی گئی کتب میں بھی نمایاں ہوا ہے۔ اس حوالے سے ایڈورڈ سعید نے گوئٹے، نروال، رچرڈ برٹن، فلوبرٹ اور لوئی میسیگان کے نام بطور خاص گنوائے ہیں۔ ایڈورڈ سعید کا خیال ہے کہ :

”Yet in spite of these figures and others like them، Islam has never been welcome in Europe۔ Most of the great philosophers of history from Hegal to spengler have regarded Islam without much enthusiasm۔“ (Covering Islam، P: 13 )

اسلام کی جو تصویر ان مفکرین اور نثر نگاروں نے یورپ میں پیش کی، اس کو بڑی محنت اور عرق ریزی سے محکم اور مستحکم کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان مغربی نرگسیتی خیالات میں ذرہ برابر تبدیلی رونما نہیں ہوئی اور اب بھی مشرق کو مغرب کے مقابلے میں چھوٹا اور کمزور دکھایا جاتا ہے، حالاں کہ مشرق وسیع و عریض اور ارفع فکری روایت کا حامل ہے۔ اس ضمن میں ایڈورڈ سعید نے وی ایس نیپال کی تحریروں کا بطور خاص حوالہ دیا ہے جن میں ”Among the Believers:An Islamic Journey“ ، ”Guerrilas“ اور ”A Bend in the River“ شامل ہیں۔ ان میں اس کا اسلام کے خلاف معاندانہ رویہ کھل کر سامنے آتا ہے۔

ایڈورڈ سعید کا خیال ہے کہ مغرب اسلام سے خوف زدہ ہے جس کے لیے اس نے Islamo phobiaکی اصطلاح گھڑی ہے جو اس وقت پورے یورپ کے سر پر بھوت بن کر سوار ہے۔ اس مصنوعی خوف نے یورپ میں بالخصوص اور باقی دنیا میں بالعموم، اسلام کے منفی پہلو اور تنفر کو اجاگر کیا ہے۔ اسلام کے خلاف تنفر کو پھیلانے میں مغربی میڈیا نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ اسلام کا حقیقی اور مثبت پہلو اجاگر کرے، اس نے مسلمانوں اور اسلام کو دہشت گرد، جنونی، قدامت پسند، متعصب اور متشدد مذہب کے روپ میں پیش کر کے یورپی حکمرانوں کی آواز میں آواز ملانے کی کوشش کی ہے۔ غیر مسلم صحافیوں، تجزیہ کاروں اور رپورٹروں نے دہشت گردی اور اسلام کو اس طرح گڈ مڈ کیا ہے کہ اسلام کا حقیقی تصور دھندلا دیا ہے۔ وہ سامعین جو میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار پر یقین رکھتے ہیں اور خود تجزیہ کرنے کے ہنر کو بروئے کار نہیں لاتے وہ اسلام کے اس یورپی تصور کو حقیقی خیال کر لیتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے کہ اسلام جمہوری اقدار، آزادی اور انسانی حقوق سے بے بہرہ مذہب ہے۔ غور کریں تو یہ صورت حال سرد جنگ کے بعد زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ میڈیا کے اس متعصبانہ کردار نے یورپ میں ”اسلاموفوبیا“ کو فروغ دیا ہے جس سے ”ہم“ اور ”وہ“ کے اس تصور کو زیادہ فروغ ملا ہے جو ”مشرق“ اور ”مغرب“ میں خلیج حائل کرتا ہے۔ ”ہم“ (مغرب) بر تر ہے اور ”وہ“ (مشرق) کم تر ہے۔ ”ہم“ کو حق حاصل ہے کہ حکومت کرے اور ”وہ“ محکوم رہے۔ اس تصور کو تاریخ، لسانیات، علم الانسان اور ڈارون کے نظریات سے تقویت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ”مغرب“ کی اقدار آزاد خیالی اور انسان دوستی کی ہیں۔ ان کوا علا درجے کے ادب، باشعور علمیت اور منطقی تحقیق کی تائید حاصل ہے۔ اس یک طرفہ حقیقت نے انسانوں کے مابین سرحدیں تعمیر کیں ہیں جن کی بنا پر نسلوں، قوموں اور تہذیبوں کو متشکل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مغرب، اسلام کو Monolithic and Frightening Entity (وسیع اور مہیب شے ) کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کے مد مقابل وہ لبرل ازم، آزادی، جمہوریت اور انسان دوستی کے پروپیگینڈا کو فروغ دے کر اپنی نا انصافیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یوں تو میڈیا اس بات کا دعویٰ کر رہا ہوتا ہے کہ وہ حقیقت پیش کر رہا ہے لیکن وہ حقیقت پیش نہیں کر رہا ہوتا بلکہ من چاہی حقیقت تشکیل دے رہا ہوتا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے Covering Islamمیں مغرب کے جھوٹے پروپیگنڈے کی دل کھول کر مذمت کی ہے اور مشرق اور مشرقی روایات کے حوالے سے مغربی میڈیا کے تعصب کی کھل کر پردہ شکنی کی ہے۔ ایڈورڈ سعید کی Covering Islam تین حصوں میں منقسم ہے۔ پہلا حصہ Islam as Newsکا عنوان لیے ہوئے ہے جس میں اسلام اور یورپ کے مابین تعلق کا احاطہ کیا گیا ہے۔ تاریخی تناظر کو مد نظر رکھتے ہوئے اس باب میں ”اسلامو فوبیا“ کی نفسیاتی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جن کا سراغ صلیبی جنگوں سے لے کر دور حاضر میں عرب ممالک کے تیل کے ذخائر میں موجود ہے۔ یہ تیل دنیا کی توانائی کی ضرورت کا ایک تہائی حصہ پورا کرتا ہے۔ تیل کی اس اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے عرب ممالک نے (جہاں تیل وافر مقدار میں موجود تھا) 1973 ء میں اس کی رسد ترقی یافتہ ممالک کو روک دی اور دیکھتے ہی دیکھتے تیل کی قیمت چھ ماہ میں تین ڈالر فی بیرل سے بارہ ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ اس پابندی کی بنیادی وجہ عرب اسرائیل جنگ میں امریکا کا اسرائیل کا ساتھ دینا اور عربوں سے مخاصمت کا اظہار تھا۔ پابندیوں کے نتیجے میں دنیا معاشی سست روی کا شکار ہو گئی۔ 1978 ء میں دوبارہ اسی طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جس سے امریکا جیسا مضبوط ملک معاشی پریشانی کا شکار ہو گیا۔ مشرقی ممالک میں سے ایران اور سعودی عرب ایسے ممالک ہیں جن کے پاس تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ عراق، قطر اور کویت ایسے ممالک ہیں جہاں تیل وافر مقدار میں موجود ہے (ذہن میں رہے کہ سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی ”آرامکو“ امریکی کمپنی ایپل، امیزون اور گوگل سے کہیں زیادہ مالیت کی حامل ہے۔ ) تیل کی رسد کی بار بار کی پابندیوں نے یورپ کو خوف میں مبتلا کر دیا۔ ستر، اسی اور نوے کی دہائیوں میں عالمی دنیا میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کی بنیادی وجوہات بھی تیل کی صنعت ہے۔ اسی دور میں مشرقی ممالک میں بالعموم اور مسلمان ممالک میں بالخصوص سیاسی خلفشار دیکھنے کو ملتا ہے، مثلاً لبنان میں سول جنگ، کردوں کے مسئلے کی اچانک مرکزی اہمیت، افغانستان پر 1978 ء کا روسی حملہ اور اس کے سد باب کے لیے امریکی فنڈنگ، الجیریا اور مراکش کا جنوبی صحارا پر نزاع، پاکستانی وزیر اعظم کی پھانسی اور فوجی مارشل لا، ایران میں جدت کا فروغ اور اس کے رد عمل کے طور پر انقلاب، ایران عراق جنگ، حماس اور حزب اللہ جیسی تنظیموں کی تشکیل اور اسرائیل میں بم دھماکوں کی لہر وغیرہ۔ یہ وہ اہم واقعات ہیں جو ان دہائیوں میں وقوع پذیر ہوئے۔ اس صورت حال کا ذکر ایڈورڈ سعید نے کتاب میں ان الفاظ میں کیا ہے :

”The brutally impressive facts are، of course، that the Gulf oil producing states suddenly appeared to be very powrful: there was an extraordinarily ferocious and seemingly unending civil war in Lebanon; Ethiopia and Somalia were involved in a long war; the Kurdish problem unexpectedly became pivotal and then، after 1975۔ just as unexpectedly subsided۔“ (Covering Islam، P: 18 )

یہ وہ دور ہے جب دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس اور برطانیہ کی جگہ امریکا سرکار نے لے لی تھی اور اب طاقت کا مرکز برطانیہ سے امریکا میں منتقل ہو چکا تھا۔ 1991 ء میں خلیجی جنگ (Persian Gulf War) ، اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ اور افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کے توسط سے وہ مشرق میں اپنے اقتصادی مفادات کو تحفظ فراہم کر رہا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد روس امریکا کے مد مقابل بڑی طاقت کے طور پر موجود تھا۔ اسلام کے مانند کمیونزم بھوت بن کر یورپ کے اعصاب پر سوار تھا۔ روس اور امریکا کی باہمی چپقلش دنیا میں سرد جنگ (Cold war) کی صورت میں نمایاں ہوئی۔ عسکری قوت، تکنیکی ترقی، خلائی دوڑ، جوہری ہتھیار اور دیگر شعبہ جات میں اس کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ امریکا نے اشتراکی نظریات کو روکنے کے لیے مغربی یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک سے گٹھ جوڑ کیے، انھیں جدیدیت کے پروجیکٹ کے تحت امریکا صغیر بنانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کئی بار محسوس ہوا کہ اب تیسری عالمی جنگ وقوع پذیر ہوگی۔ استعمار اور طاقت کی مرکزیت کی اس منتقلی نے یورپ کی سرکاری اور غیر سرکاری الیکٹرانک صحافتی صنعت پر اثرات مرتسم کیے۔ انقلاب ایران اور بوسنیا جیسے بین القومی مسائل کی یکبارگی طویل مدت تک، متواتر اور مسلسل کوریج نے صحافتی صنعت کو بے نقاب کر دیا۔ مغربی میڈیا نے ایرانی اور اسلامی نقطہ نظر سے اغماض برتتے ہوئے اسلام کی مسخ شدہ تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔ المیہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے پاس سکائی نیوز، وائس آف امریکا، سی این این اور بی بی سی جیسے بڑے نیوز نیٹ ورک موجود نہیں، لہٰذا اسے چھوٹے چھوٹے نیوز نیٹ ورک پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس کے ناظرین مغربی دنیا میں نہ ہونے کے مترادف ہیں۔ اس لیے وہ مغربی میڈیا کے پروپیگینڈا کا شافی جواب دینے سے قاصر ہے۔ تعجب انگیز بات ہے کہ خلیج فارس کی جنگ میں عرب دنیا نے زیادہ انحصار، سی این این کی نشریات پر کیاکیوں کہ ان کے پاس کوئی طاقتور نیوز نیٹ ورک موجود نہیں تھا۔ اسی طرح عرب دنیا مشرق اور اسلام سے متعلق تحقیقات کے لیے، بھی یورپی کتب خانوں اور تحقیقی اداروں جہاں ”علاقائی مطالعات“ (Area Studies) کے شعبے قائم کیے گئے ہیں، سے استفادہ کرتی ہے۔ پوری اسلامی دنیا میں ایک بھی مرکزی تحقیقاتی ادارہ موجود نہیں جو مشرقی اور اسلامی موضوعات پر تحقیق کو موضوع بناتا ہو، یوں عرب اور مشرقی دنیا یورپی فکر ون ظر کی صارف بن کر رہ گئی ہے اور یورپ کے اعلامیہ ( Discourse) کو جو امریکا اور اسرائیل متعین کرتے ہیں، اپنانے پر مجبور ہے۔

کتاب کا اگلا باب ”The Iran Story“ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے۔ اس باب میں ایڈورڈ سعید نے مغرب میں اسلامی انقلاب کی صحافتی تصویر کشی، رضا شاہ پہلوی کی شہنشاہیت اور تہرانی سفارت خانے میں امریکی محاصرین کے بحران (Hostage Crisis) کو موضوع بنایا ہے۔ انقلاب ایران کی مرکزی شخصیت امام خمینی کی ہے جسے 1964 ء میں ایران بدر ہونے پر مجبور کر دیا گیا تھا، وہ پہلے ترکی، پھر عراق اور بعد ازاں فرانس میں مقیم ہوئے اور ایرانی عوام کے حقوق اور استعماری پالیسیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ ان کے پیغامات ایرانی عوام تک ریکارڈ ہو کر پہنچتے رہے جو آگے چل کر انقلاب کا باعث بنے۔ مہدی بازرگان، بنی صدر اور قطب زادہ نے بھی ان کی آواز میں آواز ملائی اور انتہائے کار فروری 1979 ء میں وہ امریکا نواز شہنشاہ رضا شاہ کی حکومت گرانے میں کامیاب ہو گئے۔ انقلاب ایران کے بعد ایران کا امریکی سفارت خانہ جاسوسی کا اڈا بن گیا۔ امریکی حکام یہاں ایرانی انقلاب کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ ان سر گرمیوں کو روکنے کے لیے نومبر 1979 ء کو یونیورسٹی طلبا نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے، لگ بھگ ساٹھ امریکی حکام کو یرغمال بنا لیا۔ یہ محاصرہ چار سو چوالیس ( 444 ) دن جاری رہا۔ کچھ ہی دنوں بعد تیرہ محاصرین کو آزاد کر دیا گیا جن میں عورتیں اور غیر امریکی باشندے شامل تھے۔ ایرانی طلبا کے اس عمل پر امریکی صدر جمی کارٹر نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جلا وطن رضا شاہ پہلوی کو علاج کے بہانے امریکا بلا لیا، سفارت خانے کے عملے کو آزاد کرانے کے لیے ”آپریشن ایگل کلا“ (Operation Eagle Claw) کا اعلان کیاجوبری طرح ناکام ہوا جس میں آٹھ امریکی اہل کار ہلاک ہوئے۔ امریکا ایران کی مخاصمت کو، ایرانی تیل کی صنعت میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ برطانیہ اور امریکا کی کمپنیوں نے ایرانی تیل کے ذخائر کے بڑے حصے پر شروع دن سے اپنی حاکمیت قائم کر رکھی تھی جس سے تیل کی صنعت کے ثمرات ایرانی عوام تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ اس چیز کو بھانپتے ہوئے 1951 ء میں ایرانی وزیر اعظم محمد مصدق نے، ایرانی تیل کی صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں اور امریکی سی آئی اے نے اس کے خلاف سازش کر کے عہدے سے ہٹا دیا اور ایسے راہنما کو سامنے لائے جو ان کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ کرمت روز ویلٹ (Kermit Roosevelt نے اپنی کتاب Countercoup میں اس کا تفصیلاً ذکر کیا ہے۔ اس کا ذکرتے ہوئے ایڈورڈ سعید لکھتے ہیں کہ:

”Somehow، too، the violation of Iranian sovereignty that occurred in August 1953، when the CIA in conjunction with the anglo۔ Iranian Oil Company overthrew Mohammad Mossadegh، merited little investigation، the assumption being that the United States as a great power is entitled to change governments and forgive tyranny when it is inflicted on illiterate nonwhites at our discretion۔“ (Covering Islam، p: 115 )

اب ایران میں تشکیل پانے والی نئی حکومت سیکولر، جدیدیت پسند، اشتراکیت مخالف اور مغربی ایجنڈے کی حامی تھی۔ اس پر ایرانی عوام نے شدید غیض کا اظہار کیا جس پر رضا شاہ پہلوی نے خفیہ پولیس ساواک (SAVAK) کے ذریعے عوام کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی۔ بقول ایڈورڈ سعید اس میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی ”موساد“ ، امریکی ”سی آئی اے“ اور ”ایف بی آئی“ کی اعانت بھی شامل تھی۔ آگے چل کر ان حالات کو آیت اللہ خمینی نے محسوس کیا اور ایران میں استعماری پالیسیوں، اسلام مخالف ایجنڈے اور جدیدیت پسندی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انقلاب لانے میں کامیاب ہو گیا۔ ایڈور سعید کے خیال میں ان حالات کی رپورٹنگ میں مغربی میڈیا کا کردار جانب دار رہا۔ ٹیلی ویژن اور اخباری رپورٹروں نے وہی کچھ پیش کرنے کی کوشش کی جس کا امریکا خواہش مند تھا، نہ کہ جو مبنی بر حقیقت تھا۔ اس ضمن میں انھوں متعدد یورپی اخبارات اور ٹیلی ویژن پروگراموں کے حوالے دیے ہیں جن میں ”کولمبیا جرنلزم“ (Columbia Journalism) ، ”سائنس میگزین“ (Science Magazine) ، ”فارچون“ (Fortune) ”نیو یارک ٹائمز“ (New York Times) ”شکاگو ٹریبیون“ (Chicago Tribune) ”لاس اینجلز ٹائمز“ (Los Angeles Times) اور ”واشنگٹن پوسٹ“ (Washington Post) وغیرہ جیسے اخبارات اور رسائل کے نام قابل ذکر ہیں۔ مذکورہ اخبارات کے رپورٹرز کی رپورٹنگ سطحی، جذباتی اور حقائق سے عاری تھی۔ جن علاقوں سے وہ معلومات یکجا کر رہے تھے اس کی زبان، ثقافت اور تاریخ سے وہ ناواقف تھے۔ اخبارات رپورٹرز کو خاص علاقے میں زیادہ مدت قیام پذیر ہونے کی اجازت بھی نہیں دے رہے تھے کہ شاید ان کی جنگی، علاقائی، سیاسی اور تاریخی بصیرت میں بہتری کا امکان پیدا نہ ہو جائے اور وہ چکا چوند، چٹخارے دار، ناظرین و سامعین کو لبھانے والی خبروں کے بجائے، درست، حقائق سے بھر پور اور اہم موضوعات پر خبریں اور پروگرام نشر کرنا شروع نہ کر دیں۔ جو صورت حال ایرانی انقلاب اور ایران میں سفارت خانے کی یرغمالی مسئلے کی تھی اسی طرح کی صحافیانہ ذمہ داری 1978 ء کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے، 1991 ء کی خلیجی جنگ، 1993 ء کے اوسلو معاہدے، واٹر گیٹ سکینڈل، سعودی عرب کویت اور روس افغان مسئلے سے متعلق رہی۔ ایڈور سعید مغربی روزناموں، ہفت روزوں، ماہناموں، ٹیلی ویژن پروگراموں اور دیگر صحافتی رسائل کی صحافیانہ ذمہ داریوں کو مدلل انداز میں گرفت میں لیتے ہوئے فرانسیسی میڈیا میں رولیو (Rouleau) جو Le Mondeاخبار میں لکھ رہا تھا، سے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

کتاب کا تیسرا اور آخری بابKnowledge and Power ”۔“ کے عنوان سے تحریر کیا گیا ہے، جہاں اس کی فکر مشل فوکو کے خیالات سے متاثر نظر آتی ہے، خاص طور پر ”علم کے آثار قدیمہ کا علم“ (The Archaeology of Knowledge) اور ”نظم و ضبط اور سزا“ (The Discipline and Punishment:) جیسی کتب کے اثرات کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ وہ علم کو طاقت کے سر چشموں سے جوڑتے ہوئے استشراقیت کو مغربی استعمار کا مرہون منت اور آلہ کار خیال کرتا ہے۔ ایڈورڈ ڈبلیو سعید کی پوری بحث میں بیانیہ نہایت اہمیت کا حامل ہے جسے مشرق کے سلسلے میں مغرب نے تشکیل دیا ہے۔ بیانیہ کی قوت یا دیگر بیانیوں کو متشکل ہونے سے روکنے کی قوت، استعماری طاقتوں (بطور خاص برطانیہ، فرانس اور امریکا) کے لیے کتنی اہم ہے، اس کا اندازہ لگانا عام فرد کے لیے مشکل ہے، اسی لیے یورپ اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے ضرورت کے تابع بیانیے تخلیق کر کے مشرقی لوگوں کو کاہل، کسالت پسند، دھوکے باز اور عقل سے عاری باور کرانے کی ہمہ وقت کوشش میں مصروف عمل نظر آتا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے اس ضمن میں، کے ایم پانیکر کی کتاب ”ایشیا اور مغرب“ کا حوالہ دیا ہے جس میں اس صورت حال کی درست عکاسی کی گئی ہے۔ مشرقی خطے کا علم اور اس کی ثقافت سے باخبر ہونا، نظریاتی اور مستقل کام ہے جسے مغرب نے منصوبہ بندی کے تحت شروع کیا ہے اور نسل در نسل سرمایہ کاری کے ذریعے، استشراقیت کو ایک نظام کی شکل دے دی ہے۔ اس نظام میں من چاہی معلومات کو کشید کر کے، مخصوص انداز میں متعین کیا جاتا ہے اور پھر اسے مغرب کے ذہنوں تک منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس نظام سے حاصل شدہ علم فکری تجسس (Intellectual Curiosity) کے بجائے غلبے کی خواہش پر مبنی ہوتا ہے جس میں تجارت، نوآبادیات اور عسکری تسلط کو اولیت حاصل ہوتی ہے۔ جرمنی کی جامعات میں سنسکرت کی تعلیم، حدیث کا مطالعہ اور خلافت کے تصور کو سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے تاکہ اجنبی ثقافت کی روح کو گرفت میں لے کر اس پر غلبہ حاصل کیا جا سکے، اس نظام کو تقویت دینے کے لیے مغرب میں باقاعدہ ادارے قائم کیے گئے ہیں جن میں امریکی اورینٹل سوسائٹی کا نام قابل ذکر ہے۔ اس وقت امریکی خارجہ پالیسی کا ہدف دنیا کو ایک قانون کی حکمرانی کے تابع لانا ہے، اسی لیے وہ دوسری عالمی جنگ سے لے کر تاحال فعال ہے۔ اس کی مثال پاناما، گریناڈا، لیبیا اور خلیج فارس کی جنگوں سے دی جا سکتی ہے۔ مزید براں وسطی اور جنوبی امریکا میں حکومتوں کی پالیسیوں میں براہ راست مداخلت کسی کی نظروں سے اوجھل نہیں۔ مشرقی ایشیا میں دو بڑی جنگوں کے بعد عسکری تحریکوں کی اعانت، حکومتوں کے تختے الٹنا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف وغیرہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جو کچھ امریکی پالیسی ساز سوچتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ وہی پوری دنیا سوچے۔ اس سارے عمل کو بروئے کار لانے کے لیے امریکا نے یہی بیانیہ تشکیل دیا ہے کہ وہ ملکی مفادات کو تحفظ دے رہا ہے، نا انصافی کا خاتمہ کر رہا ہے اور امن و امان قائم کرنے کی مخلصانہ کوشش میں مصروف ہے۔ امریکی اورینٹل سوسائٹی کے علاوہ MESAبھی کام کر رہی ہے جس کے ء تحت 1976 ء میں ”The Study of the Middle East:Research and Scholarship in the Humanities and the Social Science“ کے عنوان سے لیونارڈ بنڈر نے کچھ دیگر ماہرین کے تعاون سے ضخیم کتاب مدون کی۔ اس کتاب کے دیباچے میں لیونارڈ بنڈر نے اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ یورپ میں ”علاقائی مطالعات“ کا رواج در اصل سیاسی وجوہات کا حامل ہے۔ امریکا کی پرنسٹن یونیورسٹی میں ”فورڈ فاونڈیشن“ کے تحت بھی، مشرقی مما لک کے حوالے سے مطالعات کا سلسلہ جا ری ہے۔ اس ضمن میں 1971 ء سے 1978 ء کے درمیان کئی سیمیناروں کا انعقاد کیا گیا جن میں مشرق وسطیٰ اور اسلام سے متعلق موضوعات کو زیر بحث لایا گیا۔

ایڈورڈ سعید نے Covering Islamمیں اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ مستشرقین نے بظاہر ”بیانیہ حقیقت“ (Descriptive Realism) کی تکنیک کا استعمال کیا ہے تاکہ اپنے کہے کو اعتبار بخشا جا سکے، خواہ وہ حقیقت سے دور ہی کیوں نہ ہو۔ اس کمتر درجے کے عمل پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ ”سائنسیت اور عقل مندی“ کا راگ الاپنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ مشرقیوں کو بے وقوف بنایا کر ان پر غلبہ کو طوالت دی جا سکے۔ اس طرح کے بیانیے کو ایڈورڈ ڈبلیو سعید نے ”متضاد علم“ ( Antithetical Knowledge) کا نام دیا ہے۔ جس کی وضاحت وہ یوں کرتے ہیں :

”By antithetical knowledge i mean the kind of knowlege produced by people who quite conciously consider themselves to be writing in opposition to the prevailing thought“ (Covering Islam، p: 157 )

آگے چل کر ایڈورڈ ڈبلیو سعید نے اسلامی متضاد علم کی ممکنہ اقسام کو بیان کیا ہے جن کے پس پشت تین قوتیں کار فرما ہیں۔ پہلی قوت ان نوجوان محققین کی ہے جو بڑے محققین کی نسبت زیادہ شگفتہ، مہذب اور سیاسی ایمان داری کے حامل ہیں۔ یہ عمومیت کے بجائے تخصص کو اپنا شعار بناتے ہیں اور علم کے حصول میں نئے ماڈل متعارف (ساختیاتی بشریات، مقداری تحقیق، مارکسی انداز تجزیہ وغیرہ ) کرانے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ دوسری قوت ان محققین کی ہے جو اس میدان میں تجربہ کار ہیں اور ان کی تحقیق کلیشے اور پیش پا افتادہ کام سے متصادم ہے۔ برکلے کے حامد الگر اور UCLA کے نکی کیڈی کی مثالیں اس ضمن میں موجود ہیں جنھوں نے ایران کے انقلاب کے حوالے سے اپنا اپنا منفرد بیانیہ تشکیل دیا۔ تیسری قوت ان مصنفین، سماجی کارکنوں اور دانشوروں کی ہے جن کی ویسے تو اتنی اہمیت نہیں لیکن ان کے متضاد موقف سے ان کی اہمیت کا تعین ہوتا ہے۔ یہ جنگوں کی مخالفت کرتے ہیں، سامراجی عسکریت کے خلاف رائے دیتے ہیں، مذہبی شدت پسندی کو ناپسند کرتے ہیں، ان میں سے بیشتر ثقافتی استشراقیت سے متاثر ہیں۔

ایڈورڈ سعید نے مذکورہ کتاب کے آخری باب میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انسانی سماج کا علم، درحقیقت تاریخ کا علم ہے، اس لیے تعبیر و توضیح پر مبنی ہوتا ہے۔ اس میں حقائق جتنے اہم ہیں اس سے زیادہ یہ اہم ہے کہ ان کی تعبیر کیسے کی گئی ہے۔ کسی کو اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ فرانسوی شہنشاہ نپولین موجود تھا یا نہیں، متنازعہ بات یہ ہو سکتی ہے کہ، آیا وہ عظیم اور محب وطن راہنما تھا یا فرانس کا تخریب کار اور مطلق العنان حکمران تھا۔ اسی طرح کے تنازعات سے تاریخی متن ترتیب پاتا ہے اور اس سے تاریخی علم اخذ کیا جاتا ہے۔ متون کی تعبیر کے ضمن میں یہ اہم ہوتا ہے کہ تعبیر کرنے والا کون ہے، اس کا مقصد کیا ہے کس زمانے میں اور کس کے لیے تعبیرات کر رہا ہے۔ اس طرح کی تعبیرات خاص موقع و محل (Situational) کے مطابق ہوتی ہیں۔ ان تعبیرات کے لیے نہ مثالوں اور نہ باہمی مطابقت کی ضرورت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ من چاہی تعبیرات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ یورپ کی شرق شناسی کی ذیل میں اجنبی ثقافتوں اور دیگر مذاہب کا علم اسی طرح صورت پذیر ہوا ہے اور اسلام کا جو تصور اس وقت مغرب کے ذہنوں میں راسخ ہے وہ مستشرقین کی انھی تعبیرات کا نتیجہ ہے۔ ازمنہ وسطیٰ میں جب عیسائیت کا اسلام سے ٹکراؤ ہوا تو عیسائیوں کا برتاؤ مسلمانوں سے تنفر اور استکراہ پر مبنی تھا۔ ایڈورڈ ڈبلیو سعید اس سے استخراج کرتا ہے کہ عیسائیت میں چوں کہ بنیادی ماخذ حضرت عیسیٰ کی ذات ہے اس لیے انھوں نے اسلام کو بھی نبی پاکﷺ کی ذاتی تعلیمات سے تعبیر کیا حالاں کہ یہ خدا کے احکامات پر مبنی نظام حیات ہے۔ غور کریں تو وہ اسلام کو اسلام نہیں بلکہ ”محمڈنزم“ کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ ”محمڈن ازم“ ساتویں صدی عیسوی کا اسلام نہیں بلکہ ازمنہ وسطیٰ کی خاص اقدار کا حامل ہے اور وہ اقدار بھی مغرب کی اپنی طے شدہ ہیں۔ اس کو مد نظر رکھیں تو اس بات کو معرض تفہیم میں لانا ذرا بھر مشکل نہیں کہ وہ پیغمبر اسلام کو Imposterکیوں کہتے ہیں۔ اس دور میں ایک انگریز تاریخ دان R۔ W Southery نے آپ ﷺ کو ایک مذہبی فرقے Face Spiritسے جوڑنے کی کوشش کی تھی اور آپ کی ذات سے ایسے اوصاف کا انسلاک کرنے کی کوشش کی جو اسلام تو کیا، کسی بھی مذہب کے پیشوا کو زیب نہیں دیتے۔ یہی وہ موقع تھا جہاں سے مغرب میں ”اسلامو فوبیا“ کا آغاز ہوا۔ اسلام کی اس مصنوعی پرکھ اور غلط تعبیر کو ایڈورڈ سعید نے Western Consumer of Orientalismکا نام دیا ہے۔ اب مشرقی دانشوروں اور اسلامی سکالرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی مستشرق کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کے فکری اختلافات کے ایک ایک جزو پر عمیق نظر رکھے اور اس کے ذاتی تجربات سے صرف نظر نہ کرے جو اس نے اسلام اور مسلمانوں کی بابت غلط بیانی اور سطحی فکر سے کام لیا ہے، کیوں کہ مستشرق، مشرق اور اسلام کی تعبیر کرتے ہوئے اس میں تغیر و تبدل سے کام لیتا ہے اور اس انداز سے اس کی تصویر کشی کرتا ہے کہ مشرق کو بقا کے لیے مغرب کی ضرورت ہے۔ اس پر متعدد ماہرین عرب اور مسلمان سکالرز نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے جو بقول ایڈورڈ سعید ان کے ”خود فکری“ کا باعث ہے۔

حقیقت میں دیکھیں تو اسلام نہ تو امریکا مخالف اور نہ مغرب مخالف پروپیگینڈا ہے اور نہ سیاسی اور مذہبی طور پر یورپ کے خلاف کسی سازش میں مصروف عمل ہے۔ اسلام کا مغرب میں، میڈیا، کارپوریٹ انجمنیں، سرکاری ادارے، نجی تنظیمیں اور تحقیقی شعبے جس طرح کی تصویر کشی کرتے ہیں اس کے عقب میں مابعد نو آبادیاتی مقاصد ہیں جن کا بنیادی کام ”مشرق“ پر غلبہ حاصل کرنا اور اس کے اقتصادی ذرائع پر قبضہ جمانے کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔

ایڈورڈ سعید کی ”کورنگ اسلام“ ایک ایسا مطالعہ جس میں مشرق اور مغرب کے مابین بالعموم اور مسلمانوں اور یورپ کے مابین بالخصوص تعلق کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس عداوت کا مظاہرہ عیسائیت یا مغربی ممالک نے اسلام اور عربوں کے ساتھ کیا ہے، اس کے پس پشت موجود محرکات، اسباب اور وجوہات کی تفہیم میں مذکورہ کتاب معاون ثابت ہوتی ہے۔ مزید اس کے مطالعے سے احساس ہوتا ہے کہ اسلام اور مغرب کے مابین عداوت کسی مستقل نظام کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ تاریخی نظریے کی پیداوار ہیں جس کا خاتمہ نہیں تو تخفیف ضرور کی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر عربوں اور مسلمانوں کو خود شعوری سے کام لیتے ہوئے اپنے فیصلے اپنے ہاتھ میں رکھنے چاہئیں اور مغرب کی توسیع پسندی کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے درست حقائق کو طشت از بام کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS