ساون اور میرے گاؤں کا تالاب


ساون کا مہینہ اب کے خوب برسا ہے۔ بھادوں بھی گاہے بگاہے برستا رہا۔ اب رت بدل رہی ہے۔ ساون کا مہینہ مجھے بہت پسند ہے اور اس مہینے سے میری بے شمار یادیں بھی جڑی ہیں۔ اس مہینے کا موسم ہر پل نئی کروٹ لیتا ہے کبھی خوب بارش ہوتی ہیں تو کبھی دن بھر تیز دھوپ مگر شام کو اچانک بارش اور کبھی صبح سویرے اٹھے تو تیز بارش ہو گئی اور کبھی دن بھر سیاہ بادل چھائے رہتے ہیں۔ ہر طرف سبزے کی بہار الگ ہے۔ ساون کی تیز بارشوں سے گلیوں میں ندی نالوں کا سا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔ گھروں کی چھتوں سے بہتے پرنالوں کا پانی گاؤں کی کچی پکی گلیوں سے ہوتا ہوا گاؤں کے تالاب تک جاتا ہے۔

پوٹھوہار کے تقریباً ہر دیہات میں ایک آدھ تالاب ضرور ہوتا ہے اور کئی دیہاتوں میں اس کی تعداد زیادہ بھی ہوتی ہے۔
تالاب، بن، بھنوڑا، چھپڑی ان تمام الفاظ کا ایک ہی معنی پانی کا ایک بڑا تالاب یا ایک کھلی جگہ ہے جو سب اہل دیہہ کی مشترکہ ملکیت ہوتا ہے۔ یہاں پورے علاقے کا پانی ذخیرہ ہوتا ہے۔

ہمارے دیہاتوں میں موجود ان تالابوں کو صدیوں پہلے ہندو، سکھ اور مسلمان مل کر کھودتے تھے جس میں گاؤں کی ضروریات کے لئے بارش کا پانی ذخیرہ کیا جاتا تھا۔
ان تالابوں کو ایسے مقام پر کھودا جاتا جو اطراف سے ڈھلوان ہوتی اور جہاں پر بارشوں کا پانی تیزی سے پہنچ سکتا تھا۔ بارش کا پانی ڈھلوانی راستوں سے ہوتا سیدھا ان تالابوں میں جا گرتا تھا۔
یہ تالاب گرمیوں کے ابتدائی دنوں میں عموماً خشک رہتے ہیں مگر باقی سال یہ پانی سے ہر وقت بھرے رہتے ہیں۔

اگلے وقتوں کی لوگ گاؤں کے ان تالابوں کا بہت احترام کرتے اور انہیں مقدس مقام خیال کرتے۔ روڑھ کی بھی ایک الگ اہمیت ہے جو تالاب کے ساتھ واقع میدان کو بھی کہتے ہیں۔

گاؤں کے لوگ ان تالابوں کا پانی پینے کے لیے بھی استعمال کرتے تجے مگر افسوس کہ اب ان میں سے بیشتر تالاب گندے پانی کے جوہڑ بن چکے ہیں۔ بہت سے تالاب اب یا تو مکمل خشک ہو گئے ہیں یا پھر مٹی ڈال کر بند کر دیے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے ان کے گرد عام لوگوں کے لیے وقف کی گئی زمین پر مکان کھڑے کر لئے ہیں یا پھر اپنے کھیت میں تبدیل کر لیا ہے۔ ان تالابوں، اور ان کے ساتھ واقع میدانوں، گزرگاہوں اور قبرستانوں کو انگریز دور میں ہونے والے پہلے بندوبست اراضی زمین میں شاملات مفید عام قرار دیا گیا تھا یعنی یہ جگہ کسی کی ملکیت نہیں تھی اور سب گاؤں والوں کی مشترکہ ملکیت سمجھی جاتی تھی۔ ان تالابوں کے گرد عام طور پر پیپل، بوڑھ، کیکر، پھلاہی یا پھر شیشم کے درخت بھی لگے ہوتے تھے جنھیں سائے کے متلاشی لوگوں اور پیدل چلنے والے مسافروں کی سہولت کے لئے لگایا جاتا تھا۔

ماضی میں یہ تالاب پر رونق مقام ہوا کرتے تھے۔ گاؤں کی عورتیں یہاں سے پانی لے جانے کے لئے گھڑے سروں پر رکھے آتی تھیں تو مرد صبح سویرے غسل یہیں پر کیا کرتے تھے۔ مویشیوں کو پانی پلانے بھی ادھر ہی لایا جاتا۔ فصلوں کو صاف کرنے کے لیے کھلیان بھی اس کے ساتھ میدان میں بنائے جاتے۔ دوپہر اس کے کناروں پر لگے درختوں کے نیچے بسر کی جاتی اور عورتیں کھانا لا کر انہی درختوں کی چھاؤں میں رکھتی تھیں اور اسی کی چھاؤں میں تھکے ماندے کسان دوپہر کے وقت قیلولہ کرتے۔

ساون کے مہینے میں میرے گاؤں بہکڑی کے دو تالاب خاص توجہ کا مرکز بنے ہوتے ہیں جس میں سال بھر تو پانی کا لیول کم ہی ہوتا ہے لیکن ساون میں خوب بارشوں کے لبا لب بھر جاتا ہے۔
میرے گاؤں کے اس تالاب کو صرف بہکڑی گاؤں میں رہنے والے مسلمانوں نے کھودا ہے کیونکہ ہمارے گاؤں میں کوئی غیر مسلم نہیں رہتے تھے۔
بزرگوں سے سنا ہے کہ گاؤں میں غیر مسلموں کی صرف تین ہی دکانیں تھیں وہ چکوال سے صبح آتے تھے شام کو واپس لوٹ جاتے تھے۔ یہ سب قیام پاکستان کے بعد سرحد پار چلے گئے تھے۔

ساون میں زیادہ بارشوں سے میرے گاؤں کے دونوں تالاب مکمل بھر جاتے ہیں تو گاؤں کی مساجد میں اعلانات کیے جاتے ہیں کہ تالاب مکمل بھر گیا ہے کسی بھی وقت اس کے ٹوٹنے کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ میری زندگی میں تو تالاب کبھی نہیں ٹوٹا اس پہلے شاید ایسا ہوتا رہا ہے۔ اب تالاب کے گرد مضبوط حفاظتی دیوار بنائی جا چکی ہے۔ ہمارے گاؤں کے تالاب میں بارشی پانی روڑھ سے چھوٹے تالاب سے ایک بڑے نالے کے ذریعے بڑے تالاب میں پانی آتا ہے تو بھرا ہوا تالاب ایک الگ ہی منظر پیش کرتا ہے۔ جب اعلانات ہوتے ہیں تو گاؤں کے نوجوان اور بزرگ سب تالاب کے گرد جمع ہو کر مختلف حفاظتی اقدامات کے بارے میں صلاح مشورے کرتے ہیں۔

ویسے تالاب کے دونوں اطراف پائپوں کے ذریعے پانی کا لیول کم کرنے کے لیے دو بڑے پائپ لگائے گئے ہیں جو گاؤں کی مین نالی سے لنک ہیں ان سے پانی کا لیول آہستہ آہستہ کم ہوتا رہتا ہے۔

میرے گاؤں کے تالاب کے گرد مختلف سایہ دار درخت لگے ہوئے ہیں جہاں دن کو بزرگ اور شام کو تالاب کے گرد نوجوان مختلف ٹولیوں کی شکل میں محفل سجاتے ہیں اور گپ شپ کرتے ہیں۔

جب بھی بارش ہوتی ہے تو نوجوان تالاب کا رخ کرتے ہیں اس وقت جو منظر ہوتا ہے وہ کو محسوس کرنا بھی میرے لیے ایک خوشگوار عمل ہے۔

ساون کے مہینے سے میری بچپن کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں ان میں سے جو زیادہ یادیں باقی ہیں وہ یہ کہ جب بھی ساون آتا گھر کے سامنے سرکاری جگہ پر لگے سفیدے کے درخت تھے جب تیز ہو چلتی تو ہماری نظر باہر ہوتی کہ اب فلاں درخت گرے گا فلاں شاخ کمزور ہے وہ ٹوٹ جائے گی جیسے ہی کوئی درخت گرتا ہم تمام بہن بھائی مل کر درخت کو گھسیٹ کر گھر لے آتے کیونکہ اس وقت گاؤں میں گیس نہیں ہوتی تھی تو ہمارا ان درختوں کے ایندھن پر ہی گزرا تھا۔

اس درخت کی ٹوٹی شاخوں کو کلہاڑی کی مدد سے الگ گیا جاتا پھر اس کو جلانے کے قابل بنانے کے لیے دھوپ میں رکھ کر خشک کیا جاتا تاکہ آسانی سے جلانے میں کام آئے۔ ہم کبھی کبھار غلطی سے ہاتھ پاؤں بھی زخمی کر لیتے تھے اور پھر ساون کے مہینے میں اس درد کو سہتے رہتے تھے۔

چکوال کے قریبی دیہاتوں میں تو شاید میرے گاؤں میں ہی تالاب ہوں گے جو اتنی خوبصورتی سے اہل دیہہ نے سنبھال رکھے ہوں گے اور ان کو اچھی حالت میں رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتے ہوں۔ یہ تالاب میرے گاؤں کی شان ہیں اور گاؤں کے بزرگوں کی یادگار بھی ہیں۔

جس نے بھی پانی کے بھرے ہوئے ان تالابوں کا منظر دیکھا وہ بار بار اس کو دیکھنے کی خواہش کرتا ہے۔
یہ تالاب میرے گاؤں کا حسن ہیں اگر ان تالابوں کو وقت کے ساتھ ساتھ اس کی دیواروں کو مزید مضبوط کیا جاتا رہا تو یہ ہمارے آبا و اجداد کی نشانیاں آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ قائم رہیں گی۔

Facebook Comments HS