جنگی حالات میں میڈیا کا کردار


کسی بھی ادارے کی ذمہ داریوں اور کردار کے متعلق گفت گو ہمیشہ اس وقت تک ناقص اور ادھوری رہے گی جب تک اس ادارے کی ہیئت اور ساخت کا فیصلہ نہ کر لیا جائے یا کم از کم اس کی حقیقت کے بارے میں کوئی مفروضہ یا نظریہ قائم نہ کر لیا جائے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میڈیا میں وہ تمام ابلاغیاتی ذرائع شامل ہیں جن کا کام کسی بھی شکل میں معلومات پہنچانا ہے۔ معلومات دینے والا ہر ذریعہ میڈیم ہے۔ اس میں اخبار، میگزین، رسائل، ریڈیو، ٹیلی وژن، ویب سائٹس، بلاگز، سوشل میڈیا، فلم، ڈرامہ، اشتہار، پوسٹر وغیرہ سب شامل ہیں۔ صحافت کی اصطلاح میں پرنٹ سے لے کر ڈیجیٹل تک، ہمہ قسم کا میڈیا شامل ہے۔ آسان لفظوں میں ”ورقی میڈیا“ اور برقی میڈیا دونوں کے لیے صرف میڈیا کا لفظ استعمال کرنا جائز اور درست ہے۔

ان تمام اقسام کے میڈیا کے لیے مختلف محققین نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں۔ بعض نے ناظرین پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا ہے تو بعض نے سماج کے لیے میڈیا کی خدمات پر تحقیق کی۔ بعض کے نزدیک یہ ریاست کا چوتھا ستون ہے تو کچھ نے اسے حکومت پر نگران اور ناقد سمجھا ہے۔ کسی نے امن کے دنوں میں اس کے کردار پر بات کی ہے تو کسی نے جنگ اور تنازعات میں اس کی ذمہ داریاں متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان مختلف نظریات میں جو بات نظرانداز کر دی جاتی ہے وہ ہے میڈیا کے بارے میں ابتدائی مفروضہ یا تصور ہے۔ ظاہر ہے جو بھی میڈیا کے کردار یا ذمہ داریوں یا اس کی اہمیت پر بات کرتا ہے اس کے ذہن میں میڈیا کی حقیقت اور نوعیت کا کوئی نہ کوئی تصور اور خاکہ تو ضرور ہوتا ہو گا لیکن عجیب بات ہے کہ اس تصور یا مفروضے کو کھل کر کبھی بیان نہیں کیا جاتا۔ لہٰذا میڈیا پر کی جانے والی تمام تر تنقید داخلی تنقید بن کر رہ جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ میڈیا کا وجود لازمی تصور کیا جاتا ہے اور یہ محال سمجھا جاتا ہے کہ میڈیا جیسا کہ آج ہے اس کے بغیر بھی کسی سماج کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ میڈیا اسٹڈیز کے شعبے میں ہونے والی اکیڈمک ریسرچ میں یہ بنیادی نقص موجود ہے اور رہے گا۔ ظاہر ہے جس کی روزی روٹی میڈیا کے حوالے سے پڑھنے پڑھانے اور لکھنے لکھانے سے چلتی ہو وہ میڈیا کے وجود پر کیوں سوال اٹھائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ جامعات کے میڈیا اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والی تحقیق انہی سوالوں کے گرد گھومتی رہتی ہے کہ حکومتوں کی کارکردگی میں میڈیا کا کیا کردار ہے؟ واقعات کی رپورٹنگ میں میڈیا کو کن اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے؟ سماج کی بہتری کے لیے میڈیا کیا کر سکتا ہے؟ صحت اور تعلیم وغیرہ کے فروغ میں میڈیا کا کیا کردار ہے؟ آزادی اظہارِ رائے کے فروغ میں میڈیا نے کیا کیا ہے؟ میڈیا نے عوام کے مسائل پیش کیے یا نہیں؟ میڈیا نے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھایا یا نہیں؟ حکومتی اور ریاستی عہدے داروں کی کارکردگی کا پول کھولا یا نہیں؟ عدلیہ اور انتظامیہ کا احتساب کیا یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ آپ لوگوں نے اس قسم کے سوال اور بحثیں خوب سنی ہوں گی اور آپ کے ذہن میں بھی یہ بات سر اٹھاتی ہو گی کہ میڈیا فلاں سیاسی پارٹی کے بارے میں حقائق کیوں پیش نہیں کر رہا یا فلاں اشو کو ہائی لائٹ کیوں نہیں کر رہا؟ یا آپ اپنے دوست احباب کے ساتھ بحث میں ایسی باتیں کرتے ہوں گے کہ میڈیا نے یہ کر دیا، میڈیا کو یہ کرنا چاہیے، میڈیا کو ایسا ہونا چاہیے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

میری رائے میں یہ تمام سوال دوسرے درجے کے ہیں، یا یوں کہہ لیجے کہ ضمنی اور ذیلی سوال ہیں اور اگر ہم مُلّا کی زبان میں کہیں تو فروعی مسائل ہیں۔ یہ اصولی سوال نہیں۔ جب تک اصولی سوال سامنے نہیں آتا تب تک تمام بحث اور گفتگو بے نتیجہ رہے گی اور میڈیا کے بارے میں آپ نے جو آئیڈیل بنا رکھا ہے میڈیا اس پر کبھی پورا اترتا دکھائی نہیں دے گا۔ میڈیا کی حقیقت تو آپ نہیں بدل سکتے لیکن اس کے بارے میں اگر کوئی درست اصول قائم کر لیں تو پھر شاید آپ کو بار بار مایوسی نہیں ہوگی بلکہ میڈیا پر بیٹھے نام نہاد صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کی باتوں پر ہنسی آئے گی اور آپ ان کی باتوں کو سنجیدہ لے کر رنجیدہ نہیں ہوں گے۔

اصل اور پہلا سوال یہ ہے کہ میڈیا کیا ہے؟ آپ غور فرمائیں کہ اب تک جتنے بھی سوال میں نے آپ کے سامنے رکھے ہیں یا آپ کے ذہن میں ہیں، ان سب سوالوں کے جواب اس بنیادی سوال پر منحصر ہیں۔ یعنی ”میڈیا کیا ہے؟“ کا جواب اگر بدل جائے گا تو پھر تمام سوالوں کے جواب تبدیل ہو جائیں گے بلکہ تمام جواب متضاد اور الٹ ہو جائیں گے اور اگر اس سوال کا جواب بالکل درست اور حقیقت پر مبنی ہوا تو آپ کو محسوس ہو گا کہ باقی تمام سوال ویسے ہی ختم ہو جائیں گے یعنی پھر ایسے سوال اٹھانے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔

مثلاً اگر آپ اس سوال یعنی میڈیا کیا ہے؟ کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ ریاست کا چوتھا ستون ہے تو آپ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کی ذمہ داریوں اور کردار اور ان کے آپسی تعلقات کی تفصیلات میں جائیں گے اور آپ کی تحقیق اسی روشنی میں چلے گی کہ میڈیا ان تینوں کے تعلقات میں باہمی رابطے کا ذریعہ کیسے بنتا ہے یا آپ کی سوچ کا زاویہ یہ ہو گا کہ میڈیا بھی عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کی طرح سماج اور عوام کے بھلے اور فائدے کے لیے ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے اس جواب میں بھی دوسری سطح کے سوال میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ جب آپ کا جواب یہ ہے کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے تو آپ کو پہلے یہ بتانا چاہیے کہ ریاست کیا ہے۔ جب تک آپ یہ نہیں بتاتے کہ ریاست کیا ہے تب تک آپ چاہے میڈیا کو پہلا ستون کہیں یا چوتھا، بات نہیں بنے گی۔ اسی طرح اگر آپ اسے حکومت کا نگران کتا یعنی واچ ڈاگ تصور کریں گے تو پھر آپ کو پہلے یہ بتانا چاہیے کہ حکومت سے آپ کی مراد کیا ہے اور حکومتی نگرانی اور احتساب کے بارے میں آپ کے نظریات اور افکار کیا ہیں؟ تو جناب میڈیا کے بارے میں اپنے تمام خیالات اور خوش فہمیوں کو اسی ایک سوال کی کسوٹی پر پرکھتے جائیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اب تک آپ منزل سے کتنی دور نکل آئے ہیں۔

خیر، میں میڈیا کے بارے میں اپنا تصور اور نظریہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اور ممکنہ حد تک اس کی تفصیل بھی بیان کیے دیتا ہوں۔ میرا موقف یہ ہے کہ میڈیا جدید ریاست یعنی ماڈرن سٹیٹ کا تشکیلی جزو یا دوسرے لفظوں میں اس کا ایک عضو ہے بالکل اسی طرح جس طرح انسانی جسم کے اعضا ہوتے ہیں۔ اور انسانی جسم میں آنکھ اور کان ہی علم اور معلومات کے ذرائع ہیں جو ذہن اور قلب کے خادم ہیں۔ اسی طرح میڈیا بھی جدید ریاست کا عضو ہے، یہ بیک وقت آنکھ بھی ہے اور کان بھی اور زبان بھی۔ آپ کو حیرت ہو گی کہ میڈیا آپ کے حواس کی ترتیب اور ان کے وظائف الٹ پلٹ دیتا ہے۔ کبھی غور فرمائیے گا تو آپ کو محسوس ہو جائے گا کہ آنکھ دیکھنے کی بجائے سننے کا کام بھی کرتی ہے اور کان سننے کی بجائے دیکھنے کا کام بھی کرتے ہیں اور زبان آپ کے دل و دماغ سے بغاوت کرتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ میڈیا نے یہاں تک کہ موبائل فون نے جو ہر کسی کے پاس ہے، ظاہری حواسِ خمسہ تو کیا باطنی حواسِ خمسہ بھی اور ان کے ساتھ ساتھ قلب و ذہن کی ترتیب اور کارکردگی بھی مجروح کر دی ہے۔ یہ تدبر کی بات ہے اور گہرے غور و فکر سے سمجھ میں آئے گا کہ اب ہم میں سے اکثریت جو خیالات پیش کرتی ہے یا جن خواہشات کا اظہار کرتی ہے وہ اصل میں ان کے اپنے ہوتے ہی نہیں بلکہ میڈیا کے ذریعے ان میں انڈیلے گئے ہوتے ہیں۔ آج علم، معلومات اور ہدایت کا ایک ذریعہ کتاب کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی ہے۔ ہمارے علم اور معلومات کا ماخذ یعنی سورس میڈیا ہی ہوتا ہے لیکن ہمیں اس کا ادراک نہیں ہو پاتا اور اسی وجہ سے میڈیا آنکھ بھی ہے کان بھی اور زبان بھی۔

اب اگر آپ کا ذہن میڈیا کے پاس گروی نہیں رکھا ہوا تو آپ ضرور یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اچھا تو پھر ماڈرن سٹیٹ کیا ہے؟ برا مت مانیے گا یہ سوال اتنا ہی مشکل ہے جتنا یہ سوال کہ خدا کیا ہے؟ کس نے تیری حقیقت کو پایا، اے خدایا! خدا کی حقیقت عقل میں تو آ نہیں سکتی۔ صوفیا کو خدا کی معرفت ہوتی ہے لیکن ایسے ذرائع سے تجلی ہوتی ہے کہ زبان بیان سے قاصر ہوتی ہے۔ بس جو سمجھا وہی سمجھا۔ ہاں خدا کے نام اور اس کی صفات بہت ہیں۔ اسی لیے پولیٹیکل تھیورسٹس نے ماڈرن سٹیٹ کو بھی انہی اصطلاحات میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ پولیٹیکل تھیالوجی باقاعدہ شعبہ علم ہے اور اس میں سیاسی تصورات کو مذہبی تصورات اور اصطلاحات کے انداز میں سمجھا جاتا ہے۔ ژاں بوڈن اور کارل شمٹ سے لے کر اب تک کے سیاسی فلسفیوں نے ماڈرن سٹیٹ کو ”گاڈ“ کی اصطلاح میں پیش کیا ہے کیوں کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں اور ماڈرن سٹیٹ جن خصوصیات کی حامل ہے وہ خدا کے سوا کسی اور میں پائی ہی نہیں جاتیں اس لیے ان کی بھی مجبوری ہے اور حقیقت بھی تو یہی ہے۔ یہ بہت تہلکہ خیز، سنسنی خیز اور چودہ طبق روشن کر دینے والی حقیقت ہے۔ عوام تو کیا خواص اور اہل علم بھی اس حقیقت سے یا تو واقف نہیں یا پھر جان بوجھ کر انجان بنے بیٹھے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم کوئی بھی بامعنی اور حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتے۔

یہاں پر اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں کسی توہین کا مرتکب ہو رہا ہوں یا کوئی من گھڑت مفروضہ لے کر آ گیا ہوں تو میں اس پر سوائے افسوس کے اور بھلا کیا کر سکتا ہوں۔ آپ زیادہ مشقت میں نہ پڑیں، آئینِ پاکستان ہی کے متن کا بغور مطالعہ فرما لیں تو حقیقت آپ پر روشن ہو جائے گی، دستورِ پاکستان کا مطالعہ کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں اور نہ یہ کوئی غیر قانونی بات ہے! خیر، میں کسی خاص ریاست کی بات بالکل نہیں کر رہا۔ میں تو ماڈرن سٹیٹ کی بات کر رہا ہوں۔ اور یہ میں پہلے واضح کر چکا ہوں کہ میڈیا پر بات کرنے کے لیے سٹیٹ پر بات کرنا کیوں ضروری ہے۔ تو ماڈرن سٹیٹ ماڈرن دنیا کی ایجاد ہے یعنی قریب قریب سولھویں صدی کی ایجاد۔ دنیا کی ہر ماڈرن سٹیٹ اپنے بندے تخلیق کرتی ہے جنہیں سٹیزن کہا جاتا ہے۔ میری رائے میں سٹیزن کا ترجمہ رعایا کرنا درست نہیں۔ سٹیزن سٹیٹ کا بندہ ہوتا ہے، کسی اور خدا کا بندہ نہیں۔ وجہ؟ کیونکہ خدا کی طرح اسٹیٹ بھی شرک برداشت نہیں کرتی۔ دہری شہریت محض ایک ڈرامہ ہے حقیقت میں ایک فرد ایک ہی سٹیٹ کا سٹیزن ہوتا ہے۔ سٹیزن کی تمام وفاداریاں اسٹیٹ کے لیے ہوتی ہیں۔ اور اسٹیٹ کی ایک صفت یہ ہے کہ اسے تشدد پر اجارہ داری حاصل ہے، اسٹیٹ ساورن ہوتی ہے اور پولیٹیکل سائنس کا ادنیٰ درجے کا طالب علم بھی یہ بات بخوبی جانتا ہے۔ ہمارے ایمان اور عقیدے میں تو اللہ تعالیٰ ہی ساورن یعنی اقتدار اعلی کا مالک ہے۔ اس لیے جب اسٹیٹ نے ساورن ہونے کا اعلان کیا اور ہم نے پیٹریاٹ یعنی محب وطن ہونے کا اقرار کر لیا تو سوچیں بات کہاں تک پہنچی؟ چونکہ اسٹیٹ کو وائلنس پر مناپلی حاصل ہے اس لیے سٹیزن کی جان، مال، عزت و آبرو سب کچھ اسٹیٹ کے لیے ہے، اسٹیٹ جب چاہے سٹیزن سے ان سب کی یا کسی ایک کی قربانی مانگ سکتی ہے۔ اس لیے بعض ناقدین ریاستی تشدد یا ریاستی دہشت گردی کی فضول اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ جب شہری ریاست پر جان دینے کو تیار ہے تو پھر اس کی تربیت کی ذمہ داری بھی ریاست کی ہے اور ریاست اسے ہر مرحلے پر اپنی تعلیمات کے ذریعے تازہ کرواتی رہتی ہے۔ یہ تربیت پہلے صرف ایجوکیشن سسٹم کے ذریعے ہوا کرتی تھی لیکن اب یہ کام میڈیا کو بھی سونپ دیا گیا ہے۔ اسی لیے ایجوکیشن سسٹم تنزلی کا شکار ہے کیونکہ اس کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ ہر ریاست کی ایک مقدس کتاب ہوتی ہے یعنی کتابِ آئین جسے ہر شے سے مقدس اور بالاتر سمجھا جاتا ہے۔ کچھ وقت پہلے ایک کالم نگار نے رونا رویا تھا کہ کچھ لوگ قرآن کو آئین سے مقدس سمجھتے ہیں۔ اس نے یہ حقیقت کہی کیونکہ ماڈرن اسٹیٹ سسٹم حقیقت میں یہی ہے، ہم نہیں مانتے تو یہ ہمارا قصور ہے، بلکہ ایک لحاظ سے تو یہ جرم بھی ہے جس کی سزا بھگتی جا رہی ہے۔ اسی طرح ریاست جو چاہے کر سکتی ہے، ایک قانون کو کالعدم کر سکتی ہے، نیا قانون بنا سکتی ہے، سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ یا نیلا پیلا کہہ سکتی ہے، کسی کو جواب دہ نہیں۔ کیونکہ یہ قانون ساز ہے۔ جب چاہے نیا قانون بنا لے، پرانا قانون منسوخ کر دے۔ ریاست کا ارادہ یعنی اس کی مرضی ہی قانون ہے۔

یہ ریاست کی محض ایک جھلک پیش کی گئی ہے۔ اب اس کی روشنی میں میڈیا کو سمجھ لیں۔ میڈیا کا کام ہے شہریوں کی تربیت کرنا یا دوسرے لفظوں میں برین واشنگ کرنا۔ ریاست کی پالیسیوں پر شہریوں کو راضی کرنا اور نئی پالیسیوں کے لیے اسے پہلے سے ذہنی طور پر تیار کرنا۔ تشدد پر چونکہ ریاستی اجارہ داری ہے اس لیے اس تشدد کو جائز اور درست قرار دینا اور اس کی حمایت کرنا۔ شہریوں کے خیالات اور ذہنی رجحانات ریاست تک پہنچانا اور اسے باخبر کرنا اور ریاست کی طرف سے ہر فرمان ہر شہری تک پہنچانا۔ اینکر یہی تو کر رہے ہوتے ہیں کہ جی آپ بتائیں، آپ کی کیا رائے ہے؟ وہ عمل کرنے کے لیے آپ کی رائے نہیں جانتے بلکہ ریاست کو باخبر کرنے کے لیے اگلواتے ہیں۔ ہر بندے کو اپنی بات سنانے اور کہنے اور اسکرین پر آنے کا شوق تو ہے ہی اس لیے کتھارسس بھی ہوتا رہتا ہے۔ بادشاہ کے دربار میں کھیل تماشا ہو رہا ہے، بادشاہ کا دل بہلایا جا رہا ہے اور کچھ نہیں۔ جب تک ریاست کو لطف آ رہا ہے، تماشا جاری رہے گا جب اس کا جی بھر گیا، سب ختم ہو جائے گا۔ کسی بھی چینل کا گلا دبوچ لیا جائے گا۔ زندگی کا پروانہ چھین لیا جائے گا۔ موت کا پیغام آ جائے گا۔

اسی بات سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میڈیا کی آزادی محض ایک فریب ہے۔ آزاد میڈیا اس دنیا بلکہ کائنات کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ میڈیا ریاست کا ایک عضو ہے اور کوئی بھی عضو باقی جسم کے خلاف نہیں جاتا بلکہ ان کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ میڈیا ریاست پر کبھی حقیقی تنقید کر ہی نہیں سکتا۔ یہ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے قطعاً نہیں، نہ اس کا مقصد عوام کے مسائل نمایاں کرنا اور انہیں حل کرنا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ماڈرن اسٹیٹ صرف اپنے آپ کے لیے ہوتی ہے، نہ سماج کے لیے ہوتی ہے نہ فرد کے لیے۔ یہ تو امن کے دنوں کی بات ہے۔ جنگ کے حالات میں تو استثنائی اور ہنگامی حالت ہوتی ہے جس میں سب اصول اور نظریے معطل اور معلق ہو جاتے ہیں۔ تب میڈیا کا کام سٹیزن کو تمام قسم کی قربانی دینے کے لیے آمادہ کرنا ہوتا ہے۔ اسے تسلی دینا اور باخبر رکھنا میڈیا کا کام نہیں ہوتا۔ جنگ دھوکے اور فریب کا نام ہے اس لیے میڈیا فریب اور دھوکے کے تمام ریکارڈ توڑ دیتا ہے۔ آپ جنگوں میں میڈیا کی رپورٹنگ کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں، سوائے جھوٹ، فریب اور مبالغے کے کچھ نہیں ملے گا۔ تو جنگ کے حالات میں میڈیا کے کردار اور ذمہ داری کا تعین کرنا اصولی طور پر غلط ہے کیونکہ جنگ میں اسٹیٹ حالتِ استثنا میں ہوتی ہے، یعنی کسی بھی لمحے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ کوئی اصول اور پیمانہ موجود نہیں رہتا۔ تو جب کوئی اسٹینڈرڈ ہی نہیں رہتا تو پھر کردار اور ذمہ داری کا تعین کہاں سے ہو گا۔ میڈیا کی وہی ذمہ داری ہو گی جو ریاست کی طرف سے اسے سونپی جائے گی۔ اور میڈیا ہر صورت یہ ذمہ داری نبھائے گا۔ گویا میڈیا کی ایک ہی ذمہ داری ہے کہ جنگ کے حالات میں اپنے باقی مشغلے چھوڑ کر یکسو ہو کر ریاست کی تابع داری میں لگ جائے اور جو ریاست کہے اس سے سر مو انحراف نہ کرے۔

Facebook Comments HS

One thought on “جنگی حالات میں میڈیا کا کردار

  • 28/08/2023 at 12:50 شام
    Permalink

    👍

Comments are closed.