بھارتی محمڈن پیر اور مذاہب کا متنجن
برصغیر پاک و ہند کے اسلام میں دنیا کے دوسرے خطوں کی نسبت پیری فقیری اور درگاہوں کا کلچر بہت زیادہ پایا جاتا ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جہالت ہے، کچھ کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں مندروں اور ان پر ہونے والے میلوں ٹھیلوں کے مقابلے میں درگاہی کلچر گریجوئلی ڈیویلپ ہوا ہے، کچھ اس کے اندھا دھند پیروکار ہیں اور اسے ایمان کی حد تک حق اور سچ سمجھتے ہیں۔
کچھ مذہبی تجزیہ نگار صوفیزم کو اسلام کے متوازی ایک الگ مذہب گردانتے دیکھے گئے ہیں، جس کی بنیاد سخت گیر روایتی مذہبی عقائد اور ان کے علماء کا سخت انکار ہے۔
ان پڑھ، پڑھے لکھے، مزدور، کاروباری طبقہ، ڈاکٹرز، انجینئرز، ججز اور تو اور بیرون ممالک سے تعلیم یافتہ حکمران تک منتوں اور مرادوں کے ساتھ درگاہوں اور مزاروں پر تعظیمی سجدے کرتے دیکھے گئے ہیں، اب یہ جہالت ہے یا صوفیائے کرام کے نظریے کی سچائی کی کوئی دلیل؟ شاید یہ بہت لمبی بحث ہے اس موضوع کو کسی اور وقت کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں، آج کا موضوع بھارت میں ہوئی ایک ملاقات کے گرد گھومتا ہے جو میرے لئے بہت اچھوتا واقعہ تھا۔
ایک دفعہ امرتسر بھارت میں قیام کے دوران ہوٹل میں ایک دوست کی فون کال آئی، اس نے بتایا کہ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو کچھ لوگ آپ سے ملنا چاہتے ہیں، میں نے کہا ضرور، چند گھنٹوں کے بعد میرے کمرے میں میرے سامنے دو افراد بیٹھے تھے، جن کی عمریں غالباً تیس کے لگ بھگ ہوں گی، ایک کا نام ”ستیش“ اور دوسرے کا ”دیپک“ تھا (یعنی یہ دونوں ہندو تھے ) ، وہ میرے ساتھ اس قدر ادب و احترام سے ملے کہ مجھے شرمندگی محسوس ہوئی، گفتگو کے دوران بھی وہ ایسے بات کر رہے تھے کہ جیسے کسی ولی اللہ سے بات کر رہے ہوں۔
میری عمر اس وقت 24 سال ہوگی، کچھ ہی لمحوں کے بعد میرا صبر جواب دے گیا اور میں نے قدرے جھنجھلاہٹ میں انہیں اس طریقہ کار سے روکنے کی کوشش کی، وہ مسکرائے اور بولے آپ محمڈن (مسلمان) ہیں اور پاکستان سے آئے ہیں آپ کا ادر (احترام) ہمارے دھرم کا حصہ ہے۔
یہ کس دھرم کی بات کر رہے تھے؟ میری سمجھ سے بالا تھا، ابھی یہ گفتگو جاری تھی کہ اچانک وہ بولے کہ عشاء کا وقت ہو گیا ہے، دونوں نے وضو کیا اور میرے کمرے میں ہی عشاء کی نماز پڑھی، میرا لوکل دوست جو انہیں ساتھ لے کر آیا تھا صوفے پہ بیٹھا مجھے مسکرا کر دیکھ رہا تھا، میں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے پوچھا کہ یہ کیا چل رہا ہے، اس نے اشاروں میں کہا کہ صبر کرو یہ سب خود ہی بتائیں گے۔
میری پریشانی، حیرانی کے بعد شدید تجسس میں بدل چکی تھی، انہوں نے جیسے ہی نماز ختم کی میں نے فوراً پوچھ ڈالا کہ میں سمجھ رہا تھا کہ آپ لوگ ہندو ہیں، وہ بولے جی ہاں الحمدللہ ہم ہندو ہیں، میں نے کہا پھر یہ نماز کیسی؟
تب انہوں نے بتانا شروع کیا کہ وہ ایک بہت بڑی مسلمان پیر کی درگاہ کے مرید ہیں، وہ مندر بھی جاتے ہیں، موقع ملے تو روزہ بھی رکھتے ہیں، کبھی کبھی نماز بھی پڑھ لیتے ہیں، کسی اتوار چرچ بھی چلے جاتے ہیں، وقت لگے تو گولڈن ٹیمپل پر بھی ماتھا ٹیک آتے ہیں۔
ان کا اس وقت زندہ پیر محمڈن (مسلمان) ہے، وہ بولے کہ ہم پہلی دفعہ کسی پاکستانی محمڈن سے مل رہے ہیں اس لیے یہ بہت قیمتی دن ہے۔
میں نے انہیں چائے پلائی، رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے ناصرف مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دی بلکہ شکروار (جمعہ) کے روز ہونے والی کسی قوالی کی محفل میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کر لیا، ان کو جاننے کے بارے میں میرے تجسس نے نہ چاہتے ہوئے بھی مجھ سے فوراً ہاں کروا دی۔
جمعہ کی شام ان کی گاڑی ہمیں پک کرنے آئی، اپنے دو اور پاکستانی مندوبین اور لوکل دوست ”بوبی“ کے ہمراہ ہم ان کے علاقے میں پہنچے، گلی میں داخل ہوئے تو پھولوں کی پتیوں اور میوزک کے ساتھ ہمارا استقبال کیا گیا، بہت سے ہندی میں لکھے گئے بینرز آویزاں تھے، بوبی نے بتایا کہ ان پر خوش آمدید کے ساتھ آپ لوگوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔
استقبالیہ پر بہت سے لوگوں نے ہمارے گلے میں گیندے کے پھولوں والے ہار ڈال دیے، بڑے بڑے اسپیکروں پر نصرت فتح علی خان کی قوالیاں بج رہی تھیں، پنڈال میں ہمارے لیے جگہ مختص تھی، ہمیں وہاں بیٹھا دیا گیا، میں نے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیا، پنڈال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، چھتوں اور منڈیروں پر عورتیں اور بچے قوالی کی محفل دیکھنے کے لئے لپک رہے تھے، کچھ ہی دیر کے بعد قوالی کی محفل شروع ہوئی، سب کی سب قوالیاں نصرت فتح علی اور دیگر پاکستانی قوالوں کی ہی گائی جا رہی تھیں، جب بھی کوئی اچھا شعر پڑھا جاتا تو قوال اور پنڈال میں موجود لوگ ہماری طرف دیکھتے، ہم زور زور سے داد دیتے اور واہ واہ کی آوازیں نکالتے، باقی لوگ بھی تقلید میں واہ واہ کرتے۔
قوالوں کے ساتھ ہرے اور لال چوغے والے دھمالی بھی موجود تھے جو گاہے بگاہے اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے، کچھ دیر کے بعد بوبی نے ہمیں کان میں کہا کہ لوگ آپ سے دھمال ایکسپیکٹ کر رہے ہیں، آپ لوگوں کو کچھ دیر کے لیے دھمال ڈالنی ہوگی، اس کے لئے میں قطعی طور پر تیار نہیں تھا، لیکن لوگوں کی محبت اور باقی پاکستانی دوستوں کی رضامندی نے مجھے دھمال ڈالنے کے لیے کھڑا کر دیا، ہم تینوں جیسے ہی دھمال کے لیے کھڑے ہوئے تو ہر طرف ایک ہلچل مچ گئی، لوگوں نے ہم پر پیسے پھینکنے شروع کر دیے، ہم تینوں ایک دوسرے کو کنکھیوں سے دیکھ کر مسکرا بھی رہے تھے اور نوٹوں کی برسات میں ناچ بھی رہے تھے۔
ایک شرارتی پاکستانی دوست نے تو حد ہی کر دی، اس نے اپنے آپ پر حال ڈال لیا، آنکھیں اوپر چڑھ گئیں اور بے قابو ہو کر ادھر ادھر گرنا اور قلابازیاں لگانی شروع کر دیں، بڑی مشکل سے باقی دوستوں نے اسے جپھیاں ڈال کر قابو کیا، دوسرے دوست نے اسے کان میں گالی نکالتے ہوئے کہا کہ اوور مت کرو، پھر اسے ٹھنڈا شربت دیا گیا۔
محفل ختم ہوئی تو ستیش کھانے کے لئے ہمیں اپنے گھر لے گیا، اس نے بتایا کہ وہ ہے تو ہندو لیکن گوشت بھی کھاتا ہے وہ بھی حلال، مرغی اور بکرے کا گوشت امرتسر میں ایک مسلمان قصائی سے لے کر آتا ہے۔
اس کا گھر بھی ایک کمال ہی جگہ تھی، ہر طرف یسوع مسیح، ہندو دیوتاؤں، بابا گرو نانک اور مکہ مدینہ کی تصویریں آویزاں تھیں، کچھ خیالی عربی اور یونانی خوبصورت چہروں والی تصویریں جن کے بیک گراؤنڈ میں گھوڑے، تلواریں، پگڑیاں اور صحرا۔
کچھ دیر کے بعد ہم نے اجازت چاہی اور سارے رستے اس عجیب و غریب عقیدے کے بارے میں سوچتا رہا، اب مجھے تجسس پیدا ہوا کہ ان کے پیر سے ملا جائے، وہ کون ہے؟ اس کا اپنا نظریہ کیا ہے؟ ہزاروں کی تعداد میں امیر و غریب مرید اس کے فالوورز کیسے بنے؟
اگلی صبح ناشتے کی میز پر ایک ہندی اخبار کے مقامی پیج پر گیندے کے پھولوں کے ہار پہنے، اسٹیج پر بیٹھے اور دھمال ڈالتے اپنی تصویریں دیکھیں، میں نے ویٹر کو بلا کر سرخی پڑھنے کے لئے کہا، لکھا تھا ;
”پی ٹی وی کلاکار بنے مہمان قوالی کی محفل کے“ ۔
”پیر“ سے ملاقات
ستیش کا پیر چند دنوں کے لئے یورپ میں تھا، جیسے ہی وہ امرتسر واپس آیا تو ہماری ملاقات کا ٹائم طے پا گیا، ایک شام ہم تینوں دوست ستیش کے ہمراہ پیر صاحب کی محل نما حویلی کے بلند و بالا آہنی گیٹ پر کھڑے تھے، گیٹ کھلا تو پہلی ہی نظر میں یوں لگا جیسے کسی فلم کے سیٹ میں داخل ہو رہے ہوں، لمبا راستہ ایک خوبصورت بلڈنگ تک جا کر ختم ہو رہا تھا، اس کے دونوں اطراف سرسبز باغیچے جن میں طرح طرح کے خوبصورت پھول کھل رہے تھے۔
بلڈنگ کے پاس پہنچ کر ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر کار کھڑی دیکھی جس کا ڈرائیور ڈور کھلا ہوا تھا، گاڑی کے دروازے کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر شخص، سفاری سوٹ پہنے ننگے پاؤں، ہاتھ جوڑے، جھک کر کھڑا تھا اور مسلسل رو رہا تھا، شکل و صورت سے کوئی سیٹھ لگ رہا تھا، سر سے گنجا اور سائیڈوں پر جھالر کی صورت بال، ستیش نے بتایا یہ فلاں ٹیکسٹائل مل کا مالک ہے اور پیر صاحب کا مرید ہے، کسی بات پر پیر صاحب اس سے ناراض ہیں اور اس کی معافی نہیں ہو رہی، یہ گزشتہ کئی دنوں سے یہاں آ کے کھڑا ہو جاتا ہے، روتا رہتا ہے اور رات کو واپس چلا جاتا ہے۔
بلڈنگ کے پاس لان میں بہت سے صوفے اور خوبصورت کرسیاں پڑی تھیں، ہمیں اس پر بٹھا دیا گیا، پیر صاحب نمودار ہوئے، اونچا لمبا قد اور بھاری جسم، سفید شلوار کرتا، سادہ سی چپل، زلف نما لمبے بال، نظر کا چشمہ، چھوٹی کالی اور سفید داڑھی، انتہائی خوشی اور پرجوش طریقے سے جپھیاں ڈال ڈال کر ملے، اور ساتھ ہی کہتے گئے کہ میں بتا نہیں سکتا کہ آپ لوگوں سے مل کر مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے، گفتگو سے انتہائی پڑھے لکھے معلوم ہو رہے تھے، بعد میں پتہ چلا انہوں نے انگلینڈ سے بزنس ایڈمنسٹریشن پڑھ رکھا ہے۔
اسی خوشی کے ماحول میں ان کی نظر اچانک اس سیٹھ پر پڑ گئی، (پیر صاحب کی بھاری اور بلند غصیلی آواز ) تو پھر آ گیا بہن *ود، دفع ہو جا کتے کے *چے، تو مر جا میری طرف سے خبیث کی اولاد، سیٹھ زمین پر سجدے میں گر گیا، ہر طرف سناٹا، اس ماحول میں میرے جسم پر جیسے چیونٹیاں چلنا شروع ہو گئیں، لیکن پیر صاحب فوراً نارمل ہوئے اور ہم سے مخاطب ہو کر ہمارے سفر کا احوال پوچھنے لگے، پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں اچھے اور نیک خیالات کا اظہار کرتے رہے، اچانک بولے آپ میں سے کسی کو گانا آتا ہے، ہم میں سے ایک دوست کو بہت اچھا گانا آتا تھا، اس نے ہاں میں سر ہلایا تو پیر صاحب نے نعت کی فرمائش کر ڈالی، اس کی آواز بہت اچھی تھی جیسے ہی اس نے نعت پڑھنی شروع کی پیر صاحب پر وجد طاری ہو گیا، اس کے ساتھ ہی پیر صاحب نے بلند اور بھاری آواز میں خود بھی نعت پڑھنی شروع کردی، پیر صاحب کی آواز میں بہت جان تھی، سر اور لے بھی اچھی تھی، اب نعت کا ایک شعر ہمارا دوست پڑھتا تو اس کے جواب میں دوسرا پیر صاحب پڑھتے، عجیب سا ماحول بن گیا، اس حویلی نما گھر میں اردگرد کام کرنے والے لوگ کام چھوڑ کر نعت کی جگل بندی سے لطف اندوز ہونے لگے، سیٹھ سجدے سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر روتا رہا۔
پیر صاحب نے اچانک اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور بے شمار بڑے کرنسی نوٹ ہمارے اس دوست کی جھولی میں ڈالنا شروع کر دیے، اس وقت مجھے پہلی دفعہ اپنے گانا گانے کی صلاحیت سے محرومی پر شدید احساس محرومی ہوا، اندر ہی اندر میں نے گانا گانے کی کوشش کی لیکن پھر منہ بند رکھنے میں ہی عافیت جانی، لیکن پیر صاحب ہمیں بھی نہیں بھولے تھے، دوسری جیب میں ہاتھ ڈال کر بقیہ تمام نوٹ ہم دو دوستوں کی جھولیوں میں ڈال دیے، اچھی خاصی رقم جو بھارت میں شاپنگ کے دوران کئی دن تک خرچ کی (پیر صاحب تسی گریٹ او) ، اس دوران سیٹھ کو وقفے وقفے کے ساتھ گالیوں کا پرشاد بھی ملتا رہا۔
پیر صاحب نے بتایا مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میرے مریدوں کا مذہب کیا ہے، میں تو صرف انہیں یہی سمجھاتا ہوں کہ سب سے محبت کریں، سب کا احترام کریں، غریبوں کا خیال رکھیں، سجدہ کہیں بھی کرو لیکن بے ایمانی نہ کرو، میں مسلمان ہوں، مجھے ان میں سے کسی کی ضرورت نہیں، میرے پاس بے شک کوئی نہ آئے، مجھے ان کے پیسے کی بھی ضرورت نہیں، یورپ کے متعدد ممالک میں میرے اپنے ہوٹلز ہیں، رب کا دیا بہت کچھ ہے میرے پاس۔
پیر صاحب کے مرید پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے، لیکن توہم پرستی کا جو لیول بھارت یا پاکستان میں ہے، شاید ہی کسی اور ملک میں ہو، اس لیے ان کے مریدوں کی زیادہ تعداد بھارتی پنجاب میں ہے، جہاں ان کی دال خوب گل رہی ہے، بھارت میں رہتے ہوئے یہ فلسفہ خوب کامیابیاں سمیٹ رہا ہے، یقیناً اسلام سے اس کا واسطہ صرف نام کی حد تک ہی ہے۔
ایسے فلسفوں کے لیے بھارت کی سرزمین بہت زرخیز ہے، شاید پاکستان سے بھی زیادہ، اکبر نے بھی دین الہی بنانے کی کوشش کی تھی، اس کا مقصد بھارت کی مذہبی ڈائیورسٹی کو کیش کروانا تھا، جس میں اس نے اپنے مخصوص مقاصد کے لیے تمام مذاہب کا متنجن بنانے کا ارادہ کیا تھا۔
وہ ایک انتہائی چالاک اور کامیاب حکمران تھا، شاید مسلمانوں کا واحد بادشاہ جسے ہر مذہب کے لوگوں نے پسند کیا، حکمرانی کے نشے کے آگے تمام مذاہب اور نظریات غیر اہم ہو جاتے ہیں، جب تک یہ دنیا قائم ہے نئے نئے نظریات بنتے اور بگڑتے رہیں گے، نرکھ سورگ کا یہ گھن چکر یونہی لوگوں کو چکر دیتا رہے گا، یاد رہے کہ ہر یگ کل یگ ہے، یہ سودا ہمیشہ بکنے والا ہے، اس کام کو کبھی مندہ نہیں۔


