ہماری معیشت اور ٹرک کی بتی ( 2 )
کان کنی اور معدنیات کے علاوہ ایس آئی ایف سی (سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل) کے ذریعے ہماری حکمران اشرافیہ کا دوسرا ہدف یہ ہے کہ وہ عرب سرمائے کے ساتھ یا اس کے بغیر کارپوریٹ کاشت کاری کریں۔
یہ بھی کوئی نئی شے نہیں ہے، وہی پرانی بوتل میں نئی شراب۔
ہماری حکمران اشرافیہ اگلے تین سے پانچ برس کے عرصے میں زراعت، لائیو سٹاک اور ڈیری کے شعبوں میں تیس سے پچاس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ قائم کیے بیٹھی ہے، یہ ایس آئی ایف سی کے تحت اٹھائے جانے والے ”گرین پاکستان منصوبہ“ نامی مہم کا حصہ ہے۔
تھوڑا سا ماضی میں جھانکیں تو 2008۔ 2007 کے دوران بھی مقامی اور عالمی میڈیا میں متعدد ایسے اعلانات دیکھنے کو ملے تھے کہ سعودی، اماراتی اور قطری پچیس لاکھ ایکڑ غیر مزروعہ رقبہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں خرید چکے ہیں۔ فی ایکڑ زمین کی یہ معیاری قیمت 1000 امریکی ڈالر یا اس سے بھی کچھ کم تھی، زمین کی معیاری قیمت کا تعین امارتیوں کے اس سودے سے ہوا تھا جو انہوں نے میرانی ڈیم کے قریب چالیس ہزار ایکڑ حاصل کرنے کے لیے چار کروڑ ڈالر میں کیا تھا۔
اعلان کردہ معاہدوں میں سے کسی کی بھی بیل منڈھے نہ چڑھ پائی حالانکہ جنرل مشرف اور ان کے بعد آنے والی اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان معاہدوں کی تکمیل کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ اس ناکامی کی وجہ دہشت گردی کے روایتی خطرے سے دوچار ملک ہونے کی ہماری ساکھ اور 2008 سے خوراک کی قیمتوں میں آنے والا استحکام تھا۔
پنجاب حکومت نے 4500 ایکڑ رقبے کا ایک نمونہ، خصوصی معاشی زون، 2014 میں کارپوریٹ کاشتکاری کے فروغ کے لیے قائم کیا تھا۔
یوکرین تنازعے کے باعث غلے کی عالمی منڈی میں آنے والی حالیہ گراوٹ کے پیش نظر یہ قدم نہایت بروقت دکھائی دیتا ہے۔ عرب شیخ ایک بار پھر طویل مدتی تناضر میں اپنی فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے خوف کا شکار ہوئے نظر آتے ہیں۔
توچلیے ہم تاریخی اور تقابلی نقطہ نظر سے زراعت، لائیو سٹاک اور ڈیری کے شعبوں میں کسی بھی اضافی قدر کے پیدا ہونے کے امکانات کا جائزہ لیتے ہیں۔
ماسوائے چند انفرادی کاوشوں کے اب تک پاکستان کے پاس کارپوریٹ کاشتکاری کا براہ راست تجربہ موجود نہیں، ایسی کوشش کرنے والوں میں ایک نام جہانگیر ترین کا بھی ہے جنہوں نے 20، 000 ایکڑ رقبے سے زیادہ پر کاشت کی ہے۔ اس بڑے پیمانے پر زرعی رقبے کی دوسری ملکیت پاکستان آرمی کے ریماؤنٹ ڈپو، مونا اور سرگودھا کے علاقے میں ہے، فوج کے پاس اس رقبے کی ملکیت تقسیم ملک کے وقت سے ہی چلی آ رہی ہے۔
جہانگیر ترین کے پاس 3000 فرائسین گائے (دودھ دینے کے لیے مشہور ہالینڈ کی گائے ) ہیں جب کہ ریماؤنٹ ڈپو مجموعی طور پر 1500 عربی نسل اور تھارو بریڈ گھوڑے پالتے ہیں جب کہ ان کے پاس مویشیوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ شاید خود ان فارم ہاؤسوں پر کام کرنے والے عملے کی ضروریات بھی اس سے پوری نہ کی جا سکتی ہوں۔
ترین کے ادارے جے ڈی ڈبلیو نے گزشتہ برس اشیا کی قدر اضافی سے 67 ارب روپے سے زائد اور ڈیری دودھ کی اشیاء کی فروخت سے 20 ارب روپے کے آس پاس کمائی کی۔ ( 30، 000 لٹر دودھ فی دن) ۔
اوکاڑہ ملٹری فارمز ( 17، 000 ایکڑ) جن کا انتظام پاکستان فوج چلاتی ہے اس نے سال 2000 میں صرف 12 کروڑ روپے کمائے حالانکہ اس نے مقامی اور عالمی میڈیا اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹوں میں بہت زیادہ بدنامی کمائی۔
واضح طور پر پاکستان فوج کے پاس جو رقبہ/زیر کاشت زمین ہے اس سے حاصل ہونے والی پیداوار نجی شعبے سے 97 ٪ کم ہے۔
جہانگیر ترین کی ( 3000 ) اور میاں منشا کی ( 6000 ) فریسئین گائیں اوسطاً روزانہ 13 لٹر دودھ دیتی ہیں جب کہ آرمی کے ملٹری فارمز کی گائیں فی گائے روزانہ 6 لٹر دودھ دیتی ہیں۔ تادم تحریر پاکستان آرمی کے 3 فارمز میں 2000 مویشی موجود ہیں۔
لطف کی بات یہ ہے کہ انڈین آرمی نے ہماری فوج کے برعکس 2017 میں اپنے ریماؤنٹ ملٹری فارمز سے دستبرداری اختیار کر لی لیکن ہمارا باوا آدم ہی نرالا ہے ہم نہ صرف ابھی تک اس تصور کو گلے لگائے بیٹھے ہیں بلکہ اس رقبے کو دگنا کرنے کے چکر میں بھی ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق 2017 تک پاکستان میں 12000 سے زائد ڈیری فارمز تھے، ان میں سے 75 فیصد چھوٹے پیمانے کے ہیں۔ گزشتہ برس ہم نے 12000 سے زائد فریسئین گائے اور کراس بریڈ کے لیے نر بیلوں کے 120،000 سپرم امپورٹ کیے ہیں۔
میرے ساتھی شہباز رانا کے مطابق، پاکستان آرمی ارادہ رکھتی ہے کہ وہ اپنے دوسرے ’گرین پاکستان منصوبہ‘ کے تحت 20،000 فریسیئن گائے کے ساتھ آغاز کرے اور آگے چل کر یہ تعداد پانچ گنا ( 100،000 ) تک پہنچا دی جائے۔ کیا یہ چیز کسی اہمیت کی حامل ہے کہ ہم پہلے سے ہی 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کا ریوڑ رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں دودھ کی مصنوعات پیدا کرنے کے اعتبار سے ہمارا نمبر پانچواں ہے۔
اب اگر تو فوڈ سیکیورٹی اور درآمدات کا متبادل تلاش کرنے کی نیک نیت ہو تو، بظاہر، اس کے لیے بہترین طریقہ کار یہ ہے کہ اس تین کروڑ اسی لاکھ ایکڑ غیر مزروعہ زمین (حکومت پنجاب کے لینڈ یوٹلائزیشن ریکارڈ کے مطابق) کو ان پاکستانیوں میں تقسیم کر دیا جائے جو شدید ترین غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد ہماری چوبیس کروڑ آبادی کا تیس فیصد بنتی ہے، شہباز شریف اور ہمارے آرمی چیف سید عاصم منیر کے اس ’دوسرے سبز انقلاب‘ کے ذریعے سے غربت کا مسئلہ حل کرنا عین ممکن ہے۔
سادہ سے حساب کی رو سے دیکھا جائے تو تقریباً ساٹھ لاکھ خاندان اس منصوبے سے روزی روٹی کما سکتے ہیں، یعنی اس وقت غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے چار کروڑ غرباء کو اس ذریعے سے حقیقی روزگار مہیا ہو سکتا ہے۔ یقیناً یہ کام ہماری حکمران اشرافیہ کے لیے نیک نامی کمانے کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کام کو فوج کے ریٹائر افسران کے لیے ’فرنچ ٹوسٹ‘ نہیں بن جانا چاہیے، جیسا کہ اخباری اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
اور اب تو غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ان بے کس پاکستانیوں کا ذاتی و معاشی ڈیٹا نارڈ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور شہباز شریف کے سنٹر آف ایکسیلنس کی وساطت سے ہمارے پاس موجود ہے۔
ریاست اس لازمی شرط کے ساتھ انہیں روزی روٹی مہیا کر سکتی ہے کہ وہ اس زمین پر سرسوں، کینولا، سورج مکھی، تل اور خوردنی تیل کے لیے درکار دیگر بیج اور دالیں وغیرہ کاشت کریں گے، پام آئل کی ڈالر میں قیمت کے حسابوں سے ایسی فصلوں کی امدادی قیمت کا اعلان ان کی کاشت کے سیزن سے پہلے کرنا ہو گا۔
آپ اپنے ان کسانوں کو ابتدائی زرعی امداد مہیا کریں۔ اس کے بعد فوج کے ذیلی ادارے فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) ، نیشنل لاجسٹک سیل اور نجی شعبے کے بڑے کھلاڑیوں کو چاہیے کہ وہ اب تک غیر مزروعہ پڑی ہوئی زمین کو آباد کرنے کے لیے ان غریب کسانوں کو مدد مہیا کریں۔
ایک اور حیران کن بد قسمتی یہ ہے کہ 10 فیصد سے بھی کم پاکستانی کھیت ایسے ہیں جو سالانہ دو فصلیں حاصل کرتے ہیں۔ یہاں ضرورت ہے کہ ہم اپنے تحقیق کے شعبے پر سرمایہ کاری کریں کہ کس طرح سے ہم اس وقت اپنے زیر کاشت رقبے سے سال میں دو فصلیں حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کی زرعی آمدن میں سالانہ چالیس ارب ڈالر کا اضافہ کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔
اور عربوں کی فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے اس بات میں کوئی خرج نہیں کہ اگر وہ دس یا بیس لاکھ ایکڑ زمین ہم سے حاصل کر لیں لیکن یہ سودا اس شرط کے ساتھ ہونا چاہیے کہ اس زمین سے حاصل ہونے والی تمام تر مصنوعات ڈالر یا ہمارے لیے بہت قیمتی زر مبادلہ کے تبادلے میں باہر بھجوائی جائیں گی۔
نقطہ یہ ہے کہ قدر اضافی کی حامل کاشتکاری کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک اور ڈیری کے شعبے کو بھی نجی شعبے کے قابل سرمایہ کاروں کے ذریعے چلایا جائے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نجی شعبے کے ڈیری فارم مالکان دودھ سے پیدا ہونے والی قدر اضافی کی حامل مصنوعات مثلاً پنیر، مکھن وغیرہ کی ایکسپورٹ پر کیوں توجہ مرکوز نہیں کرتے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ پاکستان کی ڈیری ضروریات کا صرف چار فیصد مہیا کرتے ہیں اور اس کے بعد ان کے پاس ایکسپورٹ کرنے کے لیے اضافی مصنوعات دستیاب ہی نہیں ہوتیں۔
اب اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ پاکستان آرمی، ’سبز منصوبے‘ کے لیے حکومت سے دس لاکھ ایکٹر زمین حاصل کر رہی ہے اور ابتدائی طور پر اس نے نفع سے چالیس فیصد طلب کیا ہے، چالیس فیصد متعلقہ صوبائی ریونیو بورڈ کے پاس جائے گا جب کہ نفع کا بیس فیصد حصہ تحقیق و ترقیات کی مد میں خرچ کیا جائے گا۔
اس مجوزہ رقبے میں سے 45000 ایکڑ صوبہ پنجاب کے تین مختلف اضلاع میں اس برس فوج کو الاٹ کیے جا چکے ہیں۔ اگر اس منصوبے پر عمل درآمد ہو گیا تو فوج کے زیر ملکیتی رقبہ اس وقت جس سطح پر ہے اس سے دگنا ہو جائے گا یعنی 100 فیصد اضافہ۔
ملٹری اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق پاکستان ڈیفنس فورسز چھ لاکھ ایکڑ زمین کنٹرول کرتی ہے اور اس کے پاس پاکستان بھر میں گیارہ ملٹری اسٹیٹ سرکل اور 44 کنٹونمنٹ قائم ہیں۔ اس کے علاوہ 8 ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیوں (ڈی ایچ اے ) اور دیگر فوجی فارمز کے پاس دو لاکھ ایکٹر زمین موجود ہے۔ مجموعی طور پر یہ آٹھ لاکھ ایکڑ رقبہ بن جاتا ہے۔
اس محکمے کی 19۔ 2018 کی رپورٹ کے مطابق ملٹری اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ جی ایچ کیو کے تحت ہے جس کے 19000 ملازمین ہیں اور اس کا بجٹ 25 ارب روپے سالانہ ہے اور اس وقت یہ ادارہ مختلف نوع کی 6000 عدالتی چارہ جوئیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ تو ایک پیمائش کردہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے پاس اب بھی تین کروڑ اسی لاکھ ایکڑ اراضی ایسی ہے جو قابل کاشت ہے، کلچرایبل ویسٹ (ایسی زمین جو گزشتہ تین برسوں سے کاشت نہیں کی جا رہی لیکن یہ ایسے علاقے میں ہے جو زیر کاشت ہے ) اور ایسا رقبہ جو گزشتہ ایک برس سے زیر کاشت نہیں (کرنٹ فلو) ہے۔ یقیناً اس بہت زیادہ گنجائش موجود ہے تاہم اس زمین سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خلوص دل سے کاوشیں کی جائیں۔
سوال وسائل کا نہیں بلکہ اس بہت بڑے منصوبے کے نفاذ کا ہے۔ فصلیں اگاؤ غربت مکاؤ۔ (جاری ہے)
مترجم: ثقلین شوکت

