ریاستی پالیسی اور بلوچستان
بظاہر لگتا یوں ہے کہ بلوچستان پر قسمت کی دیوی مہربان ہے، نگران وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان ایک ہی وقت میں بلوچستان سے ہونے جا رہے ہیں، لیکن کیا یہ واقعی قسمت کی یاوری ہے اور کیا اس سے بلوچستان کی تقدیر بدلے گی؟
پی ڈی ایم حکومت کے آخری ایام اور نگران حکومت کے اب تک کے عرصے میں بلوچستان سے لاپتہ افراد کی فہرست میں مزید افراد کا مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اگر ماضی کا جائزہ لیں تو بلوچستان میں سرکاری پالیسیوں کو زمینی حقائق پر زبردستی مسلط کرنے کے لیے پہلے بھی بلوچستان سے لوگوں کی خدمات لی گئیں، چھوٹے موٹے کام تو عام سردار کرتے تھے مگر ان کے پاس قومی مینڈیٹ تھا تو وہ مکمل لگڑ بھگا نہیں بن سکتے تھے تو اس کام کے لیے کچھ اور لوگوں کی مدد لی گئی اور بلوچستان میں باقاعدہ ریاستیں بنیں جن میں سول بیوروکریسی اور عدلیہ برائے نام تھے، سبھی فیصلے ایک ہی جگہ سے ہوتے تھے۔
اس بار محض ان چند لوگوں کو چھوٹ نہیں دی جا رہی بلکہ ملک کے سب سے بڑے سیاسی عہدے انہی لوگوں کو عطا کیے گئے ہیں، قسمت کی اس مہربانی کو اگر پنڈی کی مہربانی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔
بلوچستان کے دل ضلع خضدار میں گزشتہ کئی دنوں سے مینگل قبیلے کے سربراہ سردار اسد اللہ مینگل اور ریاستی مہرہ میر شفیق الرحمن مینگل کے درمیان جنگ جاری ہے، اس میں ریاست ایک بار پھر تماشائی بنی ہوئی ہے، یہ خاموشی بہت کچھ بتاتی ہے۔
ایک غیر رجسٹرڈ پینل کے افراد اتنے طاقتور ہیں کہ اسلام آباد اور کوئٹہ پریس کلب پر پریس کانفرنس کرتے ہیں جس میں پاکستانی عوام میں بلوچستان کے حقوق کی بات کرنے والوں کے خلاف رائے سازی کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان پریس کانفرنسوں میں ایک الزام دہرایا جاتا ہے کہ گورنر بلوچستان وڈھ اسلحہ بھیج رہا ہے تو سوال یہ ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے بھاری ہتھیاروں سے گولے برس رہے ہیں جن سے وڈھ انٹر کالج کی دیوار کو منہدم کیا گیا ہے، رورل ہیلتھ سنٹر وڈھ کی باؤنڈری وال کو بھی نقصان پہنچا ہے اور متعدد مقامات پر عام آبادی نشانہ بنا ہے وہ سارے اسلحے اور گولے کہاں سے آئے ہیں؟
لگتا ہے نگران سیٹ اپ کو بلوچستان کے حوالے کر کے ریاست برسوں سے چلتی غلط پالیسی کو نہ صرف دوام دینا چاہتی ہے بلکہ اس میں شدت بھی لانا چاہتی ہے۔
اس ساری صورتحال سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ بلوچستان پر قسمت کی دیوی مہربان نہیں ہوئی ہے بلکہ یہاں کے مہروں پر پنڈی مہرباں ہوا ہے، اور اس کی مہربانی نے پہلے بھی بلوچستان کے خاک کو آنسو اور خون سے رنگا تھا، اس بار بھی حالات بہتر نہیں لگ رہے۔
ریاست بقول مذہبیوں کے قیامت تک قائم رہنے کے لیے بنی ہے مگر میں سوچتا ہوں بلوچستان کا کیا ہو گا؟
یہاں سے بلوچوں کو منہا کر کے دیگر قومیں آباد کرنے کی پالیسی کامیاب ہوگی؟
دیکھتے ہیں

