دنیا اور ہم


انڈیا نے جی 20 ممالک کی سربراہی کی، متحدہ عرب امارات کی ترکیہ میں 40 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری، ترک کمپنیز کا سعودی عرب میں 50 بلین ڈالرز کی تعمیرات کا معاہدہ، ترک ریاستوں نے آئی ایم ایف کی طرز پرایک مالیاتی ادارہ ٹی وائی ایف قائم کر لیا۔ پچھلے کچھ عرصے سے عالمی ذرائع ابلاغ پر اس قسم کی خبریں زیر گردش ہیں۔ اس کے بر عکس پاکستانی میڈیا پر عرصہ دراز سے جو خبریں ہمیں سننے یا پڑھنے کو مل رہی ہیں وہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ پانامہ پیپرز میں بڑے بڑے نام سامنے آ گئے، وزیراعظم تا حیات نا اہل، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی و ناکامی کا دار و مدار خفیہ قوتوں پر ہے، دنیا کی 100 ٹاپ یونیورسٹیوں میں کوئی پاکستانی ادارہ شامل نہیں، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمانوں کو چھونے لگیں، وغیرہ وغیرہ۔ دنیا کو ایک اور زاویے سے دیکھیں تو آپ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا عروج، چیٹ جی پی ٹی، گوگل ایڈوانسڈ فیچرز، معیشتوں کے بھاری بھرکم حجم، خوراک میں خود کفالت، توانائی کے شعبے میں جدت، تحقیقی شعبے میں حیران کن ترقی اور اعلیٰ درجے کی جمہوری روایات ملتی ہیں۔ پاکستان میں حالات قطعی مختلف ہیں۔ قحط الرجال، جمہوری روایات کا فقدان، بد دیانتی، تشدد، دن بدن سکڑتی ہوئی معیشت، آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی، بدحال تحقیقی شعبہ۔

ان خبروں و حالات کا سرسری سا جائزہ لینے کے بعد ایک عام آدمی بھی ہماری ترجیحات کو باآسانی سمجھ سکتا ہے۔ بیرونی دنیا کی نسبت پاکستان میں سیاسی ہیجان بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ عوام اور عوامی حلقے ایک مسلسل کشمکش میں مبتلا ہیں۔ اس قدر ذہنی تناؤ شاید ہی دنیا کے کسی کونے میں پایا جاتا ہو۔ سیاسی عدم استحکام، معاشرتی عدم توازن، معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے عوامل کی وجہ سے عام آدمی سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔

ہمارے لئے یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ اس وقت معیشت دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ کمزور معیشت اور لاغر معاشی نظام کے ساتھ عالمی برادری میں عزت و احترام نہیں کمایا جا سکتا، آزاد خارجہ پالیسی ناممکن رہے گی، کشمیر جیسے عالمی تنازعات کا منصفانہ حل نہیں نکل سکتا، بیرونی سرمایہ کاری کے دروازے بند رہیں گے، غیر ملکی سیاحت کا فروغ نا ممکن ہے۔

اس وقت معاشی ترقی اہم ترین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس میں دیرپا ترقی، عوامی فلاح، متوسط طبقے کی ترقی، روزگار کے مواقع، کاروباری تشہیر، تجارتی روابط، اور مستحکم معاشی حالات شامل ہیں۔

Facebook Comments HS