پوسٹ کالونیل پراجیکٹ: پاکستان کی قومی شناخت کی تشکیل میں امریکی کردار
مابعد جدیدیت اور رد نو آبادیت، کالونیل عہد کے خاتمہ کے بعد نوخیز ریاستوں میں گزشتہ سات دہائیوں سے زیر بحث ہیں۔ برطانوی ہند میں جدیدیت کا تصور، یورپی تہذیب و لسانی شناخت کے تحت تشکیل پایا۔ لہذا، تقسیم ہند کے بعد رد نو آبادیت کا چیلنج قومی سطح پر درپیش رہا۔ پوسٹ ماڈرن سماج میں تشخص کے معنی قومی تقاضوں کے مطابق ڈھالے جاتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست آزادانہ طور پر مقامیت سے ہم آہنگ قومی تشخص تشکیل کرے۔ تحریک پاکستان کی بنیاد تو دو قومی نظریہ تھی لیکن ریاستی خد و خال اس نظریہ کی بنیاد پر تشکیل دینا قدرے مشکل تھا گویا یہ نظریہ محض سیاسی نعرہ میں مقید ہو گیا۔
جناح صاحب نے ریاستی شناخت کا جو تصور دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا وہ دو قومی نظریہ سے متصادم تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جناح صاحب نے پاکستان کی ریاستی شناخت تشکیل کرنے کے لیے پہلے یہود النسل نو مسلم محمد اسد کو پاکستان کی اسلامی شناخت مرتب کرنے کا ہدف سونپا۔ پاکستان کا دستور، اقتصادی ڈھانچہ اور تہذیب و تمدن کی از سر نو تشکیل کرنے کے لیے جناح صاحب نے برطانوی و امریکی ماہرین بشمول آرچی بالڈ رولینڈ، سر وکٹر الفرڈ چارلس، کے۔
ایس جیفریز کو تعینات کیا گیا۔ قوم کی سیاسی تعریف پر جزوی انحصار کرنے کی بجائے تہذیبی، ثقافتی، لسانی و مقامی شناخت کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری تھا تاہم جناح صاحب کے منصوبوں سے مقامیت خارج تھی۔ یہی وجہ تھی تقسیم ہند کے بعد پاکستان کو کثیر القومی، کثیر اللسانی و کثیر الثاقفتی پہلوؤں کی بناء پر مسلم قوم پرستی کے خد و خال واضح کرنے میں چیلنجز کا سامنا رہا۔ بنگال اور مغربی پاکستان کی تہذیب و ثقافت یکسر مختلف تھی، ان دونوں کے فرق کا ادراک کیے بغیر جب قومی سیاست کا جغرافیہ مرتب کرنے کی زبردستی کی گئی تو یہ اختلاف اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ سقوط ڈھاکہ پر اختتام پذیر ہوا۔
پاکستانی سیاست کی نمائندہ جماعت، مسلم لیگ اپنے داخلی تضادات و انتشار کی بناء پر ملک پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی، چنانچہ کالونیل عہد کی تربیت یافتہ سول و ملٹری بیوروکریسی نے مشترکہ طور پر پاکستان کی قومی شناخت استوار کرنے کے نئے نئے تجربات کیے، یہاں کی مقامی تہذیبوں، لسانیات، ثقافت اور مذہبی رجحانات کو یکسر نظر انداز کیا گیا اور مسلم قوم پرستی کی شناخت مابعد جدیدیت اور نو آبادیت کے فلسفیانہ اصول و ضوابط کے تناظر میں پروان چڑھانے کا منصوبہ نافذ کیا گیا۔
پاکستان کی قومی شناخت تشکیل کرنے کا پراجیکٹ امریکا و برطانیہ کو سونپا گیا، اس پراجیکٹ کی اساس پاکستانیوں کی ذہن سازی، علوم کی ترویج اور فن تعمیرات پر مبنی تھی۔ پاکستان کو گیریژن ریاست میں ڈھالنے کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب قائد اعظم محمد علی جناح نے امریکا سے فوری طور پر فوجی اسلحہ و امداد کی درخواست کی۔ امریکا نے اپنی شرائط پر فوجی امداد مہیا کی اور امریکی مفادات و ضروریات کے مطابق پاکستان کی بنیادیں رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ امریکا کے تزویراتی پلاننگ کا حصہ تھا کہ ملک پر قبضہ کرنے کے لیے پہلے ترقی کا روڈ میپ پیش کریں پھر اس روڈ میپ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تکنیکی معاونت بھی مہیا کی جائے جس سے ملک کے داخلی امور میں مداخلت کے نئے اسباب پیدا ہوئے۔
امریکا کے لئے پاکستان ایک نیا پراجیکٹ تھا، اس پراجیکٹ کو چلانے کے لیے قومی اداروں میں سرایت کی گئی، یہاں کی سیاسی جماعتوں کے مقابلے پر سول و ملٹری بیوروکریسی اور اشرافیہ کو دست راست بنایا گیا۔ امریکا نے پراجیکٹ پاکستان کے خد و خال وضe کرنے کے لیے فورڈ فاؤنڈیشن اور امریکی یونیورسٹیوں کا سہارا لیا۔ پاکستان کا پراجیکٹ تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا: قومی ذہن سازی کے لیے پہلی تعلیمی پالیسی کی تشکیل میں فورڈ فاؤنڈیشن سمیت دیگر اداروں نے کام کیا، دوم ؛ واشنگٹن کو سیاسی قبلہ بنانے کے لیے سول و ملٹری بیوروکریسی میں ملک غلام محمد، محمد علی بوگرہ، جنرل اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کو استعمال کیا گیا، سوم؛ فن تعمیرات کے لیے تکنیکی معاونتی پروگرام کے تحت تعمیراتی منصوبوں کا اجراء کیا گیا۔
فورڈ فاؤنڈیشن کے صدر Paul Hoffman نے استدلال کیا کہ امریکی مالی امداد و گرانٹ کے منصوبے ثقافتی، جمالیاتی و اقتصادی خیالات کے آزادaنہ فروغ میں قاصر ہے، ہوف مین نے، امریکی مارشل پلان کو مد نظر رکھتے ہوئے ثقافتی اور جمالیاتی شعبے کو بہ طور اسٹرٹیجک ہتھیار، ایک نئے میدان جنگ کی حیثیت سے شناخت کیا جس میں فن تعمیر ایک اہم جز تھا۔ ان کا تصور تھا کہ ثقافتی بالادستی قائم کرنے سے ترقی پذیر ممالک پر کنٹرول حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح امریکی صنعت کاروں نے جہاز سازی اور سٹیل جیسی بھاری صنعتوں کی ترقی میں پاکستان کی دلچسپی کی مخالفت کی اور اسے روک دیا۔
امریکا کی فورڈ فاؤنڈیشن نے، پراجیکٹ پاکستان پر بھر پور سرمایہ کاری کی۔ فاؤنڈیشن نے 1951 ء میں پاکستان کو پہلی مالی امداد مہیا کر کے تین پولی ٹیکنیک کالجوں اور تین ہوم اکنامک کالجوں کی بنیادیں رکھی۔ پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ اور تیسرے گورنر جنرل ملک غلام محمد اور پہلے مارشل لاء حاکم جنرل ایوب خان نے قومی ریاستی شناخت تشکیل کرنے کے لیے امریکی و یورپی معماروں کو ہایئر کیا۔ جس میں جس میں پال روڈولف، ڈوکسیڈیس، ایڈورڈ ڈیوریل اسٹون، رچرڈ نیوٹرا، اسٹینلے ٹائیگرمین، رچرڈ ورومن، ڈینیئل سی ڈنہم اور لوئس کا ہنسر فہرست میں شامل ہیں۔ نئے تعمیراتی منصوبوں میں مسلم تہذیبی شناخت کو ڈیفائن کرنے کا اختیار امریکی کمپنی کو سونپا گیا۔
جنرل ایوب خان کی آمریت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے امریکی سی آئی اے نے ہر سطح پر معاونت کی، پاکستان کو روس یا کمیونزم کے خلاف موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، امریکی اہداف میں سر فہرست تھا چنانچہ ایوب خان کے دور میں امریکی مداخلت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ سی آئی اے کی سرپرستی میں جرمنی میں ایڈووکیسی گروپ، کانگرس فار کلچرل فریڈم قائم کیا گیا اور پاکستان میں اس گروپ نے بائیں بازو کے سیاسی تصورات کو نہ صرف دبایا بلکہ ایک موثر پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا۔ پاکستان میں اس کانگرس کی سرپرستی ایوب خان کے وزیر قانون اے۔ کے بروہی کر رہے تھے۔ پاکستان میں آئیڈیالوجیکل تشکیل کے لئے امریکا نے ایوب خان کے دور میں سب سے زیادہ کام کیا۔ پاکستان میں کلچرل آرٹ اور اینٹی کمیونزم رجحانات کو فروغ دینے کے لیے کانگرس فار کلچرل فریڈم نے کلیدی کردار ادا کیا۔
مارشل لاء کے چند سالوں کے اندر پریس سنسر شپ نافذ کر دی، کانگریس فار کلچرل فریڈم نے ایوب خان کی حکومت کو تیسری دنیا میں فکری طور پر ترقی پسند، مثبت اور اخلاقی طور پر جائز رہنما کے طور پر دفاع کرتے ہوئے بین الاقوامی شہرت قائم کرنے میں مدد کی۔ ایوب خان کے دور صدارت میں ہی پاکستان نے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے اور ہاورڈ ایڈوائزری گروپ اور فورڈ فاؤنڈیشن کے ذریعے غیر معمولی تعداد میں امریکی گرانٹ حاصل کیں۔ فورڈ فاؤنڈیشن اور یو این ٹیکنیکل اسسٹنس ایڈمنسٹریشن کے ذریعے، امریکہ نے پاکستان کو سالانہ 100 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ کا تعاون دیا، جب کہ کولمبو پلان کے ذریعے برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے سالانہ 20 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ کی فراہمی کی۔
یو ایس ایڈ، فورڈ فاؤنڈیشن اور بعد میں ورلڈ بینک کے ذریعے، یورپی اور امریکی آرکیٹیکٹس کے ایک بڑے گروپ کو پاکستان بھیجا گیا تاکہ ایک ایسے جدید فن تعمیر کی ترقی میں مدد کی جا سکے جو ہاورڈ ایڈوائزری گروپ کی طرف سے دی گئی ادارہ جاتی اصلاحات کو نئی شکل دے گی۔ پاکستانی حکومت نے وسیع تعمیرات کے لیے درکار بنیادی مالیاتی سرمایہ فراہم کیا، جبکہ غیر ملکی کنسلٹنٹس نے ایک جامع وژن، ڈیزائن اور ماسٹر پلان فراہم کیا۔ یہ فورڈ فاؤنڈیشن تھی جس نے گرانٹ کی رقم اور غیر ملکی مشیروں کا انتظام کیا۔
فورڈ فاؤنڈیشن نے اوکلاہوما اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیار کردہ تعلیمی نصاب اور انتظامی ڈھانچے کو پولی ٹیکنیک اداروں اور ہوم اکنامکس کالجوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ بعد ازاں، مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی اور ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی نے بھی مغرب اور مشرق دونوں میں نئے اداروں کے تعلیمی نصاب کے مسودے اور تنظیمی ڈھانچے تشکیل دیے۔ اسی طرح فورڈ فاؤنڈیشن کی پارٹنر کمپنی Doxiadis ایسوسی ایٹ کو پاکستان لایا گیا۔ جنرل ایوب خان نے ڈوکسیڈیس کو اسلام آباد کے تعمیراتی ڈیزائن کا پراجیکٹ دیا گیا، کراچی میں مہاجروں کی آباد کاری کے لیے کورنگی ٹاؤن پلاننگ کا ٹاسک بھی دیا گیا۔
ڈوکسیڈیس کے اقدامات پاکستان سے متعلق امریکی خارجہ پالیسی سے منسلک کر دیے گئے۔ ڈوکسیڈیس کے ساتھ اقتصادی و تعمیراتی امور کی انجام دہی کے لیے جنرل اعظم خان کی خصوصی ڈیوٹی لگائی گئی۔ 5 جون 1959 ء کو جنرل اعظم خان نے ایتھنز میں ڈوکسیڈیس کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا اور یہاں کمپنی کے مالک ڈوکسیڈیس کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ پاکستان میں جنرل اعظم کو ڈوکسیڈیس کا سب سے بڑا سہولت کار تصور کیا جاتا تھا۔
امریکی حکومت کے مشیر ایڈورڈ میسن نے یو ایس ایڈ کی مالی امداد سے پاکستان پراجیکٹ کو چلانے کے لیے ہاورڈ ایڈوائزری گروپ قائم کیا، اس گروپ کا پاکستان کے ساتھ تعلقات کا آغاز امریکی دست راست گورنر جنرل ملک غلام محمد کے عہد میں ہوا۔ بعد ازاں، جنرل ایوب کے دور حکومت میں، جان ایف کینیڈی اور لنڈن بی جانسن کی انتظامیہ کے ساتھ مزید تعلقات مضبوط ہوئے۔ ہاورڈ ایڈوائزری گروپ کے دو مشیر اپریل 1954 ء میں پاکستان آئے، ان کا بنیادی ہدف پاکستان کے اقتصادی منصوبہ جات میں تعلیم کے لیے وسائل کی تقسیم پر حکومت کو آمادہ کرنا تھا۔
ایڈورڈ میسن، اس بات پر قائل تھا کہ پاکستان کے یونیورسٹی سسٹم کے اندر، ایک پلاننگ کمیشن قائم کیا جائے جس کی نگرانی امریکا کرے تاہم دوسرے مشیر ڈیوڈ بیل نے کمزور یونیورسٹی ڈھانچہ کی موجودگی میں اس منصوبہ کو ناقابل عمل قرار دیا۔ بعد ازاں، حکومت پاکستان نے ہاورڈ ایڈوائزری گروپ کو پاکستان کا پہلا پانچ سالہ منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی، ہاورڈ گروپ میں شامل چھ امریکیوں نے پاکستان کا پہلا پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا۔
ہاورڈ ایڈوائزری گروپ میں شامل مشیر تعلیم، ایڈم Curle نے تعلیمی ڈھانچہ میں بنیادی اصلاحات کا فیصلہ کیا اور مشورہ دیا کہ پولی ٹیکنیک سائنسز اور ووکیشنل ٹریننگ پر مشتمل ڈگری پروگرامز کا اجراء کیا جائے۔ چنانچہ 1955 ء میں پیش ہونے والے پہلے پانچ سالہ منصوبے میں ایسی تعلیم یافتہ نوجوان نسل کی تیاری کا فیصلہ کیا گیا جو قومی ترقی میں کردار ادا کرسکے۔ امریکی مشیروں کا ماننا تھا کہ برطانوی نظام تعلیم کے تصور کو نئے سرے سے تشکیل دیا جائے تاکہ پاکستان کے نوجوانوں میں قومی یکجہتی کا احساس پیدا ہو سکے۔
1959 ء کی نیشنل ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ کس طرح نئے تعلیمی نظام کو وسیع تر قوم سازی کے ایجنڈوں کے حوالے سے سمجھا جانا چاہیے۔ اگرچہ پاکستان کو کوئی واضح نہیں تھا کہ یہ کیسے ہو گا؟ اس کا مطلب یہ تھا کہ امریکی گرانٹ ایجنسیوں اور پاکستانی قومی تعلیمی پالیسی کے درمیان ایک واضح نظریاتی جنگ تھی۔
نومبر 1947 میں منعقد ہونے والی مشہور قومی کانفرنس کے دوران، جناح نے پاکستان کی مسلم قوم پرستی کا تعین کرنے والے کے طور پر تعلیمی پالیسی کے بڑے ہدف کا خاکہ پیش کیا۔ اس طرح کی اصلاح کے لیے ان کی کال کے نتیجے میں متعدد مشاورتی بورڈز بن گئے جو بالآخر پاکستان میں تعلیمی ترقی کے چھ سالہ قومی منصوبے میں شامل ہو گئے۔ اگرچہ قومی پالیسی سازوں کو مسلم قوم پرستی کے جوش میں ضم کرنے کے بارے میں فکر مندی رہی تاہم تعلیمی نظام میں اسے شامل کرنے کے لیے کوئی پائیدار فریم ورک پیش کرنے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب امریکی کمپنی ڈوکسیڈیس نے مختلف حکمت عملی اپنائی، نئے تعلیمی و تربیتی اداروں کی تعمیرات کے لئے علاقائی آثار قدیمہ کے نقشوں میں معروضیت اور جدیدیت کو بیک وقت شامل کیا گیا۔ مابعد نوآبادیاتی قومی شناخت تشکیل کرنے کے لیے ڈوکسیڈیس نے اساتذہ، طلباء کے لیے سسٹم استوار کیا۔ مغربی و مشرقی پاکستان میں یونیورسٹی اساتذہ کے تربیتی اداروں کے لیے نئے کمپلیکس ڈیزائن کیے گئے جبکہ پرائمری و سیکنڈری تعلیم کی مجموعی ترقی کے لیے ماسٹر پلان ترتیب دیا۔
ڈوکسیڈیس نے اپنے ڈھاکہ ہیڈ کوارٹر کے زیر اہتمام ایک خصوصی ٹیم کے ذریعے ملک کے قصبوں اور اضلاع کا دورہ کیا اور 200 سکولوں کا نمونہ سروے کیا۔ اس سروے کے بعد ، ڈوکسیڈیس نے سکولوں کی عمارتوں کے تعمیراتی نقشوں کے لئے پر وٹوٹائپس ڈیزائن پیش کیے جس میں پہلے پانچ سال کی مدت کے لیے 7000 پرائمری اور 500 سیکنڈری اسکولوں، 350 ہائی اسکولوں اور کافی تعداد میں کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی تعمیر شامل تھی۔
لاہور امپروومنٹ ٹرسٹ نے 1944 ء میں پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کی زمین کی نشاندہی کی جہاں اب نیو کیمپس تعمیر ہے۔ تقسیم ہند کے باعث یہ معاملہ التواء کا شکار ہو گیا۔ پنجاب یونیورسٹی نے 2300 ایکڑز رقبے پر محیط زمین اپنے خزانے سے 13 لاکھ روپے قیمت کے عوض خریدی۔ جنرل ایوب خان کی ہدایات پر اپریل 1959 ء میں امریکی کمپنی ڈوکسیڈیس کو پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس تعمیر کرنے کا ٹاسک سونپا گیا اور 16 مئی 1959 ء کو ڈوکسیڈیس کمپنی نے یونیورسٹی کے ساتھ تعمیراتی منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے۔
جون 1959 ء میں نیو کیمپس میں سب سے پہلے انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی تعمیر کا آغاز ہوا جہاں ایک ہزار طلباء کی گنجائش رکھی گئی اور اس کے ساتھ ایک ہزار طلباء کے بیٹھنے کے لیے آڈیٹوریم بنایا گیا۔ ہاسٹلز کی تعمیر کے ساتھ سٹوڈنٹ یونین یا سٹوڈنٹ ٹیچرز سنٹر کی تین منزلہ عمارت کی تعمیر بھی شامل تھی۔ ڈوکسیڈیس نے پنجاب یونیورسٹی پراجیکٹ 1973 ء میں مکمل کیا۔ ڈوکسیڈیس نے یونیورسٹی کا ماسٹر پلان 15000 طلباء کے لیے ڈیزائن کیا جس میں 3800 طلباء کو ہاسٹل سہولیات مہیا کرنا بھی شامل تھا۔ پہلے فیز میں 800 ایکڑز رقبے پر عمارتیں تعمیر کرنا تھی جس کے لیے قدیم ٹیکسلا کے تعمیراتی ڈھانچے کو بنیاد بنایا گیا۔
امریکا کے تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان کے پہلے تین وزراء خزانہ ملک غلام محمد، محمد علی بوگرہ اور برطانوی ایمپائر کے خطاب یافتہ سید امجد علی (سید بابر علی کے بھائی) نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان میں امریکی کمپنی ڈوکسیڈیس کی آمد اور پھر پہلے پانچ سالہ منصوبے کے نفاذ کے وقت پاکستان میں وزیر خزانہ کا منصب (سر) سید امجد علی کے پاس تھا۔ پانچ سالہ منصوبے میں ہاؤسنگ اینڈ سیٹیلمنٹ کے عنوان سے ایک باب شامل تھا، اس پراجیکٹ کے تحت امریکی کمپنی ڈوکسیڈیس نے پاکستان کا نیا دار الخلافہ تعمیر کرنے کے لیے پراجیکٹ کا آغاز کیا۔
گورنر جنرل ملک غلام محمد نے 1952 ء میں پاکستان پلاننگ کمیشن قائم کیا۔ ڈوکسیڈیس اس کمیشن کے چیف کنسلٹنٹ مقرر کیے گئے۔ پاکستان کے نئے دارالخلافہ کی جگہ منتخب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنرل ایوب خان کی رائے تھی کہ فوج کا ہیڈ کوارٹر راولپنڈی ہے لہذا حکومتی مرکز راولپنڈی کے قریب ہونا چاہیے کیونکہ جنرل ایوب کو میٹنگ میں شمولیت کے لیے راولپنڈی سے کراچی جانا پڑتا تھا۔ اس کشمکش کے دوران ہی، ڈوکسیڈیس نے اکتوبر 1955 ء میں وزیر اعظم چوہدری رحمت علی کے ساتھ ملاقات کی۔
پاکستان کا نیا کیپٹل بنانے کے لیے ڈوکسیڈیس نے اپنی کمپنی کے ساتھ فورڈ فاؤنڈیشن کو بھی شامل کرنے کا منصوبہ بنایا چنانچہ چوہدری رحمت علی کو اس پر آمادہ کیا گیا اور وزیر اعظم پاکستان نے ڈوکسیڈیس سے کہا کہ وہ فورڈ فاؤنڈیشن سے منسلک مسٹر گانٹ سے بات چیت کریں۔ اس کے بعد ، حکومت پاکستان نے سرکاری طور پر مارچ 1956 ء میں فورڈ فاؤنڈیشن کے ساتھ فیڈرل کیپٹل پراجیکٹ پر معاہدہ کر لیا، اس کے ساتھ برطانوی کمپنی Raglan Squire، امریکی کمپنی Pereira & Luckman کو بھی شامل کیا گیا، لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کمپنیوں کو اسلام آباد کا نقشہ ڈیزائن کرنے کے لیے مدعو نہیں کیا گیا۔ چوہدری رحمت علی کے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ کے بعد ، حسین شہید سہروردی نے یہ منصب سنبھالا اس کے ساتھ ہی نئے کیپٹل کی تعمیر کا منصوبہ بھی التواء کا شکار ہو گیا۔ اسلام کی جھلک نئے دارالحکومت اسلام آباد میں کیسے دکھائی دے گی، یہ امر منصوبے کے آغاز سے ہی پبلک ڈسکورس کا حصہ رہا۔
جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے بعد ، نئے کیپٹل کی تعمیر کا منصوبہ آگے بڑھا، اسلام آباد کی تعمیر میں اسلامی ثقافت، تاریخ اور طرز تعمیرات کو پیش نظر رکھا گیا۔ اسی طرح، کورنگی میں مہاجرین کی آبادکاری کے لیے بھی ڈوکسیڈیس نے منصوبہ تیار کیا تھا اور اس آبادکاری میں بھی پاکستان کی نئی قومی شناخت کی تشکیل کو پیش نظر رکھا گیا۔ ڈوکسیڈیس کی تعمیر کردہ عمارتوں کا فن تعمیر دیکھیں تو آپ کو اس میں اسلامی طرز تعمیر کی جھلک نظر آ گئی، ڈوکسیڈیس نے جس تعمیراتی خد و خال کی بنیاد رکھی تھی، اسی خد و خال پر بعد ازاں اسلام آباد کی سرکاری عمارتوں کو ڈیزائن کیا گیا جس میں اسلامی طرز تعمیر کو مرکزی حیثیت دی گئی۔
پاکستان کی قومی و ریاستی شناخت کی تشکیل کے لیے ابتدائی پندرہ برسوں میں امریکی و برطانوی مداخلت کی جڑیں گہری ہو گئی تھیں، وطن کی منصوبہ بندی انھی کی مرہون منت رہی۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان میں مقامیت اور مقامی شناخت کو زد پہنچی، سندھی، پنجابی، پختون، بلوچی زبان و ثقافت، روایات، رسوم و رواج کو قومی سطح پر نظر انداز کیا گیا، چنانچہ آج تک ہم شناختی بحران کا شکار ہیں، یہ شناختی بحران نوجوان نسل کے اذہان میں بے شمار سوالات کو جنم دیتا ہے، ان سوالوں کے جوابات حکمران طبقات اور ہیئت حاکمہ دینے سے قاصر ہے۔


