کیا اسلامو فوبیا کی وجہ مسلمان ہیں؟


فوبیا سے مراد کسی چیز کا خوف یا نفرت ہے۔ اسلامو فوبیا سے مراد دیگر مذاہب کے لوگوں کا اسلام یا مسلمانوں سے خوف کھانا یا نفرت کرنا ہے۔ نائن الیون کا سانحہ اسلاموفوبیا میں اضافہ کا باعث بنا۔ اس واقعہ کے بعد نہ صرف مسلمان بلکہ افغانستان اور پاکستان کو دہشت گرد ممالک تصور کیا جانے لگا۔

”خلافت“ فلم اگر آپ نے دیکھی ہے تو اس میں آپ واضح طور پر شام میں داعش کا خلافت قائم کرنا اور سویڈن میں ان کی دہشت گردی کی کارروائی دیکھ سکتے ہیں۔ میڈیا کسی بھی ملک یا تنظیم کا ہو، ذہنوں کی کار سازی میں بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ برطانوی ممالک ہو یا انڈین میڈیا مسلمان یا پاکستان کے متعلق خبر کو منفی رنگ دینے میں پیچھے نہیں ہٹتا۔ دہشت گرد تنظیمیں جو کہ مختلف ممالک میں جہاد کے نام پر بم دھماکے یا قتل و غارت کرتی آئی ہیں، یہ تو ماننا پڑے گا کہ وہ مسلمان ہی کہلائی جاتی ہیں ان کی پشت پناہی کون کرتا ہے یہ ایک الگ بحث ہے۔

آپ کو نیوزی لینڈ کی مسجد میں ہوا دہشت گردی کا واقع تو یاد ہی ہو گا جس میں ایک عیسائی شخص نے مسجد میں گھس کر نمازیوں پر فائرنگ کی تھی۔ کینیڈا میں ایک شخص نے مسلمان فیملی پر ٹرک دوڑا دیا تھا۔ ڈنمارک اور ہالینڈ میں حضرت محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکے اس بنا پر بنائے جاتے ہیں کہ یہ آزادی رائے ہے۔ سویڈن میں رواں سال عید الا اضحی کے موقع پر قرآن کو نذر آتش کیا گیا۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا سے مسلمانوں نے احتجاج کیا۔

دوسری جانب گزشتہ دنوں پاکستان کے شہر جڑانوالہ میں مسجد سے یہ اعلان کیا گیا کہ ایک مسیحی شخص نے قرآن پاک اور اسلام کی توہین کی ہے۔ وہ شخص تو ابھی تک پکڑا نہیں گیا مگر بے قصور مسیحی لوگوں کے گھروں کو جلایا گیا۔ مسلمانوں کے خوف کی وجہ سے انہیں اپنے ہی گھروں سے بھاگنا پڑا، بچوں، بزرگوں اور فیملیز نے اس خوف کی وجہ سے کھیتوں میں رات بسر کی اور جب صبح اپنے گھروں کو لوٹے تو سب کچھ تباہ ہو چکا تھا۔ تقریباً سولہ گرجا گھروں کو جلایا گیا۔ یہ ظلم کی انتہا کا پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی ایک مسیحی شخص کو توہین مذہب کے نام پر زندہ جلایا گیا تھا، مشال خان کو بے دردی سے قتل کیا گیا جبکہ وہ مرتے وقت کلمہ پڑھ رہا تھا۔

پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کو ذاتی دشمنی یا جھگڑے کے انتقام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ دہشت گرد تنظیمیں بھی اس کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کو بدنام کر رہی ہیں۔ سیاسی احتجاج ہو یا مذہبی پاکستانی قوم جذباتی ہو کر اپنے ملک کے املاک کو ہی نقصان پہنچاتی ہے۔ مگر یہ ہجوم کون ہے کہاں سے آتا ہے یہ بھی کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ پاکستان میں ایسی بھی تنظیمیں ہیں جو ملک میں ہجوم اکٹھا کرتی ہیں جس کے لیے بھاری رقم لیتی ہیں، جیسا کہ کرائے کے قاتل یا غنڈے، اسی طرح کرائے کا ہجوم بھی بلوا لیا جاتا ہے۔

کرائے کے ہجوم کے ساتھ چند مذہبی جنونی بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان دونوں فریقین کو شامل کریں تو یہ ان تمام مسلمانوں یا ہم وطنوں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں جو ان کے نظریات سے ہر گز متفق نہیں ہیں۔ مسلمانوں کی اس جنونیت کو دیکھ کر دیگر ممالک نہ صرف مسلمانوں سے خائف ہیں بلکہ پاکستان سے بھی اظہار بے زاری کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ اسلام کی بدنامی کا باعث وہ شوخے افراد بھی ہوتے ہیں جنہوں نے نیا نیا اسلام سیکھا ہوتا ہے اور دنیا کو دکھانے اور اپنی برتری ثابت کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ حالیہ سڈنی سے آنے والی فلائٹ میں سابقہ پاکستانی اداکار نے جو ڈرامہ لگایا وہ اس کی بہترین مثال ہے۔ موصوف جہاز میں راستے میں نماز پڑھنا شروع ہو گئے اور مسافروں کو خوب تنگ کیا انہیں خائف کیا۔ جبکہ راہ گزر میں نماز پڑھنا جائز ہی نہیں ہوتی اور دھمکی اور دھونس سے اسلام پھیلانا ہوتا تو نبی ﷺ سے خدا یہ نہ کہتا کہ

” (اے رسول) یہ مہر الٰہی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تندخو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے۔ سورة آل عمران 159

جس دین کے نبی ﷺ نے پتھر کھا کر دین کی تبلیغ کی اس دین کے پیروکاروں کو دوسروں کو پتھر مارنا زیب نہیں دیتا۔

دوسری جانب دیکھیں تو شدت پسند برطانوی ممالک میں بھی موجود ہیں جیسا کہ خواتین کے حجاب پر اعتراض کرنا، مساجد کی بے حرمتی کرنا۔ قرآن پاک اور حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا، جو کہ مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث ہے۔

ہم مسلمانوں کے لیے تمام انبیاء قابل احترام اور تمام آسمانی کتابیں مقدس ہیں۔ حال ہی میں سانحہ جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسلام انسانیت کا درس دیتا ہے۔ جھنڈے میں ہرا رنگ مسلمان ہیں تو سفید رنگ اقلیتوں کی پہچان ہیں۔ اقلیتوں کا تحفظ نہ صرف ہمارے وطن کی ذمہ داری ہے بلکہ ہماری نبی ﷺ کی تعلیمات ہیں۔ حضرت محمد ﷺ نے جنگ کے دوران بھی غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے سے روکا، عیسائیوں سے امن معاہدہ کیا انہیں امان دی۔ واقعہ کربلا کی تاریخ کو پڑھیں تو جب نبی زادیوں کی چادریں مسلمانوں نے چھین لیں اور وہ بے ردا شام کے راستے سے گزر رہی تھیں، انہوں نے چادر کے لیے صدا دی تو وہ علاقہ عیسائیوں کا تھا۔ عیسائی خواتین نے انہیں چادریں دیں جبکہ مسلمان انہیں بے ردا قیدی بنا کر لے جا رہے تھے۔

اسی سفر میں ایک عیسائی راہب کی عبادت گاہ آئی تو اس نے نواسہ رسول ﷺ کا سر مبارک نوک سنا پر دیکھا، اس کے دل میں عقیدت پیدا ہوئی اور ایک رات کے لیے نواسہ رسول ﷺ کے سر کو اپنے پاس رکھنے کی گزارش کی، اس کے علاوہ حضرت جونؑ اور وہب کلبیؑ وہ عیسائی تھے جن کا شمار شہدا کربلا میں اور انصار حسینؑ میں ہوتا ہے۔

محمد و آل محمد ﷺ کی تعلیمات کو اگر ہم دیکھیں تو یہ تو بیگانوں کو بھی اپنا کر دینے کا ہنر رکھتی ہے۔ مگر یہ کون سا دین ہے جو اپنوں کو ہی بیگانا کر رہا ہے۔ یقیناً یہ توہین مذہب اور توہین انسانیت جو یہاں ہو رہی ہے یا وہاں ہو رہی ہے یہ کسی بھی مذہب کی تعلیمات نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف دہشت گردی ہے جو نہ صرف دشمن مذاہب ہے بلکہ دشمن انسانیت بھی ہے۔

Facebook Comments HS