عوامی اضطراب کے باوجود نون لیگ کی خوش فہمی


اتوار کی رات نیند بہت دشواری سے نصیب ہوئی۔ معمول کے مطابق اٹھنا ممکن نہ رہا۔ تقریباً آٹھ بجے سے لیکن سرہانے رکھا موبائل ”گوں گوں“ کرنا شروع ہو گیا۔ بالآخر اٹھانا ہی پڑا۔ مسلم لیگ (نون) کے صف اول کے ایک رہ نما کا فون تھا۔ وہ نوائے وقت کے دیرینہ قاری ہیں۔ پیر کی صبح میرے لکھے کالم کو پڑھ کرناراض ہو گئے۔ مجھے فی الفور بتانا چاہا کہ میں نے ”شہبازصاحب کے ساتھ زیادتی کی ہے“ ۔

اپنی جماعت کے صدرکے طویل دفاع کے بعد وہ مصر رہے کہ نواز شریف کا وطن لوٹنا فقط مسلم لیگ (نون) ہی نہیں بلکہ پاکستان کی خوش حالی اور استحکام کے لئے بھی نہایت ضروری ہے۔ ان کی چلائی انتخابی مہم عوام کو مایوسی کے اندھیرے میں امید کی لو محسوس ہوگی۔ میاں صاحب کی سابقہ حکومتوں کی کارکردگی ذہن میں رکھتے ہوئے وہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ شاید ان کی قیادت میں قائم ہوئی حکومت ملک کے معاشی بحران کے مناسب حل ڈھونڈلے گی۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے مسلم لیگ (نون) کی تیسری حکومت کا حوالہ بھی دیا جس نے بقول ان کے نہایت لگن سے ملک کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کی راہ ڈھونڈلی تھی۔

نیند پوری نہ ہونے کے سبب مجھ میں ان سے بحث کی قوت موجود نہیں تھی۔ انہیں دل کی بھڑاس نکالنے کا بھرپور موقع فراہم کیا۔ بات ختم ہونے سے قبل مگر یہ کہنے سے باز نہ رہ پایا کہ نواز شریف کی وطن واپسی اور مسلم لیگ (نون) کی چلائی انتخابی مہم میں بھرپور شرکت شاید اس جماعت کو ایسے انجام سے بچا لے جس کا سامنا پیپلز پارٹی کو 1997 ء کے عام انتخابات کے دوران کرنا پڑا تھا۔ تحریک انصاف اگر عمران خان کی قیادت سے مختلف قانونی مسائل کی بدولت محروم ہو گئی تب بھی مسلم لیگ (نون) کے لئے تن تنہا آئندہ انتخابات کی بدولت اکثریتی جماعت بن کر ابھرنا وفاق اور پنجاب میں ممکن نظر نہیں آ رہا۔ اسے کئی جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانا پڑے گی اور مخلوط حکومتیں ایسے فیصلے لینے کے قابل نہیں ہوتیں جو دہائیوں سے جمع ہوتے مسائل کے طویل المدتی حل کے لئے دلیرانہ فیصلے لے سکیں۔ اہم ترین حقیقت یہ بھی ہے کہ نواز شریف قانونی اعتبار سے ابھی تک قومی اسمبلی کا رکن بننے کے لئے ”تاحیات نا اہل“ شمار ہوتے ہیں۔ گزشتہ حکومت نے ایک قانون کے ذریعے ”نا اہلی“ کی حد مقرر کردی ہے۔ اس حد کو مگر نواز شریف پر لاگو کرنے کی بات چلی تو معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ ہی کو طے کرنا پڑے گا اور اس تناظر میں اعتماد سے کسی امکان کا ذکر میرے بس سے باہر ہے۔

مسلم لیگ (نون) کے سرکردہ رہ نماؤں کی اکثریت 1985 ء سے سیاسی عمل میں حصہ لے رہی ہے۔ وہ یقیناً بہت کائیاں اور تجربہ کار ہیں۔ اس حقیقت کو مگر سمجھ نہیں پائے ہیں کہ سوشل میڈیا نے دور حاضر کے ووٹر کو بہت چوکنا اور حساس بنا دیا ہے۔ وہ اپنی پسند کے سیاسی رہ نماؤں کا بھی عموماً تنقیدی نگاہ سے جائزہ لیتا ہے۔ Optics یعنی ریگولر اور سوشل میڈیا پر نمایاں ہوئی تصویریں اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

اس حقیقت کو نگاہ میں رکھیں تو نواز شریف کو وطن لوٹنے کو مبینہ طور پر آمادہ کرنے کے لئے لندن میں جو اجلاس ہوا اس سے متعلق تصاویر ریگولر اور سوشل میڈیا پر رونما ہوئیں تو عمران خان کے کئی ناقدین نے بھی برا محسوس کیا۔ گزشتہ کئی دنوں سے ہمارے عوام کی بے پناہ اکثریت اپنے ہاں آئے بجلی کے بلوں سے تلملائی ہوئی ہے۔ گھبراہٹ اور مایوسی کے اس عالم میں انہیں لندن کے ایک کشادہ ڈرائنگ روم میں گلوں میں قیمتی مفلر ڈالے ہنستے مسکراتے رہ نماؤں کی ملاقاتوں نے فوری پیغام یہ دیا کہ مسلم لیگ (نون) عوام پر بجلی کے بلوں کی صورت نازل ہوئے عذاب سے قطعاً غافل ہے۔ یہ جماعت بلکہ اس وہم میں مبتلا ہے کہ عوام فقط نئے انتخاب کے منتظر ہیں تاکہ اپنی پسند کی جماعت کے نامزد کردہ امیدواروں کو ووٹ دے کر اچھے دنوں کا انتظار شروع ہو جائیں۔

گزشتہ ہفتے کے آغاز سے میرے دن کے اوسطا تین سے زیادہ گھنٹے مختلف دفاتر اور بازاروں میں محدود آمدنی والوں سے بجلی کے بلوں پر مرتکز آہ وزاری سننے میں صرف ہوئے۔ مسلم لیگ (نون) کے سرکردہ رہ نماؤں کو جانے کیوں یہ اطلاع ابھی تک موصول ہوئی نظر نہیں آ رہی کہ بجلی کے بلوں کی وجہ سے تلملائے افراد اپنے اوپر نازل ہوئی اس مصیبت کا ذمہ دار شہباز حکومت کو ٹھہرا رہے ہیں۔ ان کی دانست میں موصوف نے ملک کو دیوالیے سے بچانے کے نام پر آئی ایم ایف سے نہایت منت ترلوں کے بعد جو معاہدہ کیا تھا چند دن قبل لوگوں کے گھر وں میں آئے ناقابل برداشت بل اس کا نتیجہ ہیں۔

مجھ سے گفتگو کرنے والوں کی اکثریت بلکہ واشگاف الفاظ میں یہ عہد باندھتی سنائی دی کہ ”اگر (اگر پر زور غورطلب ہے ) انتخاب ہوئے“ تو وہ مسلم لیگ (نون) کے نامزد کردہ امیدوار کے خلاف ووٹ دے کر اپناغصہ اتاریں گے۔ جن لوگوں سے گفتگو ہوئی وہ تحریک انصاف کے دیوانے نہیں تھے۔ غصے سے بپھرے محض دہراتے رہے کہ مسلم لیگ (نون) کے امیدوار کو ہرانا ہو گا۔

میں ہرگز سمجھ نہیں پا رہا کہ وطن لوٹ کر عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف صاحب کن دلائل کی بنیاد پر اپنی جماعت کو موجودہ مہنگائی کے حوالے سے بے گناہ ثابت کریں گے۔ برطانیہ کا سیاسی نظام ہمارے نظام کے مقابلے میں بہت قدیم اور طاقت ور ہے۔ وہاں کئی دہائیوں سے کنزرویٹو یا قدامت پسند جماعت اقتدار میں ہے۔ اس جماعت ہی سے مگر بورس جانسن کی صورت ایک پاپولسٹ ابھرا تھا۔ اس نے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالنے کا ”انقلابی“ قدم اٹھایا۔ کرونا کی وبا کے سامنے مگر ڈھیر ہو گیا۔ اس کی فراغت کے بعد آئی وزیر اعظم چند ہفتوں سے زیادہ اقتدار میں نہیں رہ پائی۔ موجودہ وزیر اعظم بھی تیزی سے اپنی مقبولیت کھورہا ہے۔ اس جماعت کے تیزی سے ہوتے زوال کا بنیادی سبب برطانیہ میں پٹرول اور بجلی کی قیمتوں کا ناقابل برداشت ہوجانا ہے۔ کلیدی وجہ اس کی یقیناً روس یوکرین جنگ ہے۔ برطانیہ کے عام شہری کو مگر اس پہلو پر توجہ دینے کی فرصت نہیں۔ اپنے مسائل کا ذمہ دار فقط حکمران جماعت ہی کو ٹھہرا رہا ہے۔

مسلم لیگ (نون) مگر یہ سمجھ نہیں پارہی کہ اپریل 2022 ء سے رواں برس کے اگست تک شہباز شریف کی قیادت میں چلائی حکومت ہی پاکستان میں مہنگائی کا واحد ذمے دار تصور ہو رہی ہے۔ اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے یہ جماعت اب یہ امید لگائے بیٹھی ہے کہ نواز شریف وطن لوٹ کر کوئی ایسا ”جلوہ“ دکھائیں کہ عوام مہنگائی کی اذیتیں بھول کر اچھے دنوں کے خواب دیکھنا شروع ہوجائیں۔

(بشکریہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS