سنتا ماریا تک براستہ التت فورٹ


عید کی چھٹیوں میں جو سفر لاہور سے شروع ہوا تھا وہ ٹھیک ایک مہینے کے بعد حسین کوٹ، ہنزہ اور فرانس سے گزرتا ہوا وینس میں سنتا ماریا کے گرجا گھر میں ختم ہوا اور پھر واپسی کی راہ لی۔ پورے تیس دن۔ سکون آور دوائیوں کے پیکٹس کے ساتھ چلے تھے اور راستے میں بھول ہی گیا کہ دوائیں کہاں رکھی ہیں اور انھیں کھانا بھی ہے۔ گرمی، تھکاوٹ اور کام کے دباؤ سے نکل کر ایک عجیب سرشاری کی کیفیت رہی جو ہر آتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی گئی۔

رنگ رنگ کے ہم سفر تھے جو سفر کے ہر حصے میں ملتے رہے۔ حسین کوٹ میں جنگل اور پرندوں سے مکالمہ جاری رہا۔ اس سے اگلا پڑاؤ ہنزہ کا تھا۔ جہاں موسم بے حد خوب صورت تھا۔ کم و بیش سارے ہی دن التت قلعے کے اندر گزرے۔ کام بھی کیا اور پہاڑوں اور دھند سے مکالمہ بھی۔ لمبی لمبی نشستیں تھیں جو مقامی لوگوں سے ہوئیں۔ ان کے مسائل، ان کی زندگی کی مشکلات، کریم آباد کی بستی میں رہائشی سہولیات کی کمی، Public Spaces کی غیر موجودگی، سیاحوں کا دباؤ اور سب سے بڑھ کر بے ہنگم تعمیرات کے مسئلے۔ بہت سے پلان بنے، وعدے ہوئے اور مل کر کام کرنے کی خواہش کا ذکر ہوا۔ دیکھئے کیا کچھ ممکن ہو گا۔

ہنزہ سے چلے اور شاہراہ قراقرم کی بندشوں سے لڑتے، بابو سر ٹاپ کی گندگی اور غلاظت سے گزرتے، تاران کے تنگ اور پرجوم شہر سے گزرتے مظفر آباد پہنچے تو کچھ سکون کا سانس لیا۔ اس شہر میں ہم نے تقریباً آٹھ برس ملازمت کی ہے اور تین برس تک پڑھا ہے۔ شہر اتنا چھوٹا ہے کہ ہر شخص ہر شخص کو نہ صرف جانتا ہے بلکہ اسے یہ بھی علم ہے کہ کس کے گھر میں آج کیا پکا ہوا ہے۔ دیسی سوغاتیں خریدتے اور فیملی سے ملتے لاہور کی جانب سفر شروع کیا کہ چند دن بعد فرانس اور اٹلی کا سفر درپیش تھا۔ اس سفر کی روداد ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں۔ کچھ ٹکڑے رہ گئے تھے جنھیں طوالت کی خوف کی وجہ سے پہلے بیان نہیں کیا۔

التت قلعے میں ہمارا میوزک سکول ہے جس میں بچوں کو گلگت بلتستان سے مخصوص موسیقی سکھائی جاتی ہے۔ بعض مقامی ساز تو تقریباً Extinct ہونے والے تھے جنھیں ہمارے سکول کے موسیقی کے استادوں نے Modify کر کے پھر سے زندہ کر دیا ہے۔ زغینی ایک ایسا ہی ساز ہے۔ اس کے علاوہ سرنئی، چترالی ساز، رباب اور ڈاڈک بجانے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ اس پہاڑی علاقے میں جہاں دن میں صرف دو چار گھنٹے بجلی آتی ہے اور کم عمر نوجوانوں کے لئے کوئی خاص مواقع نہیں ہیں، موسیقی کی یہ تربیت کافی مددگار ہو سکتی ہے۔

یونیسکو کے ایک پراجیکٹ کے ذریعے اس تربیت کو اب Differently Abled بچوں کے سکول تک پھیلایا گیا ہے۔ اس سکول کی سربراہ جو خود بینائی سے محروم ہیں، ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہیں۔ Branlle کے ذریعے کراچی سے گریجویشن کی اور بڑے فخر سے بتایا کہ میں نے پڑھانے کے کورس عام کلاسز میں لیے ہیں۔ ان سے بات کریں تو عزم اور حوصلہ کی تصویر نظر آتی ہیں۔ ان سے مشترکہ پراجیکٹس پر بات ہوئی۔ فرانس کے سفر کی تقریباً ساری کہانی سنا دی ہے۔

وہاں کام کا خلاصہ یہ ہے کہ فرانسیسیوں نے اپنے تاریخی اور مذہبی ورثے و جس طرح سیاحت کا مرکز بنایا ہے کیا۔ سے ان کی مدد سے لاہور میں اپنایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہو گا۔ حکومت کا ساتھ چلنا، پیچیدگیاں اور انتظامی امور کو حکومتی Labrynth سے گزارنا ہو گا لیکن کوئی بھی اچھا اور بڑا کام شاید آسان نہیں ہوتا۔ دیکھئے کب اور کیسے اور کتنا کچھ کرنا ممکن ہو گا۔

وینس توقع سے بڑھ کر خوب صورت نکلا۔ شہر کا بڑا حصہ گاڑیوں، سڑکوں اور شور شرابے کے بغیر ہے۔ صرف ایک حصے میں بسیں چلتی ہیں ائرپورٹ اور گردونواح میں جانے کے لئے۔ لیکن وینس شہر ڈوب رہا ہے۔ پچھلے برس کی ایک تحقیق کے مطابق کم و بیش ایک ملی میٹر ہر سال۔ لیکن موسمیاتی تبدیلیاں بھی تو اب تیز رفتاری سے ہو رہی ہیں۔ آج ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سب ملکوں کو خبردار کیا ہے اور معاملے کی سنگینی کا احساس دلایا ہے۔

تو اس کا اثر وینس پر بھی پڑے گا۔ وینس میں پاؤلو سے ملاقات بھی خوب تھی۔ وہ Structures کے ماہر ہیں اور لاہور شاہی قلعے میں ایک پراجیکٹ پر ہمارے ساتھی تھے۔ انھوں نے وینس کے مشہور ریالٹو برج کی بحالی، مرمت اور تزئین و آرائش کی ہے۔ وہ بتانے لگے کہ Adnatic Sea کا یہ حصہ جو وینس کے اندر ہے، اس کے پانی کی کوالٹی روز بہ روز خراب ہو رہی ہے۔ پچھلے تیس برسوں میں یہاں کی آبادی ایک تہائی رہ گئی ہے۔ پاکستان میں اپنے گزرے ہوئے دنوں پر بہت خوش تھے اور یہاں کے معماروں، اور ہنرمند افراد کی ذہانت اور محنت سے بہت متاثر۔

اپنی فیملی کے ساتھ ایک اطالوی ریستوران میں بھی لے گئے۔ Sea Food کی بہت سی قسمیں کھلائیں اور ہر قسم کی مچھلی کی الگ خصوصیات اور پکانے کے طریقے بتائے۔ ہمارے ہم سفر وجاہت اور زینا تو اپنا سفر آگے بڑھا کر فلورنس چلے گئے مگر مجھے وینس سے نکلنے کا دل نہیں چاہا۔ آخری دن سعودی عرب کے مشہور پراجیکٹ NEOM کی نمائش دیکھی۔ ایک خواب ناک پراجیکٹ ہے جو بحیرۂ احمر کے کنارے ایک جنت کی تخلیق کی مانند ہے۔ چھبیس ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا پراجیکٹ کئی ملکوں سے رقبے میں بڑا ہے۔

صحرا کے دامن میں ٹیکنالوجی، فطرت اور انسانی کاوشوں کا مجموعہ۔ آرکیٹیکچر Biennale بھی وینس میں ان دنوں جاری ہے۔ وسیع و عریض میدان میں، جنگل اور سبزے کے بیچ کئی ملکوں کے Pavilion ہیں۔ آرکیٹیکچر اور فائن آرٹ کا ملاپ۔ سب سے زیادہ متاثر کن حصہ افریقی ملکوں کا کام ہے جس کی طاقت، ابلاغ اور حسن سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کتابوں کا حصہ بھی بہت اچھا ہے۔ ایم ایف حسین (M۔ F۔ Hussain) کی کتاب بھی نظر سے گزری۔ چونکہ چار پانچ کتابیں پہلے ہی خرید لی تھیں اس لئے چھوڑنا پڑی۔ ایم۔ ایف حسین کی پینٹنگز دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ یو ٹیوب پر ان پر بنی ایک فلم بھی موجود ہے۔ دیکھنے کے لائق ہے۔

وینس کی آخری مصروفیت سنتا ماریا کا گرجا گھر تھا۔ سولہویں صدی کا یہ گرجا گھر اسی زمانے کی پینٹنگز سے مرصع ہے۔ Chapel میں لکڑی کے مجسمے جن میں سے ہر ایک حضرت عیسیٰ کے بچپن کو دکھاتا ہے۔ یہاں کا میوزیم بھی خوب ہے۔ یہاں کئی راہبائیں (Nuns) ملیں۔ تصویر کھینچنے کی درخواست کی تو مسکرانے لگیں۔ ان کی لیڈر نے شفقت سے ہمارے سر پر ہاتھ رکھا اور پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو۔ سانتا ماریا سے نکل کر گرجا گھر کی سیڑھیوں پر دھوپ تاپتے ہوئے آخری سگریٹ پیا، سامنے بہتی نہر سے منعکس ہوتی کرنوں کی ویڈیو بنائی اور شہر کے پیچیدہ گلیوں میں راستہ ڈھونڈنے لگا تاکہ ائرپورٹ کی بس پکڑ سکوں۔ خدا حافظ وینس!

کھول کر کمرے کی کھڑکی دیکھتا رہتا ہوں میں
شاذؔ جانے کیا مرا ان منظروں میں رہ گیا
(زکریا شاذؔ)

Facebook Comments HS