ایوان صدر کا ”مکین“ اور آئینی بحران


10 اپریل 1973 کو پارلیمنٹ نے موجودہ آئین کی منظوری دی جس کی صدر مملکت نے 12 اپریل 1973 کو توثیق کی 280 آرٹیکلز پر مشتمل دستور کو 1973 کے آئین کی شہرت حاصل ہوئی جو نصف صدی سے کسی نہ کسی شکل میں قائم ہے۔ آئین جہاں ریاست کو ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ قرار دیتا ہے۔ وہاں اس کی چاروں اکائیوں کو متحد رکھنے کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ آئین میں عام آدمی سے لے کر صدر مملکت تک کے اختیارات و فرائض کا تعین کر دیا گیا کئی آمروں نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا لیکن یہ دستاویز نصف صدی قائم دائم ہے۔

آئین میں 18 ویں ترمیم کر کے جہاں اسے اپنی شکل میں بحال کر دیا گیا ہے۔ وہاں بڑی حد تک صوبائی خود مختاری کا مسئلہ بھی حل کر دیا گیا ہے اگرچہ اس آئین میں صدر مملکت کی حیثیت علامتی ہو گئی ہے۔ تاہم اسے ریاستی اداروں پر بالا دستی حاصل ہے۔ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے لیکن بل کی منظوری کے لئے صدر کی توثیق لازمی امر ہے۔ بل کی توثیق یا مسترد کرنے کے بارے میں صدر کے اختیارات محدود کر دیے گئے ہیں اور صدر مملکت کو کچھ قواعد و ضوابط کا پا بند بنا دیا گیا ہے۔

پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کی توثیق کے حوالے سے ”بازار سیاست“ میں گرما گرمی ہے دو متنازعہ بلوں کو قانونی حیثیت ملنے کے بعد صدر مملکت کی جانب سے توثیق کے عمل سے لاتعلقی کے اعلان سے آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے ایک سانس میں کہا ہے کہ ”میں اللہ تعالیٰ کو حاضر نظر جان کر کہہ رہا ہوں کہ میں نے پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 اور آفیشل سیکرٹ بل 2023 پر دستخط نہیں کیے“ دوسری سانس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”چونکہ دونوں بل قانون بن چکے ہیں۔ لہذا میں ان تمام لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو ان بلوں سے متاثر ہوں گے۔ “ صدر مملکت کی جانب سے بلوں کو ایکٹ کا درجہ دیے جانے کے 27 گھنٹے بعد ٹویٹ پر بلوں پر دستخط نہ کرنے کے اعلان نے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ آئینی ماہرین اور ”سیاسی تماش بین“ آئین کے آرٹیکل 75 کی اپنی اپنی پسند کی تشریح کر رہے ہیں۔ 1973 میں جب آئین منظور ہوا تو اس وقت ہی آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت قانون سازی کے حوالے سے صدر کے اختیارات کا تعین کر دیا گیا تھا۔

50 سال گزرنے کے باوجود صدرمملکت کے اختیارات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی صرف صدر کی جانب سے بل کو منظور یا مسترد کرنے کے ایام میں کمی بیشی کی گئی آئین 1973 میں آرٹیکل 75 کے تحت 7 صدر کو ایام میں بل منظور یا مسترد کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ اگر صد 7 ایام کے اندر بل منظور یا مسترد نہ کرے تو یہ بل از خو قانون کی حیثیت اختیار کر لیا تھا۔ ضیا الحق کے دور میں بل منظور کرنے کی مدت 45 ایام کر دی گئی جب کہ 8 ویں ترمیم میں یہ مدت 30 دن کر دی گئی 18 ویں ترمیم کے تحت بڑی حد تک آئین اصلی حالت میں بحال کر دیا گیا بل منظور کرنے کی مدت 10 ایام کر دی گئی بظاہر 10 روز کی مدت ختم ہونے کے بعد بل کے از خود قانون بننے بارے میں آئین خاموش ہے لیکن اس عرصہ میں صدر کی خاموشی کو ہی اس کی منشا قرار دیا جا تا ہے۔

10 روز تک صدر کی پراسرار خاموشی کے بعد ٹویٹ جاری کرنا بعد از وقت سوچ ہے جس پھر وکٹ کے دونوں اطراف کھیلنے کا شاخسانہ۔ صدر مملکت کا یہ کہنا بے معنی ہے کہ انہوں نے دونوں بلوں پر دستخط نہیں کیے اگر دستخط نہیں کیے تو پھر ان کو اپنے ریمارکس کے ساتھ واپس کیوں نہیں بھجوایا؟ وزارت قانون و انصاف کا موقف ہے کہ صدر مملکت نے 10 ایام کی آئینی مدت میں کوئی راستہ اختیار نہیں کیا اب دونوں بل قانون کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

صدر مملکت کے پاس بل کو منظور کرنے کا اختیار ہے جس وہ اپنی آبزرویشن کے ساتھ بل کو واپس پارلیمنٹ کو بھجوا سکتے ہیں۔ صدر مملکت کے پاس تیسرا آپشن نہیں ہے۔ صدر 10 روز میں بل پر کی منظوری نہ دیں تو بل خود بخود قانون بن جاتا ہے۔ 18 اگست 2023 کو پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ 2023 اور آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ 2023 بارے گزٹ نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے جب کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت پہلی خصوصی عدالت بھی قائم ہو گئی ہے جس میں شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی ”ان کیمرہ“ سماعت بھی شروع ہو گئی ہے۔

تاحال صدر اس بات پر مصر ہیں کہ انہوں نے سٹاف کو بل پر دستخط کیے بغیر واپس بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔ ”میں نے عملے سے بار بار تصدیق بھی کی مجھے بتایا گیا کہ بل بغیر دستخط واپس بھجوا دیے گئے ہیں۔ مجھے آج معلوم ہوا کہ میرے عملے نے میری مرضی اور حکم کو مجروح کیا ہے۔“ سوال یہ ہے کہ اگر صدر سے کوئی غلطی نہیں ہوئی تو وہ پھر معافی کیوں مانگ رہے ہیں۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے۔ صدر نے دانستہ ان دو بلوں کی فائلیں اپنے پاس رکھ کر 10 روز کی مدت ختم ہونے کا موقع فراہم کیا ایک طرف اپنے پاس بل رکھ کر ان کی منظوری کی راہ ہموار کی دوسری طرف دستخط نہ کرنے کا بہانہ بنا کر اپنی قیادت کے سامنے سرخرو ہونے کا ڈرامہ رچا رہے ہیں۔

صدر نے بل واپس نہ بھیجنے کا سارا ملبہ اپنے عملہ پر ڈال دیا حالانکہ وہ پریس ریلز کے ذریعے بھی اپنا موقف پیش کر سکتے تھے۔ پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ 2023 یکم اگست کو پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ایوان صدر بھجوایا گیا جو ایوان صدر کو 2 اگست 2023 موصول ہو گیا اسی طرح پارلیمنٹ نے 8 اگست 2023 کو آفیشل سیکرٹ بل 2023 منظور کر کے اسی روز ایوان صدر بھجوا دیا دونوں بلوں پر 10 روز کی مدت ختم ہونے پر صدر مملکت کا اعتراض سامنے آیا گزٹ نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2023 11 اگست 2023 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ 2023 17 اگست سے نافذ العمل ہو گئے ہیں۔

صدر مملکت کے ٹویٹ سے پیدا ہونے والا آئینی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ صدر مملکت نے بھی اپنے پرنسپل سیکریٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ و پس کر دی ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی وقار احمد نے بھی خاموشی توڑ دی ہے اور صدر کے نام ایک خط میں کہا ہے۔ مجھے غلط طور پر سبکدوش کیا گیا ہے۔ صدر مملکت اس معاملہ کی انکوائری کرائیں کسی بے ضابطگی میں ملوث نہیں وقار احمد نے انکشاف کیا ہے۔ ”صدر مملکت نے بلوں کی توثیق کی اور نہ ہی واپس کیے ہیں۔

یہ بل اس وقت بھی صدارتی چیمبر میں موجود ہیں۔ و قار احمد نے صدر مملکت سے درخواست کی ہے۔ وہ ایف آئی اے یا کسی بھی ایجنسی سے تحقیقات کر سکتے صدر وقار احمد کو خاموش رہنے کی صورت میں مستقبل قریب میں ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کرنے کی بھی پیشکش کی ہے جسے انہوں نے قبول نہیں کیا ایوان صدر کے ”مکین“ اور پارلیمنٹ کے درمیان جنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ اس کا تصور کر کے ہی پریشانی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

Facebook Comments HS