چندریان 3 کی چاند پر کامیاب لینڈنگ
چندریان 3 خلائی جہاز کی چاند پر کامیاب لینڈنگ کے بعد بھارت دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ہے جس نے یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے جو خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا عملی اظہار ہے۔ ہندی اور سنسکرت میں چندریان کا مطلب ”چاند کی گاڑی“ ہے اور بھارت کافی عرصے سے اس مشن کی کامیابی پر کام کر رہا تھا اس مشن سے قبل 2019 میں بھی چندریان 2 کے نام سے ایک خلائی مشن مدار میں بھیجا گیا تھا لیکن یہ چاند پر اترنے سے پہلے ہی گر کر تباہ ہو گیا تھا تب سے بھارت کی سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) چندریان 3 کے مشن پر کام کر رہی تھی۔
واضح رہے کہ امریکہ، روس اور چین کے بعد بھارت دنیا کا چوتھا ملک ہے جو کئی سالوں کی مسلسل کوششوں سے چاند پر اپنا خلائی مشن بھیجنے میں کامیاب ہوا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے اس دوڑ میں بھارت فرانس، برطانیہ، جرمنی، جاپان اور کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک پر بھی سبقت لے جانے میں کامیاب ہوا ہے جس پر بھارتی حکومت اور عوام کی خوشی یقیناً قابل فہم ہے۔ بھارت کے ساتھ 4 اگست 2019 سے جب سے بھارت نے کشمیر پر اپنے غاصبانہ اور غیر قانونی قبضے کو نام نہاد آئینی ترمیم کے ذریعے بین الاقوامی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے تب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ اور سردمہری کے شکار چلے آنے والے تعلقات کے باوجود پاکستان نے روایتی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چندریان 3 مشن کی کامیابی پر بھارت کو مبارک باد کے ذریعے ایک مثبت پیغام دیا ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت چاند پر پہنچنے کے باوجود زمینی تنازعات کے حوالے سے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات کی جانب کوئی قدم اٹھاتا ہے یا پھر اسی روایتی تنگ نظری اور بغض کا شکار رہتا ہے جس پر وہ چاند پر پہنچنے سے عمل پیرا رہا ہے اس حوالے سے آنے والا وقت ہی کوئی فیصلہ کرے گا۔ ہندوستانی خلائی جہاز چندریان 3 چاند کے قطب جنوبی پر اترا ہے یہ ایک نامعلوم علاقہ ہے جس پر پہلی دفعہ کوئی خلائی جہاز اترا ہے، چاند کے اس خطے کے بارے میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ منجمد پانی اور قیمتی عناصر کے اہم ذخائر پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ماہرین اس مشن کی کامیابی کو چاند کی تلاش اور خلائی طاقت کے طور پر ہندوستان کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ دراصل یہ مشن ایک ایسے وقت میں کامیاب ہوا ہے جب ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ایک روسی خلائی جہاز چاند پر اترنے کی کوشش میں گر کر تباہ ہو چکا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چاند کا یہ کامیاب مشن وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے عالمی برادری کے درمیان اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ وہ اس کا فائدہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں بھی اٹھانے کی کوشش کریں گے جس سے ان کی مقبولیت بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مودی نے بھارتی خلائی جہاز کی چاند پر اترنے کی خبر جنوبی افریقہ میں برکس کی ہونے والے پندرہویں سربراہی اجلاس کے دوران سنی جس سے اس کانفرنس کے دوران ان کے سیاسی قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اس تازہ ترین مشن پر 74.6 ملین امریکی ڈالرز کی لاگت آئی ہے جو دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے اور ہندوستان کی سستی خلائی انجینئرنگ کا ثبوت ہے۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ یہ چاند پر خلائی جہاز اتارنے کی ہندوستان کی دوسری کوشش تھی جو روس کے۔ 25 Luna مشن کی ناکامی کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے۔
خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر چاند کے جنوبی حصے پر اترنا بہت مشکل ہے۔ زیادہ تر گاڑیاں چاند کے خط استوا میں اتری ہیں جہاں چاند کی خصوصیات سے نمٹنا بہت آسان تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چاند کے جنوبی حصے پر کسی خلائی مشن کا اترنا ایک بہت ہی تاریخی کارنامہ ہے اور امید ہے کہ یہ دوسرے مشنوں کو بھی چاند کے گرد اسی طرح کے کام کرنے کی ترغیب دے گا۔ چندریان 3 کے دو ہفتوں تک فعال رہنے کی امید کی جا رہی ہے، یہ مشن تجربات کا ایک سلسلہ چلا رہا ہے جس میں چاند کی سطح کی معدنی ساخت کا سپیکٹرو میٹر تجزیہ بھی شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشن سائنسی تحقیق کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ پہلا مشن ہے جو چاند کے قطب جنوبی پر اترا ہے اور یہ چاند پر پانی اور برف کو تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح یہ توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ چاند کی سائنس اور ارضیات سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے اور نظام شمسی کی تاریخ اور ارتقاء کی تلاش کے بارے میں معلومات جمع کرنے میں بھی مدد کرے گا۔
دریں اثناء دنیا کی معروف خلائی تحقیقاتی اداروں جن میں امریکی ادارہ ناسا کے علاوہ روس، جاپان اور چین کے خلائی ادارے شامل ہیں نے بھارت کو اس تاریخی مشن کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ اس ضمن میں امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف اوشینز اور بین الاقوامی ماحولیاتی اور سائنسی امور نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا ہے کہ چندریان 3 کی کامیابی مستقبل کو ”طاقت“ دے گی اور یہ دنیا بھر کے لوگوں کے مستقبل کو روشن کرے گی۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی ہندوستان کو ایک ”متاثر کن“ کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ کریملن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ خلائی تحقیق میں ایک بڑا قدم ہے اور یقیناً سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہندوستان کی طرف سے کی گئی متاثر کن پیشرفت کا ثبوت ہے۔


