احترام آدمیت: دنیا میں کوئی کسی کا محتاج نہ ہو
کس نگرد و در جہاں محتاج کس
نکتہ شرع مبیں این است و بس
یعنی اسلام کا ملخص اور شریعت قرآنیہ کا منتہی یہ ہے کہ دنیا میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا محتاج نہ رہے۔ اقبال نے ان دو چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں، اسلام کے مقصود و منتہی کو سمٹا کر رکھ دیا ہے۔ قرآن کریم کا اعلان ہے کہ ولقد کرمنا بنی ادم (2) خدا نے ہر انسان کو محض انسان ہونے کی جہت سے۔ واجب تکریم پیدا کیا ہے۔ آپ دیکھئے! اس میں کا فر مومن کی تمیز و تفریق نہیں۔ یہ تفریق آگے جا کر شروع ہوتی ہے۔ اس نے ہر انسان کو واجب التکریم قرار دیا ہے۔ اور یہی (شرف و تکریم انسانیت) پیغام اقبال کا بھی منتہی ہے۔
بر ترانہ گردون مقام آدم است
اصل تہذیب، احترام آدم است
اس مقصود و مطلوب پیام خداوندی کے بعد اقبال نے بتایا ہے کہ انسان کو اس عزت و تکریم سے محروم کس طرح کیا جاتا ہے۔ اس نے (بصیرت قرآن کی روشنی میں) کہا ہے کہ مستند قوتیں سامان رزق کو اپنے قبضے میں لے کر کمزور انسانوں کو ضروریات زندگی کے لئے ان کا محتاج بنا دیتی ہیں، اور جب وہ ان کا محتاج ہے جاتا ہے تو پھر وہ اسے اپنا محکوم بنا لیتی ہیں۔ قرآنی نظام، رزق کی تقسیم اس طرح کرتا ہے کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا محتاج ہی نہیں رہتا۔ اور جب وہ کسی انسان کا محتاج نہیں رہتا، تو کسی کا محکوم بھی نہیں بنتا۔ اس (اقبال) نے جنت اراضی کی خصوصیت یہ بتائی ہے کہ۔
کس درنیجا سائل و محروم نیست
عید و مولا حاکم و محکوم نیست!
چونکہ اس میں کوئی بھی اپنی ضروریات زندگی کے لئے کسی کا محتاج نہیں ہوتا، اس لئے اس معاشرہ میں غلام اور آقا، حاکم اور محکوم کی تفریق ہی نہیں ہوتی۔ اقبال نے جو کہا ہے کہ
بندہ و صاحب و غنی و محتاج ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
تو وہ اسی جنت ارضی کی خصوصیت ہے جو قرآنی نظام سے وجود میں آتی ہے۔
اقبال رحمہ اللہ کے متعلق ہماری بنیادی غلط نگہی یہ ہے کہ ہم نے اسے یا تو ایک شاعر سمجھا ہے یا فلاسفر۔ قوم نے اسے جو سب سے بڑا اعزاز بخشا ہے، وہ شاعر مشرق ہے۔ وہ شاعر نہیں ہے۔ وہ عمر بھر کہتا رہا کہ بابا! میں شاعر نہیں!
مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم راز درون مے خانہ
بلکہ تنگ آ کر یہاں تک بھی کہنے پر مجبور ہو گیا کہ
نہ بیداری کہ من بے بادہ مستم
مثال شاعراں افسانہ بستم
نہ بینی خیراں زاں مرد فردوست
کہ برما تہمت شعر و سخن بست
یہ اس لئے کہ
شاعر کی نوا مردہ و افسردہ و بے ذوق
افکار میں سر مست نہ خوابیدہ نہ بیدار
جہاں تک فلسفہ کا تعلق ہے، اس نے دو لفظوں میں ساری بات کہہ دی کہ ہے فلسفہ زندگی سے دوری۔ اور فلاسفرز سے برملا کہا ہے کہ
اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمین کے ہنگامے
بری ہے مستئی اندیشہ ہائے افلاکی
چنانچہ وہ عمر بھر زمین کے ہنگامے سہل کرنے کی تدابیر سوچتے رہے۔ ان ہنگاموں میں سر فہرست روٹی کا مسئلہ ہے جس سے محرومی سے محتاجی پیدا ہوتی ہے۔ جو شرف و تکریم انسانیت کو کچل کر رکھ دیتی ہے۔ یہ مسئلہ کب سے ان کی توجہ کا مرکز بنا، بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ یوں تو ہمارا دور، اقتصادیات کا زمانہ AGE OF ECONOMICS کہلا تا ہے لیکن ہمارے ہاں اس نے بہت تھوڑے عرصہ سے اہمیت اختیار کی ہے۔ اقبال کا قلب حساس اور نگہ دور بیں اس کی منتظر نہیں تھی کہ یہ مسئلہ یہاں اہمیت اختیار کرے تو وہ لب کشائی کرے۔ اردو زبان میں اقتصادیات پر سب سے پہلی کتاب (علم الاقتصاد) سنۂ 1903 میں شائع ہوئی۔ اس کے مصنف اقبال تھے، حالانکہ تعلیم کے زمانے میں اقتصادیات (اکنامکس) ان کا اعلیٰ مضمون بھی نہیں تھا۔ اور اس کی عمر بھی تیس بتیس سال سے زیادہ نہیں تھی۔ اتنی سی عمر میں فلسفہ کے اس طالب علم نے وہ کتاب لکھی جس کے دیباچہ میں کہا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ تاریخ انسانی کے سیل رواں میں، اصول مذہب بھی بے انتہا موثر ثابت ہوئے ہیں۔ مگر یہ بات بھی روز مرہ کے تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت ہوتی ہے کہ روزی کمانے کا دھندا ہر وقت انسان کے ساتھ ساتھ ہے اور چپکے سے اس کے ظاہری اور باطنی قوی کو اپنے سانچے میں ڈھالتا رہتا ہے۔ ذرا خیال کرو کہ غریبی، یا یوں کہو کہ ضروریات زندگی کے کامل طور پر پورا نہ ہونے سے انسانی طرز عمل کہاں تک متاثر ہوتا ہے۔ غربی قوی انسانی پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات انسانی روح کے مجلد آئینہ کو اس قدر زنگ آلود کر دیتی ہے کہ اختلافی اور تمدنی لحاظ سے اس کا وجود و عدم برابر ہو جاتا ہے۔
معلم اول، یعنی حکیم ارسطو سمجھتا تھا کہ غلامی تمدن انسانی کے قیام کے لئے ایک ضروری جزو ہے۔ مگر مذہب اور زمانہ حال کی تعلیم نے انسان کی جبلی آزادی پر زور دیا اور رفتہ رفتہ مہذب قومیں محسوس کرنے لگیں کہ یہ وحشیانہ تفاوت مدارج، بجائے اس کے کہ قیام تمدن کے لئے ایک ضروری جزو ہے، اس کی تخریب کرتا ہے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو پر نہایت مذموم اثر ڈالتا ہے۔ اسی طرح اس زمانے میں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ آیا مفلسی بھی تنظیم عالم میں ایک ضروری جزو ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہر فرد مفلسی کے دکھ سے آزاد ہو؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ گلی کوچوں میں چپکے چپکے کراہنے والوں کی دلخراش صدائیں ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائیں اور ایک درد مند دل کو ہلا دینے والے افلاس کا درد ناک نظارہ ہمیشہ کے لئے صفحہ، عالم سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے۔ (اقبال اور قرآن ص 187) اس کے بعد یہ نوجوان، مزید تعلیم کے حصول کے لئے یورپ چلا گیا۔ اس زمانے میں یورپ میں، نظام سرمایہ داری انتہائی عروج پر تھا۔ یہ نظام کن بنیادوں پر استوار تھا، اس کے متعلق میں اس مقام پر صرف ایک اقتباس پر اکتفا کروں گا۔ اس نظام کے ایک علمبردار Joseph Townsend نے ایک کتاب A Dissertation on the Poor Laws لکھی۔ اس میں اس نے کہا تھا: بھوک کا کوڑا ایسا سخت ہے جو وحشی سے وحشی اور تند خو سے تند خو جانور کو بھی رام کر دیتا ہے۔
جاری ہے


