سمپسنز کی پیش گوئیاں اور کائنات کے حادثات (مکمل کالم)


’دی سمپسنز‘ امریکی کارٹون سیریز ہے، یہ 1989 میں شروع ہوئی اور اب تک اس کی ساڑھے سات سو اقساط نشر ہو چکی ہیں اور یوں یہ امریکی ٹی وی کی تاریخ کی سب سے طویل کارٹون سیریز ہے۔ یہ سیریز امریکی کلچر اور رہن سہن کی عکاسی کرتی ہے اور اس میں ایک خاص قسم کا طنز ہے جس کی وجہ سے یہ ہر قسم کے ناظرین میں مقبول ہے۔ پاکستان میں اس کی پسندیدگی کا عالم یہ ہے کہ اس کو پنجابی میں ڈھال کر مزید مزاحیہ بنا دیا گیا ہے اور یہ کام غالباً فیصل آباد کے فنکاروں نے کیا ہے جس کے لیے وہ بھرپور داد کے مستحق ہیں۔ اصولاً مجھے سمپسنز کی مدح سرائی میں مزید دس بارہ سطریں لکھ کر اس مضمون کا پیٹ بھرنا چاہیے لیکن میرا موضوع سمپسنز نہیں ہے، موضوع یہ ہے کہ کیا اس کائنات میں حادثات اتفاقیہ رونما ہوتے ہیں یا ہمارا ہر عمل اور رد عمل کسی خاص منصوبہ بندی کے تحت لگا بندھا ہوتا ہے۔ ویسے تو انسان اس سوال کا جواب صدیوں سے تلاش کر رہا ہے مگر تاحال کامیابی نہیں ہوئی البتہ کچھ لوگ ہمارے درمیان ایسے ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ نہ صرف اس سوال کا جواب جانتے ہیں بلکہ انہوں نے ارشمیدس کی طرح اس method in the madness کا راز پا لیا ہے سو اب وہ پانی کے ٹب سے برہنہ نکل کر نعرے لگاتے پھر رہے ہیں کہ ہم سے پوچھو، ہم بتائیں گے تقدیر امم کیا ہے! بات کو پیچیدہ کرنے کی بجائے سمپسنز کی مثال پر واپس آتے ہیں۔ اگر آپ گوگل پر لکھیں کہ سمپسنز کی وہ کون سی پیش گوئیاں ہیں جو گزشتہ تین دہائیوں میں درست ثابت ہوئیں تو آپ کے سامنے بیسیوں ویب سائٹس کھل جائیں گے جن میں حوالہ جات کی مدد سے بتایا جائے گا کہ سمپسنز کی درجنوں پیش گوئیاں کب اور کیسے ’سچ‘ ثابت ہوئیں، مثلاً سمپسنز کی نائن الیون کے متعلق پیش گوئی ٹھیک ثابت ہوئی، کووڈ 19 کا ذکر بھی سمپسنز نے کیا اور تو اور سمپسنز نے ڈانلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا صدر بھی بنوایا۔ میں نے صرف تین مثالیں دی ہیں جبکہ انٹرنیٹ سمپسنز کی پیش گوئیوں سے بھرا پڑا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سمپسنز کے تخلیق کار غیر مرئی قوتوں کے مالک ہیں اور وہ مستقبل میں جھانک کر دیکھ سکتے ہیں، کیا مستقبل طے شدہ ہے، اور اگر سب کچھ طے شدہ ہے تو کیا ہم اسے اپنی کوشش اور دعاؤں سے تبدیل کر سکتے ہیں؟ اگر یہ مثالیں سمپسنز کی بجائے کسی پہنچے ہوئے پیر فقیر کے آستانے سے برآمد ہوئی ہوتیں توہم اسے سنجیدگی سے لیتے لیکن یہاں چونکہ امریکی ٹی وی سیریز کا ذکر ہے اس لیے ہم اسے محض تیر تکا یا اتفاق کہہ کر آگے بڑھ جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں واقعات کی درست نشاندہی محض اتفاقیہ ہے؟ اس سوال کا جواب بعد میں، پہلے کچھ اور مثالیں دیکھتے ہیں!

آج کل ایک صاحب کا بہت چرچا ہے جو پھونکوں سے علاج کرتے ہیں، ان کے آگے سینکڑوں مصاحبین کا مجمع ہوتا ہے اور وہ مائیک میں پھونکیں مارتے ہیں، مصاحبین ان پھونکوں کو اپنے اوپر محسوس کرتے ہیں اور جس بھی درد یا تکلیف میں وہ ہوتے ہیں، بظاہر وہ دور ہوجاتی ہے۔ اسی طرح کبھی کبھار یہ صاحب وہیل چئیر پر بیٹھے ہوئے کسی اپاہج شخص کو پھونک مارتے ہیں اور وہ اچانک اٹھ کر چلنا شروع کر دیتا ہے۔ بظاہر یہ کام وہ کسی خاص عطا کیے ہوئے وظیفے کی مدد سے کرتے ہیں، یا کم ازکم تاثر یہی دیتے ہیں۔ لیکن یہ ’کرامات‘ صرف ہمارے ملک تک محدود نہیں، ہندوستان میں بھی ایسے سینکڑوں بزرگ ہیں جو لوگوں کو محض ہاتھ لگا کر ’شفایاب‘ کر دیتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں نے دیکھی جس میں ایک صاحب نوجوان لڑکیوں کو محض چھوتے تھے اور وہ کرنٹ کھا کر بے خود ہوجاتی تھیں اور پھر یوں لگتا تھا جیسے آناً فاناً ان کی بیماری رفع ہو گئی ہو۔ کچھ اور لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس کام میں سپیشلائزیشن کر رکھی ہے۔ یہ لوگ زیادہ سمارٹ ہیں، یہ جانتے ہیں یہ کہ آج کل کا پڑھا لکھا نوجوان اس قسم کی شعبدے بازیوں سے متاثر نہیں ہوتا لہذا انہوں نے وہ راستہ اپنا ہے جو سمپسنز سے ملتا جلتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ کائنات اور اس کا نظام خدا کے احکامات کے تابع تو بہرصورت ہے مگر اس نظام میں تبدیلی ممکن ہے بشرطیکہ خدا کے بتائے گئے اصولوں کو سمجھ لیا جائے اور ان پر کامل یکسوئی سے عمل کیا جائے، اس ضمن میں وہ قرآن کے حوالے بھی دیتے ہیں اور کچھ ایسے محیر العقول واقعات بھی سناتے ہیں جن پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اس بات کی مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک کائنات کے طبعی اصولوں میں تبدیلی ممکن نہیں، مثلاً زمین سورج کے گرد گھومتی رہے گی، ہم لاکھ دعائیں مانگتے رہیں کہ آج زمین کی حرکت رک جائے مگر یہ نہیں ہو گا البتہ کائنات کے وہ معاملات دعا یا خدا کی غیر مشروط اطاعت کی بدولت اپنے حق میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں جو آفاقی قوانین سے متصادم نہ ہوں۔ مثلاً لاہور سے ٹنڈو الہ یار جاتے ہوئے اگر کسی شخص کی گاڑی میں پٹرول ختم ہو جائے اور وہ دعا مانگے کہ کہیں سے کوئی اللہ کا بندہ آ کر اس کی مدد کر دے تو یقیناً اس کی مدد ہو جائے گی، بشرطیکہ اس کا دل سچا ہو۔ اب یہ تھیوری ایسی ہے کہ جس پر بحث کرنا بے حد مشکل کام ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ پھونکوں سے علاج کرنے والے، ہاتھ ملا کر کرنٹ لگانے والے اور وظیفوں کے سہارے لوگوں کو اس کائنات کی گتھیاں سمجھانے والے سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں، سب سمپسنز ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ سمپسنز نے مذہب کا لبادہ نہیں اوڑھا جبکہ یہ سب لوگ اتفاقات کو بنیاد بنا کر اور اسے مذہب کی چادر اوڑھا کر مقدس بنا رہے ہیں تاکہ اس پر سوال نہ اٹھایا جا سکے۔ دعا کی حقانیت سے کوئی انکار نہیں، دعائیں صرف ہماری آخرت سنوارنے کے کام آ سکتی ہیں۔ پچھلے دنوں میرے ایک دوست کی دو انگلیاں حادثاتی طور پر کٹ گئیں، کیا کوئی پھونک مار کر یہ دو انگلیاں واپس لا سکتا ہے؟

اب بنیادی سوال پر واپس آتے ہیں کہ پھر یہ اتفاقات کیسے ہوتے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ سمپسنز نے اتنی بڑی تعداد میں درست پیش گوئیاں کی ہوں، کیسے ممکن ہے کہ کسی کے پاس بیٹی کی اسکول کی فیس کے پیسے نہ ہوں اور کوئی اللہ کا بندہ غیبی انداز میں یہ کام کردے، کیسے ممکن ہے کوئی شخص ایک نایاب کتاب ڈھونڈ رہا ہو اور وہ اچانک کسی فٹ پاتھ سے اسے مل جائے؟ اس سوال کا جواب ’Taxas Sharpshooter Fallacy‘ میں ہے۔ اس مغالطے کا مطلب ہے کہ کسی معاملے میں معلومات کے ذخیرے میں سے محض اپنی مرضی کی چند باتیں چن پر نتائج اخذ کر لینا۔ مثلاً اس دنیا میں روزانہ کروڑوں لوگ یہ دعا کرتے ہیں کہ ان کا دن اچھا گزرے، ان میں سے لاکھوں لوگ اپنے مرشدوں سے آشیرواد لے کر دن شروع کرتے ہیں، اگر ان میں سے سینکڑوں یا ہزاروں لوگوں کا دن بھی کسی وجہ سے اچھا گزر جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ ان کا مرشد کامل ہے۔ امریکی ٹی وی پر سمپسنز کی ساڑھے سات سو اقساط نشر ہوئیں، ان اقساط میں دنیا جہان کے موضوعات پر کہانیاں بنائی گئیں، ان میں امریکی صدارتی مہم، 2009 کی کساد بازاری، دہشت گردی، وبائی امراض اور نہ جانے کیا کیا موضوعات زیر بحث آیا، ان اقساط میں سینکڑوں باتیں ایسی ہوئی ہوں گی جو کبھی وقوع پذیر ہی نہیں ہوئیں لیکن صرف وہ چند باتیں جو اتفاقاً سامنے آ گئیں، انہوں نے تہلکہ مچا دیا۔ ناسٹرڈامس کی پیش گوئیاں بھی ایسی ہی بے سروپا تھیں، اس نے سینکڑوں مبہم قسم کی باتیں لکھیں، مگر یار لوگوں نے اس میں سے بھی نائن الیون کی پیش گوئی نکال لی۔

سو قصہ یہ ہے کہ دنیا بے حد پراسرار ہے، اگر آپ کبھی ناسا کی ویب سائٹ پر جائیں اور وہاں مختلف سیاروں اور خلا میں سنائی دینے والی آوازوں کو سنیں تو لگے گا جیسے ہم کسی انسانی جسم میں موجود بیکٹیریا سے بھی حقیر کوئی مخلوق ہیں جس کے گرد لامتناہی اور ’نا معلوم‘ بلیک ہولز کا ایک سلسلہ ہے، ہمارے لیے وہ ایک خلیہ ہی کائنات ہے اور ہم نے اسی میں فنا ہو جانا ہے۔ ہم تو اس خلیے میں رونما ہونے والے اتفاقات کے بارے میں نہیں جانتے، کائنات تو بہت دور کی بات ہے!

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada