تہذیب حافی: جدید اُردو غزل کا باغبان


اردو زبان کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ہر طرح کے حالات میں اس کے ارتقا کا عمل تسلسل سے جاری ہے۔ اردو زبان اپنے تخلیقی ادب کے حوالے سے دنیا بھر کی زبانوں میں اپنی ایک شناخت رکھتی ہے۔ یہ شناخت نثری ادب میں بہت نمایاں ہے جبکہ شعری اصناف میں اس کا انفرادی وصف نثر سے سبقت لیے ہوئے ہے۔ شعری اصناف میں صنف غزل کو جو مقام و مرتبہ اور پذیرائی میسر ہے وہ دیگر اصناف کو باجوہ میسر نہیں آ سکی۔ اردو غزل کو شعرا جس طور سے لیا اور اس کی تراش خراش میں جس طرح اپنا خون جگر صرف کیا ہے۔ یہ دیکھنے کی چیز ہے۔ محمد قلی قطب شاہ سے مرزا داغ دہلوی تک اردو غزل کا کلاسیکی دور شمار ہوتا ہے۔ مرزا داغ سے ناصر کاظمی تک جدید اردو غزل کے جملہ اسالیب کلاسیکی شعریات سے متاثر و مستعار ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک جدت، ندرت اور تازگی کا عنصر رکھتے ہیں۔ ناصر کے بعد عہد حاضر یعنی اکیسویں صدی کے ربع ثانی میں تیزی سے ابھرنے والے شعرا میں تہذیب حافی کا نام سر فہرست ہے۔ تہذیب حافی نے جدید اردو غزل میں کلاسیکی اسالیب کی جملہ شعریات کو از سر نو اپنے منفرد انداز سے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ تہذیب حافی کے ہم عصر شعرا میں علی زریون، رحمن فارس، مژدم خان، عمار اقبال، فیضان ہاشمی، خرم آفاق، عمیر نجمی، شوکت فہمی وغیرہ بھی عمدہ غزل کہہ رہے ہیں۔ تہذیب حافی کا جدید اردو میں نمایاں کام یہ ہے کہ تہذیب نے شعری لفظیات کو اپنے طریقے سے اپنے انداز میں اپنے شعری اسلوب کو وضع کر کے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے موضوعات کلاسیکی روایت کے تتبع کا گہرا اثر لیے ہوئے ہیں ؛اس کے باوجود ان میں عصر حاضر کے جملہ مسائل و افکار کی ترجمانی تمام تر محسوسات کے ساتھ موجود ہے۔ تہذیب نے عام فہم انداز میں سادہ، آسان اور سہل ممتنع ایسی شعری بنت کاری کو اپنی غزل کا سانچہ بنایا ہے۔ تہذیب حافی کی غزل کا سانچہ بالکل نیا، منفرد، اچھوتا اور لائق داد ہے۔ تہذیب نے عصر حاضر کے جملہ مسائل و افکار کو کلاسیکی شعریات سے مملو کر کے نہ صرف پیش کیا ہے بلکہ جملہ انسانی جذبات و تصورات کو آج کی فیس بکی زبان یعنی عہد حاضر کے روزمرہ میں پیش کیا ہے جس سے ان کی غزل کو ان سے توقع سے بڑھ کر پذیرائی ملی ہے۔ تہذیب کے کچھ اشعار ملاحظہ کیجئے جن میں شعری لفظیات کا زیر و بم، شعری حسیت کی شدت اور ابلاغ کی روانی کس طرح قاری پر اثر انداز ہوتی ہے :

تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا/اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا
میں کہ کاغذ کی ایک کشتی ہوں /پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے
یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے /میں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہے
وہ جس کی چھاؤں میں پچیس سال گزرے ہیں /وہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا
بتا اے ابر! مساوات کیوں نہیں کرتا /ہمارے گاؤں میں برسات کیوں نہیں کرتا

تہذیب حافی کے ہاں الفاظ کا ایک نگار خانہ موجود ہے۔ شاعر کی شعری لیاقت کو جانچنے، آنکنے اور پرکھنے کا سب سے موزوں طریقہ اساتذہ سے یہی سنا ہے اور بذات خود اس کے استعمال سے سود مند نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ کسی شاعر کے ہاں الفاظ کا تنوع، موضوع کی جدت، بیان کی پیش کش اور شعری حسیت کا گہرا ادراک کس نوعیت کا ہے۔ اوزان و بحور اور بیان و بدیع کے جملہ عناصر کی سمجھ بوجھ اور ان کے محل استعمال سے شاعر کو بڑا، چھوٹا، ادنی اور اعلیٰ قرار دینا ایک دور کے نقادوں کی روش رہا ہے۔ احتساب کے یہ خودساختہ ہتھکنڈے اب موزوں نہیں رہے۔ وقت بدل چکا۔ معیارات تبدیل ہو چکے۔ روایت پرستی دم توڑ چکی۔ تقلید کا رجحان سبک ہو گیا۔ اب وہی باقی رہے گا جس کے کہے ہوئے میں بقا کا عنصر موجود رہے گا۔ وقت سب سے بڑا احتساب گر ہے۔ کلاسیکی عہد سے لے کر جدید غزل اور مابعد جدید سے عہد حاضر تک لاکھوں شعرا نے صنف غزل کو وقار بخشا۔ ان میں آج کتنے شعرا ہیں جو اپنے دواوین سمیت تاریخ میں موجود ہیں۔ جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے والا معاملہ شعرا کی فنائی اور بقائی مداومت پر منحصر ہے۔ شعرا کو ہر زمانے میں سرکار نے القابات سے نوازا ہے۔ شہرت کے ممکنہ حربے استعمال کر لینے، اخبار و سکرین کی زینت بنے رہنے سے دائمی شہرت کو پذیرائی کی سند نہیں مل سکتی۔ زبان خود فیصلہ کرتی ہے کہ اس کے ساتھ کس نے کیا برتاؤ کیا ہے اور کیا کچھ دیا ہے جس کی بنیاد پر زبان اسے بولنے والوں میں متعارف کروائے۔ تہذیب حافی کی پذیرائی کا مدار اس کی محنت اور صبر آزما تخلیقی ریاضت ہے۔ اس کے پیچھے کسی لابی، جماعت، تحریک اور منظم گروہ کا ہاتھ نہیں ہے۔ اس کا معاملہ ہڈ بیتی والا ہے۔ اس پر جو گزرتی ہے ؛ بعینہ ویسے لکھ ڈالتا ہے۔ گویا دل سے بات نکلتی ہے اور دل میں اتر جاتی ہے۔ سادگی، سلاست اور روانی کا یہ انداز ولی دکنی، میر، داغ، ناصر، فیض اور جون کے بعد تہذیب حافی کو میسر آیا ہے۔ تہذیب کے یہ اشعار دیکھیے اور رائے دیجئے کہ اس شاعر نے غزل کو تغزل بنانے کے لیے کس قدر مشقت کی ہے اور تخلیقی ریاضت کے کڑے امتحان سے گزر کر غزل کہنے کی صلاحیت کا خود محاسبہ کیا ہے :

تمام ناخدا ساحل سے دور ہو جائیں /سمندروں سے اکیلے میں بات کرنی ہے
اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے /ورنہ ہر چیز عارضی ہے مجھے
میں جنگلوں کی طرف چل پڑا ہوں چھوڑ کے گھر /یہ کیا کہ گھر کی اداسی بھی ساتھ ہو گئی ہے
میں جس کے ساتھ کئی دن گزار آیا ہوں /وہ میرے ساتھ بسر رات کیوں نہیں کرتا
پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے /میں جنگل میں پانی لایا کرتا تھا
میں سخن میں ہوں اس جگہ کہ جہاں /سانس لینا بھی شاعری ہے مجھے
تجھ کو پانے میں مسئلہ یہ ہے /تجھ کو کھونے کے وسوسے رہیں گے

اب سوشل میڈیا کا دور ہے۔ کتابوں کے پڑھنے کا رجحان تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ پاکستانی معاشرے کی منضبط اکائیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ نوجوان نسل شارٹ کٹ کے ذریعے وہ سب کچھ حاصل کر لینا چاہتی ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے عمریں صرف کیں۔ اردو زبان دیگر زبانوں کی طرح تنزل کا شکار ہے۔ شاعری سے دلچسپی روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس طرح کے حالات میں تہذیب حافی اور ان کے ہم عصر شعرا کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے نوجوان نسل کو اپنے اپنے انداز میں متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز کا درمیانی وقفہ نوجوان نسل کے لیے آزمائش کی صورت اختیار کر گیا تھا؛ جس میں سیاست، معیشت، مذہب، معاشرت سمیت ملک کی اجتماعی صورتحال میں ایسا تنزل اور ہیجان برپا ہو گیا تھا جس سے بے یقینی، ڈر، خوف، دہشت اور وحشت کا سماں چہار سو غالب تھا۔ ان حالات میں تہذیب حافی، فیضان ہاشمی، علی زریون، رحمان فارس، شوکت فہمی، عمیر نجمی، اکرام عارفی وغیرہ نے وہم و گماں کی اسیر متذبذب نوجوان نسل کو شاعری کی طرف متوجہ کیا۔ فیس بک، یوٹیوب اور دیگر میڈیا کے ذرائع سے اس نسل کی تربیت کی۔ نوجوان نسل کو اردو زبان میں دلچسپی اور شاعری سے شغف پر قائل کیا۔ نوخیز جذبات کی ترجمانی اور عشق و محبت ایسے گمبھیر لا ینحل جذباتی کیفیات کو ٹیم کرنے کا سلیقہ سکھایا۔ مشاعروں کا از سر نو آغاز انھیں نوجوان شعرا کی بدولت ہوا۔ سرکاری و نجی کالجز اور جامعات میں باقاعدگی سے مشاعروں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جن کی پہچان اور رونق اسی نوجوان نسل کے نمائندہ شعرا ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ نوجوان نسل ان مشاعروں میں ہزاروں کی تعداد میں نہ صرف شرکت کرتی ہے بلکہ اردو غزل کے جملہ شعری اسالیب اور اظہار کے متنوع انداز بیان سے شناسا بھی ہو رہی ہے۔ امید واثق ہے کہ اکیسویں صدی کا شعری منظر نامہ نوجوان شعرا کی کاوش سے کلاسیکی منظر نامے کے معیار کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو گا۔ اس مضمون کا اختتام تہذیب حافی کے اشعار پر کر رہا ہوں۔ یہ اشعار پڑھیے اور سر دھنیے :

صحرا سے ہو کے باغ میں آیا ہوں سیر کو /ہاتھوں میں پھول ہیں مرے پاؤں میں ریت ہے
آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھ /میں ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں
میری نقلیں اتارنے لگا ہے /آئینے کا بتاؤ کیا کیا جائے
نیند ایسی کہ رات کم پڑ جائے /خواب ایسا کہ منہ کھلا رہ جائے
کیا مجھ سے بھی عزیز ہے تم کو دیے کی لو /پھر تو میرا مزار بنے اور دیا جلے
کوئی کمرے میں آگ تاپتا ہو /کوئی بارش میں بھیگتا رہ جائے
مرے ہاتھوں سے لگ کر پھول مٹی ہو رہے ہیں /مری آنکھوں سے دریا دیکھنا صحرا لگے گا
مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا /میرا دکھ یہ ہے کہ میرا ہم سفر روتا نہ تھا

Facebook Comments HS