چبھتا ہوا سوال


جب میں وقت مقررہ پر دانتوں کی فلنگ کے لئے ڈینٹسٹ کے پاس پہنچا تو وہ پہلے سے ایک مریض کو ٹریٹ کر رہا تھا۔ مجھے تھوڑی دیر انتظار کرنا پڑا۔ میری باری آئی تو اس نے مجھے سیٹ پر ایڈجسٹ کرتے اور ایپرن ڈالتے ہوئے میرا حال چال دریافت کیا اور پھر گپ شپ میں مجھ سے پوچھا کہ یہ جو شخص آپ سے پہلے اس سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا جانتے ہیں کہ یہ کون ہے؟ میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو بتانے لگے کہ یہ فلاں بدنام زمانہ فرعون صفت تھانیدار ہے اور آپ کو پتہ ہے کہ یہ تھانے میں لوگوں کی چمڑی ادھیڑنے کے لئے مشہور ہے؟ لیکن مزے کی بات ہے کہ پچھلی دفعہ جب میں نے اس کا دانت نکالنے کے مسوڑھے میں سرنج کی سوئی ہی داخل کی تو اس کی شلوار یہیں پر گیلی ہو گئی تھی۔ مجھے جھرجھری آ گئی اور میں نے اللہ تعالی سے اپنی عزت کے لیے دعا کی۔

جمعہ کے خطاب میں قاری صاحب مذہبی مسائل پر خوب گرج برس کر اپنی علمیت جھاڑ رہے تھے نماز کے بعد جب سارے نمازی جا چکے تو ہم چند ایک لوگ کسی مسئلہ پر بات کرنے کے لئے قاری صاحب کے پاس رک گئے۔ باتوں سے باتیں نکلنا شروع ہوئیں تو انہوں نے لوگوں کی جہالت کا قصہ چھیڑ دیا۔ ہم سے پوچھنے لگے اس شخص کو جانتے ہو وہ فلاں جو اتنے عرصے سے لوگوں کو پڑھا رہا ہے؟ جی بالکل ہم نے ذہن پر زور دیتے ہوئے عرض کیا۔ فرمانے لگے کہ اتنا جاہل ہے کہ اس کو آج تک غسل کے فرائض کا معلوم نہیں۔ آج جمعہ کی نماز سے پہلے مجھے اکیلے میں ملا اور مجھ سے پوچھنے لگا کہ قاری صاحب غسل کے فرائض ذرا دوبارہ یاد کروا دیں۔ جہالت دیکھ لیں کہ ان کے بچے جوان ہیں اور اس نے ساری عمر ناپاکی میں گزار دی۔ مجھے ٹھنڈے پسینے آنا شروع ہو گئے۔

ایک استاد بتا رہے تھے کہ سر وہ جو بچہ ہے نا وہ بے حد پریشان ہے اور میں اس کی پریشانی کا علاج کر رہا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیوں پریشان ہے اور اپ اس کی پریشانی کا کیسے علاج کر رہے ہیں؟ بولے کہ اس نے پیسوں کے لالچ میں آ کر کسی لڑکے سے بدفعلی کروانے کی حامی بھر لی تھی اور اس کے بعد سے اس کو شدید ندامت ہے اور وہ انتہائی قسم کے ڈپریشن میں چلا گیا ہے۔ بیٹھے بیٹھے اچانک بلاوجہ رونا شروع کر دیتا ہے۔ یادداشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ نیند اور بھوک سے بھی بے نیاز ہو رہا ہے۔ میں اس کا علاج کر رہا ہوں اور آہستہ آہستہ اس کو سمجھا رہا ہوں۔

ایک ڈاکٹر صاحب بھی ذرا سی بے تکلفی پر اپنے مخصوص مریضوں کے جسموں کے منفرد جغرافیوں کا ذکر لے بیٹھے اور بطور ڈاکٹر ان جگہوں تک رسائی حاصل ہونے کی داد پانے کو خاص خاص مریضوں کے نام گنوانے لگے۔ سوچ کر جھرجھری آ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے بیماریوں سے اور ڈاکٹروں سے تاحال محفوظ رکھا ہے۔

میرے ایک دوست ڈاکٹر وحید رزاق سے جو کہ پیشے کے لحاظ سے سائیکاٹرسٹ ہیں۔ ان سے سوشل میڈیا پر رابطہ رہتا ہے۔ ایک بار ان سے مشہور سیاسی شخصیت کے سائیکو انالیسز کے لئے اپنی رائے شیئر کی اور ان سے اس رائے پر تبصرہ مانگا تو انہوں نے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ بعد ازاں پرسنل طور پر انباکس میں بھی اس شخصیت کی نفسیات پر بات کرنے سے معذرت کر لی۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ پروفیشنل ایتھکس کا تقاضا ہے کہ کسی بھی شخص کی مرضی لئے بغیر اس کی شخصیت پر بات کرنا نامناسب ہے۔ بعد ازاں ڈاکٹر خالد سہیل، ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اور کچھ وکلاء بالخصوص طاہر چودھری کے آرٹیکلز پڑھے جہاں انہوں نے کیس سٹڈیز کو اپنے کلائنٹ کی اجازت سے قارئین کے ساتھ شیئر کیا تاکہ باقی لوگ بات کو تو سمجھیں مگر کلائنٹ کی شخصیت تک نہ پہنچ سکیں اور اس صورت میں بھی نام اور مقامات کو بدل دیا۔

پوری دنیا میں رائج اخلاقیات، قانون اور اعلیٰ معاشرت کا یہی تقاضا ہے کہ وہ انفارمیشن جو آپ کے کسی مخصوص پیشہ یا اتھارٹی کی وجہ سے آپ تک پہنچتی ہے وہ آپ بلا اجازت پبلک نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ آپ کی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس پیشے یا اتھارٹی کی وجہ سے آپ تک پہنچی ہے۔ عام معاملات میں یہ انفارمیشن پروفیشنل ایتھکس کے ماتحت آتی ہے مگر حکومتی سطح پر اس کو محض اخلاقیات کا معاملہ سمجھنے کی بجائے اس کے لئے سخت ترین قانون سازی موجود ہوتی ہے جس کو سیکرٹ ایکٹ کہا جاتا ہے۔ یہ پوری دنیا میں نافذ العمل ہے اور ریاستیں اپنی خاص اور کلاسیفائیڈ انفارمیشن کی حفاظت کے لئے کسی بھی حد تک جاتی ہیں بلکہ بعض اوقات تو قانون سے بالا بھی چلی جاتی ہیں۔

مملکت خداداد کی بدقسمتی ہے کہ یہاں عوام کی کوئی بھی انفارمیشن محفوظ نہیں ہے۔ نادرہ کا ریکارڈ ہو یا فون کی سی ڈی آر، بینک کی تفصیلات ہوں ٹیکس کا ریکارڈ ہو یا انتہائی اہم عہدے داروں کے بیرونی سفر کا احوال، سب کچھ دیواروں پہ آویزاں ہے۔ گلی محلے کے عام فرد سے لے کر اداروں تک ایتھکس تو دور حلف تک کی پاسداری کا بھی رواج نہیں ہے۔ یہاں بیڈ روم جیسی پرائیویسی والی آڈیوز اور ویڈیوز کو بھی قومی ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر چلائے جانے پر اعتراض نہیں کیا جاتا بلکہ اگلی قسط کا انتظار کیا جاتا ہے اور میمز بنا کر لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ اس طرز معاشرت اور ماحول میں ایک وزیراعظم نے بھی سائفر جیسے سیکرٹ قومی ڈاکیومنٹ کو عوامی جلسوں میں لہرا دیا ہے تو کسی بھی درجہ کے ایتھکس سے نابلد قوم کو اس کی سنگینی اور اس سے جڑے خطرات کا ادراک کیونکر کروایا جا سکتا ہے؟

بذات خود آئین و قانون سے ماورا اداروں اور ریاست کے لئے یہ آج کا سب سے بڑا، متضاد، کھلا اور چبھتا ہوا سوال ہے۔ جون ایلیا نے خوب عکاسی کی ہے کہ

اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

Facebook Comments HS