پُنر جنم
آج تم سے ملاقات ہو ہی گئی، ایسے لگ رہا ہے جیسے کل ہی کی بات تھی جب ہم بچھڑے ۔ ۔ ۔ مگر ہم کئی یگوں کے بعد مل رہے ہیں۔۔ صدیاں بیت گئیں، ہم روپ بدلتے رہے۔ مجھے تمہاری باتیں یاد ہیں، تم نے ایک بار کہا تھا :
”میں بوند بن کر زمین پر گرتی ہوں، پانی بن کر بہتی دریا سے ہوکر ساگر میں گر جاتی ہوں۔۔ بادل بنتی ہوں ۔۔ پھر برستی ہوں۔ ۔ ۔ اور یگوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔”
تمہاری بات مجھے سمجھ نہیں آئی تھی۔ تم نے سمجھانے کی کوشش کی:
” کائنات میں ہر شے منفرد ہے مگر سب کا خمیر جن چیزوں سے بنا ہے وہ اس کائنات میں پہلے سے موجود تھیں۔ ۔ تم نے کارل ساگان کا حوالہ دیا تھا۔ ۔ ۔ انسان سمیت دھرتی پر موجود ہر شے کے وجود میں ٹوٹے ہوئے تاروں کی راکھ شامل ہے۔۔”
تب سے اب تک میں تہمارے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔۔ تمہاری بات پھر مجھے پرکرتی (قدرت) نے سمجھائی۔۔۔ جس طرح نیوٹن کے سر پر سیب گرا تھا اور اس نے لا آف گریوٹی دریافت کیا۔ اسی طرح جب میں نے کھیت اور باغ میں دیکھا۔۔ کہ کیسے بیج سے ننہا سا پودہ نکلتا ہے، درخت یا فصل کے مراحل سے گذر کر دوبارہ بیج بنتا ہے۔
تم جو پہلے سمجھ چکیں، مجھے وہ سمجھنے میں کتنا وقت لگا ! اس لئے میں تمہیں دیوی کہتا ہوں اور ہمیشہ تمہیں اپنے ساتھ ہی چاہا ہے۔۔ تمہاری ہی وجہ سے مجھے وہ سب اچھے لگتے ہیں جنہیں تم پسند کرتی ہو۔
میں نے ایک بار تمہیں کہا تھا:
” ہم انسان ہیں تو انسانوں کی طرح کیوں نہیں ملتے۔”
تم نے کہا تھا :
” جو ملتے ہیں وہ فنا ہو جاتے ہیں۔”
تمہاری بات میں خوف تھا، میں نے بحث کرنی چاہی تھی، مگر تم نے مجھے ٹوکا تھا:
” ہر بات پر بحث نہیں کی جاتی۔”
تمہارے جواب پر میں چپ ہو گیا تھا۔
میرے سوالوں کی طرح تمہارے پاس بھی کئی سوالات تھے، تمہارا ایک سوال بہت معنیٰ خیز تھا:
”ہم ملے اور بوڑھے ہوگئے۔۔۔ پھرہم میں سے کوئی مرگیا تو دوسرا کیا کرے گا، کیسے جئے گا”
تب مجھے اس سوال کا جواب نہیں سوجھا تھا، میں چپ ہوگیا تھا، تم بھی خاموش تھیں، شاید تمہیں خود بھی اس کا جواب معلوم نہیں تھا اور اس بارے میں سوچا بھی تھا۔۔۔ اچانک آئے سوال نے جیسے ہمیں چونکا دیا تھا، یہ سوال تو کسی نے بھی نہیں سوچا ہوگا۔ ۔ ۔ اس لئے کسی کے پاس بھی اس کا معقول جواب نہیں ہوتا۔ میں نے تم سے بچھڑنے کے بعد تپسیا کی۔۔ سوال پر دھیان لگایا تب مجھے نروان ملا۔
آج میں تمہیں اس سوال کا جواب بتاؤں گا۔ وصل ضروری ہے۔۔۔ مگر فراق کے بغیر وصل بے معنیٰ ہوتا ہے۔ ۔ ۔ اس لئے ہم نے ہجر میں یگ گزار دیے۔ ۔ ہم نے جتنا وقت ہجر میں گذارا ہے ہمیں اتنا ہی وقت وصال کے لئے چاہیے۔ ۔ ۔ تم حیران کیوں ہو رہی ہو ۔ ۔ ۔ جانتا ہوں تم جواب سننے کے لئے بیتاب ہو۔ ۔ ۔ سنو:
” جب میں بوڑھا ہو جاؤں اور تم بھی بوڑھی ہو جاؤ، اس وقت ہم میں سے کوئی ایک مرا تو دوسرا بھی اس کے پیچھے کوچ کرنے میں دیر نہیں کرے گا اور اس طرح ہم دونوں میں لمبی جدائی کا خوف ہی نہیں رہے گا۔ کاش اس وقت میں پہلے پرسکون موت مر جاؤں اور تمہیں میں روتا ہوا چھوڑ جاؤں۔ ہماری یہ موت بھی موت نہیں ہوگی۔ ہم تو پھر جنم لیں گے، کسی نئے روپ میں، شاید اگلے جنم میں ہم کسی اور کہکشاں میں ہوں۔۔ مگر ہم دوبارہ اسی دھرتی پر جنم لینا چاہیں گے۔ کیونکہ یہ دھرتی ہی ہمارا گھر ہے، اور ہم بارش کی بوندیں اور بیج کی طرح اپنی صورت بدل بدل کر یہاں رہنا چاہیں گے۔
تم کیا کہو گی ۔ ۔ ۔ تمہارا گیان کیا کہتا ہے:
” روحیں ازل سے ایک ہیں اور ابد تک رہیں گی،آتما کبھی نہیں مرتی۔ ۔ ۔ وہ بچھڑ نہیں سکتیں، موت بے معنیٰ ہے اور جدائی بھی۔”


