ایک اور ”دو قومی نظریہ“ ۔
قیام پاکستان کے جواز کے لیے مسلم لیگ کی قیادت نے ”دو قومی نظریہ“ پیش کیا جس کی توجیہ یہ تھی کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور ان کا ساتھ رہنا ممکن نہیں لہذا مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک پاکستان کی مانگ ہوئی اور قیام پاکستان عمل میں آیا اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ مذکورہ دو قومی نظریہ مشرقی پاکستان اور بنگلہ دیش کے سفر میں کہیں کھو گیا۔ لیکن ہم آج بھی اسی نظریے پر قائم ہیں اور بضد ہیں کہ مسلم لیگی قیادت کا فیصلہ درست تھا۔
قائد کی مشہور تقریر جس میں انہوں نے نوزائیدہ ملک پاکستان میں غیر مسلموں کو ان کے مذہبی حقوق دینے اور انہیں برابر کا شہری ہونے کی ضمانت دی تھی وہ متنازعہ بنا دی گئی اور آج کے پاکستان میں اس کے برعکس جس طرح اقلیتوں ( میں ان کو اقلیت کہنا ان کی توہین سمجھتا ہوں اور غیر مسلم پاکستانی کہنا زیادہ بہتر سمجھتا ہوں ) کے ساتھ اکثریت ( مسلمان) کا رویہ ہے اور مملکت خداداد میں جس طرح غیر مسلم پاکستانیوں حقوق کی پائمالی ہو رہی ہے۔
ان کی عبادت گاہ۔ گھروں اور املاک پر منظم گروہ حملے کر رہے ہیں۔ کمسن ہندو بچیوں کو ”مشرف بہ اسلام“ کر کے ان سے شادیاں رچائی جا رہی ہیں ان واردات کے پیچھے سندھ کا معروف پیر میاں مٹھو جو صرف پیر ہی نہیں ایک وڈیرہ اور سیاسی جوڑ توڑ کا مکروہ کردار بھی ہے وہ صرف کمسن ہندو لڑکیوں کو ہی ”مسلمان“ بنا کر اپنی ہوس کی تسکین کرتا ہے وہ کبھی کسی عمر رسیدہ غیر مسلم مرد یا کسی بزرگ خاتون کو دائرہ اسلام میں نہیں لا سکا۔
اسی طرح وطن عزیز میں عیسائیوں بچیوں پر بھی جبری مذہب کی تبدیلی اور کسی مسلمان لڑکے سے ”شادی“ کے واقعات کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے اس کے علاوہ عیسائیوں پر توہین مذہب۔ اہانت رسول صلعم اور مختلف الزامات کے تحت قتل اور ان کی املاک کو نذر آتش کردینے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں جبکہ ہر بار تحقیقی کمیٹیوں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ توہین مذہب کے ان الزامات کے محرکات کچھ اور ہی تھے لیکن اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے سب سے آسان نسخہ توہین مذہب اور بلاسفیمی کا الزام ہوتا ہے جس کی آڑ میں ان بیچاروں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جاتا ہے اور کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ کیا آج تک بلاسفیمی کا جھوٹا الزام لگانے والے کسی فرد کو کوئی سزا ہوئی ہے جو ایک شرعی تقاضا ہے۔
یورپ میں اگر کہیں قرآن پاک کی بے حرمتی ہو یا اہانت مذہب کا واقعہ ہو تو ہمارے ”غیور“ مسلمان بھائی جوق در جوق سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور اپنی ہی املاک کو برباد کر ڈالتے ہیں تو کبھی یورپی ممالک سے سفارت تعلقات توڑنے اور ان کے سفیروں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن جب یہی عناصر دوسرے مذاہب کی توہین ان کی عبادت گاہ اور مقدس کتابوں کو نذر آتش کر دیتے ہیں تو ان پر کوئی بلاسفیمی کا قانون نافذ نہیں ہوتا اور کوئی سیاست داں اور نہ ہی کوئی مذہبی رہنما ان واقعات پر کھل کر بولنے کی جسارت کرتا ہے بس لے دے کے سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا کچھ آواز اٹھاتے ہیں لیکن ان کی آواز کی حقیقت نقار خانے میں طوطی کی آواز سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی اور چند روز بعد کوئی نیا واقعہ پیش آ جاتا ہے اور لوگ پچھلے واقعہ کو بھول جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے جڑانوالہ واقعہ کیا کوئی آخری واقعہ ہو گا؟ کیا اب کوئی میاں مٹھو کسی اور کمسن ہندو لڑکی کو دائرہ اسلام میں داخل کر کے دارالامان نہیں پہنچائے گا؟
ان انتہا پسند جنونیوں کے شر سے شیعہ برادری اور دیگر مسالک بھی محفوظ نہیں۔ ہر طرف ایک خوف کی فضا طاری ہے۔ جب جس کا جی چاہے کسی کو بھی ”کافر“ قرار دے کر قتل کردے۔ اس صورتحال میں کسی کی جان محفوظ نہیں رہی۔ وہ غیر مسلم پاکستانی جو صاحب حیثیت تھے یا کسی بھی طرح ملک سے ہجرت کر گئے۔
ملک کی انتہائی امن پسند کمیونٹی پارسی چونکہ اعلی تعلیم یافتہ اور پر امن لوگ تھے وہ خاموشی سے بیرون ملک جا بسے۔ اسی طرح جو چند ہزار یہودی خاندان یہاں تھے انہوں نے بھی آنے والے خطرات کا ادراک کر لیا اور وہ یورپی ممالک اور اسرائیل منتقل ہو گئے۔
قادیانیوں نے پاکستان کی تحریک اور قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔ سر ظفر اللہ خان نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس کمیونٹی کے افراد نے فوج اور دیگر اداروں میں اہم خدمات انجام دیں اور ملکی ترقی و تعمیر میں اپنا کردار ادا کیا۔ ایک قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام نے عالمی برادری میں پاکستان کا سر بلند کیا اور نوبل پرائز کے حقدار ٹھہرے لیکن ہم نے ان کو محض فرقے کی بنیاد پر مسترد کر دیا۔ ان کی قبر کی بھی توہین کی اور ان کے کتبے پر سیاہی مل دی یہی نہیں احمدیوں کے قبرستان کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ان کی عبادت گاہ پر خودکش حملے کئیے اور سینکڑوں بے گناہ اور معصوم عورتوں اور بچوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ جب آئین پاکستان کے مطابق انہیں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے تو پھر کیا جواز باقی بچتا ہے کہ ان پر عرصہ حیات بھی تنگ کر دیا جائے۔
صوبہ پختون خوا میں متعدد سکھوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ فہرست بہت طویل ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہماری اکثریت انتہائی تنگ نظر۔ متشدد اور کسی دوسرے فرقے۔ مسلک۔ مذہب اور عقیدے کے لوگوں کو قطعی برداشت نہیں کرتی اور نہ ہی ان کو آئین پاکستان میں درج برابری کے حقوق دینے اور ان کو اپنے مذہبی رسوم ادا کرنے کی آزادی دیتی ہے۔ ابھی حال ہی میں جڑانوالہ واقعات سے متعلق حکومت پنجاب کے ایک اعلامیے میں ان مظلوم عیسائیوں کو ”ذمی“ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسلام میں ذمی کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے اگر وہ برابر کے شہری نہیں محض ذمی ہی ہیں تو کیوں نہیں ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے آئین میں ترمیم کرلیتے اور تسلیم کر لیں کہ غیر مسلم برابر کے شہری نہیں اور نہ ہی ان کے حقوق یکساں ہیں کیا یہ ایک حقیقت نہیں یہ کہ ہمارے آئین کے مطابق مملکت پاکستان کا صدر اور وزیراعظم صرف مسلمان ہی ہو گا۔ کیا صرف یہی شق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ غیر مسلم برابر کے پاکستانی نہیں۔ کیا کسی ادارے کا سربراہ یا کوئی کلیدی عہدیدار کوئی غیر مسلم ہے علاوہ چند نمائشی وزیروں اور مشیروں کے جو سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم تو عام بول چال میں بھی عیسائیوں کو ”چوہڑے“ ہی کے نام سے جانتے ہیں ہم ان کے ساتھ یا ان کے برتن میں کھانا پینا بھی معیوب سمجھتے ہیں۔
جبکہ ہم بار بار سنتے ہیں کہ کسی مسلمان کا ایمان حضرت مسیح اور بائبل مقدس کو مانے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ بار بار یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسلام اقلیتوں کے ساتھ حُسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اہل کتاب کے ساتھ کھانے پینے کی اجازت بھی دیتا ہے۔ لیکن معاف کیجئیے
ہم وہی کر رہے ہیں جو ہماری اپنی ”مذہبی توجیہات“ کے مطابق ہوتیں ہیں۔ اگر یہ ساری باتیں واقعی ہمارے ایمان کا حصہ ہوتیں تو ہم نے ان مذہبی انتہاپسندوں کا اب تک قلع قمع کر دیا ہوتا جو اسلام کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اور اگر آپ ان کی روک تھام کے لئے کچھ نہیں کر پائے تو مجھے کہنے دیں کہ ہم بھی انہیں کا ایکسٹینشن ہیں۔
یہ نہ بھولیں کے یہ اکیسویں صدی ہے اگر ردعمل کے طور پر یورپ اور غیر اسلامی ممالک بھی وہاں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ کچھ ایسا ہی سلوک کریں تو آپ کو کیسا محسوس ہو گا وہ جو بلا تفرق مذہب رنگ و نسل آپ کو برابر کے حقوق دیتے ہیں۔ شہریت بھی دیتے ہیں اور آپ کی ترقی میں رکاوٹ بھی نہیں ڈالتے ذرا ان کا مقابلہ اپنے نام نہاد مسلم امہ کے ممالک سے موازنہ تو کریں جو آپ کو مسکین اور رفیق کی اصطلاحات سے نوازتے ہیں اور توہین آمیز سلوک بھی کرتے ہیں۔
جس طرح آزادی سے پہلے قیام پاکستان کے حصول کے لیے دو قومی نظریہ کی توجیہ پیش کی گئی تھی جس کی رو سے ہندو اور مسلمان دو علیحدہ قومیں ہیں اور ان کا ساتھ رہنا ممکن نہیں تھا بالکل اسی طرح کیا آج پاکستان میں مقیم غیر مسلموں پر ایک اور ”دو قومی نظریہ“ کے تحت یہاں سے کسی دوسرے ملک ہجرت یا پناہ گزینی اختیار کر لینا واجب نہیں ہوجاتا
وطن سے محبت اور وطنیت کے تصور کے لیے ضروری ہے کہ اس میں بسنے والے تمام باشندوں کے جان و مال کی حفاظت۔ عزت و ناموس کا تحفظ۔ ان کے مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آزادی اور تعلیم و ترقی اور حصول روزگار میں برابر کی بنیاد پر مواقع ملنے ہی سے مشروط ہے اگر کسی شہری کو یہ میسر نہیں تو کیا وہ ایمانداری سے یہ کہ سکتا ہے کہ وہ کب تک محب وطن رہ سکے گا اور کسی ایسے ملک ہجرت پر مجبور نہیں ہو جائے گا جہاں اگر یہ تمام مواقع نہیں تو ان میں سے چند ہی مل سکیں اور کم از کم جان ہی محفوظ رہے تو اسے یہ تو اطمینان رہتا ہے کہ چلو یہ اپنا وطن نہیں ہے۔ حب الوطنی بے شک اہم ہے لیکن انسان اپنے سامنے اپنے لوگوں پر جبر اور اپنی پونجی کو جب جلتا دیکھے گا تو سارے بھاشن اور حب الوطنی ہوا میں اڑھاتے ہیں اور وہ یہی کہتا نکل جاتا ہے ”پاکستان سے زندہ بھاگ“


