مٹی آدم کھاتی ہے


کچھ کتابیں سارے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ محمد حمید شاہد کا ناول ’مٹی آدم کھاتی ہے‘ ان ہی میں سے ایک ہے۔

ناول نگار نے اپنے اس ناول کو انسان اور اس کی محبتوں کی کتاب قرار دیا ہے۔ ہم سب کو دُکھ دے کر اس دنیا کو الوداع کہنے والے نقاد محترم شمس الرحمن فاروقی اسے دُکھ کی کتاب کہتے ہیں۔ میں اسے انسان اور اس کی محبتوں اور دُکھ کی کتاب کے ساتھ نفرت اور موت کی کتاب بھی سمجھتا ہوں۔ ویسے ان سب میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انسان ہے تو محبت ہے، محبت ہے تو نفرت ہے، نفرت ہے تو دُکھ ہے، اور دُکھ ہے تو موت ہے۔ انسان ہونے سے موت آنے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس ناول کے کرداروں کی طرح جو، رات دن دُکھ کی چادر میں لپٹے، نفرت کی گہری کھائی میں جھانکتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ کبھی انسان تھے اور محبت بھرا دل رکھتے تھے۔ جیسے کپتان سلیم، زرجان، منیبہ، خرم، میجر جلیل، شہروز خان، بڑے خان، خان جی اور پہلا راوی۔ پہلا راوی اس لیے کہ ناول کا ایک راوی نہیں ہے، دو راوی ہیں۔ اگر اخبار کے مدیر کو شامل کر لیا جائے، تو تین راوی ہو جاتے ہیں۔ اخبار کا مدیر راوی اس معنیٰ میں ہے، کہ وہ ’کہانی‘ کے چند ’مبہم‘ لفظوں کو معنیٰ دینے کی کوشش بھی کرتا ہے، اور ’کہانی سے باہر کہانی کے اندر کی باتیں‘ بڑی حد تک واضح کرنے، اور کہانی کے ’تتمہ‘ میں اس کا انجام ’متعین‘ کرنے کی بھی۔ چونکہ یہ ’کہانی‘ موت سے شروع ہوتی اور موت کا سایہ آخر تک قائم رہتا ہے، اس لیے پہلی ہی سطر سے پڑھنے والے پر ایک حزنیہ کیفیت طاری ہو جاتی ہے، اور یہ کیفیت ’کہانی‘ کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کیفیت میں کئی طرح کے احساسات بھی شامل ہوتے چلے جاتے ہیں، ایک احساس یہ کہ زندگی دُکھ درد کا نام ہے، اور یہ کہ محبت دیوانہ بنا دیتی ہے، یہ احساس کہ جبر زندگی کا ہر رَس نچوڑ لیتا ہے۔ پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ انسان سب سہ کر بھی کیوں جیئے جاتا ہے؟ مرحوم فاروقی صاحب نے ناول کے ’دیباچہ‘ میں ایک جملہ لکھا ہے، جو مذکورہ سوال کا جواب ہو سکتا ہے ؛ ”دُکھ شاید سب کچھ سکھا دیتا ہے“ ، جینا بھی۔ لیکن بعضوں کے لیے یہ جینا موت کی طرح ہوتا ہے یا شاید موت سے بھی بدتر! زرجان کو لے لیں، خان جی کی صاحب زادی، تعلیم یافتہ، لیکن حویلی کی چاردیواری میں قید، کسی خرم بابو کی منظورِ نظر، جس کی لاش، زرجان کے دو دن غائب رہنے پر، اُس کے گھر پہنچتی ہے، اور زرجان اپنی حویلی میں نظربند ہو جاتی ہے۔ یہ وہ زرجان ہے، جو اس ’کہانی‘ کے واحد متکلم راوی کپتان سلیم کی چچا زاد بھی ہے، اور بیوی بھی۔ وہ سلیم جس کا باپ شہزور اس لیے حویلی سے نکال دیا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی لڑکی سے محبت اور شادی کرنے کی بھول کر بیٹھا ہے، جسے اُس کے والد بڑے خان ’نامعلوم نسب والی‘ قرار دے کر بہو بنانے پر آمادہ نہیں ہیں۔ لیکن شہزور اور ’نامعلوم نسب والی‘ کا بیٹا سلیم کپتان بن کر اسی زرجان سے بیاہ دیا جاتا ہے، جس کے دادا بڑے خان نے شہزور کو بھگا دیا تھا، اور جس کا باپ خان جی اپنے چھوٹے بھائی شہزور کو حویلی میں قدم رکھنے تک نہیں دینا چاہتا تھا، زمین کِسے پیاری نہیں ہوتی! سلیم بھی یہ جاننے کے باوجود کہ اس کے والد کو خان جی نے ہی قتل کروایا ہے، تاکہ جائیداد بانٹنا نہ پڑے، زرجان سے شادی کر لیتا ہے۔ اور منیبہ بھی تو ہے، میجر جلیل کی بیوی ہونے کے باوجود سلیم سے محبت کرنے والی، اور سلیم اُس سے محبت کرنے والا۔ اور جلیل سب کچھ جانتے ہوئے بھی منیبہ اور سلیم کی راہ سے ہٹنے پر راضی۔ انسانوں کی انسانوں سے محبت کی یہ کہانیاں اس ناول میں جگہ جگہ بکھری ہوئی ہیں۔ خان جی نے بھی، جو انا کی، خود پسندی کی، جبر کی، بدعنوانی کی، مادہ پرستی کی، اور حقوق پر ڈاکا ڈالنے والے ایک رئیس کی علامت ہیں، محبت کی تھی، اس ’کہانی‘ کے پہلے راوی کی ماں سے۔ پہلا راوی خود کو خان جی کے گھوڑوں کی لید اٹھانے والے کامی کا، اور اس کی بیوی کا بیٹا سمجھتا ہے، لیکن نہیں وہ تو دونوں کی شادی کے صرف سات مہینے بعد ہی پیدا ہو گیا تھا! ایک دن خان جی اسے بتاتے ہیں، اور اپنی بیوی بیگم جان، اور بیٹی زرجان کو بھی کہ انہوں نے اِس کی ماں سے شادی کی تھی، کیونکہ وہ اُسے چاہتے تھے، اور یہ ( پہلا راوی ) ان کا جائز بیٹا ہے۔ سب محبت کے مارے ہیں، کیونکہ سب انسان ہیں، لیکن یہ محبت ہی ہے جس نے انہیں نفرت سکھا دی ہے، دُکھ دے دیے ہیں، اور جابر بنا دیا ہے۔ کسی کو زمین کی محبت نے، کسی کو محبت کرنے والوں یا والیوں کی موت کی تڑپ نے، اور کسی کو اس غم نے کہ ان کے حقوق چھن رہے ہی۔

ناول 8، اکتوبر کے شدید بھونچال، اور اس کے نتیجے میں تباہ ہونے والی ایک حویلی کے ملبے سے ملنے والے ’کاغذوں کے پلندے‘ کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔ یہ یقیناً 2005 ء کے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور سرحدی علاقہ میں آئے بھونچال کا ذکر ہے، جس میں ایک لاکھ تک لوگ جان سے گئے تھے۔ لیکن یہ ناول بھونچال کا ناول نہیں ہے، نہ ہی یہ گھوڑوں کی خدمت اور لید اٹھانے پر مامور دراز خان اور اس کی بیوی کے مصائب کا ناول ہے، اور نہ ہی خان جی کی عیاشیوں کا ناول ہے، حالانکہ یہ سب اس ناول کا حصہ بنے ہیں، اور ناول کی مرکزی کہانی سے اس طرح ہم آہنگ ہو گئے ہیں کہ انہیں الگ کیا ہی نہیں جا سکتا، اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی، تو سمجھو یہ ناول بے معنیٰ ہو گیا۔ یہ ناول ’زمین اور مٹی‘ کا ناول ہے، زمین اور مٹی دونوں علامت ہیں، اقتدار کی اور فنا کی۔ زمین چونکہ مٹی ہے، اور یہ جسم بھی مٹی ہے، اس لیے ایک دن سب مٹی میں مل جانا ہے، سارا اقتدار، ساری انا اور شان مٹی ہونا ہے۔ محمد حمید شاہد نے ناول کے ابتدا ہی میں بھونچال کا ذکر کر کے، زمین اور مٹی کی علامت کو ایک روپ دے دیا ہے، جو ’کہانی‘ کے بہاؤ کے ساتھ کئی اور روپ دھارن کرتا ہے۔ مثلاً پہلے راوی کا ’کہانی‘ کے دوسرے راوی کپتان سلیم کو ’ناواجب آدمی‘ کہنا ؛ یہ وہی کپتان سلیم ہے جسے پہلی دفعہ دیکھ کر پہلے راوی نے جو محسوس کیا تھا، اس کے لفظوں میں یوں تھا،

” جب میں نے اُسے پہلی بار دیکھا تھا تب یہ شخص فوجی وردی میں آیا تھا اور اس پر پڑی نظر ٹکتی نہ تھی۔“
مزید یہ،

” تب اس آدمی کے جثّے پر کلف لگی خاکی وردی تھی جو سورج کی کرنوں کو لوٹا کر سنہری ہو جانے والے گھوڑے کی جِلد جیسی لگ رہی تھی۔ وہ سیاہ پالش سے چمکتا بھاری بوٹ رکاب میں اڑس کر یوں پلک جھپکنے میں سنہرے پر سوار ہو گیا تھا کہ میں کاٹھی کے پیچھے سے گھوم کر دوسری طرف جاتی اس کی ٹانگ کو پوری طرح دیکھ نہ پایا تھا۔“

اور اب جب راوی اوّل راوی دوم کی ’کہانی‘ سُنا رہا ہے تب راوی دوم کی صورت کچھ ایسی ہے،

” جہاں بٹھاؤ بیٹھا رہتا، نہ بلاؤ تو بولتا تک نہیں تھا۔ سُنتا رہتا، بات پسند آتی تو اس میں شریک ہوجاتا، ناگوار گزرتی تو چپ ہو ہو کر منھ پھیر لیتا۔ طیش آتا تو زمین کھرچنے لگتا تھا۔“

وہ ”غیر مربوط، ناواجب آدمی“ بن گیا تھا۔ ”ایک لمبی چپ میں رہنے والا یہ آدمی“ کس غم میں مبتلا تھا؟ کیوں مجذوب بن بیٹھا تھا؟ ان سوالوں کے جواب میں ایک لفظ ’محبت‘ کہا جا سکتا ہے، ایسی محبت جس نے منیبہ کی جان لے لی تھی۔ جان جانے کی ’کہانی‘ قیامِ بنگلہ دیش کے پس منظر میں ہے، بقول مرحوم فاروقی صاحب، ”مشرقی پاکستان / بنگلہ دیش کی حقیقت سے آنکھ ملانے کی کوشش رومان اور تشدد کو یکجا کر دیتی ہے۔“ محمد حمید شاہد اس پس منظر میں کچھ سیاسی تبصرے بھی کرتے چلے جاتے ہیں، مثلاً میجر جلیل کے منھ سے ادا کرایا گیا یہ جملہ،

” جب ادھر کے لوگوں کو الیکشن جیتنے کے بعد بھی اقتدار سے صرف اس لیے محروم رکھا جائے گا کہ ہم بنگالی ہیں تو بنگالیوں کو باغی ہونے سے کون روک سکے گا؟“ ۔

مکتی باہنی اور پاکستانی فوج کا ٹکراؤ منیبہ کی جان کا سبب بن جاتا ہے، کپتان سلیم کے الفاظ میں کچھ اس طرح،

” ابھی تک ہم دونوں پانی میں کھڑے تھے۔ انہوں نے اسٹیمر کا انجن چلا دیا۔ میں بوکھلا کر اسٹیمر کی طرف لپکا۔ اسی اثنا میں ادھر سے سنسناتی ہوئی گولی آئی اور میری ران چیرتی ہوئی نکل گئی۔ منیبہ سب کچھ بھول کر یوں میری جانب بڑھی جیسے پھر سے زندہ ہو گئی ہو۔ اس نے مجھے تھام لیا، اور ایک لمحے کا بھی توقف کیے بغیر مجھے اسٹیر کی طرف دھکیلا اور اس پر چڑھنے میں مدد دی۔ اب اسٹیمر کا رخ گہرے پانیوں کی طرف تھا مگر وہ وہیں کھڑی رہی۔ میں نے صاف صاف دیکھا تھا کہ فوراً بعد اس کا جسم وہیں پانی کے اوپر تک اچھلا تھا۔ میں نے گولی کی آواز نہیں سنی تھی محض اس کا اچھلتا ہوا وجود دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ جہاں سے پانی کے چھینٹے اوپر کو اٹھے تھے وہاں کوئی اور حرکت نہیں ہوئی تھی۔ ہمارا اسٹیمر اگرچہ بہت دور نکل آیا تھا مگر میری نظریں وہیں جم کر رہ گئی تھیں۔ جب تک چٹا گانگ کی روشنیاں نظر آتی رہیں میں اندازے سے اس مقام کا تعین کرتا رہا جہاں اس کا وجود ڈوب گیا تھا۔“

محبت انسان کو دیوانہ بنا دیتی ہے، زمین کی محبت بھی اور ایک انسان کی دوسرے انسان سے محبت بھی۔ سلیم ہے تو زرجان کا شوہر، لیکن وہ کبھی اُس جسم کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں کر پایا، جو پانی میں زور سے اچھلا تھا، اور پھر وہاں کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی۔ اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے ’لمبی چپ والا، زمین کھرچنے والا‘ انسان بن گیا تھا۔ اور ایک دن، ”مٹی کو چاہتے ہو، مٹی تو کھاتی ہے، مٹی تو مٹی ہے“ چلّا چلّا کر بے قابو ہو گیا تھا، اور اس دِن خان جی نے بڑے مطمئن انداز میں کہا تھا، ”پاگل“ ۔ اور زرجان؟ وہ سلیم کی یہ حالت دیکھ کر دروازے سے منھ چھپا کر دو دوڑتی ہوئی حویلی میں اندر چلی گئی تھی، جہاں سے کچھ وقفے کے بعد اس کی ’چیخ‘ سنائی دی تھی۔ ناول کی عورتیں دکھ درد کا سمندر ہیں، چاہے وہ حویلی کی ہوں یا حویلی کے باہر کی۔ ویسے اس ’کہانی‘ کا ہر کردار اپنے اپنے دُکھ میں، اپنی اپنی نفرت میں لپٹا ہوا ہے، پہلا راوی بھی، جو یہ جان کر کہ وہ خان جی کا بیٹا ہے جھوم اُٹھا تھا،

” میرا باپ اب وہ نہیں رہا تھا جو لید اکٹھی کرتا کرتا مر گیا تھا بلکہ میں چھوٹے خان جی کی اولاد تھا۔ یہ انکشاف ایسا تھا کہ اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو میں اس کی گردن اپنے ہاتھوں سے دبا کر اُسے مار سکتا تھا۔“

لیکن جب خان جی بیگم جان کے علاوہ ایک عدد دوسری بیوی لے آتا ہے، جس کی گود میں ایک بچہ ’وارث‘ بھی ہوتا ہے، تو یہ راوی کہتا ہے،

” اُس رات میں بہت رویا تھا۔ اسی رات مدت بعد مجھے ماں یاد آئی تھی اور وہ باپ بھی جو ذلت اور بے بسی کی موت مر گیا تھا۔“

یہ یاد اظہار ہے اُس نفرت کا جو وہ خان جی کے لیے محسوس کر رہا تھا۔ راوی اوّل اور راوی دوم کی ’کہانی‘ ناول کے چوتھے باب میں اس طرح ختم ہوتی ہے کہ کوئی ’انجام‘ سامنے نہیں آتا۔ ’کہانی‘ کا اختتام یوں ہوتا ہے ؛

” یہ مٹی تو میری ہے۔ تمہیں نہیں دوں گا۔“

جس طرح وہ خان جی کو دیکھ رہا تھا اور جس طرح اس نے ٹھہر ٹھہر کر اپنا فیصلہ سنایا تھا، کون کہہ سکتا تھا کہ وہ پاگل تھا۔

کرداروں کا ’انجام‘ واضح طور پر سامنے نہیں آتا، یہ تو پتہ چلتا ہے کہ بھونچال نے پوری حویلی کو تباہ کر دیا، اور سارے مکین مارے گئے، لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ بھونچال سے پہلے کیا ہوا؟ کیا ناول کے کردار سب حیات تھے، یا کچھ زندہ تھے، باقی مر چکے تھے؟ راوی سوم نے چوتھے باب کے بعد ’کہانی سے باہر‘ کا عنوان باندھ کر ’کہانی‘ کو ایک معنیٰ دینے کی کوشش کی ہے، ”کاغذوں کے ملے ہوئے پلندے کے خالی صفحوں میں سے“ میرا قلم آخری صفحے پر اپنی جبین سرنگوں کرتے ہوئے لکھنے لگتا ہے : ”مٹی تو مٹی ہے۔“

لیکن یہ ’کہانی‘ انجام کو نہیں پہنچی ہے، کیونکہ مٹی اور زمین کا یہ کھیل ہنوز جاری ہے، اور نہ جانے کتنی جانیں لے رہا ہے، اور ’کہانی‘ کا نامکمل ’انجام‘ اسی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ محمد حمید شاہد کے قلم سے جو الفاظ نکلے ہیں اُن سے درد، کرب، نفرت، انا، بے بسی، اور محبت متشکل ہو کر سامنے آ جاتے ہیں، یہ ان کے لکھنے کا ایک اہم وصف ہے۔ وہ جو فضا بناتے ہیں، جزئیات پر ان کی جو نظر ہے، اور جس طرح وہ کرداروں کو، کم سے کم الفاظ استعمال کر کے ایک روپ دے دیتے ہیں، اسے نہ سراہنا ان کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ یہ سو سے کچھ زائد صفحات کا چھوٹا سا ناول اپنے موضوع، اپنی ہیئت، اپنی تکنیک اور کہانی اور قصہ کہنے کے انداز سے، بہت سے ضخیم ناولوں کے مقابلے ایک بڑا اور اہم ناول بن گیا ہے۔ اب تک یہ ناول تین بار شائع ہو چکا ہے، پاکستان میں ’اکادمی بازیافت‘ اور ’بک کارنر‘ سے، اور ہندوستان میں ’عرشیہ پبلیکیشنز، نئی دہلی‘ سے۔ اس ناول کو ہندوستان میں 200 روپیے میں موبائل نمبر 9869321477 ( کتاب دار ) سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

(شکیل رشید ممبئی اردو نیوزکے مدیر ہیں۔ )

Facebook Comments HS