نواز شریف پاکستان آ کر عمران خان کی رہائی کے لیے مہم چلائیں


مسلم لیگ (ن) کے رہبر اعلیٰ نواز شریف نے پاکستان کے حالات، جمہوریت کی صورت حال اور مسائل کے بارے میں ایک انٹرویو میں اظہار خیال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست سے جھوٹ اور محاذ آرائی کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے اور 2014 کے بعد سے جن عناصر نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے، انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نواز شریف کے قد کاٹھ کا لیڈر ذاتی عناد اور پسند ناپسند سے بلند ہو کر پاکستان واپس آئے اور اس وقت ریاستی جبر کا شکار عمران خان اور ان کی پارٹی کے قائدین کی رہائی کے لئے باقاعدہ عوامی مہم کا آغاز کرے۔

یہ بات سننے میں عجیب اور شاید ناقابل قبول دکھائی دے گی لیکن نواز شریف نے کالم نگار مزمل سہروردی کے ساتھ بات چیت میں قومی مسائل کے بارے میں جس دردمندی کا اظہار کیا ہے اور جیسے قومی مسائل حل کرنے کے لئے جھوٹ و نفرت کے خاتمہ کا مشورہ دیا ہے، اس کے لئے انہیں خود اچھی مثال قائم کرنا ہوگی۔ بصورت دیگر ذاتی شہرت اور سیاسی مارکیٹنگ کے لئے پسندیدہ صحافیوں کو دیے گئے انٹرویوز کے ذریعے بڑی بڑی باتیں کر کے نہ تو عوام کو دھوکہ دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ملک کو بحران سے نکال کر جمہوری سفر پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔

یہ حقیقت نواز شریف کے علم میں ہونی چاہیے کہ وہ خود اور ان کے تمام ساتھی عمران خان اور تحریک انصاف پر ملک کو تباہ کرنے کے جو الزامات عائد کرتے ہیں، وہ اب خود ان کی اپنی پارٹی پر صادق آنے لگے ہیں۔ عمران خان پر فوج کے ساتھ ساز باز کر کے 2018 کے انتخابات جیتنے اور اقتدار حاصل کرنے کا الزام ہے۔ نواز شریف اینڈ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اسی ہائبرڈ نظام نے ملک میں معیشت اور جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی کی ہیں۔ لیکن یہ دعویٰ شہباز شریف کی سولہ ماہ کی حکومت کے بعد غلط ثابت ہو چکا ہے کیوں کہ اس وقت پاکستان کی سڑکوں پر عوام بجلی کے جو بل لے کر احتجاج کر رہے ہیں، ان کے لئے شہباز حکومت نے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے میدان ہموار کیا تھا۔ نگران حکومت جب اپنے ہاتھ بندھے ہونے کا اعلان کرتی ہے تو اس کا اشارہ اسی معاہدے کی طرف ہوتا ہے جو شہباز حکومت نے آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالر کا عبوری پیکیج لینے کے لیے کیا تھا۔

اس سوال کے میرٹ پر ضرور بات ہو سکتی ہے کہ شہباز حکومت کے پاس آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے اور ملک میں سخت مالی پالیسیاں نافذ کرنے کے سوا کیا چارہ تھا؟ لیکن یہ گفتگو اسی وقت ہو سکتی ہے جب مسلم لیگ (ن) کے لیڈر مالی مسائل اور معاشی بداعمالیوں کا سارا الزام تحریک انصاف کی حکومت پر عائد کرنے سے باز رہیں۔ عمران خان نے ضرور پی ڈی ایم کے سیاسی دباؤ کے ماحول میں آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کو پس پشت ڈالا تھا لیکن اس کے چند ماہ بعد ہی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو نکال باہر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر معیشت کی بحال کرنے کے منصوبے کو مکمل کرنا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کو ملکی اداروں و عدالتوں نے اسحاق ڈار کو واپس بلانے اور ریلیف لے کر وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالنے کی سہولت بھی فراہم کردی تھی لیکن نواز شریف کا یہ چہیتا ماہر بھی کسی بھی مالی شعبہ میں بہتری کا کوئی امکان پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ نہ ڈالر کی قیمت کم ہوئی، نہ سرمایہ کاری میں بہتری دیکھی گئی، نہ محاصل میں اضافہ ہوا اور نہ ہی ملکی برآمدات بڑھائی جا سکیں۔ بلکہ بیرونی امداد کی تگ و دو کے لئے درآمدات پر عائد کی گئی سخت پابندیوں کے نتیجہ میں ملکی صنعتی شعبہ شدید متاثر ہوا، پیداواری صلاحیت میں کمی ہوئی اور برآمدات میں اضافہ کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔

اگرچہ نواز شریف نے حال ہی میں ایک میڈیا ٹاک میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ شہباز حکومت نے بہتری پیدا کی ہے لیکن اس دعوے میں کوئی وزن نہیں ہے اور ملک کے عمومی معاشی حالات اور اعداد و شمار کی صورت حال ایسے دعوؤں کی تائید نہیں کرتی۔ اس کے باوجود موجودہ دگرگوں معاشی صورت حال کا ذمہ دار اگر صرف تحریک انصاف کی حکومت کو قرار نہیں دیا جاسکتا تو اس کی ساری ذمہ داری شہباز شریف کی اتحادی حکومت پر بھی عائد نہیں ہو سکتی۔ البتہ یہ کہنا اہم ہو گا کہ جن سیاسی عوامل کی وجہ سے ملک میں معاشی بحران نے سر اٹھانا شروع کیا اور مسلسل بحران کی کیفیت پیدا ہوئی، اسے پیدا کرنے میں پی ڈی ایم کی جماعتوں کا بھی اتنا ہی ہاتھ تھا جتنا کردار تحریک انصاف یا عمران خان نے ادا کیا ہے۔

اس وقت ملک میں پائی جانے والی بے چینی، مایوسی اور پریشانی کی وجہ سے معاشی احیا کا کام شروع ہی نہیں ہو سکتا۔ ملک پر بھاری بھر کم قرضوں کا بوجھ ہے اور انہیں ادا کرنے اور عوام کی بہبود کے لئے ملک میں جس ہم آہنگی اور لگن کی ضرورت ہے، وہ عنقا ہے۔ سیاسی تصادم نے ملکی فضا کو مکدر کیا ہوا ہے۔ شہباز شریف کے سولہ ماہ وزیر اعظم رہنے کا شوق تو پورا کر لیا لیکن اس شوق کی تکمیل میں ملک معاشی لحاظ سے ایک دہائی پیچھے چلا گیا۔ سیاسی مقبولیت بچانے کے لئے شروع میں سخت مالی فیصلے کرنے سے گریز کیا گیا لیکن جب قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لئے مزید قرضے ملنا ناممکن ہو گیا اور چین و سعودی عرب جیسے ممالک نے بھی آئی ایم ایف کی منظوری کے بغیر مزید سرمایہ کاری سے انکار کر دیا تو بھاگ دوڑ کر کے تمام سخت شرائط مان کر آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنا پڑا۔

مسلم لیگ (ن) کی سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ کیسے ووٹروں کو واپس اپنی طرف راغب کیا جائے اور کیسے عوام میں عمران خان کی مقبولیت کا سحر توڑا جائے۔ نواز شریف کو سمجھنا چاہیے کہ یہ صورت حال خود ان کی رائے سے لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد اور تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمہ نے پیدا کی ہے۔ ورنہ اس وقت جو سیاسی قیمت نواز لیگ کو ادا کرنا پڑ رہی ہے، مشکل مالی فیصلوں کی وجہ سے اسے عمران خان چکانے پر مجبور ہوتے۔ لیکن چند ماہ کی عجلت اور سیاسی اہمیت کے لمحہ میں اضطرار میں کیے گئے فیصلوں کا زیاد بوجھ مسلم لیگ (ن) کے سر پر آن پڑا ہے۔

دریں حالات ضروری ہے کہ آگے بڑھنے کا کوئی راستہ تلاش کیا جائے۔ سوچنا چاہیے کہ شہباز شریف کس حکمت عملی کے لیے راستہ ہموار کر کے گئے ہیں؟ یہ پالیسی یہی ہے کہ فوجی اسٹبلشمنٹ کے اختیارات اور سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ کیا جائے اور اس طرح آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کے خلاف انہیں ہتھکنڈوں کو بروئے کار لایا جائے جو 2018 میں مسلم لیگ (ن) ، نواز شریف، مریم نواز اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف استعمال کیے گئے تھے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کسی دھاندلی زدہ انتخابات سے ملکی نظام میں استحکام پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ نواز شریف نے تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں ’ووٹ کو عزت دو اور عوامی حاکمیت‘ کے نعرے ضرور بلند کیے تھے لیکن ان نعروں کے غبارے سے اسی وقت ہوا بھی نکالنا شروع کردی تھی جب جنوری 2020 میں سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع کے لیے قانون سازی میں معاونت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

رہی سہی کسر شہباز حکومت کی چاپلوسی اور ملکی قوانین کے ذریعے فوجی اختیار میں بے پناہ اضافہ کے ذریعے پوری کردی گئی۔ نواز شریف کی مکمل حمایت سے کیے گئے ان فیصلوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ کسی بھی طرح عمران خان کا سیاسی راستہ روکا جا سکے۔ ملک میں محاذ آرائی ختم کرنے اور جمہوری حکومت کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے نواز شریف کو اس سوال کا جواب بھی دینا چاہیے کہ کیا مخالف سیاسی پارٹی کو میدان سے باہر کر کے اور مخالف سیاسی لیڈروں کو جیلوں میں بند کر کے جمہوری نظام مستحکم ہو گا؟ اگر پاکستانی عوام کو اسی راستے کا انتخاب کرنا تھا تو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف کس منہ سے مہم جوئی کی گئی تھی؟

روزنامہ ایکسپریس نیوز کے کالم نگار کے ساتھ انٹرویو میں نواز شریف نے کہا ہے کہ ’اس محاذ آرائی نے ملک کو کیا دیا ہے۔ ملک کو آج پھر اتحاد کی ضرورت ہے۔ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو گالی دینے کی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کے راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے کے راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ یہی سیاست کی خوبصورتی ہے۔ جو سیاسی قوتوں سے بات نہیں کرتے، ان کا حشر سب کے سامنے ہے۔ سیاست کرنی ہے تو سیاسی لوگوں کے ساتھ مل کر کرنی ہے۔ اختلاف کی بھی حدود ہونی چاہیے‘ ۔ یہ سب باتیں ماننے کے باوجود نواز شریف کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ اگر عمران خان نے سیاسی مکالمہ سے گریز کیا ہے تو انہیں بہر صورت جیل میں بند ہونا چاہیے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے مخالف سیاسی لیڈروں کو اس وقت میدان میں نکل کر اعلان کرنا چاہیے کہ سیاسی اختلافات کا فیصلہ یا تو انتخابات کے ذریعے ہو سکتا ہے یا سیاسی جماعتیں و لیڈر مل کر اس کا کوئی راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔ کسی ایک سیاسی جماعت کو ریاستی عتاب کا نشانہ بنا کر کوئی مسئلہ حل نہیں جا سکتا۔

مسلم لیگ (ن) بوجوہ عوام میں پذیرائی سے محروم ہو رہی ہے۔ اس کا ووٹ بنک محدود ہو رہا ہے۔ اسے واپس حاصل کرنے کے لئے مخالفین کے خلاف سازشیں کرنے اور فوجی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز کا حصہ بننے کی بجائے نواز شریف پاکستان آئیں اور اپنی سیاسی مہم کا آغاز عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے سے کریں۔ وہ واضح کریں کہ کسی ایسے انتخاب کی کوئی اہمیت و حیثیت نہیں ہوگی جس میں ایک اہم اور مقبول سیاسی پارٹی کے پر کاٹے جائیں اور اسے انتخاب میں حصہ لینے سے روکنے کی کوشش کی جائے۔ ایسا ہی دلیرانہ موقف اختیار کر کے نواز شریف کی یہ خواہش بھی پوری ہو سکتی ہے کہ ’پاکستان کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو معافی نہیں ملنی چاہیے‘ ۔ نواز شریف 2014 کے دھرنے کو اس تباہی کا نقطہ آغاز بتاتے ہیں۔ اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو اس کی ذمہ داری عمران خان پر ڈالنے کی بجائے جنرل باجوہ اور ان کے پیشروؤں پر ڈالنا پڑے گی۔

نواز شریف اگر واقعی ملک میں عوام کے حق حکمرانی اور جمہوری نظام کے خلاف سازش کرنے والوں کو سزا دلوانا چاہتے ہیں تو انہیں خود شہباز شریف کے ذریعے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ’پل تعمیر‘ کرنے کا کام کرنے کی بجائے، سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہو گا تاکہ عوام کے نمائندے مسائل حل کرنے کی طاقت حاصل کرسکیں اور افواج پاکستان کو دفاع پاکستان تک محدود کیا جا سکے۔ کیا نواز شریف اس عمل میں بارش کا پہلا قطرہ بننے اور عمران خان کے سیاسی و جمہوری حق کے لئے مہم چلانے کا حوصلہ کر سکتے ہیں؟

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali