لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اور اسلامی طرز کے مینارے


کم و بیش دو سال سے تحریک لبیک کی طرف سے یہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ احمدیوں کی عبادت گاہوں کے مینار منہدم کیے جائیں۔ بہت مرتبہ خود اس تنظیم کی طرف سے حملے کر کے کئی مینار منہدم کیے گئے۔ اور کئی مقامات پر خود پولیس نے دھاوا بول کر مینارے توڑے۔ اس سال جنوری سے اب تک کراچی سے لے کر پنجاب کے مختلف شہروں میں بیس کے قریب ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔ شورش کرنے والوں کی طرف سے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس دفعہ میں یہ لکھا ہے کہ کوئی احمدی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتا اور اپنے عقائد کی تبلیغ بھی نہیں کر سکتا۔ دوسرے الفاظ میں ان کے نزدیک اگر کسی عبادت گاہ کے ساتھ مینارہ ملحق ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس عمارت کے ذریعہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

چند روز قبل ایک ایسے ہی مقدمہ میں لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست کے بارے میں ایک فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلہ میں لکھا ہے کہ احمدیوں کی جس عبادت گاہ کے میناروں کے بارے میں ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی وہ 1922 میں بنی تھی۔ اور جس قانون کے تحت یہ ایف آئی آر درج کی گئی وہ 1984 میں جنرل ضیاء صاحب نے ایک آرڈیننس کے تحت نافذ کیا تھا۔ جب اس آرڈیننس کے نفاذ کو 38 برس بیت چکے تھے تو یہ ایف آئی آر درج کرانے کا خیال آیا۔ اس فیصلہ میں ہائی کورٹ نے ان الفاظ میں حیرت کا اظہار کیا ہے :

The complainant has not explained why he kept mum for about 38 years after the promulgation of ordinance XX and what prompted him to lodge ایف آئی آر no۔ 699 / 2022۔ The petitioners allege that he is attempting to score political points۔

(Imran Hameed etc. vs The state)

ترجمہ: شکایت کنندہ نے اس بات کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی کہ آرڈیننس 20 کو نافذ ہوئے 38 برس گزر چکے تھے، پھر بھی وہ چپ سادھ کر کیوں بیٹھا رہا؟ اور اب اسے کیا خیال آیا جو ایف آئی آر نمبر 699 / 20222 درج کرائی؟ درخواست گزار کا موقف ہے کہ یہ قدم سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔

بہر کیف لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج صاحب نے اس فیصلہ میں تحریر کیا:

I do not need to determine in these proceedings whether section 298 B and 298 C prohibit and criminalize construction of a worship place by Qadianis resembling a mosque۔ However، in my opinion they do not mandate that the structures built before the promulgation of ordinance XX of 1984، by which these provisions were introduced، should be razed or altered۔

ترجمہ: اس کارروائی میں مجھے یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ آیا دفعہ 298 بی اور 298 سی اس بات کی ممانعت کرتی ہیں یا اس کو جرم قرار دیتی ہیں کہ قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد سے ملتی جلتی صورت میں بنائیں۔ تاہم میری رائے میں یہ اس بات کا اختیار نہیں دیتیں کہ ان عمارات کو منہدم کیا جائے یا تبدیل کیا جائے جن کی تعمیر 1984 میں نافذ کیے جانے والے آرڈیننس 20 سے قبل ہوئی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کی روشنی میں ایک سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا تھا کہ بہت سے مقامات پر پولیس نے خود احمدیوں کی عبادت گاہوں کے میناروں کو منہدم کرنے کا نام نہاد کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ اور تقریباً تمام عمارات جن کو نشانہ بنایا گیا 1984 سے پہلے تعمیر ہوئی تھیں۔ مثال کے طور پر صرف اس سال کے دوران پولیس نے خود موتی بازار وزیر آباد، کلر کلاں گجرات، کالا گوجرہ ضلع جہلم، چک ای آر 373 ضلع وہاڑی، اور تھانہ مچھی وال ضلع وہاڑی کے مقامات پر احمدیوں کی عبادت گاہوں کے میناروں کو منہدم کیا۔ بلکہ اس فیصلہ سے صرف ایک دو روز قبل شیخوپورہ میں پولیس نے خود احمدیوں کی عبادت گاہوں کے مینارے منہدم کیے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کی روشنی میں یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پنجاب پولیس کے یہ اقدامات غیر قانونی تھے۔ پولیس ایک سرکاری ادارہ ہے، جس کے اخراجات پورے ملک سے ادا ہونے والے ٹیکسوں سے پورے کئی جاتے ہیں۔ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں پولیس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ عدالتوں کے اختیارات کو بھی اپنے ہاتھ میں لے کر آئین اور قانون کی تشریح کرنا شروع کر دیں۔ لیکن ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ پولیس کافی عرصہ سے خود قانون شکنی کی مرتکب ہو رہی تھی۔ نہ صرف پولیس بلکہ تمام حکومتی ادارے قانون سے بالا نہیں بلکہ قانون کے پابند ہوتے ہیں۔

خاکسار اس مقدمہ کی کارروائی کے دوران عدالت میں موجود نہیں تھا کہ شکایت کنندگان اور ڈپٹی پراسیکیوٹر صاحب کے علمی دلائل سے مستفید ہوتا۔ اس وقت یہ بندہ عاجز وطن عزیز سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر اپنے دل کے پھپھولے پھوڑ رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ رواج ہے اس عدالتی فیصلہ میں فریقین کے دلائل کا خلاصہ بھی درج کیا گیا ہے۔ اس فیصلہ کے پیراگراف 15 میں لکھا ہے کہ درخواست گزار کے خلاف بنیادی الزام یہ ہے کہ اس نے اپنی عبادت گاہ کے ساتھ اسلامی طرز کے مینارے (Islamic Style Minarets ) تعمیر کیے تھے۔ ایک لمحہ کو یہ بحث بھول جائیں کہ یہ جرم یا قانون شکنی ہے کہ نہیں ہے لیکن پہلے یہ وضاحت ضروری ہے ’اسلامی طرز کے میناروں‘ کی تعریف کیا ہے؟ کیا کسی قانون میں یہ متعین کیا گیا ہے کس طرز کے مینارے ’اسلامی طرز‘ کے ہوں گے اور کس طرز کے مینارے ’غیر اسلامی طرز‘ کے شمار کیے جائیں گے۔ یا یہ فیصلہ بھی پنجاب پولیس یا تحریک لبیک کرے گی کہ کون سا مینارہ اسلامی ہے اور کون سی طرز کا مینارہ غیر اسلامی ہے۔

قبل مسیح زمانے سے عبادت گاہوں کے ساتھ ٹاور (برج) یا مینارے بنانے کا رواج رہا ہے۔ آج سے ساڑھے تین ہزار سال قبل قدیم مصر کے لکسر ٹیمپل کے ساتھ بننے والے ٹاور یا مینارے آج تک محفوظ ہیں۔ قدیم میسوپٹومیا کی عبادت گاہوں کے ساتھ جو کئی منزلہ ٹاور تعمیر ہوتے تھے انہیں زگرٹ کہا جاتا تھا۔ قدیم زمانے سے اب تک چرچوں اور یہودی عبادت گاہوں کے ساتھ بھی ٹاور تعمیر کیے جاتے ہیں۔ جین مت کی عبادت گاہوں کے ساتھ بھی مینارے تعمیر کیے جاتے تھے۔ سکھ گوردواروں کے ساتھ بھی مینارے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ لیکن عجلت میں جواب دینے سے قبل اس کالم کے ساتھ شائع ہونے والی تصاویر دیکھ لیں۔

1۔ پہلی تصویر نیویارک میں یہودیوں کی ایک پرانی عبادت گاہ کی ہے۔ کیا اس کے مینارے مسجد کے میناروں کی طرح نہیں ہیں؟

2۔ دوسری تصویر برائٹن (انگلستان ) میں رائل پیویلین کی ہے۔ کیا اس کے مینارے آپ کو مساجد کے میناروں کی طرح نہیں معلوم ہو رہے؟

3۔ تیسری تصویر امرتسر میں سکھ احباب کے دربار صاحب کی ہے۔ کیا اس کے مینارے اسلامی طرز کے ہیں؟

4۔ چوتھی تصویر پاکستان میں ننکانہ صاحب کے گوردوارے کی ہے۔ اس کے مینارے کیسے ہیں؟

5۔ پانچویں تصویر گوردوارہ جنم استھان کی ہے۔ اس کے میناروں کی طرز ملاحظہ فرمائیں۔

6۔ چھٹی تصویر ہندوستان میں جین مت کے ایک ٹیمپل کی ہے۔ کیا اس کے ساتھ مینارے موجود نہیں ہیں؟

میری درخواست ہے کہ یہ تصاویر دیکھ کر یہ راہنمائی کی جائے کہ کن میناروں کو ’اسلامی طرز کے مینارے‘ قرار دیا جائے گا اور کن میناروں یا ٹاورز کو ’غیر اسلامی طرز کے مینارے‘ قرار دیا جائے گا؟

a synagogue in New York

 

Royal Pavillion Brighton
darbar sahib
Nankana Sahib
Gurdwara Janam Asthan
Jain temple in Madhya Pardesh

 

 

Facebook Comments HS