میں بھی اچھوت ہوں


آج کل میں ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب ”اچھوت لوگوں کا ادب“ مطالعہ کر رہا ہوں۔ شاید یہ ادبی روایات میں سے ایک ہے کہ میں راہ چلتے موبائل فون نکال کر کہیں بھی کبھی بھی کچھ بھی پڑھ سکتا ہوں۔ اس کتاب میں ہندوستان کی پسماندگی کا وہ موڑ چسپاں ہے جس کے نشانات آج بھی ان لوگوں کی ثقافت میں موجود ہیں۔ میں جب جب اس کتاب کو پڑھتا ہوں مجھے لگتا ہے کہ میں بھی اچھوت ہوں اور یہاں سب ہی رہنے والے لوگ اچھوت ہیں۔ ادب تو بنا ہی ٹوٹ کر بکھرنے والے اچھوتوں کے لیے ہے۔ امراء یا خود کو بہت بڑا آدمی سمجھنے والا بندہ اچھوت کیسے ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق اچھوت لوگوں کا سایہ زمین پر پڑنے سے زمین بھی اچھوت ہو جاتی ہے۔ اچھوت لوگ کسی اونچی ذات میں بیاہ بھی نہیں کر سکتے مگر آپس میں اچھوت ذات میں ہی رشتہ کر سکتے ہیں۔ یہ بھی اس دور کی فطرت یعنی آج کی دور کی فطرت سے ملتی جلتی ہے۔

اب میں آپ سے کہہ دوں، عمران خان، نواز شریف، شہباز شریف بلکہ پورا شریف خاندان، جنرل کمر جاوید باجوہ سے لے کر موجودہ آرمی شیف سے لے کر پورے جنرل ٹولہ اچھوت ذاتی کے ہیں تو یہ بات نہایت ہی غیر مناسب اور بے تُکی سی بات ہے۔ بلکہ خان پارٹی ورکر، نواز، شوباز پارٹی ورکر یا پھر آرمی کا ایک عام سپاہیوں کا ٹولہ یہ سب اچھوت ذات میں گِنے جا سکتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو مراعات سے پاک ہے اور چوری کرنے کا کوئی موقع نہیں ملا، وہ اچھوت نہیں ہے۔ اچھوت سے میری یہاں مراد صرف شودر نہیں ہے بلکہ اچھوت سے مراد یہاں ہر وہ طبقہ ہے جس کا حق چھین لیا جاتا ہے اور اسے نچلا طبقہ کہا جاتا ہے۔ ہر وہ بندہ اچھوت ہے جو صبح کما کر رات کو گھر لوٹتا ہے اور صبح پھر سے کمانے کے لیے نکل جاتا ہے۔ ہر وہ بندہ اچھوت ہے جو مزدوری کرتا ہے اور اس کا حق مار لیا جاتا ہے۔ ہر وہ بندہ اچھوت ہے جو سمجھتا ہے کہ تعویذ گنڈے والا کوئی بابا اس کے دن بدل دے گا۔ ہر وہ بندہ اچھوت ہے جس کی زندگی محض ایک کھلونا ہے جو کسی بھی بچے کو کھیلنے کے لیے نہ ملے اور ٹوٹ جائے۔ جب کسی کی محبوبہ اسے بار بار دھوکا دے اور پھر بھی وہ اس محبوبہ پر جان چھڑکنے کو تیار ہو بھلا ایسا بندہ اچھوت کیوں نہیں ہو سکتا۔ روٹی جیسے مسائل میں پڑے شخص کو مذہب کا درس دینے والا اچھوت ہے۔ وہ انسان جو چاہتا ہے کہ سارا دن بادشاہوں کی طرح چار کام کرنے والوں کو قیدیوں کی طرح آس پاس پھولوں کی طرح سجا کر رکھے وہ بھی اچھوت ہے۔ معاشرہ اچھوت ہے جس نے اچھوت کی کوکھ سے جنم لیا ہے اور معاشرے کے پیٹ کو چاک کر کے وارد ہو گیا ہے۔

جب کسی سکھ نے اپنے جسم سے بال اتارا تھا تو وہ اچھوت ہو گیا تھا۔ جب مسلمان نے ختنے نہ کروائے اور وہ نکاح کر کے ایک بچے کا باپ بنا تو وہ تب اچھوت ہو گیا تھا اور جب کسی ہندو نے گھاس کھانا چھوڑ کر گوشت کو ترجیح دی ہوگی وہ بھی تب اچھوت ہو گیا ہو گا۔

کسی کے بھی اچھوت ہونے نہ ہونے کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ وہ کس حد تک گر سکتا ہے۔ اچھوت ہونے نہ ہونے میں کسی طرح کے کوئی پیمانے طے نہیں۔ اچھوت مناسب لفظ ہے اس عورت کے لیے جو سمجھتی ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ وہ عورت بھی اچھوت ہے جو سمجھتی ہے کہ عورت صرف مرد کی خدمت کے لیے بنی ہے۔ اس عورت کی تو کیا ہی کہئے جو آنسوؤں سے پاک ہو اور اچھوت بھی نہ ہو۔

وہ عدالت اچھوت ہے جو پیسوں کے عوض غلط فیصلہ کردے۔ وہ وکیل بھی اچھوت ہے جو چند روپوں کے عوض اپنا ضمیر بیچ دے۔

اچھوت ایک وجود ہی نہیں مکمل سماج اور یہاں سب سے ہونے والا سب سے بڑا گناہ ہی اچھوت ہے۔ کسی ظالم کا ظلم دیکھنے والا بھی اچھوت کہلاتا ہے۔

کبھی موقع ملے تو اپنے اندر ٹٹول کر کہیں دور چھپے ہوئے اچھوت پن کو باہر نکال ڈالو تا کہ تمہارا اچھوت معاشرے اور یہاں سے جڑی ہر اچھوت چیز کا تم سے تعلق قائم ہو سکے اور تم بھی دل کھول کر کہہ سکو ”میں بھی اچھوت ہوں۔“

Facebook Comments HS