اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک قبیح رسم ونی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معاشرے کا سب سے قبیح فعل ونی کی رسم جو آج کے جدید دور میں بھی زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ ونی قبیلے کے جرگہ عمائدین کا ایسا ناروا فیصلہ جس میں سزا کے طور پر عورت کو خواہ وہ اپنی زیست کے ابتدائی ایام میں ہو یعنی شادی کے قابل نہ ہو کو پھر بھی قتل کی دیت میں یا کسی اور فیصلہ کی رو سے سزا کے طور بدلے میں دوسرے فریق کے فرد سے شادی کرا دی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کی رائے میں ونی کو دوسرے قبیلے کی دیت میں رقم ادا کرنے سے ٹالا بھی جا سکتا ہے۔
ونی یا سوارا پاکستان کے بعض حصوں میں بطور رسم ادا کی جاتی ہے۔ اس میں عورت کو سزا کے طور مخالف فریق کے حوالے کر دیا جاتا ہے جس میں جبر و دھونس سے بچیوں کو مخالف فریق کے فرد سے، خواہ وہ عمر رسیدہ ہی کیوں نہ ہو، شادی کرا دی جاتی ہے۔ ونی پنجابی یا پشتو زبان کا حرف ہے جو ونے سے نکلا ہے جس کے معنی خون ہے۔ اور اس پر دیہاتوں میں عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
ونی میں عورت کی حوالگی اکثر قتل، اغواء اور ڈکیتی کے کیسوں کے فیصلے کے بموجب کی جاتی ہے۔ اس کی وجوہات میں عدم مساوات، امتیازی سلوک، قانون کو ہاتھ میں لینا، تعلیم کا فقدان، غربت اور جاگیردارانہ نظام بنیادی حامل ہیں۔ جو مہذب معاشرہ کے نام پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ جبر کی شادی ایک غیر اسلامی فعل ہے اور ونی کا تو اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اسلام کے قانون دیت میں اس قسم کا کوئی بھی حکم نہیں جس میں خون کی دیت ”ونی“ ہو۔
پاکستان میں دیہاتی زندگی میں عورتیں بنیادی حقوق سے محروم رکھی جاتی ہیں۔ مردوں والے اجارہ دارانہ پاکستانی معاشرے میں عورتوں کے حقوق نہ ہونے کے برابر ہیں اور عدم مساوات کی بدولت عورت ایک باندی متصور ہوتی ہے۔ مقامی لوگوں کے نزدیک یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جب کہ بین الاقوامی برادری کے نزدیک یہ بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔ جو کہ دو گروپوں کے درمیان دشمنی کے شاخسانہ کے نتیجے میں صلح کی بھینٹ میں ایک معصوم جان کا چڑھاوا دیا جاتا ہے۔
ونی کی رسم کو بہت پرانا سمجھا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ تقریباً چار سو سال پرانی رسم ہے جس کے مطابق میانوالی کے پٹھان قبائل کے درمیان خون ریز جنگ کے نتیجے میں سینکڑوں افراد لقمہ اجل ہوئے۔ اس لڑائی کے مسئلے کو نواب آف ٹانک نے جرگہ کے ذریعے صلح کی کوشش کی اور اس جرگے کے فیصلے کے مطابق عورتوں کو قصاص کے طور پر دوسرے فریق کو دیا گیا۔ بعد میں اس فیصلے کے زیر اثر اثرات سے ونی رسم کی ریت معاشرے میں چل نکلی اور صدیوں سے نسل در نسل چلتی آ رہی ہے۔ تعزیرات پاکستان کے تحت 2011 ء میں ونی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ قبیح رسم اب بھی جاری و ساری ہے۔
ونی کے صلے میں دی گئی عورت زندہ درگور ہو جاتی ہے اور اسے غلاموں سے بھی بدتر زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ونی کے حق میں بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ اس سے مخالف گروپوں میں راضی نامے کی صورت میں دو خاندانوں یا دو قبائل کے درمیان صلح ہو جاتی ہے اور معاملات سلجھ جاتے ہیں۔ کسی لڑکی کے بھائی یا والد کے ہاتھوں کسی دوسرے انسان کو قتل کرنے کی پاداش میں اسے بطور دیت بھینٹ چڑھا دینا، اس کی سماجی حیثیت ختم کرنا، اس کے جذبات کا خون کرنا، اسے زندہ درگور کر دینا کہاں کا انصاف اور کہاں کی انسانیت ہے۔
ہمارے مہذب معاشرہ میں ایسی قبیح رسم آج تک جاری ہے اور اس کے خاتمے کے لئے کوئی عملی صورت نظر نہیں آئی بلکہ سب زبانی جمع خرچ کرتے ہیں۔ اس میں تمام سیاسی پارٹیاں، افسران، عدلیہ، پولیس اور سب ادارے مجرمانہ غفلت کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔ اسی کے ساتھ لوگ بھی مصلحت کا شکار ہوتے ہیں۔ مرد کے کیے گئے جرم کی سزا عورت ذات ساری عمر بھگتی ہے۔ ایسے کئی کیس ہیں جن میں پولیس کا رویہ قابل مذمت تھا۔ ان کیسوں میں نہ تو کوئی ایف آئی آر دائر کی گئی اور نہ ہی مظلوموں کا کوئی پرسان حال تھا
اخبارات ایسے کیسوں سے بھرے پڑے ہیں جن میں ابتدائی طور پر پولیس کا رویہ قابل مذمت تھا۔ میڈیا کے ان کیسوں کو دنیا کے سامنے لانے پر مجبوراً پولیس کو تفتیش کا عمل شروع کرنا پڑا۔ اور ملزم کیفر کردار تک پہنچا۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پولیس والے سب اسی طرح کا رویہ رکھتے ہیں۔ اچھے برے انسان ہر محکمے بلکہ ہر جگہ پائے جاتے ہیں لیکن ہمیں سوچنا چاہیے جہاں قانون، تفتیش یا جھوٹی گواہی کا مسئلہ در پیش ہے اور ان میں سقم پایا جاتا ہے تو ان پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں معاشرے میں ہر سطح پر کام کرنے والے افراد کو مل بیٹھ کر اپنا اپنا کردار نبھاتے ہوئے سوچنا اور متفقہ لائحہ عمل بنانا چاہیے جن میں ممبران اسمبلی سرفہرست ہوں۔
افسوس کا مقام ہے کہ جدید دور میں میڈیا، قانون، انسانی حقوق کے علمبردار اور این جی اوز کے ہوتے ہوئے یہ ظالمانہ رسم زور و شور سے جاری و ساری ہے اور بچیوں کو بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ اس قبیح رسم کی جڑیں دیہاتی معاشرے میں اتنی مضبوط ہیں کہ بعض اوقات متاثرہ بچی اس رسم میں خوشی سے اپنے آپ کو آگ کے اس الاؤ میں قربان کر دیتی ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے تعزیری قوانین کے آرٹیکل 9 کے تحت ہر فرد کو آزادی حاصل ہے اور اسے اس سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ اسی طرح آرٹیکل 4 کے تحت ہر شہری کو قانونی حفاظت کی گارنٹی عطاء ہوتی ہے۔ لیکن شومئی قسمت ہم بچیوں کو ونی کی رسم کی آگ میں زندہ درگور کر دیتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا اپنا رول ادا کرتے ہوئے۔ اس قبیح رسم کے خاتمے کے لئے کام کرنا ہو گا۔ زندگی عطائے خداوندی ہے اور ہر ایک کو آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ جس کے تحت ہر ایک کو جینے کا حق دیا گیا ہے۔ ہر ایک کی سوچ آزاد ہے اس پر قدغن لگانا ایک سنگین جرم ہے۔ آئیے آج ہم عہد کریں کہ ہم اپنی سماجی و معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کرنے میں آج ایک قدم ضرور اٹھائیں گے۔

