سن 1947 تا 2023، قصۂ مختصر
ایک ہزار سال تک جو ”قوم“ پورے خطۂ برصغیر ہند کی ”سلطنت“ کی بِلا شرکتِ غیرے حکمران رہی، اُس قوم کی سعی، فکر اور سوچ کو ”نام نہاد“ تحریکِ آزادی کے نام پر محض چند لاکھ مربع کلومیٹر کی ”مملکت“ پر محدود و مخصوص کرنے والے ”عظیم“ راہنماؤں نے جب ”آزاد فلاحی مملکت و ریاست“ قائم کرنے کا ”احسانِ عظیم“ فرمایا تو یہ ایک طویل مدتی عالمی ”تماشے“ کا محض ایک ”جُز“ تھا۔
فلاحی مملکت و ریاست کے وجود میں آتے ہی ہزاروں سال کے ”حاکم اور باسی“ اپنی ہی گھر بار میں اپنی ہی دھرتی پر اچانک ہی ”اجنبی و غیر“ ہو گئے۔
جیسے تیسے سہی مگر اپنے پُرتپاک ماضی کو بُھلا کر جاگتی آنکھوں میں ”آزاد فلاحی مملکت و ریاست“ کے سپنے سجائے یہ لاکھوں باسی ”اپنی“ آزاد فلاحی ریاست کی آغوش کی جانب ہجرت اور نقل مکانی پر مجبور ہو گئے اور اپنی جائیدادیں، کام کاروبار، شان و شوکت، ٹھاٹھ باٹھ، غرض سب چھوڑ چھاڑ کر یہ ”باسی“ اپنا سب کچھ گنوا اور لُٹا کر اس نومولود ریاست تک پہنچے میں کامیاب ہوئے۔
بَلِحاظ تعداد، یہ ہجرت جدید انسانی عہد کی سب سے بڑی ہجرت ثابت ہوئی۔ آنے اور جانے والوں پر دونوں طرفین سے ظلم جبر و بربریت کی نئی تاریخ رقم ہوئی۔
”عظیم راہنماؤں“ کی دن رات کی انتھک کوششوں کی بدولت ”اپنی“ ہی سلطنت کے اندر سے ”بجنبش قلم“ حاصل ہوئی ”آزاد“ فلاحی ریاست و مملکت کو لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان و مال کا نذرانہ پیش کیا۔
حقیقتاً انسانی لاشوں کا سمندر وجود میں آیا۔
ہزاروں لاکھوں حَوّا کی بیٹیوں نے اپنی عزتوں کو ”تار تار“ کروایا۔
”جان و مال“ کے بے نظیر نذرانے پیش کر کے جو چلتے پھرتے انسانی ”بُت“ جب آزاد فلاحی ریاست و مملکت کے حدود و اربع میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ ہجرت و نذرانہ اُن کی آئندہ نسلوں کی فکری، معاشرتی و معاشی استحصال کے ایک نہ ختم ہونے والے سفر کا محض آغاز ہو گا۔
”آزاد مملکت و ریاست“ کی قیمت چکانے والے ان لُٹے پٹے انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے درکار مطلوبہ ضوابط ترتیب دینے کے لیے اُس وقت کے ”رئیس، امیر، نواب“ زادوں اور انگریز کی خدمات کے عوض ملے ”سَر“ جیسے القابات و انعامات پانے والی شخصیات پر مشتمل ”دستور ساز اسمبلی“ قائم کی گئی۔
ملکی جمہوری و اسلامی ”آئین“ یا ”دستور“ کے بننے تک معمولی رد و بدل کے ساتھ اُس ”انڈین ایکٹ 1935“ کو نافذ العمل کیا گیا جو ایک ”حاکم و قابض“ قوم نے اپنی ”محکوم و رعایا“ قوم کو فکری، معاشی و معاشرتی طور پر سرنگوں اور ”آقا و غلام“ کی تفریق وضع اور واضح کرنے کے لیے صادر کیا تھا۔
فیصلہ ساز عہدوں پر پہلے ایسی شخصیات تعینات اور پھر بزورِ طاقت قابض ہوئیں جو پہلے سے ہی اس استحصالی و سامراجی ”قانون نما شکنجے“ کے تحت انگریز کے ”خادم“ اور تربیت یافتہ ”ملازم“ رہ چکی تھیں۔
ایسی شخصیات نے ”حاکم و محکوم“ اور ”آقا اور غلام“ کی خصوصیات پر مشتمل ٹھیک اُسی ”افسر شاہی“ کے نظام کی داغ بیل ڈالی جس کی ان کے حاکموں نے سالوں تربیت کی تھی۔
کم و بیش ضیاء الحق یا سن 1988 ء تک، اس فلاحی مملکت و ریاست کے وہ تمام سول و فوجی اعلیٰ فیصلہ ساز عہدے جنہوں نے اس ”قوم“ کی تقدیر و منزل کا تعین کرنا تھا، تاجِ برطانیہ کے ”خادمین“ کے مکمل قبضے میں رہے۔
توقعات اور فطری اصولوں کے عین مطابق ان تمام ”خادمین“ نے اس ملکِ پاکستان میں ایک ایسا متوازی ”ان لکھا“ نظام ترتیب دیا جو اپنے مؤجد و ماخذ ”انگریز راج“ کے خاتمے کے ”چھہتر سال“ بعد آج بھی ”حاکم و محکوم“ اور ”آقا اور غلام“ کی خصلتوں سے مزیّن اس معاشرے کے ہر پہلو میں ”تقسیم و استحصال“ کے پنجے گاڑے اور شکنجہ کسّے ہوئے ہے۔
انگریز راج کا ”آقا و غلام“ کی تفریق وضع اور واضح کرنے والا یہ نظام اس مملکت کے انتظام و انصرام میں اپنی جڑیں اس قدر گہری اور مضبوط کر چکا ہے کہ اس کی ”تقسیم اور استحصال“ کی قوت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ یہ نظام تقریباً ناقابلِ تسخیر ہوتا چلا گیا۔
اس ”ان لکھے“ نظام کی بدولت آج اس مملکت کے باشندوں کی پہچان ”مسلمان“ یا ”پاکستانی“ کے بجائے پٹھان، پنجابی، بلوچی، سندھی، مہاجر، کافر، بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث، شیعہ تک رہ گئی۔
”انڈین ایکٹ 1935“ نے اس ریاست کی ”مقننہ، انتظامیہ و عدلیہ“ کی ایسی بنیادیں بنائیں کہ ان بنیادوں پر تعمیر ہوئی عمارت میں آج عوام کی خون پسینے کی کمائی اور عوام کی ہڈیوں کے گُودے نچوڑ کر جن محصولات پر سرکار کے خاکروب سے وزیرِاعظم تک، جج، جرنیل، نوکر شاہی غرض سرکار کا ہر ادارہ و محکمہ پَل رہا ہے، عیش و عشرت کے مزے لوٹ رہا ہے، ان سب کے عہدیداروں کے سامنے عوام کی حیثیت محض ”شودر“ کی سی معلوم ہوتی ہے۔ عوام سے بٹورے محصولات پر پلنے والے سِول و فوجی عہدیدار اپنے پالنے والوں کے لیے آج ”مائے لارڈ“ ”ہِز ایکسیلینسی“ ”عزت مآب“ اور نجانے کس کس طرح کے ”خدا“ بن بیٹھے ہیں۔
اس سامراجی و استحصالی نظام نے عوام کو ایک لامتناہی بھنور میں ایسا پھنسایا کہ یہ عوام دو وقت کی روٹی پوری کرنے کی فکر سے آزاد ہی نہ ہو پائے اور خود کو دستیاب ریاستی حقوق اور ان کے تحفظ کی شعوری کیفیت و خیال کے قریب بھی نہ بھٹک پائے!



شیخ صاحب بہت خوب !
اپ نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا