جڑانوالہ میں سلگتی بستیوں کی یاترا
ابھی کچھ روز قبل ذرائع ابلاغ پر بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا چرچا جاری تھا پھر خبر آئی کہ بھارت چاند پر اپنا خلائی جہاز اتارنے جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں مہم جوؤں نے سوچا کہ چاند پر اترنے کا مقابلہ تو ہم کبھی نہیں کر پائیں گے تاہم انتہا پسندی اور بربریت کے میدان میں بھارت کو آسانی سے شکست دینے کا چاند تو چڑھایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ 16 اگست 2023 ء کو سوشل میڈیا کے توسط سے پاکستان کی تاریخ میں مسلمان حملہ آوروں کی جانب سے مسیحی گرجا گھروں اور گھروں کی تباہی کے بھیانک ترین مناظر دنیا بھر میں یوں ارزاں ہوئے کہ لوگ بھارت کی بجائے ہمارا نام لینے لگے۔ یہ دلخراش منظر پاکستان کے شہر فیصل آباد سے 35 کلومیٹر دورجنوب مشرق میں واقعہ شہر جڑانوالہ کے تھے۔ سترویں صدی سے آباد جڑانوالہ کا علاقہ کئی دہائیوں تک سکھ، ہندو، مسلمان اور مسیحیوں کی پرامن رہائش گاہ رہا ہے۔ یہ خطہ پنجاب کے عظیم ہیرو بھگت سنگھ کی جنم بھومی بھی ہے جس نے کہا تھا
”اگر یہ خطہ مذہب کے نام پر تقسیم ہوا تو نفرت کی اس آگ کو بجھاتے بجھاتے آنے والی نسلوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔“
17 اگست 2023 ء کی دوپہر جڑانوالہ کی گلیوں میں ایک ریٹائرڈ مسیحی استاد باسٹھ سالہ لعل مسیح اپنے بیٹے اور دو بیٹیوں کو ساتھ لئے پھر رہا تھا۔ لاہور سے آتے ہوئے راستے میں بچوں نے پوچھا کہ پاپا ہمیں کیوں ساتھ لے جا رہے ہو تو اس نے جواب دیا ”میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی آنکھوں سے مسیحی برادری کی خالت دیکھ سکواور پاکستان میں رہتے ہوئے کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہو۔“ لاہور سے جڑانوالہ کے لئے موٹر وے کا سفر آرام دہ ہے مگر اسے لگا کہ وہ یہ سفر برہنہ پا کانٹوں پر چل کر کاٹ رہا ہے۔
اسے راستہ بھر 6 فروری 1997 ء کو شانتی نگر میں ہونے والے سانحہ کے مناظر یاد آنے لگے۔ چھبیس سال قبل وہ اسی طرح سٹونزآباد سے دیگر نوجوانوں کے ہمراہ اپنے گاؤں کی جانب سے شانتی نگر میں لو گوں کے لئے ناشتہ لے کر گیا تھا۔ گزرتے برسوں میں سانگلہ ہل ( 2005 ) ، گوجرہ ( 2009 ) ، جوزف کالونی، لاہور ( 2013 ) ، قصور ( 2014 ) ، یوحنا آباد لاہور ( 2015 ) مسیحیوں کی بربادی کے زخم اس کی روح پر آج بھی تازہ ہیں۔
جڑانوالہ میں گرجا گھروں کے اندر اور باہر اہانت شدہ اور مسخ کردہ مقدس برتن، بائبل مقدس اور مقدس کتب کے جلے ہوئے نسخے، دھوئیں سے اٹی سیاہ چھتیں اور دیواریں، پگھلے ہوئے گارڈر اور پنکھے، گلیوں میں جلے ہوئے گھریلو سامان، موٹر سائیکل، سائیکل اور دیگر بکھری ہوئی تباہ حال اشیا دیکھ کر اس کو پرانے سانحات کے مناظر کی بازیافت ہوتی رہی۔ کرسچن کالونی میں گلی میں گھروں کا جلا ہوا تباہ شدہ سامان پڑا تھا۔ کاتھولک چرچ کے سامنے تباہ شدہ مقدس چیزیں اور بکھرے ہوئے برتن لوگوں کے مذہبی جذبات کا مذاق اڑا رہے تھے۔ لعل مسیح نے ایک گھر کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے شخص کو گلے لگا کر اظہار ہمدردی کیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہنے لگا، ”ہمارے گھر جلا دیے ہیں، ہمیں جلا دیتے مگر ہمارے گرجا گھر پر چڑھائی نہ کرتے تو ہماری برداشت میں ہوتا۔ “
عیسیٰ نگری میں گھومتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ جڑانوالہ اور شانتی نگر کے واقعات میں بعض معاملات میں حیرت انگیز مشابہت تھی۔ شانتی نگر کے لوگ بھوکے ننگے نہیں تھے۔ ان کی زمین علاقہ میں زرخیز ترین ہے۔ لوگوں کے گھروں میں خوشحالی تھی۔ چنانچہ حملہ کا ایک پہلو ان کی معاشی کمر توڑ نا بھی تھا۔ شانتی نگر کے باغات کاٹ دیے گئے۔ ان کے ٹریکٹر، گاڑیاں اور دیگر اشیا تباہ کر کے ان کی معاشی خوشحالی پر سوچ سمجھ کر گہری ضرب لگائی گئی تھی۔ دوسری طرف جڑانوالہ کے مسیحی محنت کش لوگ ہیں۔ ان کے گھروں میں ٹائلز سے مزئین صاف ستھرے واش رومز تھے۔ LCDs، فرج، AC، واشنگ مشینیں، دیگر بجلی کے سامان آسائش سے ان کی خوشحالی عیاں ہے۔
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی معاشی کمر توڑنا بھی حملہ آوروں کے ہاں بھی ایک مقصد تھا۔ شانتی نگر میں ایک مسیحی بابا راجی پر الزام تھا کہ اس نے مبینہ طور پر ایک کاغذ پر توہین آمیز کلمات لکھ کر اور نیچے اپنا نام بھی لکھ کر گاؤں کے قریب بہنے والی نہر کنارے مسجد میں پھینک دیا تھا۔ جڑانوالہ میں راجا نامی مسیحی لڑکے پر بھی ایسا ہی الزام تھا۔ اس لڑکے نے مبینہ طور پر توہین آمیز عبارت لکھ کر نیچے اپنا نام اور فون نمبر درج کیا ہے علاوہ ازیں اپنی تصویر بھی چسپاں کی ہے۔ حیرت انگیز طور پر شانتی نگر کا بابا راجی اور جڑانوالہ کا راجا دونوں ہی ناخواندہ تھے۔
ایک خاتون نے بتایا کہ وقوعہ کے روز وہ ناشتہ کر رہی تھی کہ ایک پروسن نے اسے خبردار کیا اور کہا کہ بھاگو اپنی جان سنبھالو۔ ”میں نے بچوں کو لیا اور گھر کو تالا لگا کر فوری طور پر گھر سے بھاگ گئی۔ ابھی آئی ہوں تو گھر راکھ ہو چکا ہے۔“ کرسچن کالونی کے ایک نوجوان سیت مسیح نے بتایا کہ انہوں نے مسلمان برادری کے رہنماؤں سے کہا کہ ایف آئی آر کٹ گئی ہے اور پولیس کو اپنا کام کرنے کے لئے موقع دیں۔ اس دوران جتھوں نے حملہ شروع کر دیا تھا۔ مساجد میں ہونے والے اعلانا ت اور ار د گرد سے خطرے کی بو سونگھ کر گھروں کے مکین اپنے کواڑ بند کر کے بنا کچھ ساتھ لئے بھاگ گئے تھے۔ گلی میں کھلنے والے ایک دروازے سے کمرے کے اندر نئی رضائیوں، کمبلوں اور جہیز کا جلا ہوا دیگر سامان جھانک رہا تھا۔ بتایا گیا کہ چار بہووں کا جہیز ایک جگہ پر جمع تھا۔ ان کا گھر زیر تعمیر تھا۔ حملہ آوروں نے مسیحی قبرستان میں جا کر قبروں پر موجود صلیب کے نشان توڑ دیے تھے۔
اسد ٹاؤن تک پہنچنے کے لئے ناہموار کچی سڑک کا راستہ جاتا ہے جہاں پر ہوپ فار لائٹ منسٹریز کا چرچ ہے۔ سوشل میڈ یا پر ایک چرچ سے صلیب گرانے کا منظر اسی چرچ کا تھا۔ یہاں پر خال خال لوگ رہتے ہیں۔ چرچ کے ساتھ تین گھروں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ایک بچہ زمین پر بیٹھا تھا۔ آدھی روٹی کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس کے سامنے ایک گول پیالہ میں چائے کے رنگ کا شوربا اور اس میں تیرتے ہوئے خا ل خال چاول تیر رہے تھے جنہیں وہ پورے اطیمنان سے اپنے پیٹ میں ڈال رہا تھا۔
اس گھر کے صحن میں گھر کا سارا سامان جلا پڑا تھا۔ گھر کے سربراہ بوٹا مسیح کے مطابق حملہ آور اس کے گھر سے بیس ہزار اور سونے کی بالیاں حملہ آور ساتھ لے گئے تھے۔ اس چرچ کے ساتھ ایک شیعہ برادری کے فرد حسنین شاہ کا گھر تھا۔ حملہ کے وقت حسنین شاہ چرچ میں آیا اورحملہ آوروں کو بائبل مقدس کے نسخوں کو ہاتھ لگانے سے منع کیا۔ وہ تمام نسخے پورے احترام کے ساتھ اپنے ہمراہ اپنے گھر لے گیا تھا۔ لعل مسیح نے حسنین شاہ کے گھر جا کر اس کا شکریہ ادا کیا تو وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر نمناک آواز میں کہنے لگا ”میں نوکر، میں نوکر“ ۔
یہاں پر موجود سمسون مسیح نے لعل مسیح کو بتایا کہ موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آور آتشیں اسلحہ سے لیس تھے۔ ان کے پاس کین تھے جس میں سے وہ پاؤڈر نکال کر پھینکتے جس کو آگ دکھاتے ہی ہر طرف آگ پھیل جاتی۔ لعل مسیح کو یاد آیا شانتی نگر اور دیگر جگہوں پر بھی ایسے ہی آتشیں مواد کا استعمال کیا گیا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ کیا ایسا بارودی مواد عام آ دمی کے پاس ہو سکتا ہے۔ کیا ایسا انتظام اور علاقہ بھر کے گرجا گھروں پر حملہ بنا منصوبہ بندی ہو سکتا ہے۔
لعل مسیح کو یاد آیا ابھی کچھ روز قبل اس نے 2010 ء میں شائع ہونے والی اردو لغت ”فرہنگ آصفیہ“ میں بے سر و سامانی کا مطلب ڈھونڈا تو اس میں اس لفظ کے معنی ”کنگال، مفلس“ درج تھے۔ اسے لگا کہ اس لفظ کے معنی کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا تھا۔ اس نے سوچا بے سرو سامانی کے معنی کو قاری تک بہتر طور پر پہنچانے کے لئے اگر اس کے سامنے ”پاکستان میں مذہبی اقلیت ہونا“ لکھ دیا جاتا تو قاری تک بے سرو سامانی کی کیفیت کما حقہ پہنچ جاتی۔
اہل حکم کا اعلان سن کر کہ سرکار لوگوں کے نقصانات کا ازالہ کر ے گی لعل مسیح کو یاد آیا کہ سانحہ شانتی نگرکے بعد سالویشن چرچ کے پادری میجر یونس کی نو سالہ بیٹی ایک مدت تک رات کو جوگر پہن کر سوتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کیا معلوم کب بھاگنا پڑے تو کم از کم پاؤں میں جوتے تو ہوں۔ اس نے دل ہی دل میں حکومت سے سوال کیا کہ کیا آپ نے ایسے نقصانات کا بھی اندازہ لگایا ہے یا نہیں۔ 14 اگست 2023 کو یوم آزادی منانے والے بچے جنہوں نے پاکستان کے جھنڈے والے لباس زیب تن کر ر کھے تھے ان کے اذہان میں کیا توڑ پھوڑ ہوئی ہے۔ ان کی ریاست سے محبت پر کس طرح ضرب پڑی ہے کیا ایسے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے گا یا نہیں۔ کیا جڑانوالہ کے لوگوں اور بچوں کی نفسیاتی اور جذباتی شفایابی کے اقدمات بھی حکومت کے زیر غور ہے یا نہیں۔
نوجوان پاسٹر شکور عالم کے ہمراہ استیش، آصف، سہیل، اکرم، شہباز، جاوید، وشال، عاشر اور دیگر نوجوان ہر جانب بھاگ بھاگ کر خدمت کرتے نظر آ رہے تھے۔ باہر سے آنے والے مہمانوں اور اپنے گھروں کو لوٹنے والے رہائشیوں کے لئے ان کے پاس پانی کی بوتلیں تھیں، علاوہ ازیں یہ نوجوان موجود رہائشیوں کے لئے کھانے کا بندوبست بھی کر رہے تھے۔
نگران وزیر اعلیٰ نے علماء سے ملاقات کر کے ان کی ستائش کی کہ ان کے کردار کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ خبر دیکھ کر لعل مسیح نے سوچا محسن نقوی چہرے سے جس قدر بھولے بھالے لگتے ہیں ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو۔ کیا معلوم انہوں نے اپنی بات میں کچھ اور کہا ہو اسے لگا جیسے وہ علمائے کرام کو گویا کہہ رہے تھے کہ اچھا ہوا آپ نے بچوں کو لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے سے روک دیا تھا ورنہ بہت زیادہ نقصان ہوتا۔ اسے یاد آیا خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں نے پولیو کے قطرے پلانے والی تین ہیلتھ ورکرز کو گاڑی سے نکال کر ہلاک کر دیا۔ ان کے ہمراہ ایک بچی بھی تھی جنہیں انہوں نے چھوڑ دیا۔ دہشت گردوں کے ہم خیال مذہبی رہنما یہ کہتے ہوئے پائے گئے ”دیکھ لیں انہوں نے بچی کو ہاتھ نہیں لگایا۔“
واپسی پر اس کی بیٹی نے لعل مسیح سے سوال کیا۔ ”پاپا اب کیا ہو گا؟“ تو لعل مسیح نے جواب دیا ”بیٹا گزشتہ برسوں میں ریاست کی طرف سے کبھی قابل قدر اقدمات نہیں کیے گئے۔ مگر اس بار مجرموں کو ضرور سزا ملے گی۔“
”جب آپ سومنات کے مندر کو زمیں بوس کرنے والے کو ہیرو کے طور پر پڑھائیں گے، جب بامیان میں دنیا بھر کی جانب سے درخواستوں کو رد کر کے بدھا کے مجسمہ کو ہر صورت تباہ کرنے والے طالبان کو سومنات کا مندر توڑنے والے جیسے ہیرو قرار دیں گے تو گرجا گھر کو آگ لگانے والے کو مجرم کیونکر کہہ سکتے ہیں۔“ اس کی بیٹی نے نہایت مدلل بات سے لعل مسیح کو چپ کروا دیا۔
تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد لعل مسیح نے کہا ”دراصل ایسے واقعات کا تواتر سے ہونا ریاست کی جانب سے اٰسے گروہوں کو اس قسم کی سرگرمیاں کرنے کی اجازت کے مترادف ہی ہوتا ہے۔ دوسری طرف کچھ مثبت اور حوصلہ افزا اشارے بھی موجود ہیں۔ مثلاً حال ہی میں سرگودھا میں ایسے کچھ واقعات ہوئے جن کو ابتدائی سطح پر ہی دبا دیا گیا ہے۔ گویا انتظامیہ کسی حد تک اس معاملہ میں حساسیت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
“ اس نے بیٹی نے پھر پوچھا، مگر پاپا اس واقعہ میں آپ کو کون سی مثبت بات دیکھ رہے ہیں ”۔ لعل مسیح پھر سوچ میں پڑ گیا، پھر جیسے کوئی کرن اس کے ہاتھ میں آ گئی ہو، اس نے کہا،“ بیٹا ایک اشارہ تو ہے ”،“ وہ کیا پاپا ”، وہ یہ ہے کہ جس جماعت کے لوگ گرفتار ہوئے ہیں ابھی تک انہوں نے گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ نہیں کیا۔ احتجاج نہیں کیا۔ لگتا ہے انہیں سختی سے منع کر دیا گیا ہے ۔ اگر یہ ایسا ہی ہے جیسا مجھے لگا ہے تو میرے خیال میں اس بار پچھلی مرتبہ جیسا نہیں ہو گا۔ اس دفعہ مجرمان کو سزا ملنے کی موہوم سی امید اس اشارے میں نظر آ رہی ہے۔
جب وہ گھر پہنچے تو ٹی وی پر نگران وزیر اعظم موجود تھے جو فرما ر ہے تھے ”یہ جتھے ہمارا چہرہ نہیں ہیں“ ۔ یہ سن کر لعل مسیح نے ٹی وی کی جانب منہ کر کے انہیں مخاطب کر کے کہا ”معاف کیجئے و زیر اعظم صاحب یہی ہمارا چہرہ ہیں۔ اور جب تلک ان کو تلف نہیں کیا جاتا یہی ہمارا چہرہ رہیں گے۔ محلہ میں ایک بد معاش ہوتا ہے تو پورا محلہ اسی کی نسبت سے پہچانا جاتا ہے۔
لعل مسیح کو یاد آیا کہ 19 دسمبر 2017 ء میں سینیٹ کے بند کمرہ اجلاس میں ریاست کے ایک ذمہ دار اہلکار نے جڑانوالہ میں حملہ کے ذمہ دار گروہ کی تخلیق کا اعتراف کیا تھا۔ اس نے سوچا اگر غلطی مان لی جائے تو نتائج کی سنگینی کے اعتبار سے یہ طالبان جیسی تراش سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گی۔ 1997 ء میں جب اگلے روز وہ شانتی نگر گیا تو آگ تب تک جل رہی تھی۔ سردی تھی اور لوگ اپنے جلے ہوئے گھروں کی آگ تاپ رہے تھے۔ گویا وہ اپنی بربادی کی راکھ سے بھی اپنی بحالی کے امکان پیدا کرنے کا حوصلہ سلامت رکھے ہوئے تھے۔
یہ حوصلہ تو 2015 ء میں کرائسٹ چرچ یوحنا آباد میں بھی مسیحیوں کا قابل دید تھا جب وہ بم دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والے لوگوں کے درمیان کھڑے رو رہے تھے اور بلند آواز میں ”رب خداوند بادشاہ ہے“ گا رہے تھے۔ جڑانوالہ میں بھی فائر برگیڈ کے آگ بجھانے کے باوجود دھواں اٹھ رہا تھا، ابھی بھی آگ زندہ تھی۔ اسے لگا کہ شانتی نگر میں لگائی گئی آگ آج بھی سلگ رہی تھی۔
پی ڈی ایم کی حکومت نے جانے سے پہلے اقلیتوں سے متعلق ایک بل منظور کرنے کی ٹھانی تو مذہبی اقلیتوں کے رہنماؤں نے اس پر شور مچایا کہ یہ بل کسی صورت پیرس اصولوں سے مطابق نہیں ہے۔ اسے یاد آیا کہ اس کچھ جذباتی نوجوانوں نے جیش مسیح بنانے کی تجویز دی تھی تو ہربرٹ سیموئل صاحب نے سختی سے جھڑک کر نوجوانون کو ایسی طرز فکر سے پرہیز کرنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کسی ایسے خیال کی تعبیر میں سہولت کاری کرنے والوں سے خبردار بھی کیا تھا۔ وقت وقت کی بات ہے اتنے سالوں بعد جب اسے ہربرٹ سیموئل صاحب کا فون آیا تو وہ حیران ہو گیا جب انہوں نے کہا اگر کوئی ایسا خیال ہو تو اس پر غور کیا جائے۔
لاہور سے ملتان جانے والی موٹر وے پر کوئی ڈیڑھ گھنٹہ سفر کرنے کے بعد جڑانوالہ کا انٹر چینج آتا ہے جس سے آپ ذیلی سڑک پر کوئی پندرہ کلومیٹر کا سفر کریں تو چالی موڑ آتا ہے۔ ایک رہائشی نے ایک گھر کے باہر پانی کے پائپ سے اکھڑی ہوئی موٹر کا نشان دکھاتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں نے یہ بھی نہیں چھوڑا۔ ممکن ہے مسلمان بھائی نے سوچا ہو کہ اہل خانہ تو نقل مکانی کر چکے۔ واپس آنے کے نہیں۔ اب یہاں موٹر کا کیا کام خومخواہ میں خراب ہو گی۔ میرے گھر میں آج کے دن یاد گار کے طور پر لے جاتا ہوں۔ بہت سے مسلمان بھائی جلتے ہوئے مسیحی گھروں سے بعض قیمتی اشیا محض اس یاد گار دن کی یاد میں ساتھ لے گئے ورنہ وہ ان کی اشیا کو ہاتھ لگانے کے روادار نہیں۔
لاہور موڑ پر چکو موڑ پر ایک چرچ کو رات 12 بجے حملہ کیا گیا جہاں سے بعد ازاں کچھ حملہ آور گرفتار کر لئے گئے۔ شیشے کی ٹوٹے ہوئے ٹکڑے سڑک پر بکھرے تھے۔ ہر گھر کا منظر ایک ایسا تھا۔ ٹوٹے ہوئے استعمال کے برتن، بجلی کی اشیا واشنگ مشین، فرج اوون اور دیگر اشیا نذر آتش، بستروں کی راکھ، جلی ہوئی رضائیاں اور کارپٹ۔
نگران وزیر اعلیٰ پنجاب ایسے موقع پر دور کی کوڑی لے آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ملک کا امن برباد کرنے کی سازش تھی۔ ارے صاحب کیسا امن۔ کچھ مہینوں کے اعداد و شمار دیکھیں۔ دہشت گرد حملوں کی تعداد امن کی حالت بتا دے گی۔ علاوہ ازیں کیا اس حملہ کے بعد مسیحیوں کی جانب سے کسی ایسے رد عمل کے خیالی اندیشے کی بات کرتے ہیں۔ یہ کمزور اور نطر انداز لوگ کیا امن تباہ کریں گے۔ یوحنا آباد میں کرائسٹ چرچ کے سامنے لاشیں پری تھیں۔ یہ لوگ رو رہے تھے اور ”رب خداوند بادشاہ ہے“ زبور گا رہے تھے۔ اشرفیوں جیسے قیمتی علمائے کرام یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر بادامی باغ کے ملزمان کو سزا مل جاتی۔ تو یہ نہ ہوتا۔ ان کی بریت پر آواز اٹھائی ہوتی۔
یہ مناظر ایک سے ہیں۔ شانتی نگر سے جڑانوالہ تک کے مناظر، حکمت عملی، میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اوربعد ازاں حکومتی و ساسی اکابرین کے ردعمل بھی وہی ہیں۔ شہباز شریف نے شانتی نگر میں اس واقعہ کی رپورٹ کو شائع کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر نہ کبھی یہ شائع ہوئی اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ انہوں نے بتائی۔ گوجرہ کی رپورٹ منطر عام پر آئی۔ جس پولیس افسر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا شہباز شریف نے اسی کو ترقی دے کر لاہور شہر کا انچارج بنا ڈالا تھا جس پر غالباً عدالت نے بھی اعتراض اٹھایا تھا۔
یہ مناظر ہمارے جانے پہچانے ہیں۔ 6 فروری 1997 ء کو جب مسیحیوں کے گھروں کو جلایا گیا تو اسی طرح لوہے کے گارڈر پگھلے ہوئے تھے مگر اہل حکم کا دل نہیں پگھلتا۔


