بھارت چاند پر پہنچ گیا، ہم کیوں نہ پہنچ سکے؟


ہمارا پڑوسی ملک بالآخر تیسری کوشش میں چاند پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ بھارتی خلائی مشن چندریان 3 نے چاند کے جنوب قطب کے اس مقام پر لینڈ کیا جہاں ابھی تک دنیا کا کوئی اور ملک نہ پہنچ سکا ہے اور یوں امریکہ، چین اور روس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 23 اگست کو چاند پر کامیاب لینڈنگ کے لئے سکولوں اور بھارت بھر میں وسیع پیمانے پر خصوصی پوجا کی گئی تھی۔ بھارتی مسلمانوں کی جانب سے راجھستان کی اجمیر شریف کی درگاہ پر خصوصی دعائیں مانگی گئیں تھیں۔ اس موقع پر بھارت میں ہندو مسلم قومی سوچ یکساں دیکھنے کو ملی۔ لینڈنگ والے دن یو ٹیوب پر سب سے زیادہ لائیو دیکھا جانے والا یہی چندریان تھری تھا۔

اس موقع پر منظر عام پر آنے والی تصاویر سے پتہ چلا ہے کہ خلائی مشن کے سائنس دانوں میں ایک بڑی تعداد خواتین کی بھی ہے۔ یہ ایک مزید روشن پہلو ہے۔ بھارت نے مسلم ممالک سے زیادہ عورت کی تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور آج خلائی سائنس میں بڑا معرکہ سر کرنے میں کامیاب ہوا۔ اسی دوران جب بھارتی سائنس دانوں کے تذکرے ہو رہے تھے وہیں یہ بھی انکشاف ہوا کہ چندریان تھری کی سائنس دانوں کی ٹیم میں کوئی مسلمان اور غیر ملکی شامل نہیں بلکہ سبھی ہندو مرد و خواتین شامل ہیں جن کا تعلق بھی بھارت کے پسماندہ علاقے سے ہے۔ یہ ایک بہت عجیب اور ناقابل یقین بات سننے اور پڑھنے کو ملی کہ اکثریت سائنس دان بھارت کے پڑھے ہوئے ہیں۔

یقینی طور پر آج بھارت کا ہر شہری خواہ وہ ہندو ہو، سکھ مسلمان یا پارسی، ہر کوئی اس موقع پر خوشی سے نہال ہے۔ لیکن میں ایک عجب گومگو کیفیت میں ہوں۔ تذبذب میں مبتلا ہوں کہ مجھے کیسا ردعمل دکھانا چاہیے؟ فراست، کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کروں یا پڑھائے گئے قومی سبق کی روشنی میں تنگ نظری اور نفرت کا اظہار کروں اور حب الوطنی کا ڈپلومہ سرٹیفکیٹ حاصل کر لوں؟ اگر کوئی رد عمل نہیں دکھاتا تو ایک سوال مجھے کاٹنے کو دوڑتا ہے اور وہ یہ کہ بھارت چاند پر پہنچ گیا تو ہم کیوں نہ پہنچ سکے؟

ہم تو ”اقراء“ کے وارث ہیں۔ قرآن کا حکم ہے کہ ”اقراء“ پڑھو۔ مخاطب مردو خواتین سبھی ہیں۔ ان میں رنگ و نسل قوم و ملت کی کوئی تمیز نہیں لیکن مسلمان سب سے پہلے مخاطب ہیں جو اس کے ماننے والے ہیں۔ ”اقراء“ پر عمل کر کے بھارت چاند پر پہنچ گیا۔ ہم نے انکار کیا اور اب بھکاری بنے بیٹھے ہیں۔ تاریخ سے یہی پتہ چلتا ہے کہ جس جس قوم نے ”اقرا“ کو نصب العین بنایا وہی دنیا میں سرخرو ہوئی ہیں۔ یہی حقیقت ہے کہ قوموں کا عروج و زوال علم اور تحقیق سے وابستہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں قدرتی وسائل اور انسانی ذہانت، دونوں کی کمی نہ تھی نہ ہے۔ دنیا کے بہترین دماغ پاکستان کے پاس موجود تھے اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں موجود تھے۔ ہر سال میٹرک، انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے نتائج گواہ ہیں کہ ہمارے ہاں ایک سے بڑھ کر ایک ذہین دماغ سامنے آتے ہیں۔ صد فیصد نمبر لینے والے ریکارڈ پر ریکارڈ قائم کرتے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود ناکامی ہمارا مقدر کیوں ٹھہری؟ اے لیول کے امتحانات میں پاکستانی طلباء عالمی ریکارڈ قائم کرتے رہتے ہیں۔

آخر وہ تمام نوجوان طلبا و طالبات کدھر گئے؟ ہمیں تو یہ بھی سہولت میسر تھی کہ علم حاصل کرنے کے لئے چین بھی جانا پڑے تو علم حاصل کرو۔ ہم نے اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ آج ہم چین سے اس کی شرائط پر قرضے لیتے جا رہے ہیں، اگر علم لیا ہوتا تو شاید ہم بھی چاند تک پہنچنا نہ سہی اس تک پہنچنے کا کم از کم سوچ ہی رہے ہوتے۔ گزشتہ پندرہ، بیس سال میں دونوں ممالک کی اندرونی ترقی یا زوال کا موازنہ کیا جائے تو کارکردگی کے فرق کو دیکھ کر شاید ہماری آنکھیں حیرت سے باہر نکل آئیں گی۔

Nations Development Program کی رپورٹس کے مطابق بھارت 2005۔ 6 اور 2015۔ 16 کے دوران ستائیس کروڑ افراد کو غربت کی لائن سے اوپر لے جا چکا ہے اور یہ تعداد ہماری کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ امریکہ، جرمنی سمیت دنیا کے بڑے ترقی یافتہ ممالک بھارتی طلبا و طالبات کو ہزاروں کی تعداد میں اسکالرشپ اور ویزوں کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ بھارت کے نوجوانوں پر سائنس ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے میدان میں آگے بڑھنے کا جو بھوت سر پر سوار ہو چکا ہے، اس سے بھارت کے مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

بھارت کی خلائی سائنس میں یہ ترقی اس کے آئین اور تعلیمی اداروں کے اعلیٰ تعلیمی معیار کی مرہون منت ہے اور ہمارے زوال کے اسباب کی وجہ بھی یہی دو عوامل ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستانی تعلیمی ادارے کون سی مذہبی جماعت کے نرغے میں تھے اور ہیں اور ہمارا تعلیمی معیار نصاب کون مرتب اور چیک کرتا ہے۔ سات دہائیوں سے ملاؤں اور مذہبی جماعتوں کو سب کچھ سونپ کر ناقابل تلافی نقصان اٹھایا گیا جس کی اب تلافی بھی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔

ایسی غلطی کی گئی جس کا ازالہ اب ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری گئی، اپنے ہی پر کاٹے گئے۔ اب چلنا اور اڑنا دونوں ہی مشکل ہو چکا ہے۔ پاکستان بھارت سے خلائی میدان میں ایک عشرہ آگے ہونے کے باوجود پھر کیا ہوا کہ پاکستان بہت پیچھے رہ گیا؟ اس کا کچھ جواب ڈوئچے ویلے کی ایک تازہ رپورٹ میں ملتا ہے جس کے مطابق 1961 میں پاکستان خلائی پروگرام شروع کرنے والے پہلے دس ممالک میں شامل تھا۔ پاکستان کے نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبد السلام نے ”سپارکو“ کی بنیاد رکھی تو اس کو امریکی خلائی ادارے ناسا کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔

قیام کے ایک سال بعد ہی جون 1962 ”رہبر ون“ نامی پہلا راکٹ خلا میں بھیجنے میں کامیابی بھی حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق جب یہ رہبر لانچ ہو رہا تھا، انہی دنوں بھارت خلائی تحقیقی ادارہ بنانے کا ابھی سوچ ہی رہا تھا۔ پھر نو سال بعد یہ بھارتی خلائی ادارہ ”اسرو“ 1969 میں فعال ہوا اور اب اسی ادارہ نے 2023 میں چاند کو تسخیر کر لیا۔

Facebook Comments HS