وہ اک تارا (1)


یہ 1985 ہے۔ مقام ماسکو یونیورسٹی کا انٹرنیشنل ریلیشنز ڈپارٹمنٹ کا کلاس روم۔ جہاں سنہرے بالوں والی پونی ٹیل کو لہراتی اٹھارہ انیس سالہ ”اوسولئے“ (اس وقت کے سوویت یونین کا ایک شہر) کی اینا پولٹکو سکایا Anna Politkovskaya بے حد جذباتی انداز میں سوال پر سوال کیے جاتی تھی۔

”سر گزشتہ پندرہ دنوں سے لائبریری میں پرانے“ پروادا ”کی ورق گردانی کرتے اور اپنے حکمرانوں بارے رپورٹیں پڑھتے ہوئے میرے تو چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ میں اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کیسے کروں؟

کوئی ایک دو نہیں بے شمار آوازیں بلند ہوئی تھیں۔
”کہو کہو جو کہنا چاہتی ہو۔ کھل کر اظہار کرو۔“

” سر ہمارے حکمران اتنے کرپٹ اتنے لالچی تھے۔ اس الو کے پٹھے برژنیف سے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کہ کوئی کمی تھی اسے گاڑیوں کی۔ اس نے کس منہ سے امریکہ سے مونتے کارلو کی بات کی۔ اس کا گیراج تو گاڑیوں سے بھرا پڑا تھا۔ ایک سے بڑھ کر ایک عالیشان گاڑی۔ رولز رائس، مرسیڈیز، سیڈان، سٹرون اور اس کی نئی نویلی مرسیڈیز ایس ایل 300۔ اور وہ بڑا مہان امریکہ اسے تحفہ دیتا تھا اور یہ گاڑی کا نام بتا تا تھا انہیں۔ پلسز بیئر، مغربی ملبوسات اور قیمتی زیورات تو پراگ سے اسے بھیجے جاتے تھے۔ کتنا بے غیرت تھا۔ اسے ملکی وقار کا ذرا احساس نہیں تھا۔“

باہر گہری دھند تھی۔ سردی کی انتہا تھی۔ کھڑکیوں کے راستے میدان میں نظر آنے والے ٹنڈ منڈ درخت کہرے اور دھند کے غلافوں میں لپٹے عجیب سے منظروں کے عکاس تھے۔

کلاس کی ایک اور لڑکی نے لقمہ دیا۔
” اس کی بیوی کے پاس فر کے پتہ ہے کتنے کوٹ تھے؟ پورے سترہ۔“
پورے سترہ کو جس انداز میں کہا گیا اس پر کلاس میں زوردار قہقہے گونجنے لگے۔

جوزف سٹالن کے دور کی زبان بندی جیسی سختی جھیلنے والا استاد گو اب قدرے بہتر فضا میں سانس لیتا تھا مگر وہ رفتہ رفتہ والی بات ضرور تھی۔ دلداری کے لفظوں سے بہلاتے ہوئے بولا تھا۔

”سربراہان مملکت کے لئے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہوئے تحائف دینا او ر لینا سفارتی ایٹی کیٹس میں شمار ہوتا ہے۔ صدر نکسن نے ضرور پوچھا ہو گا۔ اب بتا دینے میں حرج کیا تھا؟“

”نہیں سر۔“
پچھلی نشستوں سے ایک چھ فٹا خوبصورت لڑکا اٹھا اور بولنے لگا۔

” آپ نے غالباً نکسن کے دورۂ روس کے تاثرات کے بارے میں نہیں پڑھا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ امریکہ کا صدر ایک خوشحال زندگی نہیں گزارتا ہو گا۔ یقیناً گزارتا ہو گا۔ برژنیف اور ہمارے اعلیٰ بیوروکریٹس کے لیونگ سٹائل دیکھ کر ۔“

یہ ہیثم آگالیف تھا۔ کا کیشیائی علاقے چیچنیو اینگوش کا نوجوان۔

کلاس کی فسٹ ٹرم کے پہلے ماہ کے آخری ہفتے کا تیسرا یا چوتھا دن تھا۔ اینا اور ہیشم دونوں کے انداز میں دوردراز علاقوں سے تعلق کا دیہاتی پن نمایاں تھا۔ مگر ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کے مصداق آنے والے کل میں کیا روپ دھاریں گے کا پتہ چلتا تھا۔ کلاس کے خاتمے پر دونوں ایک دوسرے کی طرف مقناطیسی انداز میں بڑھے تھے۔

ماسکو جیسے ترقی یافتہ اجنبی شہر میں ایک دوسرے سے مانوس ہونے میں انہوں نے اپنی تعارفی تقریب کے بعد پل نہیں لگایا تھا کہ درمیان میں دوری کا علاقائی احساس ہونے کے ساتھ ساتھ سچائی، ظلم و نا انصافی کے لئے ڈٹ جانے کے جذبات بھی بدرجہ اتم موجود تھے۔

ماسکو کے گلیمر اور اس کے سحر سے دونوں بہت متاثر تھے۔ دونوں بس میں بیٹھ جاتے۔ باتیں کرتے جاتے۔ دائیں بائیں دیکھتے جاتے، کسی خوبصورت منظر پر فوراً ایک دوسرے کو متوجہ کرتے۔

”دیکھو۔ دیکھو ذرا۔ ’‘
ایسی ہی نشستوں میں انہوں نے ایک دوسرے کے بارے میں جانا تھا۔

ہیثم آگالیف ترکوں کے سب سے بڑے خانوادے سلجوق کے اس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جو صدیوں پہلے دریائے والگا کے شمالی خطوں بلغاریہ میں آ آباد ہوئے تھے۔ کوئی ایک صدی پہلے ہیثم کے دادا نے نقل مکانی کرلی۔ یہ بہت خوبصورت اور حسین علاقہ تھا۔ یہاں انہوں نے گھوڑوں کے فارم، پھلوں کے باغات، گیہوں، تمباکو اور سبزیاں پیدا کیں۔

گریجوایشن ہیثم نے Donetsk سے کیا۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے وہ ماسکو آ گیا۔

دونوں جب ماسکو کے گلی کوچوں میں پھرتے۔ اس کی مارکیٹوں میں گھومتے۔ اس کے محلوں کی سیر کرتے۔ اگر یہ جگہ ان کے لئے ایک پر تحیر، خوبصورت اور بہت رومانوی سی دنیا تھی تو وہیں وہ گاہے گاہے اس پر بھی دکھ کا اظہار کرتے کہ آخر ان کے علاقے اس درجہ ترقی یافتہ کیوں نہیں؟ پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے اس ضمن میں جو مسائل اور جو ترجیحات راستے میں حائل ہوتی ہیں۔ دونوں اپنی اپنی بحثوں کے دوران ان میں سے بہت سوں پر اتفاق رائے کر لیتے۔

ہیثم کے لئے چند باتوں پر سر ہلانا مشکل ہو جاتا تھا۔ چیچنیا کی خود مختاری سے لے کر اسے اس کے تیل کے ذخائر پر روس کے جبراً قبضے پر شدید اعتراض تھا۔ معاشی اور دفاعی اعتبار سے وہ چیچنیا کی اہمیت سے آگاہ تھا اور دھیرے دھیرے اینا بھی اس سے آگاہ ہو رہی تھی۔

”چلو ہیثم ان چھٹیوں میں میں تمہارے ساتھ کاکیشیا چلوں گی۔ اس علاقے کا حسن اور اس کے مسائل سے آگاہی تو بہت ضروری ہے۔“

وہ ہنسا اور بولا۔

”میرا علاقہ پس ماندہ، غریب اور مسلمان ہے۔ جس کی اپنی روایات ہیں۔ وہاں ایسے گھومنے پھرنے کی آزادی نہیں ہوگی۔ تمہیں گھر کے اندر عورتوں کے ساتھ رہنا پڑے گا۔“

”تو کیا ہوا؟ رہ لوں گی۔ دیکھو کتنی چیزوں کا پتہ چلے گا۔ جب تک مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں سے بندہ آشنا نہیں ہوتا، اس کی نظر میں وسعت نہیں آتی۔

”تو ٹھیک ہے میں اپنے گھر خط لکھ کر انہیں بتا دوں گا۔“

اینا کی تحریر اور زبان کی تیزی دونوں میں بہت کاٹ تھی۔ غلط بات پر اس کا بولنا ضروری تھا۔ ہیثم کے ہاں جذبات سے زیادہ دلیل، صبر اور استقامت تھی۔ وہ زہر شہد میں لپیٹ کردینے کا قائل تھا۔

دونوں گھنٹوں لائبریری میں بیٹھتے۔ پرانے اخبارات، رسائل اور کتابیں پڑھتے۔ لینن، سٹالن اور ٹراٹسکی کا موازنہ کرتے۔ سٹالن کے ظلم و بربریت پر باتیں کرتے۔

پھر اس رائے کا بھی اظہار ہو جاتا کہ روس نے سٹالن دور میں چھلانگیں مار کر ترقی کی۔

کبھی خروشیف کبھی برژنیف ادوار کا مقابلہ ہوتا۔ بیوروکریسی کے کردار زیر بحث آتے اور ماضی کی غلطیوں کو حال کے واقعات سے جوڑتے ہوئے نوے کی دہائی میں ہر سمت پھیلی ہوئی بدعنوانیوں اور جرائم کے لامتناہی سلسلوں کو جو سوویت سوسائٹی کو گھن کی طرح کھا رہے تھے، انہی کا نتیجہ قرار دیتے۔

مئی کے دوسرے ہفتے کے پہلے دن نو مئی کو وکٹری ڈے پر سرکاری چھٹی ویک اینڈ کے ساتھ مل گئی۔ دو تین چھٹیاں مزید لینے کا دونوں نے پروگرام بنا لیا اور سیر سپاٹے پر جانے کے لئے خاصے پر جوش اور خوش و خرم کچھ چھوٹی موٹی خریداری کے لئے ریڈ سکوایئر کی منیثر مارکیٹ جانے کے لئے بس میں جا بیٹھے۔

دن بڑا روشن اور چمک دار تھا۔ بس کی ڈرائیور جتنی خوبصورت عورت تھی، اتنی ہی بری ڈرائیور تھی۔ بریکیں بڑے بے ہنگم طریقے سے لگاتی تھی۔ بس کو روپوتکنسکایا Kropotkinskaya سکوایئر میں رکی اور تین مسافر چڑھے۔ دو کے ہاتھوں میں دن میں نکلنے والے سپیشل اخبار تھے۔ سیٹوں پر بیٹھ کر اخبار کھلے تو ہیثم کو داہنی طرف کی عورت کے ہاتھوں میں پھیلے اخبار کے بیرونی صفحے پر تاورسکایا سٹریٹ کے ایک اعلیٰ درجے کے فوڈ سٹور گسیٹرو نوم نمبر 1 کے مینجر کو بدعنوانی کے الزام میں گولی مارنے کی خبر بڑی نمایاں نظر آئی۔ تفصیل میں درج تھا کہ اس کے باغیچے کی کھدائی کرنے پر پولیس کو گلے سڑے نوٹوں کی گڈیاں ملیں جنہیں وہ خرچ نہیں کر سکا تھا۔ ہیثم کے بتانے پر اینا نے بھی اخبار مانگ کر پڑھا اور طنزیہ ہنکارا مارتے ہوئے بولی۔

”بے چارہ مارا گیا۔ چچ چچ۔“ اس نے عجیب بونگے اور تمسخرانہ انداز میں زبان تالو سے چپکا کر آوازیں نکالیں پھر طنزیہ لہجے میں بولی۔

”ارے وہ جو بڑے بڑے Ussurian Tigers کھلے عام منہ ماریاں کرتے پھرتے ہیں۔ گولیوں کے اصل حقدارتو وہ ہیں۔ بل ڈوزر تو ان پر پھرنے چاہئیں۔ سینے تو ان کے چھلنی ہونے چاہئیں۔ یہ بیچارے چھوٹی موٹی چوریوں والے۔ اب دیکھونا مٹی میں ہی پیسے دباتا رہا، سٹوپڈ۔ لمبے لمبے ہاتھ مارنے والوں سے ہی کچھ سبق پڑھ لیتا کہ پیسے سنبھالتے کیسے ہیں۔“

اور جب وہ ترکمانیہ کے خوبصورت کشیدہ کاری سے مزین سکارف دیکھتی تھی۔ ہیثم اس کے قریب آیا اور فیروزی رنگا دل کش آویزہ اس کے داہنے کان سے چھوا۔

”ارے۔“ وہ ہنسی۔
دونوں شیشے کے پاس جا کھڑے ہوئے۔ اس نے جھٹ پٹ پہن لیا۔ پھر بولی۔
”دیکھو تو کیسی لگتی ہوں؟“
اس نے میٹھی سی ستائش بھری نظروں سے اسے دیکھا اور کہا۔
”اب انہیں خریدنا ضروری ہے۔“

اور جب وہ کافی بار پر بیٹھے کافی پیتے اور کلباسا کھاتے تھے ہیثم نے اسے پہاڑوں، دریاؤں، آبی راستوں اور سرنگوں سے ڈرانے کی کوشش کی تو وہ ہنسی۔

”تم مجھے کیا سمجھتے ہو؟ تم سے تو میں زیادہ دلیر ہوں۔ اور ہاں رہی بات پہاڑوں، آبی راستوں، دریاؤں اور جنگلوں کی تو بھئی میری بھی ان سے پرانی شناسائی ہے“ ۔

”دلیر تو تم واقعی بہت ہو۔ اعتراف کرتا ہوں میں“ ۔ ہنستے ہوئے ہی ہیثم نے اسے دیکھا تھا۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS