کاسٹ آف لیونگ الاؤنس، بونس، میڈیکل اور مہنگائی کے حساب سے بنیادی تنخواہیں


بڑھتی ہوئی مہنگائی نے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے، ایک جانب ہر چیز کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں تو دوسری جانب اداروں میں تنخواہیں اور ان میں اضافہ انجماد کا شکار ہے۔ معاشی بدحالی کو بنیاد بنا کر بہت سے اداروں بالخصوص میڈیا ہاؤسز میں تنخواہیں تاخیر سے دینا معمول کی بات ہے جبکہ تنخواہوں میں اضافہ تو خواب و خیال ہی ہے لیکن اسی صورتحال میں وطن عزیز کا ایک ادارہ ایسا بھی ہے جس نے جب آج سے ایک دہائی قبل اپنے اسٹاف کو تنخواہیں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو دینے کا عزم کیا تو اس پر آج بھی انتہائی سختی سے کاربند ہے، یہ وہ ادارہ ہے جہاں ایسے ملازمین بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز اس جگہ سے کیا اور آج کئی سال گزرنے کے باوجود اس ادارے سے محض اس وجہ سے کوچ کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ چند اضافی پیسوں کے لئے ملازمین کو ”خاندان“ سمجھ کر ان کے دکھ سکھ میں ساتھ دینے والی انتظامیہ سے محرومی کا دکھ نہیں جھیلا جاسکتا۔ سمجھنے والے یقیناً سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم بات کر رہے ہیں ”ہم نیٹ ورک“ کی جس نے اپنے قیام سے لے کر اب تک جہاں ترقیوں کی شاندار منازل طے کیں وہیں اپنے ملازمین کا ہر قدم پر خیال رکھتے ہوئے ان کی فلاح و بہبود کے لئے انتہائی مناسب اور جرات مندانہ اقدامات اٹھائے اور سلسلہ ابھی جاری ہے۔

یادش بخیر ایک دہائی قبل میڈیا انڈسٹری بحرانی کیفیت کا شکار ہوئی، بہت سے ادارے بند ہوئے، جو قائم رہے انہوں نے بڑی تعداد میں اپنے ملازمین کو نوکریوں سے بے دخل کیا اور پیچھے رہ جانے والے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کرتے ہوئے انہیں معاشی بدحالی کے سمندر میں دھکیل دیا۔

ایسے میں ہم نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو افسر درید قریشی اور صدر سلطانہ صدیقی نے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے ادارے میں برطرفیاں نہ کرنے کا مشکل فیصلہ کیا، البتہ تنخواہوں میں کٹوتی ان کی مجبوری تھی لیکن اسے انہوں نے خود پر اور تمام اعلیٰ انتظامیہ پر بھی لاگو کیا، ایسی صورتحال میں ادارے نے کم تنخواہ پانے والوں کی مشکلات کا خیال کرتے ہوئے انہیں کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا اور بعد ازاں اس تکلیف کا ازالہ بھی کیا گیا۔ اپنی اس شاندار روایت کو برقرار رکھتے ہوئے آج ہم نیٹ ورک نے اپنے ملازمین کے لئے سالانہ بونس کا اعلان کیا جبکہ شاندار کارکردگی کا تسلسل جاری رہنے پر دسمبر میں ایک اور بونس دیے جانے کی نوید بھی سنائی۔ ہم نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو افسر درید قریشی نے آفس بوائز کی کم از کم اجرت بتیس ہزار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تنخواہوں میں 19 فیصد کاسٹ آف لیونگ الاؤنس دیے جانے کی خوشخبری سنائی جب کہ دیگر کیٹیگریز کے ملازمین کو 5 سے 15 فیصد تک کاسٹ آف لیونگ الاؤنس دینے کا اعلان کیا جس کا اطلاق یکم جولائی 2023 سے کیا گیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے ملازمین کو تسلی دی کہ سالانہ انکریمنٹ پر بھی کام جاری ہے۔

یاد رہے کہ ہم نیٹ ورک کے ملازمین کو علاج معالجے کی مد میں ہاسپٹلائزشن کے علاوہ او پی ڈی کی بڑی سہولت بھی حاصل ہے۔ قبل ازیں ادارے کی جانب سے دوران ملازمت انتقال کی صورت میں لواحقین کے لئے پانچ سال کی تنخواہ دیے جانے جیسا مستحسن قدم اٹھایا جا چکا ہے اور سب سے بڑھ کر لیٹرز میں پیٹرول کی فراہمی اس پر آشوب دور میں کسی نعمت سے کم نہیں۔

اپنے لوگوں کے لئے سوچنا، انہیں مہنگائی کی اذیت سے بچانے کے لئے کوشش کرنا یقیناً انتظامیہ کے اخلاص کا ثبوت ہے۔ ملازمین کے ورک پلیس پر دیے گئے اچھے ماحول اور ان کا معاشی استحکام ان کے روزمرہ کے امور پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ میڈیا انڈسٹری میں ہم نیٹ ورک کا ”ہم فیملی“ ماحول انتہائی مقبول ہے جب کہ انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کے مفادات میں کیے جانے والے فیصلوں کو لوگ انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ترقی کی منازل طے کرنے والے تمام اداروں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کرتے ہوئے اپنے ملازمین کو ”اپنا خاندان“ سمجھتے ہوئے ان کے مسائل کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔ ”ہم“ نے نعرہ لگایا کہ ”ہم ایک ہیں“ اور ”ہم“ نے ہر قدم پر اس نعرے کی توثیق کی شاید یہی اس کی روز افزوں ترقی کا راز ہے۔

Facebook Comments HS