بھارت کی معیشت سے کیا سیکھنا چاہیے؟


ایشیا کا کرکٹ سلطان کون ہو گا یہ تو وقت بتائے گا لیکن معاشی مقابلے میں پاکستان اپنے پڑوسی سے بہت پیچھے رہ گیا ہے، اور اس اعتراف سے شرمانے کی بجائے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دن کے فرق سے آزاد ہونے والا انڈیا اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے جبکہ پاکستان کا اس فہرست میں اکتالیسواں نمبر ہے۔ پاکستان اب تک مجموعی طور پر آئی ایم ایف سے بائیس بار رجوع کرچکا ہے، مدد لے چکا ہے اور اس سلسلے کی پہلی کڑی آٹھ دسمبر انیس سو اٹھاون کو شروع ہوئی اور پھر ہم نے ہمیشہ معیشت کو سہارا دینے کے لئے اس لاسٹ ریزورٹ کا رخ کیا پاکستان انیس سو اٹھاون سے اب تک کل بائیس بار آئی ایم ایف سے قرض لے چکا ہے جبکہ بھارت صرف سات بار آئی ایم ایف کے پاس گیا۔

پہلی بار بھارت انیس سو ستاون کو آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے اور پھر انیس سو اکانوے میں آخری بار آئی ایم ایف کا پروگرام انیس سو اکانوے میں بھارت کی مالی صورت حال کیا تھی پہلے آپ کو یہ بتاتے ہیں ؛ بھارت جس کے پاس صرف تین ہفتوں کے امپورٹ ذخائر تھے، سیاسی بحران عروج پر تھا جنتا پارٹی کی اقلیتی حکومت فروری انیس سو اکانوے میں اپنا بجٹ تک پاس نہیں کروا سکی اور یوں بھارت کی کریڈٹ رینکنگ بری طرح متاثر ہوئی اور بھارت آئی ایم ایف کے پاس گیا لیکن مذاکرات کے بیچ کانگریس پارٹی نے جنتا پارٹی کی حکومت کی حمایت ختم کردی اور سرکار گر گئی جس کی وجہ سے آئی ایم ایف نے اس وقت کے وزیر خزانہ سے یہ کہہ کر مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا کہ آپ کس حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں؟

بھارت میں تو کوئی سرکار ہے ہی نہیں اور یوں معاشی ہنگام کے بیچ سیاسی بحران نے جنم لیا اور وہ بھارت جس نے معیشت کو سنبھالنا تھا وہ نئے الیکشن کی راہ پر چل پڑا اور پھر پی وی نرسیمہا راؤ ملک کے وزیر اعظم بنے اور پہلے ہی دن سیکریٹری خزانہ سے خراب معاشی صورت حال پر بریفنگ لی اور فوراً ریپبلک بینک آف انڈیا کے سابق سربراہ من موہن سنگھ کو وزیر خزانہ بنایا اور یوں بھارت نے اپنے مسائل کا حل ڈھونڈا، وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ اور من موہن سنگھ نے بھارت کی معاشی تقدیر کو بدل دیا، وہ بھارت جو آج کے پاکستان اور ماضی قریب کے سری لنکا کے طور پر انیس سو اکانوے میں اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہا تھا اس نے کیسے اپنی معیشت سنبھالی یہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ؛ بھارت نے بڑے مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، معیشت پر بین الاقوامی اعتماد میں کمی، افراط زر، اور مسلسل تجارتی خسارے کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی کی، سینتالیس ٹن سونا بین الاقوامی بینکوں میں گروی رکھا اور اس کے عوض قرض حاصل کیا اور پھر چوبیس جولائی انیس سو اکانوے کے دن بھارتی وزیر خارجہ من موہن سنگھ نے وہ تاریخی بجٹ پیش کیا جس سے انڈیا ایک ابھرتی ہوئی معیشت بنا اور اب بتیس سالوں بعد بھارت دنیا کی طاقتور ترین معیشتوں میں سے ایک ہے۔

من موہن سنگھ نے مخصوص اشیاء کے علاوہ باقی تمام اشیاء کی امپورٹ پر عائد پابندی ختم کی اور امپورٹ پالیسی کو آزاد کیا۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو بھارتی کمپنیز میں اکاون فیصد کا شیئر ہولڈر بننے کی دعوت دی اور اس سوچ کا خاتمہ کیا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈر سے بیرونی سرمایہ کاری سے بھاگتی تھی۔ لائسنس راج کا خاتمہ کیا اور اسی فیصد صنعت کو آزاد انویسٹمینٹ کا راستہ دیا اور کاروبار بڑھانے کے لئے سرکاری کی اجازت، لائسنس اور دیگر غیر ضروری رکاوٹوں کو ختم کر کے صنعت کار کی زندگی آسان اور سرکاری کرپشن کا راستہ بند کیا۔

سرمایہ کاری نہ ہونے اور محدود صنعتوں پر سرکاری کمپنیوں کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا اور پبلک سیکٹر کمپنیوں کے مقابلے میں نئی پرائیویٹ کمپنیوں کے قیام کو فروغ دے کر مارکیٹ میں مقابلے کے رجحان کو بڑھایا اور یوں معیار اپنے آپ بہتر ہوتا چلا گیا۔ پبلک سیکٹر کمپنیوں سے سرکاری چھتری اتار کر انہیں اپنے بل بوتے پر چھوڑ دیا جس سے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں معیاری مقابلہ شروع ہوا۔ بھارت نے اپنی سافٹ ویئر مارکیٹ کی سروسز ایکسپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور سافٹ ویئر انڈسٹری کو ٹیکس چھوٹ دی گئی جس نے بھارت کو آئی ٹی ایکسپرٹ کی پہچان دی۔

اس سب کا عام آدمی کی زندگی پر یہ اثر ہوا کہ بیرونی سرمایہ کاری آئی اور آٹو موبیل، فوڈ آؤٹ لیٹس، کپڑے، جوتے، ہوائی سفر، ٹیلی کام انڈسٹری، میڈیا محض ہر صنعت میں نئی اور بیرونی سرمایہ کاری نے جان پھونک دی، بھارت کی مارکیٹ بیرونی سرمایہ کاروں کا مرکز بنی اور کروڑوں نوکریوں سے بھارت کے شہریوں نے فائدہ اٹھایا اور یوں بھارت جو ڈیفالٹ کر رہا تھا وہ دنیا کی پانچویں بڑی اکانومی بنا کیوں کہ من موہن سنگھ نے بجٹ تقریر میں وکٹر ہوگو کا جملہ استعمال کیا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس آئیڈیا کو نہیں روک سکتی جس کا وقت آ چکا ہو اور بھارت نے اپنے مسائل کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا جبکہ ہم آج بھی واہگہ بارڈر پر مونچھوں کو تاؤ دے کر اور پاؤں پٹخ کر خوش ہیں، من موہن سنگھ نے جولائی انیس سو اکانوے کو اپنی تقریر میں قوم پر واضح کیا تھا کہ میں مسائل کم کر کے بیان نہیں کروں گا یہی وہ حقیقت پسندانہ سوچ ہے جس نے بھارت کو معیشت کے چاند پر چڑھا دیا اور ہم اب بھی کراچی کے گٹر کے ڈھکن پورے کر رہے ہیں، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

Facebook Comments HS