گلزار ملک کا ناول: ”گمشدہ میراث“


فیصل آباد میں ادبی اور شعری روایت آغاز سے اب تک کم و بیش ایک سو سال سے زیادہ پر محیط ہے۔ پرانے اخبارات، رسائل اور انجمنوں سے مل جانے والی قرار داد کے ذریعے سے یہاں کا جو شعری منظر نامہ مرتب ہوتا ہے اس میں ن م راشد پہلے اور بڑے شاعر ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک بہت سارے ایسے شاعر اور شاعرات سامنے آتے ہیں جنہوں نے اس شعری منظر نامے میں اپنی اپنی خداداد صلاحیتوں سے رنگ بھرے ہیں۔ پاکستان کے شہر فیصل آباد میں بڑی تعداد میں نعتیں لکھی اور پڑھی جا رہی ہیں۔ فیصل آباد کے اسی اعزاز اور سعادت کے پیش نظر اس شہر کو ”شہر نعت بھی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر افسانہ کے حوالہ سے دیکھا جائے تو فیصل آباد کے افسانہ نگاروں کے ہاں زبان و بیان کے نت نئے تجربے، فن کے ارتقا و تکمیل کے امکانات کا پتا دیتے ہیں۔

فیصل آباد میں لکھے گئے ناول اردو ناول نگاری کی تاریخ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ فیصل آباد کے ناول نگاروں نے اردو ادب میں لکھے جانے والے ناولوں میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں وہ نہ صرف فیصل آباد کی علمی و ادبی روایت کا حصہ ہیں بلکہ اردو ادب میں گراں قدر اضافے کا باعث بھی بنے ہیں۔ فیصل آباد میں اردو زبان و ادب کے قابل اور معتبر شخصیات نے اپنا تشخص اور پہچان بنائی۔ اردو شاعری، ناول، افسانہ اور ڈرامہ کے حوالے سے ان گنت نام اس شہر کا تعارف بنے۔ انھیں میں ایک نام گلزار ملک کا ہے۔ گلزار ملک ایک فطری کہانی کار ہیں۔ ان کی تحریر میں شرق و غرب کے جدیدی رجحانات کی عکاسی کرتی ہیں۔ گلزار ملک کی تخلیقات بر صغیر کے تمدن اور تہذیب و ثقافت کے عمیق پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں جو ان کے ادب کے وسیع تر مطالعے اور وابستی کا اظہار یہ کہی جا سکتی ہیں۔

گلزار ملک سو جون 1970ء کو فیصل آباد کے نواحی قصبے ”گٹی سکول والی“ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام ”محمد رمضان“ اور والدہ کا نام ”نذیراں بی بی“ تھا۔ آپ کا اصل نام ”گلزار احمد“ جبکہ قلمی ہم گلزار ملک ہے۔ آپ کے والدین نے آپ کا ابتدائی نام کرامت علی رکھا۔ بعد ازاں اسے تبدیل کر کے گلزار احمد رکھا گیا۔ گزار احمد کے آبا و اجداد کا تعلق انڈیا کے شہر گورداس پور ”سے تھا۔ ان کے بزرگوں نے ہندوستان کے علاقے“ پٹھان کوٹ ”ضلع گورداس پور سے ہجرت کر کے پاکستان کے علاقہ“ شکر گڑھ ”کے نواحی گاؤں پنڈی کلاں“ میں سکونت اختیار کی تھی۔

گلزار ملک نے ابتدائی تعلیمی مدارج اپنے علاقہ کے نزدیک گورنمنٹ پرائمری اسکول 202۔ ر۔ ب۔ گئی میں طے کیے۔ دینی تعلیم گئی کی اڈے والی جامع مسجد سے حاصل کی۔ اس کے بعد مڈل اور میٹرک کے امتحانات گورنمنٹ اسلامیہ اسکول گئی سے پاس کیے۔ انھوں نے 1986ء میں میٹرک کا امتحان ہائی فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔ اس کے بعد ایف ایس سی ( نان میڈیکل) کرنے کے لیے گورنمنٹ کالج آف سائنس فیصل آباد چلے گئے۔ جہاں سے انھوں نے 1989ء میں انٹرنس کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔ اس کے بعد بی۔ ایس سی کی ڈگری 1993ء میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج فیصل آباد سے حاصل کی۔ اس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے پنجاب یونیورسٹی لاہور چلے گئے جہاں سے انھوں نے فزکس میں ماسٹر نہ کیا۔ ایم۔ ایں۔ سہی فرسٹ کی یہ ڈگری انھیں 1998ء میں تفویض کی گئی۔

گلزار ملک کو مطالعہ کا شوق چونکہ بچپن ہی سے بہت زیادہ تھا اس لیے انھوں نے بہت سی کتابیں کم عمری میں پڑھ لی تھیں۔ انھوں نے بہت جلد لکھنا بھی شروع کر دیا۔ گلزار ملک کی ادبی زندگی کا آغاز تب ہو گیا تھا جب انھوں نے اپنا پہلا افسانہ ”برفیلا دور لکھا اور وہ میگزین میں شائع ہو گیا۔ برفیلا دور“ لکھنے کے بعد گلزار ملک نے باقاعدہ طور پر اپنے اس ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ان کی پہلی افسانوی کتاب ”آزادی کے لیے ایک مزدور کی موت“ شائع ہوئی۔

گلزار ملک کی یہ کتاب افسانوں پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد گلزار ملک کے دوسرے افسانوی مجموعے ”آگ“ اور ”اندھوں کی بستی میں محبت“ شائع ہوئے۔ اسی دوران گلزار ملک افسانے کے ساتھ ساتھ ناول کی طرف بھی مبذول ہوئے۔ صدی کی آخری محبت ”ان کا پہلا ناول ہے۔ جب کہ دوسرا ناول“ گمشدہ میراث ”ہے۔ تیسرا ناول مٹی کے خدا ابھی حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ آپ کا پنجابی افسانوی مجموعہ“ کڑی جہڑی ندی سی ”کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ جبکہ ناول“ دیوانے کا خواب اور برباد ہوتی دنیا زیر طباعت ہیں۔ مختصر کہانیوں کی کتاب شہر زاد ”ایک سو ایک کہانیوں مشتمل ہے جو ابھی طباعت کے مراحل میں ہے۔

آپ کے افسانے نہ صرف ملک کے تمام قابل ذکر ادبی جرائد کی زینت بنتے رہتے ہیں بلکہ فیس بک پیچ ”داستان“ کے ذریعے اردو اور تراجم کی صورت میں دنیا کی دوسری زبانوں میں سوشل میڈیا پر پڑھے جا رہے ہیں۔ جس سے آپ کی عالمی سطح پر پہچان بنی ہے۔

گزار ملک ان دنوں پنجابی مجلہ ”جھاگ“ کی ادارت کرتے ہیں اور اردو لٹریری میگزین ”الکلام یا سمیں لٹریری فارم اور ادبی تنظیم“ تمثیل گر ”سے وابستہ ہیں۔

تصانیف
گلزار ملک کی تصانیف میں درج ذیل اصناف شامل ہیں :
افسانوی مجموعے
·آزادی کے لیے ایک مزدور کی موت 2001، ہم خیال باشرہ ال 2006، مثال پبلشر د، فیصل آباد
· ”اندھوں کی بستی میں محبت، 2011ء، مثال پبلشر ن، فیصل آباد
·گرتے پیڑوں کی سرگزشت 2018، کتاب پبلی کیشن، لاہور ”محبت، سمندر اور وہ 2018ء، بک ٹائمز، کراچی
پنجابی افسانوی مجموعہ
·کڑی جہڑی ندی سی 2008ء
ناول
·صدی کی آخری محبت، 2015، فکشن ہاؤس، لاہور
·گمشدہ میراث2020، فکشن ہاؤس، لاہور مٹی کے خدا، 2023، مثال پبلشرز، فیصل آباد
زیر طباعت تصانیف
· ”دیوانے کا خواب“
· ”برباد ہوتی دنیا“
· ”شہر زاد“
گمشدہ میراث ”کا موضوعاتی مطالعہ
تصوف

تصوف ایک ایسا علم ہے جو روح میں بالیدگی پیدا کرتا ہے اور مخلوق کو خالق کائنات سے قریب کرتا ہے۔ روحانیت یا تصوف کے راستے کا مسافر باطنی کیفیات اور مشاہدات سے اللہ کو دیکھ لیتا ہے اور اسے اللہ سے ہمکلامی کا شرف نصیب ہو جاتا ہے۔ محبت، توحید، تقویٰ اور عرفان نفس، تصوف کی بنیاد ہے۔ تصوف ان کیفیات کا علم ہے جن کے ذریعہ نفس کا تزکیہ، اخلاق کا تصفیہ اور ظاہر و باطن کی تعمیر ہوتی ہے، تا کہ انسان ابدی سعادت حاصل کر سکے۔

ناول ”گمشدہ میراث میں بھی تصوف کا موضوع بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ خود گلزار ملک بھی تصوف کے قائل نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان جو کچھ بھی ہے یا دنیا میں اسے جو کچھ بھی ملتا ہے، وہ اسے عطا ہوتا ہے، نہ کہ وہ کماتا وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص ہو، چاہے وہ یقین رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، اس کے اندر دو پہلو ہوتے ہیں : ایک رومانیت کا اور دوسر اروحانیت کا اور ان دونوں چیزوں سے کوئی بھی جدا نہیں ہے۔ وہ اپنے ناول میں بھی عبد اللطیف بجاڑ جیسے صوفی کا ذکر کرتے ہیں اور گمشدہ میراث“ کی کم مدت میں تکمیل پر ان کے شکر گزار ہوتے ہیں۔

گمشدہ میراث ”میں ہمیں جابجا تصوف کا پہلو نظر آتا ہے۔ ایک لوہار کا اولیا بن جانا کوئی عام بات معلوم نہیں ہوتی۔ اوہار اور اولیا کے درمیان ایک سفر ہے اور وہی تصوف ہے۔ لوہار جب گھر سے نکلتا ہے تو وہ ایک عام سا لوہار ہوتا ہے۔ لیکن دوران سفر وہ محبت، تقویٰ اور عرفان ذات جیسے مراحل سے گزرتا ہے جو کہ تصوف کی بنیاد ہیں۔ اس طرح وہ یہ سفر کرتے ہوئے اور اپنے مقصد کے تعین کے لیے جد و جہد کرتے ہوئے تصوف کی منزل تک پہنچتا ہے اور اپنے مقصد میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔

مصنف کا بنیادی مقصد ہی لوہار کو تصوف کی منزل تک پہچانا ہے۔ اس لیے وہ ناول کے شروع میں ہی اس کے لیے ایسے اسباب بنانا شروع کر دیتا ہے جو اسے اشاروں اور کنایوں میں اس کے اصل مقصد اور منزل کی طرف جانے دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب لوہار اپنے احاطے میں خزانہ تلاش کر کر کے تھک جاتا ہے، لیکن اسے نہیں ڈھو نہ پاتا تو اس وقت مصنف اس کی ملاقات ایک بوڑھے شخص سے کرواتا ہے جو اسے اس کے مقصد اور منزل کے متعلق چاہتا ہے۔

اقتباس ملاحظہ کیجیے :

” دنیا کی ان بوسیدہ اشیا اور نقش میں کہاں ہے خزانہ؟ یہ صرف دنیا ہے دوست۔ صرف دنیا۔ جسے تم ڈھونڈ رہے ہو اور بے کار ہلکان ہور ہے ہو، وہ یہاں کہاں۔ ؟“

ناول میں تصوف کا موضوع جابجا ملتا ہے۔ مصنف کا مقصد لوہار کو روحانیت کے اعلیٰ درجے تک پہنچاتا ہے اور اسے اس کے باپ (جانے لوہار) کی طرح اولیا بنانا ہے تاکہ وہ اپنی روایات کو بر قرار رکھ سکے۔ لوہار کا سفر اسے تصوف کی پہچان کروا دیتا ہے۔ جب لوہار گھر پہنچتا ہے تو وہ پہلے جیسا عام سا لوہا بلکہ وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ نقش کو پڑھ سکتا ہے۔ وہ نقش جس کو وہ ایک بڑے عرصے تک نہیں سمجھ سکا تھا۔ اب وہ ہر شے کو پڑھ سکتا تھا حتی کہ کسی کے خیالات بھی اس سے پوشیدہ نہیں تھے۔

انسان دوستی

انسان دوستی یا انسان پسندی وہ نظام یا فکر و عمل کا مسلک ہے جس میں انسانی اور دنیاوی مفادات حاوی ہوتے ہیں۔ ادب میں انسان دوستی کا مطلب انسانی محبت، حقوق انسانی کی حمایت، انسانی فلاح و بہبود کو مقصد حیات سمجھنا اور مذہب انسانیت کو فروغ دینا ہے۔ اس کا مقصد قوموں کو انسانی صفات سے متصف کرنا ہے کیونکہ انسان کی خدمت ہی ذریعہ نجات ہے۔ انسان دوستی ادب میں عقلیت پسندی اور معقولیت پر مبنی ہے۔ یہ صرف جذبات کا نام ہی نہیں بلکہ جابر کے خلاف لڑنا سکھاتی ہے۔

ناول ”گمشدہ میراث“ میں بھی انسان دوستی کا موضوع واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ناول میں انسان دوستی ہی بنیادی موضوع ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ”لوہار“ انسان دوستی کے طفیل اولیا کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ سے زیادہ دوسرے انسانوں کو مقدم رکھتا ہے۔ اس کی وجہ اس کے والدین بھی تھے کیونکہ اس کے والدین نے بھی اسے یہی سبق پڑھایا تھا اور اسی راہ پر چلنے کا حکم دیا تھا۔ لوہار کا والد ”جانا لوہار“ بھی ایک نیک دل انسان تھا۔ اس نے بھی اپنی ساری زندگی ایمانداری اور لوگوں کی خدمت میں گزاری اور نانگالوہار بھی اسی طرح اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتا رہا۔

ناول میں اکثر ایسے واقعات ملتے ہیں جب نانگے لوہار نے اپنے آپ کو مشکل میں ڈال کر اجنبی لوگوں کی مدد کی۔ وہ لوگ جنھیں وہ اس سے پہلے نہیں جانتا تھا اور جن سے اسے کوئی سروکار ہی نہیں تھا۔ مثال کے طور پر جب وہ درگاہ سے نکل کر راستوں پر بھٹک رہا ہوتا ہے تو ایک اجنبی کی مدد وہ کچھ اس طریقے سے کرتا ہے :

” کنارے پر موجود لوگ انتہائی پریشانی میں خوف سے لرز رہے تھے۔ سانپ اجنبی مددگار کو بھی نقصان پہنچا سکتا تھا۔ آخر کار لوہار نے اپنی ساری طاقت مجتمع کر کے جگہ پر ہاتھ ڈالا۔ سورج قریب قریب ڈوبنے کو تھا۔ سانپ اپنی پوری قوت سے اس کی جانب لپکا۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہاں اس لڑکے آنکھوں نے منظر دیکھا، جو ہمیشہ کے لیے اس کے ذہن میں نقش ہو گیا۔ اسے اس پر یقین نہ آیا کہ کوئی انسان اتنا دلیر ہو سکتا ہے کہ وہ بہتے دریا اور شوکتے ہوئے خونی اجگر سے بیک وقت برسر پیکار ہو جائے، ایک ایسے انسان کے لیے جسے وہ جانتا تک نہ ہو۔“

لوہار ہمیشہ دوسرے انسانوں کی مدد کرتا ہے بغیر کسی لالچ اور ہوس کے۔ ایسے مقامات بھی دکھائے گئے ہیں جہاں لوہار کی صفت کا دوسرے لوگ نا جائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جیسے کہ ساؤوان جیسا آدمی لوہار سے نقش حاصل کرنے کے لیے اس کی نرم دلی اور انسان دوستی کو استعمال کرتا ہے۔ جب ساڈوان کسی بھی طرح لوہار سے نقش حاصل نہیں کر سکتا تو پھر وہ لوہار کے سامنے ایک مظلوم عورت کو قتل کرنے کا بہانہ کرتا ہے تاکہ اس سے نقش حاصل کر سکے۔

اقتباس ملاحظہ کیجیے :

” چلو اس طرح نہیں تو دوسری طرح ہی صحیح، ایک کوشش اور کرتے ہیں۔ اجنبی! میں جانتا ہوں کہ تم جیسے سارے لوگ نرم دلی اور انسان دوستی نامی متعدی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں، ایسا مرض جس کا کوئی علاج نہیں۔ جتنا چاہو، بھلے مار پیٹ کر لو کچھ نہیں کہیں گے۔ لیکن جب خنجر کسی انسان کی گردن کے سامنے آئے گا تو فور آپکنے لگیں گے اور زبان چل نکلے گی۔

لوہار دوسرے انسانوں کی جان بچانے کے لیے اپنی قیمتی سے قیمتی شے قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ وہ نقش جو اس کا مقصد تھا اور اس کو حل کر لیتا اس کی منزل تھی۔ وہ ایک عورت کی جان بچانے کے لیے سادوان جیسے ہوس پرست آدمی کے حوالے کر دیتا ہے۔ کیونکہ اسے جس بات کا سبق دیا گیا ہو ہے، وہ نیکی تھا کہ دوسروں کے لیے جینا ہی زندگی ہے۔

دراصل پورے ناول میں انسان دوستی غالب نظر آتی ہے کیونکہ لوہار کا سفر پر نکلنا، اس کی ر مسلسل، اس کی محنت اور کوشش صرف ایک انسان کی مدد ہی ہوتی ہے۔ وہ خزانہ اپنے لیے تلاش نہیں کر رہا ہو تا بلکہ کسی دوسرے انسان کے لیے تلاش کر رہا ہوتا ہے، تاکہ وہ اسے ڈھونڈ کر اس کے حقیقی اور اصل حق دار کے حوالے کر سکے۔ اس کا اصل مقصد انسانیت کی خدمت ہی ہوتا ہے۔

جہد مسلسل

اپنی منزل اور مقصد کو پانے کے لیے مسلسل محنت اور کوشش ضروری ہے۔ انسانی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے، جن لوگوں نے بھی اپنے ہدف کے حصول کے لیے مسلسل محنت کی، اللہ تعالیٰ نے بالآخر انھیں منزل پر پہنچا دیا۔ لیکن جو لوگ راستے کی مشکلات، پریشانیوں اور کٹھن راستوں سے دلبر داشتہ ہو گئے، وہ لوگ منزل مقصود تک نہ پہنچ سکے۔ کوئی بھی انسان ہو، وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جب تک مسلسل محنت نہیں کر تا تب تک وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

کامیابی کے لیے جہد مسلسل ضروری ہے۔ جو لوگ راستے کی مشکلات سے گھبرا جاتے ہیں یا ہمت ہار جاتے ہیں، وہ لوگ منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتے۔ زندگی نام ہی جہد مسلسل کا ہے۔ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو جو بھی عظیم لوگ ہمیں نظر آتے ہیں، ان کے پیچھے بس ایک ہی قوت کار فرما ہوتی ہے اور وہ مسلسل کوشش ہوتی ہے۔ مسلسل محنت اور کوشش سے ہی انھوں نے اپنے مقصد کو پایا اور دنیا کے نقشے پر ابھرے۔ اسی طرح کوئی عام سا انسان ہی ہو، اگر وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ بھی با ہمتی اور قوی ارادے کے ساتھ جہد مسلسل کرے گا، تو تب ہی وہ اپنی منزل کو پا سکے گا۔

گمشدہ میراث ”میں بنیادی طور پر جو موضوع ملتا ہے وہ جہد مسلسل ہے۔ ناول میں لوہار کا کردار مسلسل جد و جہد کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اپنے مقصد کو پانے کے لیے دو ہر طرح کی تکالیف برداشت کرتا ہے۔ راستے کی مشکلات سے گھبراتا نہیں ہے اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ لوہار خود کو ہمیشہ با ہمت رکھتا ہے۔ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ سفر کے دوران کئی دفعہ اس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن دو پھر سے ہمت کرتا ہے اور تلاش جاری کر دیتا ہے۔ اسی طرح مستقل مزاجی اور جہد مسلسل سے آخر کار وہ اپنی منزل پا لیتا ہے۔

لوہار کی اس محنت کا عمل تب شروع ہوتا ہے جب وہ اپنے احاطے سے خزانہ تلاش کرنے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ اس بات کی ضمانت کے بغیر کہ خزانہ وہاں موجود ہے بھی یا نہیں، وہ مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے۔ دن کے وقت دوسرے کام اور رات میں خزانے کی تلاش اس کے لیے ایک تھکا دینے والا عمل ہے لیکن وہ پھر بھی باہمت رہتا ہے۔

اقتباس ملاحظہ کیجیے :

” ہر رات بغیر کسی وقفے کے وہ کھدائی کا کام جاری رکھے ہوئے تھے، لیکن وہ خزانے تک نہ پہنچ سکے۔ لوہار ارادے کا پکا تھا اس لیے اس نے ہمت نہ ہاری۔ یہ کام اگلی رات، پھر اس سے اگلی رات اور اس سے بھی اگلی رات چپکے سے جاری رہا اور یوں ان گنت راتیں گزر گئیں۔ اب لوہار دن کے وقت اپنے احاطے میں کام کرتا اور رات بھر زمین پر جھکا کھودے ہوئے گڑھے دیکھتا۔ کام سخت محنت طلب تھا لیکن لوہار نے ساری عمر سخت کام میں ہی جی لگایا تھا اس لیے اس نے ہمت نہ ہاری۔“

اس طرح لوہار کا یہ سفر آگے بڑھا اور مقصد کو پانے کے لیے اپنی جان کی پروا کیے بغیر، اپنی وفا شعار بیوی اور بچے کو چھوڑ کر وہ اپنے گھر سے نکل پڑا۔ راستوں کی بڑی بڑی رکاوٹوں کو اس نے عبور کیا۔ وہ سفر کرتا رہا۔ سفر کے دوران لوہار کے ساتھ معمول سے ہٹ کر کچھ اور واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ کبھی وہ اجگر کو مارتا ہے، کبھی ساؤوان کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور کبھی کنویں میں پھنس جاتا ہے۔ لیکن ان سب واقعات کے باوجود وہ اس چیز کو نہیں بھولتا کہ وہ کس مقصد کے لیے گھر سے نکلا ہے اور کی منزل کیا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک طویل سفر ہے اور اسے منزل تک پہنچنے کے لیے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

اقتباس ملاحظہ کیجیے :

”ہاں اس کے بغیر کچھ نہیں، یقین ہی سب کچھ ہے۔ ہر صبح جاگ کر خود سے کا چھتا ہوں، پچھلے روز اپنی منزل کی جانب کتنے قدم چلا اور آج مجھے کیا کرنا چاہیے کہ میں اسے پالوں۔ جانتا ہوں یہ جہد مسلسل ہے، آہستہ آہستہ لیکن تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنا۔ اور میں اس وقت تک اسے جاری رکھوں گا جب تک زندہ ہوں اور اپنی منزل تک پہنچ نہیں جاتا۔ میں نے زندگی کا یہی طریقہ اپنایا ہے اور یہ بہت اچھا ہے۔ مجھے اس سے پیار ہے، انجام چاہے کچھ بھی ہو۔“

لوہار کا یہ سفر تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے، وہ جنگلوں اور صحراؤں کا سفر کرتا ہے۔ قید و بند اور تشدد برداشت کرتا ہے لیکن اپنے مقصد کو پیچھے نہیں چھوڑتا۔ ماریہ جیسی خوبصورت لڑ کی بھی اسے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی اور اس طرح ایک دن وہ مسلسل کوشش، محنت، ریاضت اور جدوجہد سے اپنی منزل پا لیتا ہے۔

اقتباس ملاحظہ کیجیے :

”آخر کار کئی شب و روز کی محنت کے بعد لوہار اپنے کمرے سے نکلا۔ اس وقت اس کا چہرہ چاند کی مانند چمک رہا تھا اور ایک گہری آسودگی کے باعث اسے نظر بھر کر دیکھنا مشکل دکھائی دیتا تھا۔ میں نے راز پا لیا۔ میں اب تعویز کو پڑھ سکتا ہوں۔“

یہ تعویز ( نقش) ہی وہ راز تھا جس کو ڈھونڈنے کے لیے، جس کو پانے کے لیے لو بار نے اتنا طویل اور مشکل ترین سفر کیا تھا اور آخر کار اس کا سفر رنگ لے آتا ہے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

معاشرتی اقدار کی بازیافت

معاشرتی اقدار کسی بھی معاشرے کی شناخت اور پہچان ہوتے ہیں۔ ہر معاشرے کی بنیاد کچھ روایات سے مل کر بنتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ اچھے اصولوں اور عادات سے دور ہو تا جا رہا ہے۔

ناول گمشدہ میراث میں بھی یہ موضوع ہمیں نظر آتا ہے۔ مصنف معاشرتی اور سماجی اقدار کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے، جو زندگی گزار کے ہم نے حاصل کیا ہے اور جو ہماری اجداد کی قدریں ہیں، ان سب کو ہم بھولتے جا رہے ہیں اور ان سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

گلزار ملک ایک انٹرویو میں معاشرتی اقدار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

” جس سماج میں ہم جی رہے ہیں، اس کی کوئی تو بنیاد ہے اور اگر اس بنیاد کے مخالف پوری عمارت ہو جائے تو اس سماج کا کیا بنے گا۔ ہماری نسلیں اپنی اقدار کو صحیح طریقے سے اگلی نسلوں تک منتقل نہیں کر سکیں۔“

اس چیز کو گلزار ملک نے گمشدہ میراث میں موضوع بنایا ہے۔ مصنف نہیں چاہتا کہ ہماری نئی نسلیں اپنی اقدار کو بھول جائیں۔ اس لیے وہ ناول میں معاشرتی اقدار کی طرف دوبارہ آتے ہیں۔ معاشرتی اقدار کی بازیافت ہمیں نمایاں طور پر ناول میں نظر آتی ہے۔ وہ اقدار جنھیں ہمارا معاشرہ اور ہم لوگ بھول چکے ہیں، مصنف نے ان اقدار کے دوبارہ حصول کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر جانے لوہار نے کس طرح ایک شخص کی امانت کے سلسلے میں دیانت داری اور ایمان داری کا مظاہرہ کیا اور وہ امانت اس کے حقیقی وارث تک پہنچانے کے لیے اپنے آپ کو ہلکان کر لیا۔

اقتباس ملاحظہ کیجیے :

”نانگا لو ہار اس بات کو کبھی نہ جان پاتا اگر وہ خود اس واقعہ کا شاہد نہ ہوتا۔ جب اس کے باپ نے کئی دن کچھ کھائے ہے بغیر، اس امانت کا پہرہ دیتے ہوئے گزار دیے تھے جسے اس کی دکان کے سامنے کوئی اجنبی گرا بیٹھا تھا۔ وہ بالکل ایسی ہی شام تھی جس کا سامنا نانگا خود ایک پر اسرار اجنبی کی صورت کر چکا تھا، جب کوئی شخص ایک تھیلی احاطے کے سامنے گرا بیٹھا۔ اس دن شام ڈھلے روز مرہ کے کام انجام دینے کے بعد نانگے کا باپ جان لوہار احاطے کا پھاٹک بند کرنے لگا تو جب اس کی نگاہ اس تھیلی پر گئی تھی۔“

اسی طرح لوہار بھی انھیں اقدار کو اپنا تا ہوا نظر آتا ہے جو لوہار کے باپ نے اپنائی تھیں۔ جس طرح لوہار کے باپ نے بھی کسی کی امانت کی حفاظت کرنے کے لیے اپنا کھانا پینا بھی ترک کر دیا تھا، بالکل اسی طرح لوہار (نانگا) بھی اجنبی کا خزانہ واپس لوٹانے کے لیے بے قرار ہو گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ جس طرح اس کے پرکھوں نے ہمیشہ ایمان داری اور دیانت داری کا مظاہرہ کیا تھا وہ بھی اس پر قائم رہے۔ اسی لیے اس اجنبی کی امانت تلاش کر کے اسے واپس لوٹا دے اور سکون کا سانس لے۔ اسی طرح وہ بزرگوں سے بھی سیکھتا اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اقتباس ملاحظہ کیجیے :

”تبھی اس نے سیکھا کہ بڑے لوگ اپنی راست سوچ کے باعث ہی بڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ ان بزرگوں کی باتوں کو بغور سنتا اور پھر تنہائی میں ان پر غور کرتا۔ آہستہ آہستہ ان باتوں سے اسے روشنی پھوٹتی محسوس ہونے گئی، جیسے یہ کوئی اور ہی دنیا ہو، اس کی جانی پہچانی دنیا سے جدا اور نرالی۔“

لوہار خزانے کے بارے میں اسی طرح پریشان ہوتا ہے جس طرح اس کا باپ ( جانا لوہار ) کسی کی امانت کے بارے میں ہوتا ہے۔ وہ خزانہ اس لیے نہیں ڈھونڈنا چاہتا کہ وہ اسے اپنے رکھ سکے، بلکہ وہ اس لیے ڈھونڈ رہا ہوتا ہے تا کہ خزانہ ملنے پر وہ اسے اس کے مالک کو واپس دے سکے۔

مثال کے طور پر وہ بوڑھے فقیر سے کچھ اس طریقے سے بات کرتا ہے :

” آپ نے تو لمحوں میں ہی جان لیا بابا۔ اب یہ بھی بتا دیجیے کہ میں اسے کہاں سے ڈھونڈوں تا کہ اسے واپس مالک تک پہنچا کے سرخرو ہو سکوں۔“

اسی طرح لوہار پورے ناول میں اس چیز کے لیے بے تاب نظر آتا ہے کہ وہ جلد از جلد امانت ڈھونڈ کر اس کے مالک کو واپس لوٹا سکے۔ بلکہ وہ تو سفر ہی اس وجہ سے کرتا ہے تاکہ وہ اس اجنبی کو تلاش کر کے اس بوسیدہ نقش کا راز معلوم کرے اور خزانہ ڈھونڈ کر اسے مالک تک پہنچا سکے۔ یہی وہ سماجی اقدار ہیں جن کی بازیافت ہمیں اس ناول میں دکھائی دیتی ہے اور مصنف ان اقدار کو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل سے اس بوسیدہ کرتا ہے۔

اس کے علاوہ ناول کے ضمنی موضوعات میں عرفان ذات، میراث، معاشرے میں عورت کا استحصال اور مشرقی عورت کی محبت جیسے موضوع شامل ہیں۔

گلزار ملک کا نام فیصل آباد میں افسانے اور ناول کے لحاظ سے بہت جانا پہچانا ہے۔ گلزار ملک کا شمار فیصل آباد کے معروف فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ایک فطری کہانی کار ہیں۔ ان کی تحریریں شرق و غرب کے جدید رجحانات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کی تخلیقات بر صغیر کے تمدن، تہذیب و ثقافت کے عمیق پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں جو ان کے ادب کے وسیع تر مطالعے اور وابستگی کا اظہار یہ کہی جا سکتی ہیں۔ گلزار ملک کے فکر و فن کی عمومی جائزہ آسان نہیں کیونکہ وہ زبان کی سطح پر بھی کہانی پن میں اور کردار نگاری کے سلسلہ میں بہت سے تجربات کرتا دکھائی دیتا ہے۔

یوں وہ اپنے ہم عصر ادیبوں میں انفرادی اور ایک الگ پہچان رکھنے والا تخلیق کار ہے۔ علمی سطح پر الفاظ کا چناؤ، جملوں کی بنت، کرافٹنگ، کردار نگاری، ماحول اور جزئیات نگاری، سمبل ازم، دھرتی سے وابستگی، اجداد کے ادبی ورثے سے آگاہی اور جدید رجحانات ان کی تحریروں کا خاصہ ہیں۔ اتنی ساری خوبیوں کا ایک ہی جگہ یکجا ہو جانا بذات خود ایک طرح سے تعجب انگیز ہے۔ خصوصاً شرق و غرب کے جدید رجحانات اور جملہ جزئیات پر نگاہ رکھنا، نادر و بدیع کام ہے جو ان کے ناول ”صدی کی آخری محبت“ کا خاصہ ہے۔ ان کے ہاں فطرت کی بو قلمونی اور مادی رنگارنگی کی تصویریں موجود ہیں تو وہیں اسلامی علمی ورثہ، تصور عقل و عشق اور تصوف کی حقیقی روح کا منظر نامہ بھی مقصود ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “گلزار ملک کا ناول: ”گمشدہ میراث“

  • 04/09/2023 at 8:23 شام
    Permalink

    ماشاءاللہ بہت خوب 🤍🤍🤍
    کیا کمال آرٹیکل ہے

Comments are closed.