نوجوان نسل پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات
پہلے کمپیوٹر پھر انٹرنیٹ اور پھر موبائل فون کی ایجاد نے دنیا کو گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کا استعمال اتنا بڑھ چکا ہے کہ یہ زندگی کا جز و لازم بن چکا ہے، شہروں اور دیہاتوں میں بکثرت استعمال ہو رہا ہے، خواندہ اور ناخواندہ اپنے اپنے طریقے اور ضرورت کے مطابق اس سہولت کا استعمال کر رہے ہیں اور اس کی کرامات سے مستفیض ہو رہے ہیں۔ یوں تو سوشل میڈیا کی تخلیق کا بنیادی مقصد مختصر وقت میں زیادہ سے زیادہ افراد تک اپنا پیغام پہنچانا تھا، اس مقصد میں کامیابی بھی ملی اور اب کوئی بھی خبر یا واقعہ محض چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، اور دنیا کے بیشتر ممالک تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ جس کی شہرت کے منفی یا مثبت ہونے کا سبب اس خبر یا واقعہ کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں سوشل میڈیا اپنے استعمال کے لحاظ سے مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جیسے، سوشل نیٹ ورکس مثلاً فیس بک، ٹویٹر، لنکڈ ان یہ وہ نیٹ ورک ہیں جہاں لوگ اپنا تفصیلی تعارف اور دیگر سیاسی، سماجی اور کبھی کبھی خانگی معاملات شیئر کرتے ہیں۔ اس ہی طرح مائیکرو بلاگنگ پورٹلز ہیں جیسے اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جہاں لوگ اپنی ویڈیوز اور دیگر تفریحی اور کاروباری سرگرمیاں شیئر کرتے ہیں، اسی طرح ویڈیو شیئر کیلے یو ٹیوب اور چیٹنگ کے لئے واٹس ایپ بہت مقبول ہیں اور بڑے پیمانے پر استعمال بھی کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ کچھ ایسی گیمنگ سائٹس بھی ہاں جہاں پر مختلف شہروں یا ملکوں کے لوگ مل کر ایک ساتھ کھیل سکتے ہیں۔
اس وقت ملک کی 85 % آبادی کو ٹیلی کوم سروسز میسر ہیں، گزشتہ پانچ برسوں میں مجموعی براڈ بینڈ سبسکرپشن میں 175 % اضافہ ہوا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ جسے دیکھو سوشل میڈیا پر مصروف نظر آتا ہے۔ دنیا بھر میں انٹرنیٹ تفریح کے ساتھ ساتھ کاروبار اور مثبت معاملات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، مگر ہمارے ہاں باقاعدہ اداروں کو چھوڑ کر انفرادی حیثیت میں لوگوں کی عمومی اکثریت انٹرنیٹ کو صرف خرافات کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ اور اب کیفیت یہ ہے کہ باوجود تمام تر تاقی پسندانہ سوچ اور جدت پسندی کے آج کل علامہ اقبال کا یہ شعر مسلسل ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے۔
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
وجہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ آہستہ آہستہ لوگوں کی نفسیات بنتا جا رہا ہے، اس کے استعمال نے بالخصوص سوشل میڈیا نے نئے اور پرانے، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ، شہری اور دیہاتی تمام لوگوں کی تفریق مٹا دی ہے، سوشل میڈیا پر دیکھیں تو پوری قوم کے روئیے قریب قریب یکساں نظر آتے ہیں۔ لوگوں کے اذہان اور ان کے رویوں پر سوشل میڈیا کا بے تحاشا اور بے دریغ استعمال بے شمار منفی رویوں کو جنم دے رہا ہے۔ جن کی وجہ سے دنیا میں موجود برائیوں کے نئے نئے ورژن متعارف ہو رہے ہیں اور ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے پھل پھول رہے ہیں۔
جس کی بنیادی وجہ کہیں تعلیم کی کمی اور کہیں تربیت کی کمی ہے، لوگ کم علمی کی وجہ سے بنا سوچے سمجھے سوشل میڈیا پر پھیلتے کسی بھی ٹرینڈ کو اپنا لیتے ہیں اور وہ باوجود اپنی تمام تر قباحتوں کے ہمارے معاشرے میں پروان چڑھنا شروع ہو جاتا ہے، اور ہو رہا ہے۔ جس کے منفی نتائج عام انسان کی زندگی پر بہت تیزی سے مرتب ہو رہے ہیں۔ تیزی سے پھیلتی ان برائیوں میں سر فہرست چند مندرجہ ذیل ہیں
1۔ فحاشت : فحش بینی و عملی فحاشی کا پھیلاؤ
2۔ نوسر بازی: دھوکہ، فریب کاری،
3۔ بلیک میلنگ
4۔ اختلاط مرد و زن
لہذا لوگ بے دریغ و بلا تکلف بہت ساری اخلاقی بے ضابطگیوں میں ملوث ہو رہے ہیں، جس کے منفی اثرات معاشرے پر مسلسل مرتب ہو رہے ہیں۔ جو نئی نئی برائیوں کو جنم دینے کا سبب بن رہے ہیں، مثال کے طور پر یہ ٹرینڈ عام ہے کہ کسی کی غیر اخلاقی ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کر دینا، دنیا بھر میں موجود فحش ویب سائٹس پر موجود غیر اخلاقی مواد کو دیکھنا اور پھر اسے اپنی زندگی میں بھی استعمال کرنے کی کوشش کرنا، جیسے کم عمر بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر بیچنا۔ معاملہ اب یہاں تک آ پہنچا ہے کہ ڈاکو مغویوں کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں جس سے خوب دہشت پھیلتی ہے۔ لڑکیاں بڑی تعداد میں قانونی اور غیر قانونی طور پر سرحدیں پار کر رہی ہیں، نتائج سے بے خبر یہ سوشل میڈیا کے دیوانے ہر حد کو پار کیے جا رہے ہیں، یوں تو بہت سی لڑکیوں نے پاکستان سے بھارت اور بھارت سے پاکستان صرف سوشل میڈیا پر دوستی کی وجہ سے سرحدیں عبور کیں اور مشکلات برداشت کیں مگر ان میں ایک چار بچوں کی ماں جو بھارت جاکر بس گئی ہے یہاں تک کہ اس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے۔
اس کے اپنے بیان کے مطابق ان کا تعارف پب جی گیم کھیلتے ہوئے ہوا تھا جو بعد ازاں محبت میں بدل گیا اور اسے سرحد غیر قانونی طور پر سرحد بلکہ تمام حدیں پار کرنا پڑیں۔ بالکل اسی طرح ایک اور لڑکی جس کی عمر محض انیس سال تھی ممبئی پہنچ گئی تھی ان کا بھی قصہ تقریباً ملتا جلتا تھا، جسے بعد میں واہگہ بارڈر کے ذریعے واپس کیا گیا۔ اس کے علاوہ بدکاری و بداخلاقی کی تمام حدیں پار کی جا چکی ہیں۔ جو باقاعدگی سے ریکارڈ کی جاتی ہیں اور مختلف پورٹلز پر شیئر بھی کی جاتی ہیں۔ جن سے حوصلہ پاکر ہمارے بچے بچیاں بھی انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں اور اپنی زندگی برباد کر بیٹھتے ہیں۔ بہت ہی عام ہے کہ فیس بک یا کسی اور سوشل میڈیا پر کوئی کم عمر لڑکی آپ کو دوستی کی درخواست بھیجے، جیسے ہی آپ نے تسلیم کیا، یا تو وہ غربت کا رونا رو کر آپ سے امداد مانگے گی، یا وہ آپ کے ساتھ فحش گفتگو کر کے پیسے مانگے گی یا پھر وہ آپ کے ساتھ فحش ویڈیو کال کر کے پیسے کا تقاضا کرے گی، یہ صرف لڑکیوں عورتوں تک محدود نہیں ہے بظاہر معتبر نظر آنے والے لوگ آپ سے تعارف کے کچھ ہی دیر بعد آپ سے مختلف حیلوں بہانوں سے رقم کا مطالبہ کرنا شروع کر دیں گے، منع کرنے پر سخت برا منائیں گے اور کہیں گے کہ آپ نے انہیں دھوکہ دیا وغیرہ وغیرہ۔
بے شمار پیشہ ور خواتین اب سوشل میڈیا پر موجود ہیں اور ہر گھڑی گاہک کی تلاش میں لگی رہتی ہیں وہ بلا تفریق کسی کو بھی اخلاق باختہ تصاویر اور ویڈیو بھیج دیتی ہیں۔ جن کا شکار نوعمر بچے بچیاں بھی جاتی ہیں۔ نوسر بازی کا ایک بالکل الگ حصہ ہے جہاں سے لوگ آمدنی بڑھانے کے نت نئے طریقے بتاتے نظر آتے ہیں یا کوئی حکیم صاحب دیر نہ و پوشیدہ بیماریوں کا منٹوں میں نسخۂ اکسیر بتاتے نظر آتے ہیں۔ غرض یہ کہ جس کا جہاں داؤ چل رہا ہے چلا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں گھریلو و تجارتی صارفین انٹرنیٹ کے غیر اخلاقی استعمال پر پابندی لگائیں اور غیر معیاری و غیر اخلاقی ویب سائٹس کو دیکھنے پر پابندی عائد ہو جو با آسانی لگائی جا سکتی ہے۔ ورنہ قوم کا اخلاقی شیرازہ اس ہی طرح بکھرتا رہے گا۔


