یہ اقلیتی حقوق کا کمیشن بن رہا ہے یا مذہبی ادارہ؟
انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق 16 اگست کو جڑانوالا، فیصل آباد میں مقامی مسیحی برادری پر ہجوم نے وحشیانہ حملے کر کے کم از کم 24 گرجا گھروں، کئی چھوٹی عبادت گاہوں، بائیبلز اور درجنوں گھروں کو آگ لگائی اور لوٹ مار کی۔ قبرستان کی دیوار اور قبروں سے کتبے بھی توڑ ڈالے۔ مسیحی شخص پر تو ہینِ مذہب کے الزامات لگنے اور افواہیں پھیلنے کے بعد مسجد کے سپیکرز سے اعلانات کے ذریعے مسلمانوں کو کارروائی کرنے پر اکسایا گیا۔ جس کے باعث قصبے میں ہزاروں لوگ جمع ہو گئے اور پھر انھوں نے مسیحیوں کی عبادت گاہوں اور گھروں کو تباہ کرنے کی طرف رخ کیا۔ فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مطابق، ”اس شبہ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ یہ ہجوم بغیر سوچے سمجھے یا اچانک جمع نہیں ہوا بلکہ مقامی مسیحیوں کے خلاف وسیع تر مہم کا حصہ تھا“ ۔
باوجود یہ کہ آئینِ پاکستان شہریوں میں مساوات کی بات کرتا ہے، پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے کوئی ٹھوس ریاستی پالیسی نہیں ہے۔ ایسا کوئی قانونی قدم نہیں اٹھایا گیا جو خصوصاً اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہو۔ ایک خود مختار ادارہ جس کی مضبوط قانونی بنیاد ہو پاکستان کے پس ماندہ شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے آئینی ضمانتوں اور بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنا سکتا ہے۔ ایک آزاد اور موثر قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق (NCMR ) کا قیام جڑانوالا تشدد جیسے واقعات کو روکنے کی طرف ایک قدم ہو سکتا ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ جسٹس تصدق حسین جیلانی کے 2014 کے فیصلے کے مطابق ایک طاقتور کمیشن کے قیام کے ساتھ فیصلے میں دیے گئے دیگر چھ اقدامات پر عمل درآمد پسماندہ طبقات کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہیں۔
10 اگست کو تحلیل ہونے سے پہلے قومی اسمبلی اپنے آخری دنوں میں خصوصاً سرگرم رہی۔ اگست کے چند دنوں میں درجنوں بل پاس ہوئے۔ سیاسی مورخین، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکن اس عجلت پر حیران و پریشان تھے۔ انھوں نے قانون سازوں کو متنبہ کیا کہ وہ ایسی غلطیاں نہ کریں جو زیادہ تر مبصرین کی نظر میں تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم قومی اسمبلی کو ممکنہ برے نتائج کو جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور منتخب نمائندے ناقص قانون سازی کے حق میں ووٹ ڈالتے چلے گئے۔ پاس ہو نے والے بلوں پر تھوڑا سا بحث مباحثہ بھی نہیں ہوا۔ یہ ایک سنگین مسٗلہ ہے کیو نکہ عوام ان نمائندوں کو منتخب کرتے وقت ان پر گہرے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ منتخب نمائندوں کو اپنے قانون سازی کے حق کو مناسب شفافیت اور جواب دہی کے بغیر کبھی بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
جب پارلیمان سے بلوں کی بہتات کی منظوری دی جا رہی تھی تو 7 اگست کو قومی اسمبلی سے ایک بل ”کمیشن برائے اقلیتیں بل“ 2023، بھی منظور کیا گیا۔ سول سوسائٹی اور مذہبی اقلیتوں کے اس بل کے خلاف شدید تحفظات ہیں۔ 11 اگست، یومِ اقلیت، سے چند دن پہلے قومی اسمبلی سے یہ بل پاس کرنا سول سوسائٹی اور مذہبی اقلیتوں کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کو مسلسل نظرانداز کرنا ہے کیونکہ جب سے یہ بل ڈرافٹ ہوا ہے متعلقین اس پر اپنی سفارشات دے رہے ہیں۔ اقلیتی برادریوں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ کمیشن برائے اقلیتی حقوق دیگر انسانی حقوق کے قومی ادا روں کی طرز پر پارلیمان کے ایکٹ کے ذریعے قائم کیا جائے۔ لیکن قومی اسمبلی کا منظور شدہ یہ بل اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے حقیقی معنوں میں فعال، موثر، خودمختار اور وسائل سے لیس ادارہ نہیں بنا سکتا۔
تاریخی تناظر
1990 سے وفاقی وزارت برائے مذہبی امور کی جانب سے بنائے گئے ایڈہاک کمیشن برائے اقلیتی حقوق کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پالیسی اصلاحات اور اقلیتوں سے متعلق شکایات کے حل میں ناکام رہے ہیں جس کی بڑی وجوہات ان کی نا کافی قانونی بنیاد، محدود مینڈیٹ، وسائل کی کمی اور خود مختاری کا فقدان رہا ہے۔ اسی لئے 2014 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو یہ حکم دیا کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے لئے ایک قومی کونسل (کمیشن) بنائے۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ ”آئین اور قانون میں اقلیتوں کو فراہم کیے گئے حقوق اور تحفظات کے عملی ادراک اور ان کی نگرانی کے لئے ایک کمیشن قائم کیا جائے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اقلیتوں کے حقوق اور ر تحفظات سے متعلق پالیسی اصلاحات مرتب کر کے دینے کی اہلیت رکھتا ہو“ ۔ جہاں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو سراہا گیا وہیں ایک مربوط، اشتراکی اور جامع معاشرے کے قیام کے لئے سپریم کورٹ نے جن عملی اقدامات کا خاکہ پیش کیا، ان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سیاسی عزم کی بڑی حد تک کمی رہی۔ 2014 کے فیصلے کے پیشِ نظر ایک خودمختار قا نونی کمیشن جلدی بنانے کے لئے پارلیمان میں تین بل پیش کیے گئے لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ حکومت نے 2015 میں بیلم حسنین کے، 2015 میں ہی لال چند ملہی اور 2016 میں سنجے پر وانی کی طرف سے پیش کیے گئے بلوں پر شدید اعتراضات کیے ۔ حکومت نے کہا کہ وزارت برائے مذہبی امور ان تینوں پرائیویٹ بلوں کو اکٹھا کر کے ایک جامع بل تیار کرے گی لیکن یہ نہ ہو پایا۔
آخر کار 2018 میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) ، سنٹر فار سو شل جسٹس (CSJ) اور آئرس اینڈ سیسل چوہدری فاونڈیشن (ISCF) نے 2014 کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی۔ تو 5 مئی 2020 کو قومی اقلیتی کمیشن کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ پارلیمان کے ایکٹ کے ذریعے نہیں تھا بلکہ اسے وفاقی کابینہ نے قائم کیا۔ جس کے نتیجے میں یہ ایک خود مختار، قانونی ادارہ نہیں بلکہ ایک سرکاری ادارہ ہے۔ سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں 2021 میں عدالت کی جانب سے قائم کردہ ون مین کمیشن کی طرف سے ایک اچھا مسودہ تیار کیا گیا جس پر وزارتِ مذہبی امور نے رضامندی بھی ظاہر کی لیکن بعد میں اسے نظر انداز کر دیا گیا۔
حالیہ بل میں اہم مسائل
وزارت برائے مذہبی امور کی طرف سے بنایا گیا حالیہ بل انسانی حقوق کا ایک مضبوط ادارہ بنانے کے تقاضے پورا نہیں کرتا۔ سول سوسائٹی کی کچھ تنظیموں خصوصاً پیپلز کمیشن فار مائناریٹز رائٹس (PCMR) اور سنٹر فار سوشل جسٹس (CSJ) نے فروری 2023 میں قومی اسمبلی میں بل پیش ہونے کے فوراً بعد اس میں خامیوں کی نشاندہی کی۔ قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور، قومی اسمبلی کے سپیکر اور متعلقہ وزارتوں کو مکتوبات بھیجے گئے اور اس بات پر زور دیا گیا کہ وہ مجوزہ ترامیم پر غور کریں لیکن انھیں نظر انداز کر دیا گیا۔
قومی اسمبلی سے بل پاس ہونے کے بعد 8 اگست کو اپنے جاری کردہ ایک بیان میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے پیپلز رائٹس (JAC) نے بل کی دفعات کو اقوام متحدہ کے پیرس پرنسیپلز اور سپریم کورٹ کی ہدایات (SMC NO۔ 1 of 2014 ) سے متصادم قرار دیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے لئے ایک زیادہ مضبوط اور جامع قومی کمیشن بنانے کے لئے فوری اقدامات کرے۔
”ادارے کا نام اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی وکالت پر بنیادی توجہ کو یقینی بنانے کے لئے قومی کمیشن برائے اقلیت “ NCMکی بجائے ”قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق “ NCMRہونا چاہیے۔ یہ انسانی حقوق کے دیگر قومی اداروں (NHRIs) مثلاً نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) کی طرز پر ہو ”، پیپلز کمیشن فار مائناریٹز رائٹس (PCMR) کے چیئر پرسن پیٹر جیکب نے کہا۔
NCMR بل کی تیاری وزارت برائے مذہبی امور (MoRA) کے دائرہ اختیار اور اہلیت سے باہر ہے۔ اسے وزارت برائے انسانی حقوق (MoHR) کی طرف سے تیار اور پارلیمان میں پیش کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ ہے۔ دیگر تمام NHRIs قائم کرنے کے لئے بل (MoHR) کی طرف سے پیش ہوئے۔ اقلیتوں کے حقوق کا ادارہ تشکیل دیا جا رہا ہے نہ کہ مذہبی ادارہ۔
مذہبی تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے، چھوٹی مذہبی برادریوں کے لئے متناسب نمائندگی ہونی چاہیے، جس میں سکھوں کے لئے ان کی آبادی کے تناسب سے ایک سیٹ ہو۔ متنوع ترکیب کو پیش نظر رکھتے ہوئے چار ہندو اراکین میں سے دو اعلیٰ ذاتوں اور دو شیڈولڈ کاسٹ میں سے ہوں۔ علاقائی نمائندگی کو شامل کرنے کے لئے مسیحیوں کی چاروں سیٹوں میں سے ہر صوبے سے ایک ایک لی جائے۔
کمیشن میں تقرریاں صرف مذہب یا ذات کی شناخت کی بجائے میرٹ پر ہونی چاہیے کیونکہ کمیشن کا کردار انسانی حقوق کے ایک مضبوط ادارے کا ہو گا۔ اراکین کو انسانی حقوق کے محافظ کے طور پر کام کرنے کا تجربہ ہونا چاہیے۔
پیش کردہ بل میں احمدی برادری کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی حالانکہ انھیں اقلیت قرار دیا گیا ہے۔
تقرر یوں کے عمل میں پارلیمان کو مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے اور کمیشن کے احتساب کو یقینی بنانے کے لئے اسے اپن سالانہ رپورٹ صدرِ پاکستان کی بجائے پارلیمان کو پیش کرنی چاہیے۔
بل میں غیر سرکاری نمائندوں میں خواتین کی ایک تہائی رکنیت کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاہم حکومتی نمائندوں کے لئے اس معیار کا اطلاق نہیں کیا گیا۔
کمیشن کی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لئے اس میں حکومتی نمائندگی اور اثر و رسوخ کم سے کم ہونا چاہیے۔
اسلامی نظریاتی کونسل اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی کمیشن میں نمائندگی قطعاً بلا جواز ہے کیونکہ ان کا اس میں کوئی کر دار نہیں بنتا۔ یہ ادارہ اقلیتوں کے حقوق کا ایک آزاد کمیشن ہونا چاہیے۔
ایک ٹھوس سفارش یہ بھی ہے کہ NHRIsکے درمیان تعاون کو بڑھانے اور وسائل کا موثر استعمال کرنے کے لئے کمیشن برائے اقلیتی حقوق NCMR میں موجودہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوقNCHR، قومی کمیشن برائے وقار نسواں NCSW اور قومی کمیشن برائے حقوق اطفال NCRC سے ایک ایک نمائندہ شامل ہو۔
کسی بھی قانون کے نفاذ کے لئے وسائل کا مناسب مقدار میں میسر ہونا ضروری ہے اس لئے کے مسودے میں ہی وسائل کی دستیابی کے لئے واضح ہدایات ہونی چاہیے۔ مالیاتی خود مختاری کے لئے کمیشن کے لئے مناسب بجٹ مختص کرنا، انسانی حقوق کے اداروں کی حمایت کے لئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
خودمختار قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کی ضرورت
سول سوسائٹی خصوصاً سنٹر فار سو شل جسٹس اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے پیپلز رائٹس کی سینیٹرز کے ساتھ بروقت ایڈووکیسی کی وجہ سے سینٹ نے یہ بل ایجنڈا میں سے نکال دیا اور یہ بل سینٹ سے پاس نہیں ہوا۔ مندرجہ بالا کلیدی مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کو صحیح معنوں میں برقرار رکھنے والا ادارہ قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ امید ہے کمیشن برائے اقلیتی حقوق کابل جب منتخب قومی اسمبلی میں دوبارہ لایا جائے گا تو پارلیمان کے ارکان مذکورہ مسائل کے حوالے سے سنجیدہ نظرثانی کریں گے اور اقلیتوں کے حقوق کے لئے ایک خودمختار، موثر، وسائل سے لیس کمیشن پیرس پرنسیپلز اور سپریم کورٹ کی 2014 کی ہدایات کے مطابق تشکیل دیا جائے گا۔


