شوکت واسطی کی شاعرانہ جنت


میں وہ خوش بخت ہوں جسے زندگی میں بالکل الگ مزاج رکھنے والے کہہ لیجیے عام روش سے ہٹے ہوئے مگر اپنے فن میں ماہر لوگوں سے ملنا رہا ہے۔ انہیں محض اپنے فن میں ماہر کہنا شاید ایسی شخصیات کی توہین ٹھہرے کہ وہ جس فن سے وابستہ رہے اور عمر بھر رہے، اُس کی فضا میں ہی رہے ؛ وہ بھی یوں، جیسے مچھلی پانی میں رہتی ہے۔ گویا اُن کا جینا مرنا وہی تھا اور اسی سے ان کی زندگی کا اسلوب متشکل ہوتا تھا۔ انہی لوگوں میں ایک سید صلاح الدین تھے۔ وہی جو علمی اور ادبی دنیا میں شوکت واسطی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ جب میں اپنی ملازمت کی زنجیر میں بندھا شہروں شہروں گھومتا اسلام آباد پہنچ کر یہاں مقیم ہو گیا تھا تو جن شخصیات کے ٹھکانوں پر اوّل اوّل بیٹھنا نصیب ہوا، ان میں ایک انہی کا ٹھکانہ تھا۔

کہنے کو بلیو ایریا کے شان پلازہ میں گیارہ نمبر کا ایک کمرہ، ان کی بنائی ہوئی ادبی تنظیم ”بزم علم و فن“ کا دفتر تھا مگر یہ دفتر سے بڑھ کر تھا۔ میں اسے دفتر کی بجائے ٹھکانا کہہ رہا ہوں تو یوں کہ یہ مقام جس طرح کے معمولات کا مرکز تھا اُس نے دفتری فضا کو بے دخل کر دیا تھا اس کے لیے مجھے سنسکرت کا ستھان یا ٹھکانا ہی مناسب لگتا ہے کہ اس لفظ میں گھر، آستانہ، منزل اور ٹھہرنے کا مقام؛ سب معانی پائے جاتے ہیں۔ تو یوں ہے کہ جونہی ہمیں فرصت ملتی ہم وہاں جا بیٹھتے تھے۔ چائے پانی، جلیبیاں، پکوڑے اور شاعر سب وہیں فراواں اور بے تکلف ماحول میں تھے۔ وہیں ایک کتب خانہ تھا اور دارالکتب بھی؛ یعنی یہ ادارہ کتب بھی شائع کرتا تھا۔ اس ادارے میں کچھ میرا حصہ بھی تھا۔ سال بہ سال بزم کا ایک ادبی مجلہ نکلا کرتا تھا: ”گل بکف“ ۔ مجھے اس کے ایک دو پرچوں کی ادارت کا شرف حاصل رہا۔

یہ گزشتہ صدی کی آخری دہائی کے آغاز کا زمانہ تھا۔ تب وہ ستر برس سے بھی اوپر کے ہو چلے تھے مگر ایک نوجوان کی طرح چاق و چوبند۔ وہ اس کے بعد بھی سترہ اٹھارہ برس جیے اور لکھنا پڑھنا ہی ان کی زندگی کی ترجیح اوّل رہا۔ اُن کا معمول تھا کہ وہ گھر سے نکلتے اور اسی ٹھکانے یعنی بزم کے دفتر میں آ بیٹھتے تھے۔ شاعروں اور ادیبوں کی ٹولیاں وہاں آتی رہتیں اور رات گئے تک محفل جما کرتی تھی۔ مجھے یاد ہے اسی دفتر سے 1992 میں ان کی شاعری کا ایک انتخاب شائع ہوا تھا؛ ”خلد خیال“ ۔ قبل ازیں بھی ان کی شاعری کے مجموعے چھپ لیے تھے ؛ جیسے گیتوں کا مجموعہ ”جلترنگ“ ، غزلیات پر مشتمل مجموعے ”شیشہ ساعت“ اور ”ذوق خامہ“ ، نظموں کے مجموعے ”کوئے مغاں“ اور کوئے بتاں ”، منظوم سفر نامہ“ یاد آتی ہے راہی کو ”، مثنوی“ اشک آتش ”اور اردو کا پہلا طبع زاد رزمیہ“ قلم کا قرض ”مگر جس مجموعے یعنی“ خلد خیال ”کی میں بات کر رہا ہوں وہ انہیں بہت عزیز تھا ؛ کہ وہ محض ان کی غزلیات کا مجموعہ نہ تھا ان کی اس صنف میں زندگی بھر کی کمائی کا انتخاب تھا۔

یہ انتخاب ان کے عزیز دوستوں نے کیا تھا جنہیں وہ“ شریک حیات ”کہتے تھے۔ یہ دوست تھے ؛ صادق نسیم، ایوب محسن اور محسن احسان۔ واسطی صاحب نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ عبدالحمید عدم کے چہیتے شاگردوں میں رہے تھے۔ چہیتے اور حد درجہ فرماں بردار۔ جو بھی غزل کہتے محترم استاد کے سامنے جا رکھتے۔ وہ جسے قلم زد کرنے کو کہتے بلا جھجک اسے تلف کر دیتے۔ یہی رویہ ان کا تب رہا تھا جب وہ اپنے دوستوں کے حوالے“ خلد خیال ”کا مسودہ کر رہے تھے۔ مقابل استاد محترم نہ تھے ؛ دوست تھے ؛ مگر وہ اس پر ایمان رکھتے تھے کہ انتخاب کڑا ہو گا تب ہی آنے والے زمانوں میں بچ رہے گا اور اس باب میں غالب کی مثال ان کے سامنے تھی۔ بزم ہی کے دفتر سے واسطی صاحب کی ایک اور کتاب بھی آئی تھی؛“ کہتا ہوں سچ ”ان کی خود نوشت۔

میں بتا چکا ہوں کہ کتابوں کی اشاعت کے معاملے میں بھی ان کا شریک رہا تھا اور اس باب کے ایک قضیے ہمارے بیچ ناراضی ہو گئی۔ میرا معمول تھا کہ چھٹی پر دفتر سے نکلتا تو بزم کے دفتر جا نکلتا تھا۔ اس روز سیدھا ہمک چلا گیا۔ ماڈل ٹاؤن ہمک شہر سے کئی میل پرے ہے۔ میں ان برسوں میں وہیں ایک گھر خرید کر رہنے لگا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ واسطی صاحب اپنی ایک سیکرٹری اور ڈرائیور کے ساتھ گھر سے باہر کھڑے تھے۔ ہاتھوں میں گرما گرم جلیبی اور پکوڑوں سے بھرے ہوئے خاکی لفافے اٹھائے ہوئے۔ نہ سلام نہ دعا، نہ گلہ نہ شکایت، گھر کا گیٹ کھلتے ہی قدم اندر رکھا اور کہا: ”جلدی سے چائے بنواؤ، یہ ٹھنڈے ہو جائیں گے۔“ کچھ دیر بعد جب ہم یوں گپ شپ لگا رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

شوکت واسطی کا ایک اور حوالہ مترجم کا بھی ہے۔ انہوں نے عالمی کلاسیک کے جو تراجم کیے اور اپنی الگ نوعیت کے سبب ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے کہ وہ منظوم تراجم تھے۔ ذرا ایک نظر اس فہرس پر ڈال لیجیے پھر آگے بڑھیں گے :

فردوس گم گشتہ: (پیرا ڈائز لاسٹ: ملٹن)
کربیہ طربیہ: ( ضربیہ، برزخیہ، فردوسیہ۔ ڈیوائن کامیڈی :دانتے۔ مکمل تین حصے )
المیہ حکیم فسطاس: ( ٹریجک لائف آف ڈاکٹر فاسٹس: کرسٹو فر مارلو)
آشوبیہ : ( ایلیڈ:ہومر۔ پہلے چھ دفتر)
راگ کی آگ: ( گیتانجلی:ٹیگور)
یہیں ایک دلچسپ واقعہ مقتبس کرنا ہے۔ بہ قول واسطی صاحب :

”ملٹن کی شہرہ آفاق طویل نظم“ پیرا ڈائز لاسٹ ”کا مکمل اردو منظوم ترجمہ“ فردوس گم گشتہ ”کے نام سے ساتویں دہائی کے آخر میں شائع کیا گیا۔ اس کے پہلے دفتر پر چند سال قبل ارتجالاً قبائے اردو چست کی تھی۔ غضب ہوا نقاد سلیم الرحمن نے مبارزتی لہجے میں کہہ سنایا، بارہ کے بارہ دفتر اپنی زبان میں ڈھالو تو مانیں۔ سو تن من اور پھر دھن لگا کر سالہا سال کی محنت کے بعد یہ مہم سر ہوئی۔“

فردوس گم گشتہ کے آغاز میں ان کا ایک شعر یوں استقبال کرتا ہے :
بہشت ِ ضبط شدہ واگزار کر ہم پر
کہ تیرے ساتھ خدایا مصالحت ہو جائے

تو یوں ہے کہ پھر وہ تراجم کی اس مہم پر یوں چل نکلے کہ وہ ساری منازل سر ہوتی چلی گئیں جن کی فہرس میں اوپر دے آیا ہوں۔

خیر، بات فردوس گم گشتہ کی نہیں ہو رہی، واسطی صاحب کے خیال کی اپنی جنت یعنی ”خلد خیال“ کی ہو رہی تھی، اسی طرف آتا ہوں کہ یہ اُن کی شاعری کا ایسا انتخاب ہے جس کے حوالے سے وہ اپنی پہچان چاہتے تھے اور جس کے عین آغاز میں وہ یہ کہتے ملتے ہیں :

حرف صَرف آئے ہم آہنگ ہوئے معنی و لفظ
زیب تن فن نے کیا عمدہ عبارت کا لباس
سِلک ہر سطر میں مشاطہ گری سے بیندھے
معدن فکر سے اِلہام کے لا کر الماس
باہمہ سعی قلم، باہمہ جو لانیءِ طبع
شوکت اب تک وہی محتاج بیاں ہے احساس

اب اگر میں یہ کہوں کہ زبان، خیال، احساس جہاں ایک آہنگ میں آ جایا کرتے ہیں وہیں سے واسطی صاحب غزل کا مصرع اٹھاتے رہے ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ تاہم یہ بات بھی گرہ میں باندھنے کے لائق ہے کہ ہر وہ شاعر جو ان علاقوں میں رہتا ہے ؛ اپنے مزاج کے اعتبار سے ہی معاملہ کر پاتا ہے۔ کہہ لیجیے زبان، خیال اور احساس کے آہنگ سے سب کی تخلیقی جھولی میں ایک سا نہیں پڑتا۔ بے برکتے شاعروں کی جھولی میں تو یہاں سے بھی کچھ نہیں پڑتا۔ شوکت واسطی وہ بابرکت شاعر ہیں کہ جس کوچے میں گئے تخلیقی جھولی بھر کر لوٹے۔ انہوں نے جا چکے عہد کو آنے والے عہد میں اترتے دیکھا تھا۔ وہ غزل کی کلاسیکی روایت سے بھی آگاہ تھے اور رومانی روایت سے بھی۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ عہد جدید کے کرب میں ڈوبے لمحوں میں ایک حساس فرد کی طرح اپنے قدموں پر کھڑے ر ہے۔ انہوں نے اس کلاسیکی روایت کو ٹوٹتے دیکھا جس کا آہنگ ان کے اپنے وجود کے اندر زندہ تھا۔ لطف یہ کہ بدلے ہوئے اس زمانے میں بھی کلاسیک اور رومان کے پتوار ان کے ہاتھوں میں رہے اور وہ مسلسل وقت کی منہ زور لہروں سے نبرد آزما رہے اور انہی پانیوں میں غوطہ زن ہو کر وہ موتی نکال لائے کہ قیمت میں وہ سب سے بڑھ کر ہیں :

ٹھہرو ابھی یہ کھیل مکمل نہیں ہوا
جی بھر کے ہم تمہارا تماشا نہیں ہوئے

شوکت واسطی نے ”خلد خیال“ کے آغاز میں کہہ رکھا ہے کہ ”شاعری پر فلسفیانہ، عالمانہ، ادیبانہ موشگافی، نکتہ سنجی، تبصرہ آرائی ہر زاویے، رویے، نظریے سے آسان ہے لیکن غزلیات کی کوئی کلیات میرے نزدیک سراسر معروضی تخلیق ہو، بعید از امکان ہے۔ یہ بیشتر وارداتی کیفیاتی ہوتی ہے، یا پھر اپنی صنف کی رعایت سے وہ ایسی ہونی چاہیے۔ تغزل کا خمیر جذبات سے اُٹھا ہے، اسلوب اس کا متعین اور لفظ گری کی مخصوص نوعیت طے۔“ تو یوں ہے کہ انہی پابندیوں کے اندر رہ کر وہ غزل کی صنف میں کچھ کہہ لینے کے جتن کرتے رہے۔ وہ جانتے تھے کہ غزل کا خالص مصرع انہی عناصر سے ترتیب پائے گا۔ ملائمت، زبان کی شستگی اور اظہار کی شائستگی اس صنف کے لہجے کی تہذیب ہیں، ان کا خیال رکھنا ہو گا۔ سو، یوں ہے کہ انہوں نے اس کا خیال رکھا ایسا ایسا شعر کہا کہ آنے والے وقت کی لوح پر بھی وہ نقش نظر آتا ہے۔

شوکت اسلوب غزل ہے متعین، تاہم
اس میں ہم منفرد انداز بیاں رکھتے ہیں

بات سہولت سے کہنا اور اس کی حسیاتی جہت کو سامنے رکھنا ؛یہ ایسا قرینہ ہے کہ واسطی صاحب کا شعر اپنی تاثیر بڑھا لیتا ہے :

ہم آئینہ ہیں آپ ہیں توقیر آئینہ
ہنس کر نقاب روئے درخشاں اٹھائے

دل کئی ڈوبے ہیں تو عشق نے پائی ہے نمو
رنگ ابھرے ہیں تو حسن یہ تصویر میں ہے

کسی کو بے تمنا بھول بیٹھے
کسی کی بے ارادہ یاد آئی

جو تتلی پھول تک آئی بہت ہے
ذرا سی بھی شناسائی بہت ہے

کالرج نے کہا تھا۔ ”شاعر ہر اتفاقی شے سے در گزر کرتا ہے اور شاعری کا جو ہر آفاقیت سے تلاش کرتا ہے۔“ تاہم یہ جزوی سچ ہے۔ ہنگامی سچ کے اندر سے بھی ایک اعلیٰ تخلیق کار آفاقیت اچک لیا کرتا ہے۔ واسطی صاحب کے ہاں اتفاقی سانحات موضوع سخن ہوئے ہیں مگر زیادہ تر شعری تخلیقی مواد اگلے زمانوں میں اپنی آفاقیت کے سبب جست لگاتا ہے۔ بہت پہلے جب میں نے شوکت واسطی کا نام تک نہ سنا تھا اس وقت بھی ان کی شاعری سن رکھی تھی اور اپنے تئیں گم نام شاعر کو داد دیا کرتا تھا :

ڈھونڈا جسے تا عمر کہیں وہ تو نہیں تم
ٹھہرو تو سہی دل تمہیں پہچان رہا ہے

سائے کے واسطے تعمیر کریں گے پھر لوگ
دھوپ کے واسطے دیوار گرانے والے

عارضِ گل ہو لب یار ہو جام مے ہو
جسم جل اٹھتا ہے ہم ہونٹ جہاں رکھتے ہیں

ہم نبرد آزما تھے دشمن سے
دوست نے بھی محاذ کھول دیا

کلاسیکی رومانوی روایت سے جڑے رہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شوکت نے عہد حاضر کے آشوب کو قطعاً اہمیت نہیں دی۔ وہ اس عہد میں جیتے رہے اور ماحول کی آلودگی جب ان کے تنفس میں مزاحم ہوتی تو ان کے ہاں بھی مزاحمتی اور احتجاجی رنگ نمایاں ہو جاتا:

افق کی طرح تھی منزل، گریز کرتی رہی
سفر طواف تھا طے رہگزار کرتے رہے

کب میں نے یہ کہا ہے کہ ماحول ہے خراب
کب میں نے یہ کہا کہ فضا زہر ناک ہے

محسوس یہ ہوا ہے مگر اس دیار میں
دشمن کا دوستوں سے کوئی اشتراک ہے

ہم زندگی کی جنگ میں ہارے ضرور ہیں
لیکن کسی محاذ سے پسپا نہیں ہوئے

شوکت واسطی کی شاعری کا غالب پہلو وہی ہے جس پر اوپر بات ہو چکی۔ مگر بیشتر غزلوں میں ایسے اشعار بھی مل جاتے ہیں جو معاشرتی تضادات پر بھر پور تبصرہ کرتے ہیں۔ ایسے اشعار جدید روشنیوں میں چندھیائی بصارتوں پر ہتھیلیوں کی اوٹ ہیں۔

لوگ ننگے تھے چڑھی قبر پر لیکن چادر
لوگ بھوکے تھے مگر روضے سے ڈالی نکلی

اور پھیلی بو سمٹ کر پھول کے فانوس میں
تیرگی نے روشنی کو اور عریاں کر دیا

نفرت سے سنگسار کیا تھا جسے ابھی
تعمیر کر رہے ہیں اس کا مزار لوگ
میں نے ”خلد خیال“ کو پڑھ کر ہمیشہ حظ اٹھایا ہے۔ آئیے بات ختم کریں دو شعر سنیں اور سر دھنیں۔
جہاں جہاں نود میدہ صبحو تمہاری روشن کرن گئی ہے
سمٹ سمٹ کر جبین انساں سے تیرگی کی شکن گئی ہے
بقائے ترتیب عنصری کے ہزار ایجاد کر کے نسخے
حیات ہر شکل میں جہاں سے وہی شکستہ بدن گئی ہے

Facebook Comments HS