تاریخ 6 ستمبر 1965


جنگوں کی تاریخ میں 1965 کی مختصر مگر خوفناک جنگ ایک ایسی داستان ہے جب ایک اٹھارہ سالہ ملک نے ایک مضبوط، طاقتور، ٹیکنالوجی کے نشے میں دھت ملک کو اچانک حملے کے بدلے میں عبرتناک شکست دیتے ہوئے اپنے عزم و ہمت کا اظہار کر کے اس بات کا چرچا کیا کہ ”ہم زندہ اور ایک قوم ہیں“ ۔ 6 ستمبر کا دن پوری قوم کے اتحاد کا دن ہے۔ جسے ایمان، یقین اور نظم و ضبط کے پائیدار اظہار کی علامت گردانہ جاتا ہے۔ اس دن کی بدولت ہم اپنے دشمن کا سیاہ چہرہ پہچاننے میں کامیاب ہوئے ہمارا یہ دن ہمارے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔ اپنے شہداء اور غازیوں کی بہادری اور عظیم قربانیوں کے شاندار کارناموں سے متاثر ہونے کا دن ہے۔ کیونکہ وطن عزیز کی خاطر قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء اور غازی ہمارے سروں کے تاج ہیں۔

رات کے اندھیرے میں مکار، چال باز اور بزدل اور ازلی دشمن بھارت نے پاکستان پر غیر علانیہ طور پر 6 سو سے زائد ٹینکوں کے ساتھ چڑھائی کردی، دونوں ممالک میں افراتفری پھیل گئی، دشمن کا خیال تھا کہ لاہور پر اچانک حملے سے پاکستانی فوج اور عوام بوکھلا جائیں گے۔ اور گھنٹوں میں لاہور کے شاہی قلعہ پر بھارتی ترنگا لہرا دیں گے۔ مگر کھلی آنکھوں کے ساتھ خواب بھی کھلی آنکھوں کے سامنے ہی چور ہوتے ہیں، اسی کے برعکس افواج پاکستان اور عوام نے بھرپور انداز میں مزاحمت کرتے ہوئے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے اور خوب دھول چٹائی۔

دشمن کو یہ گمان تک نہ تھا کہ وہ کسی طور پر بھی اتنی بڑی مزاحمت کا سامنا کرے گا، مگر پاک فوج کے جوانوں اور عوام نے سینوں پر بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کو ہوا میں راکھ بنا کر اڑا دیا۔ اور کوڑے کے ڈھیر بنا دیا۔ بھارتی فوج کی پیش قدمی رک گئی اور ٹینکوں کی بڑی کھیپ جوانوں نے اپنی شہادتیں دے دے کر تباہ کر دی۔ فوج اور عوام کے اس جذبے سے بھارتی فوج کے اوسان خطا ہو کر رہ گئے اور یوں بی آر بی نہر پر پاکستان کی دفاعی لائن نے دشمن کو ایک قدم بھی آگے بڑھنے سے روک دیا۔

یہ جنگ تین مقامات پر بیک وقت چل رہی تھی، اور کشمیر میں آخری چوکی پر پاک فوج کے جوانوں کے قبضے سے بوکھلاتے ہوئے بھارت نے بین الاقوامی سرحد پر اچانک حملے کر کے پاک فوج کو بڑی مشکل میں ڈالنے کی کوشش کی۔ کیونکہ کشمیر پر مکمل طور پر پاکستان کے قابض ہونے میں صرف ایک پہاڑی کو عبور کرنا باقی تھا، کہ بھارت نے انتقاماً بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اب کھیم کرن کے مقام سے شہر قصور میں داخلے کی کوشش بھی کی جو ہر حوالے سے دشمن کو مہنگی پڑی۔

6 ستمبر، 1965 کو علی الصبح بھارتی افواج نے بغیر کسی اعلان کے، لاہور کے قریب بین الا اقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے، شہر میں داخل ہونے کی بھرپور کوشش کی لیکن دشمن کو بیدیاں اور واہگہ کے مقامات پر ہی، پاک فوج کی جانب سے انتہائی طاقتور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی افواج نے نا صرف اس پیش قدمی کو ناکام بنایا بلکہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے، بھارتی افواج کو سرحد پار جا کر ، کھیم کرن تک دھکیل دیا۔ مکار دشمن کو معلوم تھا کہ پاکستان کی ائر فورس کا سب سے اہم ٹھکانہ سرگودھا ائر بیس ہے تو بارہا اسے جنگی جہازوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ مگر پاک فضائیہ کو دشمن کے اس ناپاک ارادے کی بھنک پڑ چکی تھی اور طیارے اسی طاق میں تھے کہ کسی طرح دشمن یہ جسارت کرے۔ یوں ایم ایم عالم نے 60 سیکنڈ میں پانچ طیاروں کو زمین بوس کر کے بھارتی فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا۔

یہ زمینی جنگ جلد ہی فضائی جنگ میں تبدیل ہو گئی تھی، اور اب دشمن نے فضائیہ کے ذریعے حملے شروع کر دیے تھے۔ جس کے جواب میں پاک فضائیہ نے بھارتی علاقے میں، پٹھان کوٹ، آدم پور اور ہلواڑہ ائر بیسز پر انتہائی کامیاب حملے کیے۔ اور دشمن کی سوچ سے بڑھ کر دشمن کا نقصان کیا۔ جس سے دشمن کے درجنوں طیارے تباہ ہو گئے۔ اس بڑی کامیابی سے بھارتی فضائیہ لڑکھڑا کر رہ گئی۔ پاکستان بحریہ نے بھی ناصرف بھارت کی کراچی کی بندرگاہ پر پیش قدمی کو بڑی کامیابی سے روکا بلکہ بھارت میں جا کر دوارکا کے مقام پر بھارتی طیاروں اور ریڈار سسٹم کو تباہ کر کے بھارتی افواج کا غرور خاک میں ملایا۔ پوری قوم اور مسلح افواج نے اپنے سے کئی گنا زیادہ بڑی بھارتی فوج کو پاکستان پر حملے کا ایسا کرارا جواب دیا کہ دنیا ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور قوم کے جذبہ حب الوطنی پر حیران رہ گئی۔

عوام اور پاک فوج کے جوانوں نے شجاعت و جرات کی نئی داستانیں رقم کیں تو شاعروں نے لہو گرما دینے والا کلام لکھا، گلوکاروں نے گنگنا کر عوام کو ولولہ انگیز جذبہ عطا کیا، عام آدمی کا حوصلہ ساتویں آسمان پر اس وقت دیکھا گیا جب 80 سال کا ایک عام بوڑھا گھر سے خندق کھودنے نکلا۔ مائیں اور بہنیں مصلے پر بیٹھ کر دعا گو رہیں، اور پوری قوم یک جان و یک قالب ہو کر دنیا کے لئے ایک عظیم جذبے کی مثال بن گئی۔ جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔

پہلا شہید

”شہیدان وطن“ کتاب میں تحقیق کے بعد پاکستانی شہداء کی منظر کشی کی گئی ہے۔ جس میں مصنف لکھتا ہے کہ 6 ستمبر کی صبح ٹھیک 3 بج کر 45 منٹ پر ہندوستان کی جانب سے واہگہ پر ایک گولہ آ کر گرا جسے بھارت کی جانب سے پہلا فائر قرار دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ایس جے سی پی پوسٹ پر موجود پلٹون کمانڈر محمد شیراز متحرک ہوئے اور پوسٹ پر بھارتی سورماؤں کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ شروع ہو گئی۔

محمد شیراز نے جوابی فائرنگ کی اور یوں دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ جو ستمبر کی تاریخی جنگ کی ابتدا تھی۔ لڑائی اتنی شدید ہو گئی کہ بھارتی فوجیوں نے قریب آ کر دستی بم بھی پھینکنے شروع کر دیے۔ اگرچہ یہ حملہ اچانک تھا، لیکن پاکستانی سپاہیوں نے اس کا دلیرانہ مقابلہ کیا اور اس جواں مردی سے دشمن پر گولیاں برساتے ہوئے محمد شیراز دشمن کی گولیوں سے شہید ہو کر جنگ ستمبر کے پہلے شہید کا اعزاز حاصل کر گئے۔ محمد شیراز کے خون سے جوانوں میں شہادت کا جذبہ عروج کو پہنچا تو پھر دشمن کو للکارتے ہوئے بیشتر جوانوں نے بھارتی فوج کو ان کے مورچوں میں گھس گھس کر مارا۔

چونڈہ سیکٹر

دشمن کو کشمیر میں خوفناک شکست کا سامنا کر نا پڑ رہا تھا۔ لہٰذا بھارت نے لاہور کے ساتھ ساتھ سیالکوٹ کے مقام سے بھی پاکستان پر بڑا حملہ کر دیا۔ 6 ستمبر کی جنگ میں چونڈہ سیکٹر کے محاذ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ میدان جنگ ہے۔ جہاں برصغیر کی تاریخ میں ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی جو 8 روز تک جاری رہی۔ اس معرکے میں 500 سے زائد ٹینک استعمال ہوئے جس میں بھارتی عددی برتری کے نشے میں تھا۔ جسے پاکستانی سپاہیوں اور عوام نے ٹینکوں کے سب سے بڑے قبرستان میں تبدیل کر دیا۔

بھارتی فرسٹ آرمڈ ڈویژن نے چھ ماؤنٹین ڈویژن، 14 انفنٹری ڈویژنز اور کئی انفنٹری بریگیڈز کی مدد سے تین کالم کی فارمیشن بناتے ہوئے چار واہ، باجرہ گڑھی اور نخنال سے پاک سرزمین پر حملہ کیا۔ جس کا مقابلہ کرنے کے لیے چند ہزار پر مشتمل پاک فوج اس محاذ پر ڈٹ گئی جن کا عوام نے بھی بھر پور ساتھ دیا، نہتی عوام نے دشمن کو بڑی خوفناک شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا، ماؤں نے اپنے لعلوں کو ، اپنے جگر گوشوں کو دشمن کو نست و نابود کرنے کے لئے اپنی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے وعدے لے کر انہیں دشمن پر قہر بن کر ٹوٹنے کا کہا۔

تو ان ماؤں کے شیر جوانوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر اپنی غیور عوام کے خاطر جسموں پر بم باندھے اور خدا کا نام لیتے ہوئے دشمن کو تباہ و برباد کر دیا۔ پہلے لگ بھگ 325 ٹینک تھے لیکن جب مزاحمت ہوئی تو بھارتی کمانڈر پی کے دون نے مزید فوجی اور ٹینک منگوا لیے۔ ہاں پاکستان نے ’آخری سپاہی اور آخری فوجی‘ تک مقابلے کا عزم کیا اور اسی پر عمل کیا۔ گڈگور سے آگے پھلورہ کے مقام پر پاک فوج اور بھارتی فوج کے درمیان شدید معرکہ ہوا۔

اس موقع پر کرنل عبدالرحمان نے اپنی جان قربان کردی اور ستارہ جرات حاصل کیا۔ لیکن پھلورہ بھارتی فوج کے ہاتھوں میں آ گیا اور اب انہوں نے چونڈہ کی طرف پیش قدمی شروع کردی اور پھلورہ بھارتی فوج کا کمان ہیڈ کوارٹر بنا۔ یہاں بریگیڈیئر علی نے اپنی تین رجمنٹوں اور تین بہادر کمانڈروں کے ساتھ چونڈہ کا دفاع کیا۔ مغربی اور مشرقی محاذ پر بھی پاک فوج نے بھارتی عسکری مشینری کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ اس محاذ پر پاک فوج کی نفری اور اسلحہ دشمن سے کئی گنا کم تھا۔

ایثار و قربانی کی مثال

چھمب جوڑیاں میں عزم و ہمت کا دوسرا نام غلام مہدی خان شہید کا ہے جنہوں نے نہایت بہادری، ہمت اور جواں مردی سے دشمن کا مقابلہ کیا اور اپنے ایک ساتھی کو بچاتے ہوئے اس ملک و قوم کے لیے اپنے خون کا چراغ جلا گئے۔ وہ باسکٹ بال کے کھلاڑی تھے۔ اور جنگ چھڑتے وقت اپنے گھر میں موجود تھے۔ جنگ کی اطلاع پاتے ہی وہ فوراً اپنے آبائی گھر تلہ گنگ چکوال سے اپنے یونٹ پہنچے لیکن وہاں بتایا گیا کہ آپ کھلاڑی ہیں اور محاذ کے بجائے آپ کو انتظامی امور سونپے جائیں گے۔

لیکن ان کے نصیب میں شہادت لکھی تھی، اور انہوں نے بہت اصرار کیا کہ انہیں جنگ کے میدان کی جانب بھیجا جائے۔ ان کی جذبے اور ضد پر انہیں چھمب جوڑیاں سیکٹر بھیج دیا گیا۔ اس سیکٹر میں گھمسان کی لڑائی جاری تھی۔ فی منٹ درجنوں گولے اور گولیاں ان کا لہو چاٹنے کے لیے ان کی سمت آرہے تھے۔ وہ ٹینک پر سوار آگے بڑھے تو ایک اینٹی ٹینک گولہ ان کے ٹینک پر لگا جس سے چین ٹوٹ گئی اور ٹینک ساکت ہو گیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک اوٹ میں ہو گئے جب کہ ان کا ایک ساتھی ٹینک سے اترتے ہی شدید زخمی ہو گیا۔

غلام مہدی خان اپنے اس زخمی سپاہی کو یوں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتے تھے، چنانچہ وہ ایک بار پھر آگے بڑھے، برستی گولیوں میں اس کے پاس پہنچے اور اسے سہارا دے کر تیزی کے ساتھ اپنے مورچے کی جانب پلٹے اور اسے محفوظ جگہ پر پہنچایا۔ اسی اثنا میں ایک سنسناتی گولی آئی جو انہیں شدید زخمی کر گئی جس کے نتیجے میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔

میجر عزیز بھٹی

میجر عزیز بھٹی اپنے جانثاروں کے ساتھ بی آر بی نہر کے پاس ڈٹے تھے، جس پر بھارتی افواج قبضہ کرنا چاہتی تھی۔ 7 ستمبر کو بھارت نے پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کیا اور میجر عزیز بھٹی اور میجر شفقت بلوچ نے صرف 110 سپاہیوں کی مدد سے بھارت کی پوری بریگیڈ کو 10 گھنٹوں تک روک کر رکھا اور دن رات مورچے پر ڈٹے رہے۔ یہ اعصاب شکن معرکہ جب 12 ستمبر کو پانچویں روز میں داخل ہوا تو اس وقت تک میجر عزیز بھٹی بھارت کے چھ حملے روک چکے تھے۔

آگے جانے والے پاکستانی سپاہی اور ٹینک ایک مقام پر پھنس گئے تھے۔ جنہیں واپس لانا ضروری تھا۔ اس پر انہوں نے اپنی فوج کو منظم کر کے کئی اطراف سے حملہ کیا اور پاکستانی فوجی گاڑیوں اور سپاہیوں کو واپس لانے میں کامیاب ہو گئے لیکن اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ کے دوران ایک شیل نے ان کے کندھے کو شدید زخمی کر دیا اور وہ صرف 42 سال کی عمر میں جام شہادت نوش کر گئے۔

یونس حسن خان شہید

1965 کے ایک اور ہیرو یونس خان شہید کا نام سنہرے حروف میں زندہ رہے گا۔ انہوں نے پٹھان کوٹ بھارت کے فضائی اڈے پر حملہ کیا اور اپنی مہارت سے بھارتی فضائیہ کے 15 طیارے تباہ کر دیے جن میں کینبرا اور دوسرے طیارے شامل تھے۔ بعض ذرائع کے مطابق وہ جب بھارتی حدود میں داخل ہوئے تو ان کے طیارے پر بھارتی طیاروں کی جانب سے فائرنگ ہوئی اور طیارے کو نقصان پہنچا لیکن کچھ حوالہ جات کہتے ہیں کہ انہوں نے بھارتی علاقے پٹھان کوٹ کے پاس فضائی اڈے پر موجود پاکستان پر حملے کے لیے کھڑے طیاروں سے اپنا طیارہ ٹکرا دیا جس میں بھارت کے 15 طیارے جل کر راکھ ہو گئے اور دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

شہری رحمت اللہ نے جنگ ستمبر کو کیسے پایا وہ یادیں تازہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔ کہ بھارتی فوج جب پیش قدمی کرنے لگی تو واہگہ بارڈر سے بی آر بی نہر کے پل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح چونڈہ سرحد سے بھی بھارتی فوج ٹینکوں سمیت داخل ہونے لگی تو فوجی جوانوں اور عام شہریوں نے جسم کے ساتھ بارود باندھا اور بھارتی ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر خود بھی اور ٹھینک بھی اڑا دیے جس کے بعد بھارتی فوج بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔

مادر وطن کے ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت سے پاکستان سے محبت ہمارا اولین فریضہ اور وطن کی مٹی کا قرض اتارنا ہر شہری کا فرض ہے۔ کیونکہ پاکستان کا مثبت، ترقی پسند، حقیقی اسلامی ریاست، وطن عزیز اور خطے میں امن کے پائیدار قیام کی کاوشوں کو دنیا بھر کے سامنے اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت اور قومی قرض ہے۔ پاکستان نے بھارت کو ہمیشہ دھول چٹوائی ہے اور آئندہ وقتوں میں مشکل وقت آنے پر پاکستانی فوج اور غیور عوام دشمن کو ایسی ہی خوفناک شکست سے دو چار کرے گی۔

دنیا کی تاریخ میں ہر مشکل سے ان قوموں نے سبق حاصل کیا ہے اور پاکستان نے بھی 1965 کے مقابلے میں مضبوط روایتی اور غیر روایتی طاقت کے ساتھ زیادہ لچکدار اور متحرک ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے جبکہ پاکستان کے غیرت مند عوام مسلح افواج کے ساتھ متفق ہیں۔ جو اپنی ثابت قدمی، بے لوث عقیدت اور حب الوطنی کے جذبے کی وجہ سے وقت کے امتحانات پر پورا اترے ہیں۔ اب پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹتے ہوئے معیشت، دفاع اور عوام کی فلاح و بہبود کے لحاظ سے ایک مضبوط ملک بننا ہو گا کیونکہ دنیا میں اپنے قد کو برقرار رکھنے کے لئے ترقی کی منازل کو بغیر کسی رکاوٹ کے عبور کرنا ہو گا۔

6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم دن ہے جس کی بدولت ہم آج آزاد ملک کے آزاد شہری ہونے کی حیثیت سے زندگی کی بہاروں کا مزہ لے رہے ہیں مگر ستمبر کے معرکے کی روح کو برقرار رکھنے اور مضبوط کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی توانائیوں اور پاکستان کو تمام بیرونی اور اندرونی خطرات کے خلاف مضبوط کرنے کی کوششوں کو وقف کری۔

Facebook Comments HS