خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے (مزاح)


نوے سال سے خطے کے مسلمان اقبال کی اس دعا کو فخر سے پڑھتے سنتے رہے مگر خوش قسمتی سے قبولیت کے ثمرات سے بال بال بچتے بھی رہے۔ بالآخر حضرت کی طوفانی دعا شرف قبولیت پا ہی گئی۔ آج ہماری نہ صرف متعدد متعدی طوفانوں سے کامل آشنائی ہے بلکہ عوام کے بحر میں اضطراب کی سونامی بھی برپا ہو چکی ہے۔ البتہ کچھ کے ہاں اب بھی، موجیں، موجزن ہیں۔ اس مقام کے حصول میں اقبال کے مرد مومن، شاہین اور غزالان نے گوادر کے ساحل سے تا بہ خاک مالا کنڈ ایک ہو کر حسب لیاقت حصہ لیا اور مقام بیچ کر مکان پیدا کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔

آج کے مسلمان پر نہ صرف، برق، کا گرنا معمول ہے بلکہ برقی بلوں کی ضرب شدید سے پوری قوم بلبلا نے پر مجبور ہے۔ اس لیے ملک میں، امراض بل، کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے۔ تیل کی دھار تو دیکھی ہی نہیں جاتی۔ اب تو رادھا محض 9 لٹر پر بھی ناچنے کو تیار ہے۔ ان طوفانوں کی شناسائی میں بیسیوں ایمان لیوا بیماریاں بھی آ چمٹی ہیں جن میں اقتدار کی، رے بیز، سرخ فیتے کا ٹائفائیڈ، پروٹو کول کا نمونیا، ٹرین ہیمرج، یو ٹیومرز، امراض دھرنا، رشوت کی شوگر، بیانیوں کا ڈائریا، بیرونی دوروں کی مرگی، انا کی جلن اور کرکٹیریا شامل ہیں۔

اک بڑا طبقہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر انکم سکیمز ہے۔ اقبال نے غریبی میں نام پیدا کرنے کی تاکید کی تھی مگر غریبوں نے غریبی میں فقط بچے پیدا کرنے کے فنون میں لوہا منوایا۔ مسلمانوں میں اپنے دشمن تلاش کرنے کے طوفان نے بھی جنم لیا۔ دشمن نہ ملے تو خود بنا لیتے ہیں۔ کرسی وجہ نزاع ٹھہری تو اقبال کا مومن کبھی کرسی پر اور کبھی کرسی مومن پر نظر آتی ہے۔ جب اقبال جمہوریت میں بندوں کو گننے اور تولنے کی بات کرتا ہے تو مراد یہی ہے کہ نامعقولوں کی اک معقول تعداد سادہ اکثریت جبکہ انہیں نامعقولوں کی انتہائی معقول تعداد واضح اکثریت کہلاتی ہے۔

بقول شخصے قدرت نے ہر بڑے کے حصے کے بے شمار بے وقوف پیدا کر رکھے ہیں، یوں اب جہالت پر صرف جاہلوں کا اجارہ نہیں رہا۔ اقبال نے جوانوں کو قصر سلطانی سے دور رہنے اور چٹانوں میں گزارا کرنے کا مشورہ دیا۔ پرواز کی کوتاہی سے آمدن پر موت کو ترجیح دی تو خود کشیوں کا راستہ بھی کھلا۔ کھیت سے کچھ نہ ملے تو اس کے خوشوں تک کو جلانے کی ترغیب دے ڈالی۔ فقط ستاروں پر کمند ڈالنے کے سبق نے ہمیں چاند پر جانے سے روکے رکھا۔

لہٰذا قوم کے ہر پیرو جوان نے زمین پر ہی اپنے اپنے چاند دریافت کر رکھے ہیں۔ البتہ بادہ و جام کے دور مکرر کی تڑپ کو چند حکمران ہی جان پائے۔ ، اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو ، پر تو من و عن عمل ہو اور آج غریبوں کی نیندیں قصہ پارینہ ہو چکی ہیں جبکہ کاخ امراء کے درو دیوار ہلانے کی بابت بہت سوں کو مقدمات کا سامنا ہے۔ اقبال نے جدید مشینری و آلات کو احساس مروت کے کچلنے کا موجب گردانا، سو قوم نے حضرت کے تتبع میں سائنس و ٹیکنالوجی سے حتی الوسع احتراز برتا۔

انہوں نے مومن کی قہاری، غفاری، قدوسی اور جبروتی خصوصیات کو آشکارا کیا تاہم یہاں صرف قہاری و جبروت پر ہی اکتفا کر لیا گیا۔ البتہ ادھر ڈوب کر ادھر نکلنے اور پلٹنے جھپٹنے میں قوم کا مکمل اجماع ہے بلکہ من حیث القوم دشنام طرازی، مخرب الاخلاقی، بد عنوانی اور نا اہلیت کے طوفانوں سے خوب سابقہ لا حق ہو چکا ہے۔ آج نہیں بلکہ اس قوم کے بھلے وقتوں کا وتیرا بھی ایسا ہی تھا۔ خود حضرت اقبال اپنی انتخابی مہم میں بہت کچھ بھگت چکے ہیں۔

ان کے فرزند جاوید اقبال، زندہ رود، میں حفیظ جالندھری کی روایت لکھتے ہیں کہ لاہور میں انتخابی جلسے کے بعد حضرت اقبال انتخابی خوش اخلاقی کے موجب لوگوں میں گھل مل گئے۔ سب کو سلام کہے۔ ایک صاحب کو سلام کیا تو اس نے دھوتی ہٹا کر انتہائی قبیح حرکت کر ڈالی کیونکہ وہ اقبال کے مد مقابل محمد دین کا سپورٹر تھا۔ اس پر اقبال دل برداشتہ ہوئے تو حفیظ جالندھری نے یہ کہہ کر دلاسا دیا کہ قوم کے پاس جو کچھ تھا وہ آپ کو دکھا دیا۔ اس پر اقبال قہقہہ لگا کر ہنس دیے۔ پھر بھی اقبال ارباب سیاست کو ہی جمہور کے ابلیس کہتے رہے اور عوام الناس پر ایسا کچھ نہ لکھا۔ اقبال کے مشوروں، دعاؤں اور خواہشوں پر کہنے کو من کرتا ہے،

اج آکھاں جا اقبال نوں کتھوں قبراں وچوں بول تیرے سارے مشورے پڑھ پڑھ کے اس قوم نے دتے رول
مگر لمحہ ء موجود میں قوم کی زبوں حالی دیکھ بس یہی کہنا بچا ہے کہ،
خدا ہمیں کسی طوفاں سے آشنا نہ کرے۔ ذرا سی موج بھی سہنے کی آج تاب نہیں

Facebook Comments HS