میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟


پاکستان میں جمہوریت ہمیشہ زور آوروں کے رحم وکرم پر رہی۔ یوں تو ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر میاں نواز شریف تک جمہوری حکمرانوں نے حقیقی جمہوریت کی خاطر پھانسی کے پھندے کو بھی چوما اور جلاوطنی کا دکھ بھی جھیلا لیکن قوم بہار آفریں گل و ثمر سے محروم ہی رہی۔ قوم بھولی نہیں کہ جب ڈی چوک اسلام آباد میں بجلی کے بل جلائے گئے تب فی یونٹ بجلی 4 روپے تھی۔ میاں نواز شریف کی مقبولیت فوج کو کبھی قبول نہ تھی کیونکہ وہ اصولوں پر ڈٹ جانے والے شخص ہیں۔

پھر ایک گریٹ گیم رچائی گئی جس میں اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھرپور حصہ لیا۔ جب پاناما کا غلغلہ اٹھا تو باوجودیکہ میاں نواز شریف کا پاناما پیپرز میں کہیں نام نہیں تھا انہیں گھیر گھار کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ آج سپریم کورٹ کے ہم خیال بنچ کا گلی گلی میں شور ہے لیکن اصل ہم خیال بنچ تو وہ تھا جس نے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں میاں صاحب کو نا اہل قراردیا۔ اس بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ تھے اور جسٹس اعجاز افضل خاں، جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس شیخ عظمت سعید رکن تھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید ریٹائرمنٹ کے بعد شوکت خانم کینسر ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کے رکن منتخب ہوئے۔ اسی بنچ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا جس کا نگران جسٹس اعجازالاحسن کو مقرر کیا گیا۔ شاید یہ تاریخ عدل کی واحد جے آئی ٹی ہو جس کا نگران جج بھی مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں میاں نواز شریف کی نا اہلی کی مدت کا تعین کرنے کے لیے ایک پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا گیا جس کے موجودہ چیف جسٹس عمرعطاء بندیال رکن تھے۔

اس بنچ نے میاں نواز شریف کو تاحیات نا اہل قراردیا اور یہ فیصلہ جسٹس عمرعطاء بندیال نے لکھا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ عقیل و فہیم صاحبان نظر اگر اس سیاہ باب کو موجودہ ملکی حالات پر منطبق کر کے دیکھیں تو ان پر نہ صرف سب کچھ عیاں ہو جائے گا بلکہ وہ ہاتھ تلاش کرنے میں بھی آسانی ہوگی جن کی بدولت ملک کو ڈیفالٹ کے کنارے پہنچ کر در در کا بھکاری بننا پڑا۔

کوئی حقائق سے نظریں چرائے تو الگ بات ہے لیکن حقیقت یہی کہ 2013 ء سے 2018 ء تک نواز شریف کے دور میں ملک تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا تھا۔ اس وقت جی ڈی پی کی شرح نمو 5.8 فیصد تھی اور بین الاقوامی سرویز کے مطابق پاکستان دنیا کی تیز ترین بڑھتی معیشت میں شامل ہو رہا تھا۔ دسمبر 2014 ء میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا جس سے تحریک طالبان پاکستان جیسے ناسور کو جڑ سے اکھاڑا گیا۔ یہی وہ دو رہے جب ( 2015 ء) چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا۔

انہوں نے نہ صرف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا بلکہ 46 ارب ڈالر کی لاگت سے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کا اعلان بھی کیا۔ اسی دور میں آئی ایم ایف کو خداحافظ کہا گیا۔ یہی وہ دور ہے جب موٹرویز، اوورہیڈز، انڈر پاسز اور سڑکوں کا جال بچھایا گیا اور لاہور اورنج لائن اور لاہور میٹرو بس جیسے منصوبے پایۂ تکمیل کو پہنچے۔ سب سے بڑھ کر لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کیا گیا۔ 2017 ء میں جب میاں نواز شریف کو نکالا گیا اس وقت تک ایک متوسط گھرانے کا بجلی کا بل تین، چار ہزار روپے ماہانہ سے زائد نہیں آتا تھا کیونکہ سستی توانائی کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل تھی اور پن بجلی، کوئلہ، ایل این جی کے علاوہ شمسی توانائی سے بجلی پیدا ہو رہی تھی۔ آج وہی بجلی کا بل اتنا بڑھ چکا جسے دیکھ کر سارا پاکستان سڑکوں پر ماتم کناں اور لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور۔

تسلیم کہ مہنگائی کی لہر بین الاقوامی ہے اور پچھلے ساڑھے تین سالہ دورحکومت کی حماقتوں کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی اپنی ساری حدیں توڑ چکی۔ سوال مگر یہ ہے کہ اگر بجلی 52 روپے فی یونٹ ہو چکی تو قوم طوعا و کر ہاً یہ بل ادا کرنے کو تیار ہے مگر جن آٹھ، نو قسم کے ٹیکسز کو ان بلوں میں شامل کیا جاتا ہے ، وہ کیوں؟ میرا اس ماہ کا بجلی کا بل 80 ہزار 920 روپے آیا ہے۔ اس بل میں 51 ہزار 126 روپے صرف شدہ یونٹس کے ہیں اور 29 ہزار 794 روپے ٹیکسز کے۔

بتایا جائے کہ جب ہم بجلی کی پوری قیمت ادا کر رہے ہیں تو پھر اس قیمت کے علاوہ ”بھتہ“ کیوں؟ پچھلے ڈیڑھ سال میں بجلی کی قیمتوں میں 80 فیصد تک اضافہ ہو چکا۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ پاور سیکٹر کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات ہیں جو بڑھ کر 520 ارب 30 کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ صریحا نا انصافی ہے کہ کرے کوئی، بھرے کوئی۔ یہ نا اہلی تو حکمرانوں کی ہے جو ان نقصانات پر قابو پانے میں ناکام لیکن ”نزلہ بر عضو ضعیف می ریزد“ کے مصداق یہ تمام رقم متوسط اور غریب طبقے کا خون نچوڑ کر حاصل کی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 12 سو ارب سالانہ کی بجلی مفت تقسیم کی جا رہی ہے۔ صرف واپڈا ملازمین نے گزشتہ سال 8 ارب 19 کروڑ روپے کی مفت بجلی استعمال کی۔ وہ سرکاری ملازمین جنہیں بیشمار سہولیات میسر ہیں ان کے لیے بھی سالانہ 34 کروڑ یونٹس مفت مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں اعلیٰ عدلیہ کے وہ ججز بھی شامل ہیں جنہیں قومی خزانے سے ماہانہ 15 لاکھ تک تنخواہ اور بجلی سمیت دیگر تمام سہولیات مفت ملتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ پر لگ بھگ 10 لاکھ پنشن اور 2000 یونٹس فری بجلی سے مستفید ہوتے ہیں۔

اگر معیشت کا پہیہ چل رہا ہو اور ملک تیزی سے خوشحالی کی طرف گامزن ہو تو ایسے اللے تللے قابل برداشت لیکن جہاں ملک ڈیفالٹ کے کنارے پراور لوگ خودکشیوں پر مجبور وہاں جزوقتی ہی سہی یہ تمام سہولیات واپس لی جانی چاہئیں کیونکہ یہ ملک جتنا ہمارا ہے اتنا ہی عدلیہ، بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا بھی ہے۔ ہم سب نے مل جل کر ہی دھرتی ماں کو بچانا اور اس کی حفاظت کرنی ہے۔

یہاں آئی پی پیز کا ذکر کرنا بھی بہت ضروری ہے جن کے ساتھ مہنگے معاہدے کیے گئے اور مالکان نے ڈالروں میں ادائیگی کی شرط رکھی۔ اب جوں جوں ڈالر کے ریٹس بڑھتے ہیں، ادائیگی بھی بڑھتی جاتی ہے۔ اس معاہدے میں یہ ظالمانہ شرط بھی موجود کہ حکومت کو بجلی کی ضرورت ہو نہ ہو ان سے بجلی خریدی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کپیسٹی چارجز کی مد میں آئی پی پیز 1300 ارب سالانہ ادا کیے گئے۔ یہ وہ پاکستانی ہیں جنہیں صرف اپنے منافعے سے غرض ہے، پاکستان سے نہیں۔

جب تک ان سے جان نہیں چھڑائی جاتی بجلی مزید مہنگی ہوتی چلی جائے گی۔ میں یہاں اپنی حدیں توڑتی پٹرولیم مصنوعات کا ذکر نہیں کر رہی اور نہ ہی گیس کی بڑھتی قیمتوں کا ۔ ان سب کو ملا کر جو نقشہ ترتیب پاتا ہے اس کے مطابق تو سوائے خودکشی کے کوئی چارہ نہیں۔ جب یہ سارے مل کے ملک کو نوچ کھانے کے درپے ہوں تو پھر میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟

Facebook Comments HS