درخت اور کتابیں


درخت اور کتابوں کا عام فہم میں کوئی تعلق بنتا دکھائی نہیں دیتا لیکن کتب التواریخ کا عمیق مطالعہ کرنے وائے جانتے ہیں کہ ان دونوں کا آپس میں ایسا ہی تعلق ہے جیسا کہ کسی درخت کے تنے اور جڑ کا ۔ اگر کسی بھی تناور اور چھتن اور درخت کی جڑیں مضبوط ہیں ہوں گی تو ایسے درخت کو جو کتنا بھی پھیلا ہوا اور وسعت پذیر ہو معمول سے ذرا تیز ہوا بھی اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے۔ اسی لئے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ آندھیوں اور طوفانوں میں وہی درخت پروان چڑھتے ہیں جن کی جڑیں زمین میں مضبوطی سے جڑی ہوئی ہوں۔

کتاب اور درخت کے تعلق میں بھی مضبوطی غیر متزلزل تب ہوتی ہے جب جڑیں مضبوط ہوں اور مذکور تعلق میں درخت کتاب کی جڑ ہے وہ اس طرح سے کہ جب کاغذ ایجاد نہیں ہوا تھا تو اس وقت ایک درخت پاپائرس کے پتوں کو خاص عمل سے ایسی تختیوں میں ڈھالا جاتا کہ جس پر کوئی بھی تحریر تسوید کر کے اسے محفوظ کیا جا سکتا تھا۔ پاپائرس اصل میں ایک ایسا پودا ہے جو کہ افریقہ کے ساحلوں اور میدانی علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ صحراؤں میں کاشت کیے جانے والے یا پیدا ہونے والے درخت اور پودوں کے پتے اکثر نوکیلے، تیز اور لمبے ہوتے ہیں۔

ایسا ہی ایک پودا پاپائرس ہے جسے 3000 ہزار قبل از مسیح سے لے کر گیارہویں صدی عیسوی تک بطور کاغذ استعمال میں لایا جاتا رہا ہے۔ آج بھی اس کے کچھ نمونے دنیا کے مختلف عجائب گھروں میں محفوظ حالت میں رکھے ہوئے ہیں۔ تاکہ آنے والی نسل کو بتایا جا سکے کہ ان تک پہنچنے والا علم کن ارتقائی مراحل سے گزر کر پہنچا ہے۔ اگرچہ آج کل اس پودے کو بطور زیبائشی پلانٹ کاشت کر کے محلات، بنگلوں اور پارکس کی زینت بنایا جا رہا ہے۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اگر تین ہزار قبل از مسیح اسے بطور پیپر استعمال میں نہ لایا جاتا تو علم کی تشنگی تشنہ لب ہی دم توڑ دیتی۔

دنیا کی وہ تمام ریاستیں جنہوں نے کتاب کلچر اور درختوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے جنگلات کی طرف خاص توجہ دی وہی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں نظر آتے ہیں۔ جیسے کہ چین کی اگر مثال پیش کی جائے تو کتابوں اور درختوں کے بارے میں جتنے اقوال ملیں گے کسی اور ملک کی کتابوں اور ادبا کے ہاں نہیں ملتے۔ جیسے کہ اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہزار میل کا سفر اختیار کریں اور اپنے ساتھ سو کتابیں رکھیں، چین میں علم کی اہمیت اس حدیث میں بھی مضمر ہے کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔

درختوں کے بارے میں بھی کہا جا تا ہے کہ درخت لگانے کا بہترین موقع آج سے بیس سال قبل تھا یا پھر آج ہے۔ علاوہ ازیں جس شخص نے کاغذ کی اہمیت کو سمجھا وہ بھی ایک چینی باشندہ ہی تھا جس کا سائی لون تھا۔ اس نے دو ہزار قبل از مسیح پیپر تیار کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ آج اس شخص کی مرہون منت ہی دنیا اس قابل ہوئی کہ ان کے پاس عالم کی محفوظ تاریخ موجود ہے۔ وگرنہ پاپائی رس جیسے وزنی کاغذ کو اٹھائے پھرنا اور پھر اس کو محفوظ کرنا کتنا ہی مشکل ہوتا۔

اب ہم آتے ہیں اپنے ملک کی طرف، اگرچہ علم، کتاب اور درختوں کی اہمیت مسلمانوں سے زیادہ کون سمجھتا اور جانتا ہے کیونکہ ہمارے پیارے رسول ﷺ لہ پہلی وحی ہی علم کی اہمیت اور قلم کی طاقت کے بارے میں تھی اور پھر درختوں کے بارے میں بھی بے شمار احادیث گواہی دیتی ہیں کہ ہمارے رسول ﷺ جانتے تھے کہ درخت اصل میں انسانوں کو تباہی و بربادی سے بچانے کا پیش خیمہ ہوں گے اسی لئے انہوں نے فرمایا کہ ”جس مسلمان نے کوئی درخت لگایا اور اس کا پھل آدمیوں اور جانوروں نے کھایا تو اس لگانے والے کے لئے صدقہ کا ثواب ہے“ ایک اور حدیث میں اس طرح کے کلمات ہیں کہ سات اعمال ایسے ہیں جن کا اجر و ثواب بندے کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے اگرچہ وہ قبر میں بھی ہو، وہ سات اعمال یہ ہیں کہ جس نے علم سکھایا، نہر کھدوائی، کنواں کھدوایا، کوئی درخت لگوایا، مسجد تعمیر کی، قرآن مجید ترکہ میں چھڑایا ایسی اولاد چھوڑی جو مرنے کے بعد بھی اس کے لئے دعائے مغفرت کرے۔

اس حدیث سے کسی بھی ریاست کے لئے شجرکاری کی اہمیت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ دنیا آج درختوں کو زمین کے پھیپھڑے اسی لئے کہتے ہیں کہ درخت عطائے خداوندی اور نعمت اولی ہے کہ سب سے زیادہ ذی روح کو آکسیجن فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ ہم اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ہمارے ارباب اقتدار کو کتابوں اور شجرکاری سے کوئی شغف نہیں، اگر ایسا ہوتا تو ملک میں جنگلات کی ایسی حالت نہ ہوتی جو آج ہے اور کتب بینی کی روح آخری سانسیں نہ لے رہی ہوتی۔

کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
جبکہ ہم اپنے بچپن میں کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں کہ
ہم نشینی اگر کتاب سے ہو
اس سے بہتر کوئی رفیق نہیں

ہم اگر چاہتے ہیں کہ اپنی آنے والی نسل میں یہ ورثہ چھوڑ کر جائیں تو کتب بینی کے شوق اور شجرکاری کی اہمیت کو حکومتی سطح پر متعارف و ترویج کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ مگر کیا کریں کہ جنہیں یہ سب کرنا ہے انہیں ان سب کی ضرورت نہیں ہے۔ کہ ہماری ترجیحات ملک ریاست، فلاح، بہبود، تعلیم اور شجرکاری نہیں۔ اب بھی اگر ہوش کے ناخن لے کر تعلیم و جنگلات کی طرف خصوصی تو جی دی جائے تو کیا نہیں ہو سکتا۔ صحراؤں کو آباد اور پہاڑوں کو تسخیر کیا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS