ناول نین تیرے انجان


ناول نگار کنول بہزاد
تبصرہ دعا عظیمی

’نین تیرے انجان‘ جسے کنول بہزاد صاحبہ نے لکھا ہے اپنے عنوان کی طرح رومانوی ناول نہیں ہے۔ یہ ایک معاشرتی ناول ہے۔ جنوبی پنجاب کے ایک دیہات سے ابھرتی ہوئی یہ کہانی چلتے چلتے پاکستان کے دل تک جا پہنچتی ہے۔ پاکستان کا دل یعنی لاہور۔ شہر لاہور کی محبت لکھنے والی کے قلم سے یوں ٹپکتی ہے جیسے رس گلے سے شیرہ ٹپکتا ہے۔ بندہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے

یہ جو لاہور سے محبت ہے
کسی اور سے محبت ہے

یہ اس دور کا لاہور ہے جب اس کی ٹھنڈی سڑک (مال روڈ) پر غلام عباس کے اوور کوٹ کا ہیرو مٹر گشت کیا کرتا تھا۔ وہ لکھتی ہیں

” وہ شہر اس کے لیے پریوں کے دیس جیسا تھا۔“
”وہ محبت کی دیومالائی کہانیوں کا شہر تھا۔“

، ”وہ شہر پھولوں اور باغوں کا شہر تھا جن کی خوشبوؤں سے فضائیں معطر رہتی تھیں اور سب سے بڑھ کر وہ درسگاہوں کا شہر تھا۔ درسگاہیں جو عبادت گاہوں کی طرح مقدس ہوتی ہیں۔“

کنول بہزاد نے اپنے تاریخی شہر سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی درسگاہوں اور اساتذہ کرام سے عقیدت کا وہ دور یاد کرا دیا جب اقبال اپنے استاد مولوی میر حسن کو بازار میں دیکھتے ہیں تو ان کو سلام کی خاطر ایک پاؤں میں چپل پہنتے ہیں اور سعادت مندی میں پہل کرنے کی وجہ سے دوسرے پاؤں میں چپل پہننا بھول جاتے ہیں۔ یہ اس دور کی کہانی ہے جس میں سمجھا جاتا تھا۔ استاد باغبان ریاض نجات ہے۔

کہانی ایک سیلف میڈ لڑکے کی جد و جہد کی کہانی ہے جو اپنے ایک پڑھے لکھے چچا کو رول ماڈل بناتا ہے۔

ناول میں ایک پوری تہذیب مرقوم ہے۔ اس میں پدرسری نظام کے ڈھانچے کی کئی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ خاندان میں صنفی امتیاز کس طرح پروا جیسی نرم و نازک لڑکی کو اپنی بھینٹ چڑھاتا ہے۔ ایک منفی کردار نے کس طرح ڈوریاں ہلائیں اور مجبور لڑکی کے گرد وٹے سٹے کی شادی کا شکنجہ کسا۔

ان کے ناول کی ایک اور خوبی ہے یہ قاری کو بھول بھلیوں میں نہیں ڈالتا۔ بجھارتوں اور پہیلیوں کی مشکلات میں مبتلا نہیں کرتا۔ سیدھی صاف سڑک پر ٹانگہ دوڑتا چلا جاتا ہے یہ کہتا ہوا کہ

ٹانگہ لاہور دا ہووے بھانویں جھنگ دا
ٹانگے والا خیر منگدا

فکشن کا حسن اپنی جگہ مگر کرداروں رویوں اور واقعات میں افسانوی صداقتیں ہیں۔ نیمے نیمے دکھوں کا بالن ہے۔ ایسے المیے ہیں جن کو چنتے ہوئے قاری کی آنکھیں بار بار نم ہو جاتی ہیں۔

لکھنے کے انداز میں سلاست اور روانی ہے بلکہ کنول بہزاد کی نثر سہل ممتنع کی بہترین مثال ہے۔

ناول مختلف رشتوں میں گندھا ہوا ہے۔ جس میں والد اور بیٹے کی محبت، استاد اور شاگرد کی محبت، پھپھو اور بھتیجی کی محبت، اک شوہر اور اس کی مرحوم محبوب بیوی کے پیار کی کہانی اس میں خالہ اور بھانجی کے رشتے میں الفت پھر چچا اور بھتیجے اور اسی طرح یہ محبت کی بیل پھیلتے پھیلتے اتنی بار آور ہو جاتی ہے کہ اس پر اپنے لوگوں سے بھلائی کے خوشنما پھول کھلنے لگتے ہیں۔

کردار جیتے جاگتے ہیں۔ واقعات مربوط ہیں۔ پلاٹ سادہ اور منظم ہے۔ مکالمے دلچسپ اور چستہ
”پروا
میلے میں بھیڑ ہوتی ہے، اکثر بچے گم ہو جاتے ہیں تو اپنی پھوپھی کی انگلی نہ چھوڑنا ”
تین کردار منفی ہیں جو کافی پاور فل ہیں مگر ان میں سے بھی ایک دوبارہ انسان بنتا نظر آتا ہے۔
بیان کی ناز آفرینی تو دیکھیے،
”آسمان پر پھیلتی شفق کی لالی
ڈوبتا سورج
ایک درخت کی ٹہنی پہ بیٹھی تنہا چڑیا ”
”شام دبے پاؤں دن کے اجالے کو اپنے آنچل میں سمیٹ رہی تھی۔ فضا میں خنکی اور اداسی گھلی ہوئی تھی۔“

”تمہارے اندر جو تخلیقی جوہر ہے، اسے زنگ آلود نہ ہونے دینا۔ ویسے بھی کونپلیں تو سنگلاخ زمین سے بھی پھوٹ پڑتی ہیں۔“ ناول کے اختتام پر لکھنے والی نے پیام دے دیا کہ مٹی کا تم پہ حق ہے اگر تم تنا آور درخت بن جاتے ہو تو اپنے ہم وطنوں کے لیے راستے ہموار کرو، انسان ہو تو اپنے وسائل معاشرتی آسودگیوں کے لیے تقسیم کر دو ۔

یہ ایک بڑا پیغام ہے اور ہر سماج کو اس کی ضرورت ہے۔ یوں میں سمجھتی ہوں کنول بہزاد نے اس کا کینوس آفاقی کر دیا۔

فکشن ہاؤس نے اسے دو ہزار اکیس میں پبلش کیا۔ اس کے صفحات کا رنگ نہ تو پیلا ہے نہ بے حد سفید ایسا ہے کہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے۔ فونٹ سائز بھی اچھا ہے۔ اس کے بیک کور پر مصنفہ کی دلکش تصویر اور تعارف ہے۔ انہوں نے اسے اپنی امی اور بیٹی کے نام انتساب کیا ہے۔

یونس جاوید نے سائیڈ کور پر اپنی رائے دیتے ہوئے عنوان دیا ہے زندگی محبت اور امید

ناول کا مجموعی پیغام زندگی محبت اور امید ہے دوسری جانب مسرت کلانچوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ یہ ناول خوب سے خوب تر کی تلاش میں بڑھتا قدم ہے۔ نین تیرے انجان پر رائے دیتے ہوئے نیلم احمد بشیر صاحبہ فرماتی ہیں۔

”یہ ناول کنول کے دل کی آواز ہے۔ جس میں احساس کی لطافت، درد کی لذت اور غموں کی تفسیر پنہاں ہے۔“
دعا ہے کہ
کنول بہزاد مزید ناول لکھ کر اپنے تخلیقی چشموں، جھیلوں اور دریاؤں سے قارئین کو سیراب کرتی رہیں۔

Facebook Comments HS