معیشت کی زبوں حالی اور مہنگائی کا عفریت


کسی عامل، جوتشی، قیافہ شناس یا کسی کاہن کا ہی پتہ لگایا جائے جو فال نکالے اور بخت بلند دیکھے۔ جس کی پیش گوئی یا نسخہ تیر بہدف ٹھہرے ؛ معیشت سنبھلے، ملک چلے اور قوم، جسے آلودہ ہی سہی، آکسیجن مفت میسر ہے سکھ کا سانس تو لے۔ ویسے اپنے ہاں ریت نرالی ہے۔ معیشت ہو کہ معاشرت، مذہب ہو کہ سیاست، اگر عفریت بن جائے اور قابو میں نہ رہے تو عاملوں کے ٹوٹکے ہی آزمائے جانے کا رواج ہے۔ یہ انواع و اقسام کے علاج معالجے سے تھک ہار کے اپنی نوعیت کا آخری، کافی و شافی علاج سمجھا جاتا ہے۔

پنچھی اور فصلی بٹیرے کھیت اجاڑ کے اپنے اپنے مسکنوں کو لوٹ جایا کرتے ہیں۔ نئی فصل تیار ہوئی اور قوم کی جب انہیں ضرورت پڑی تو پھر آ وارد ہوں گے ۔ قوم ان تلخ تجربات کا سامنا کرتی چلی آ رہی ہے۔ یہاں ٹڈی دل کے حملے بھی بہت ہو چکے ہیں۔

عزیز ہم وطنو! ہم وطن ادھر ہی ہیں : نئی فصل کی بوائی کرنی ہے، زرعی ملک میں زرعی اجناس کی قلت کے پیش نظر زرعی اصلاحات کو ضروری قرار دیے جانے کے لیے نقار خانے میں طوطی کی آواز سنی جا چکی ہے۔ زراعت کو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے جو بھاری بھر کم بوجھ اٹھائے رہنے کی وجہ سے کبڑے پن کا شکار ہے۔

قوم کا دفاع مضبوط مگر معیشت کمزور ہاتھوں میں ہے۔ غربت، فاقہ مستیوں میں آزادی سے رقصاں ہے۔ اقتدار کے حلقوں میں بیٹھے خوش نصیب و خوش حال افراد گاہے قوم کی بد حالی کا مذاق اپنے احمقانہ تبصروں کے ذریعے اڑاتے چلے جا رہے ہیں۔

نگران حکومت اس زبوں حالی کی جانفشانی سے نگرانی کر رہی ہے۔ مجال ہے جو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہی دینے کی کوتاہی کرتی ہو۔ ایک لمحے کی غفلت کی مرتکب ہونے سے گریزاں ہے کیوں کہ لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا کیونکر بنے جب کہ حکومت عبوری ہے، عارضی ہے، جز وقتی ہے، لمحے بھر ہی کی تو ہے!

معیشت ہچکیاں لے رہی ہے۔ وہ دن گئے ’جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے‘ ، اداروں کو قومیانے کا زمانہ و حالات نہیں رہے، نجکاری کا عمل اس حد تک مکمل ہو چکا ہے کہ اب عملاً نجی ملکیت بھی مفقود ہو چکی ہے اور ہم نے حضرت اقبال کے فرمان، ’نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر‘ پہ لفظاً عمل درآمد کر لیا ہے۔ اب ریاستی ادارے ہی نہیں، تقریباً ساری ریاست ہی عالمی مالیاتی اداروں کے قبضہ قدرت میں چلی گئی ہے۔ با الفاظ دیگر ہم ”پرائیویٹائزیشن“ سے ”نیشنلائزیشن“ اور اب کے ”انٹرنیشنلائزیشن“ کی منزل پر پہنچ گئے ہیں۔

اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ قوم بھی یاس و حسرت میں آسمان کی طرف ہی دیکھ رہی ہے۔

لوگوں کی قوت خرید سکتے میں ہے۔ انسانیت سوز واقعات سننے اور دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

عصمت، عزت، ننگ دھڑنگ۔ غرض سبھی اقدار اشیائے صرف کی مانند تجارتی منڈیوں میں آڑھتیوں اور کمیشن ایجنٹوں کی آجرانہ و تاجرانہ مہارتوں کے ہاتھوں اونے پونے داموں خریدی اور بیچی جا رہی ہیں۔ دلخراش اور جگر سوز داستانیں ہیں جو اہل احساس کو نفسیاتی عوارض میں مبتلا کرنے کے لیے بہت ہیں۔

کوئی مشتری ہو تو آواز دے
میں کمبخت جنس ہنر بیچتا ہوں

ہنر اور ہنر مندوں کی ارزانی سے بات کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔ نوبت جسم و جاں اور اعضاء انسانی کی تجارت تک پہنچ چکی ہے۔ شفقت پدرانہ امتحان گاہ میں اپنے جسمانی اعضا کی بولی لگا رہی ہے۔ ماں کی مامتا اپنے جگر گوشوں کو بھوک سے بلکتے دیکھ کر مزید درد و کرب میں جینے کا حوصلہ ہارتی ہوئی اپنے سمیت اجل کی آغوش میں پناہ ڈھونڈ رہی ہے۔

ریاست جو ماں کے جیسی ہوتی ہے خود کو محض ایک خیالی وجود ثابت کر رہی ہے۔ دردمندی تو کجا، حکومت غریب عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ ’حکمران‘ چوہوں کی طرح بلوں میں چھپے پارلیمان کے بلوں کا تماشا لگائے بیٹھے ہیں اور عوام کو بجلی کے بلوں نے ستا رکھا ہے جو گھروں سے نکل کے شاہراؤں پہ آ گئے ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب یہی عوام اقتدار کے ایوانوں کا رخ کریں گے اور پھر خلق خدا، مخلوق خدا پہ چڑھ دوڑے گی۔ قیادت کے فقدان کا سامنا نہ ہوتا تو قوم کب کی یہ منزل طے کر چکی ہوتی۔

بقول شخصے ’غربت دو ہی نتائج پیدا کرتی ہے ؛ انقلاب یا جرائم‘ ، تیسری کوئی سمجھوتے کی صورت نہیں ہوتی۔
یاد رہے کہ انقلاب اور عذاب میں فرق کو سمجھنا ضروری

ہے۔ ہمارے نظام عدل کے کچھ ’درخشندہ ستارے‘ عذاب کی ایک صورت کو انقلاب گردانتے چلے آئے ہیں۔ ایسے انقلابیوں نے عوامی مزاحمت کی عدم موجودگی کو سند جواز سمجھ رکھا ہے اور عوام کی خموش تائید سے تعبیر کیا ہے۔ موجودہ حالات کی سنگینی کہیں کسی ایسی ہی صورت حال سے دوچار کرنے کا سبب نہ بن جائے۔

انقلاب کے لیے دو سطحوں پہ کام کی ضرورت ہوتی ہے ؛ ایک تصوراتی یا نظریاتی پہلو جس کا سہرا کسی بھی قوم کے دانشوروں کے سر ہوتا ہے جب کہ دوسرا عملی پہلو جو میدان کارساز سے تعلق رکھتا ہے اور جس میں قیادت، عوامی قوت و طاقت کا محور و مرکز ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں نہ ہی انقلاب کے لیے فکری سطح پہ کوئی قابل ذکر و قابل عمل کام ہوا ہے اور نہ ہی فی الوقت انقلابی قیادت میسر ہے۔

اس صورت حال میں غربت اپنا فطری نتیجہ برپا کرتی ہوئی جرائم کی شرح میں اضافے کا سبب بنتی چلی جا رہی ہے۔ یوں افلاس، سراسیمگی اور خوف و ہراس کا مؤجب بنتے ہوئے امن کی آشا کو سبوتاژ کرنے لگا ہے۔

حلقہ ارباب اختیار سے خیر کی امید کے ساتھ التجا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے اس عوام کے صبر کو مزید نہ آزمایا جائے اور کمر توڑ مہنگائی کے عفریت کو قابو میں لانے کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں۔

عوام جانیں تک قربان کر چکے ہیں، حکمرانوں کی کم از کم اپنی عیش و عشرت اور اللوں تللوں کو کم کرنے کی حد تک تو قربانی واجب ہی نہیں، فرض ہو چکی ہے۔ ملک ہے، عوام ہیں، وسائل ہیں تو ہی ان کی عیاشیاں بھی ہیں۔ کل کو خاکم بدہن! اگر ملکی سلامتی خطرے سے دو چار ہو جائے تو کاہے کا راج، کاہے کی راجدھانی!

Facebook Comments HS