یورک ایسڈ، کولیسٹرول، ٹرائی گلیسرائیڈ اور بہاول پور کا نابینا حکیم


راقم ماضی میں زندگی کے کئی سال ایک اچھے خاصے خوش خوراک فرد کے طور پہ گزار چکا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں والد صاحب چندی پور سے ماہانہ اخراجات کی مد میں جو رقم بھجواتے، اس کا ایک قابل ذکر حصہ ایک طرف رکھ لیا جاتا کہ اتنے پیسے انور توا قیمہ فرائی والے کے لیے، اتنی رقم ببو کڑاہی گوشت اور تکہ کباب والے کے لیے اور اتنی رقم سے روزانہ آٹھ دس کپ چائے خود پینا ہے اور دوستوں کی چائے کا بل بھی ادا کرنا ہے۔

بہاول پور ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک صاحب صبح صبح اپنا ناشتہ ٹھیلہ لے آتے۔ مٹی کے مٹکے میں پائے کا خوشبو بکھیرتا گرم گرم سالن ہوتا، قریب ہی تندور سے گرما گرم روٹی آ رہی ہوتی۔ وہ ایک بڑے پیالے میں پائے کا سالن ڈال دیتا، راقم اس پہ کالی مرچوں اور گرم مصالحے کا چھڑکاؤ کرتا جاتا اور گرم روٹی کے نوالے بنا کر شوربے میں ڈبو ڈبو کے کھاتا جاتا۔ وہاں سے اٹھ کر قریبی اوقاف مارکیٹ میں بابا کریم کے ٹی اسٹال پہ بھاپ اگلتی شیشے کے گلاس میں پیش کی گئی چائے سڑکتا جاتا۔

جب جاب ہوئی تو والد صاحب سے عرض کیا کہ تنخواہ کا کتنا حصہ آپ کو دینا ہو گا؟ انھوں نے ہمیشہ کی طرح مہربان دوست بن کے کہا ”عیش کر بچہ“ اور پھر ہمارے عیش پہلے سے بھی زیادہ ہو گئے یعنی پاکستانی، چائینز، عریبک، ترکش اور حلال کھانوں میں دنیا کی کون سی ڈش ہو گی جو ہم نے اپنے پیٹ میں نہ اتاری ہو گی۔ سرخ کوئلوں پہ بنائے گئے ایسے گرما گرم کباب ہماری کمزوری تھے جن میں مرچ مصالحہ اس قدر تیز ہو کہ نوالہ منہ میں جاتے ہی کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہو جائے۔

پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بازار کے کھانوں سے جی اوب گیا۔ خواہش دل نے نیا روپ یہ اپنایا کہ صبح کے وقت چائے اور بریڈ لے لی جائے۔ دوپہر کو سبزی اور رات کو بس دال چپاتی ہو۔ لیکن کیا کیا جائے ہم مردوں کے بڑھے ہوئے پیٹ اور خواتین کے بڑھے ہوئے کولہوں کا جو برسوں کی خوش خوراکی سے ایک مرتبہ بڑھ جائیں تو ان کو واپس پرانی پوزیشن پہ لے جانا ایسے ہی ہے جیسے آئندہ سو سال کے اندر اندر مسئلہ کشمیر حل کر دینے کا کوئی خوشنما پلان پیش کر دینا۔

بہاول پور پریس کلب والوں نے اپنے آفیشل واٹس گروپ میں پیغام ڈالا کہ سر صادق سول ہسپتال سے ہیلتھ ٹیم پریس کلب ارکان کی مفت بلڈ سکریننگ کے لیے پریس کلب آ رہی ہے۔ دیگر بہت سارے ارکان کی طرح ہم نے بھی سمجھا کہ شاید آئی ایم ایف اور پاکستانی ایلیٹ اشرافیہ کی طرح وہ ہمارا خون نکالنے آ رہے ہیں۔ کسی اچھی لیبارٹری سے جسم کے ایگزیکٹو پروفائل ٹیسٹ کرائیں جائیں جو تقریباً سترہ اٹھارہ ٹیسٹ بشمول جگر، گردہ، لبلبہ وغیرہ کی پوزیشن کے ہوتے ہیں ان پہ اٹھارہ سے بیس ہزار روپے یا اس سے بھی زیادہ لاگت آتی ہے۔ چلو ان کی مہربانی سے بلڈ سکریننگ ہوئی اور رپورٹ آئی کہ باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن یہ جو آپ نے سالہا سال تکہ کبابوں پہ ہاتھ صاف کیے تھے، ترک تمنا کیے جانے کے باوجود ان کے اثرات ابھی تک آپ کے جسم میں موجود ہیں یعنی یورک ایسڈ، کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ تھوڑا سا بڑھے ہوئے ہیں۔

گھر آ کر رپورٹ میز پہ پھینک دی کہ عرصہ ہوا ہم تو سبزی خور اور دال خور بن چکے ہیں۔ چائے بھی ایک آدھ کپ پیتے ہیں۔ یہ لیبارٹری رپورٹیں تو بس ایسے ہی ہوتی ہیں۔ اب کیا رائزک اور میپرازول کھاتے پھریں یا یورک ایسڈ کنٹرول کرنے کے لیے ہومیوپیتھک دوائیں کالچیکم اور ارٹیکا یورینس اور کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کم کرنے کے لیے پلساٹیلا اور نیٹرم فاس لیتے پھریں یا دیسی دوا کے طور پہ نہار منہ لیموں، سفید زیرہ، ادرک، لہسن اور شہد والا قہوہ نوش فرماتے پھریں۔ نہیں بھائی نہیں، ہم سے یہ سب کچھ نہ ہو پائے گا۔ ”ای ہم سے تو نہ ہو پاوے“ ۔

بھلا ہو خاندان والوں کا جن کو ہماری اس لیب رپورٹ کا علم ہو گیا اور طرح طرح کے اندیشے زبان زد عام ہو گئے۔ ”ارے بھائی! یورک ایسڈ، کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ بڑھ جانے سے ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے۔ دل میں سٹنٹ ڈلوانے پڑیں گے اٹھارہ سے پچیس لاکھ روپے خرچہ آئے گا“ نہ بھائی نہ تو ایسا کر گوشت اور چاول کھانا بند کر۔ بھائی میاں! وہ پہلے کا ہی بند یا کم کیا ہوا ہے۔ سبزی خور بنے ہوئے ہیں۔ اچھا پھر کسی بڑے ڈاکٹر کو دو ”ہجار“ روپے فیس دے کر اپنا علاج پوچھ۔ بھائی! اگر وہ فارما سیوٹیکل والوں کا مہربان نکلا تو آٹھ دس دوائیاں کھانے پہ لگا دے گا جو ساری زندگی کھانا پڑیں گی ان سے مزید نئے امراض پیدا ہو جائیں گے۔ کچھ تو خیال کر بھائی!

اچھا تو ایسا کر مچھلی بازار والے نابینا حکیم کے پاس جا۔ کڑوے عرق والی دوا دے گا اور تیرا کولیسٹرول کم ہو جائے گا۔ ارے بھائی! کوئی ضرورت نہیں۔ یہ جو میں صبح کے وقت گھر سے پارک واک کرنے جاتا ہوں تو ٹھیک ہے کہ پارک کے اردگرد کھڑے ناشتہ والے، برگر شوارما اسٹال والے اور ریسٹورنٹس والے اپنے پتیلے اور برتن دھو کر بدبو دار پانی وہیں پارک کے اردگرد سڑک پہ ہی ڈال کر سڑک کے ساتھ تالاب بنا جاتے ہیں۔ گاہکوں کی پلیٹوں سے جو کھانا بچ جاتا ہے وہ ڈرم میں ڈالنے کے بعد رات کو جاتے ہوئے وہ ڈرم سڑک کنارے ہی خالی کر جاتے ہیں تو وہاں سے گزرتے ہوئے ابکائی تو آتی ہے لیکن اپنا وزن کم کرنے کے ”دل خوش کن“ خوابوں کی تعبیر پانے کسی نہ کسی طرح پارک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ اب یہ سنگا پور تھوڑی ہے جو گلیوں میں کچرا، کاغذ اور بچا ہوا کھانا اور بدبو دار پانی سڑک کنارے ڈالنے پہ بھاری جرمانے لگاتا پھرے۔ میری جان یہ ہے پاکستان اور تو ہے بڑا نادان۔ لبوں کو اپنے سی لے اور بن جا ایک انجان۔ خیر۔

خاندان والوں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ اس کو نابینا حکیم کے پاس لے کر جانا ہی جانا ہے۔ صدر پلی چوک پہ ٹھیلے والے نے لاؤڈ اسپیکر آن کیا ہوا تھا ”کیلے سو روپے درجن سو روپے درجن“ ۔ سوچا حکیم صاحب کے لیے کیلے لے لیے جائیں۔

اب کیا پتہ تھا اسی سال کا بوڑھا نابینا حکیم بڑا ہی اصول پسند قسم کا بندہ ہے۔ مریضوں کو چیک کرنے کا اس کا اپنا ہی ٹائم ٹیبل ہے۔ آرام کرنے کا اپنا وقت۔ پتہ چلا وہ محلہ عام خاص میں اپنے چھوٹے سے پرانے گھر پہ ہی مریضوں کی نبض دیکھ کر مرض بتا دیتے ہیں۔ مسجد مچھی ہٹہ کے پاس محلہ میں داخل ہو گئے۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک پرانے سے بغیر پینٹ والے چھوٹے سے مکان کے پاس پہنچ گئے۔ لکھا تھا ”حکیم قمرالزمان خاکوانی“ ۔

بیل تو تھی ہی نہیں۔ ہم نے ”دھڑ دھڑ“ دروازہ بجانا شروع کر دیا۔ حکیم صاحب شاید قیلولہ فرما رہے تھے۔ کافی دیر بعد باہر آئے تو شدید غصے میں لال بھبھوکا ہو کر ہماری عزت افزائی فرمانا شروع کر دی۔ ہم نے کیلوں والا شاپر آ گے کیا تو انھوں نے غصے سے واپس کر دیا۔ ڈھیٹ بن کر پوچھا تو پھر کب آئیں؟ حکم ہوا کل گیا رہ بجے دن۔

حکیم صاحب نے ہماری کلائی پہ ہاتھ رکھ کر ہماری نبض کو محسوس کیا اور فرمایا ”تیرا خون گاڑھا ہوا پڑا ہے“ ۔ ہم نے تو بابے کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینا تھی لیکن ان کا کیا کیا جائے جو ہمارے ساتھ گئے تھے؟

حال نہ پوچھ بھائی! کڑوا عرق پی پی کر ہمارا حال ہی کڑوا ہوا پڑا ہے ایسے ہی جیسے بیچارے پاکستانی عوام کا بے لگام مہنگائی کے ہاتھوں حال۔ ویسے یار! آپس کی بات ہے جب تک خوراک کی بد پرہیزی سے نہ بچا جائے اور واک ورزش کو نہ اپنایا جائے، دنیا کی کوئی ایلوپیتھک، ہومیوپیتھک اور یونانی و آیور ویدک دوا آپ کا یورک ایسڈ، کولیسٹرول، ٹرائی گلیسرائیڈ اور شوگر لیول کم نہیں کر سکتی۔

( 4 ستمبر 2023 کو لکھی گئی تحریر)

Facebook Comments HS