بوسنیا کی چشم دید کہانی -46
زغرب میں ”شب باشی“ کے اخراجات سے بچنے کے لیے ہم نے اگلا سفر ایک بار پھر رات کو کرنے کا فیصلہ کیا۔ کبھی اونگھتے، کبھی سوتے علی الصبح وسوکو پہنچ گئے۔ رشید اور گل افضل جنھیں ہماری آمد کی پہلے سے اطلاع تھی، پر تکلف ناشتے پر ہمارے منتظر تھے۔ رات بھر کے سفر اور بھرپور ناشتے کے بعد اب نیند سے پنجہ لڑانا مشکل تھا، چنانچہ ہم سو گئے۔ جب اٹھے تو سہ پہر ہو چکی تھی۔ تیار ہوئے، چائے خود بنا کر پی۔ پھر وسوکو کی سیر کے لیے پیدل نکل پڑے۔
وسوکو دریائے بوسنا کے کنارے پر آباد ہے جو آبادی اور وسعت کے اعتبار سے کچھ ایسا بڑا قصبہ نہیں ہے۔ اس کا مسلم تشخص اس کی مساجد سے نمایاں تھا۔ صرف ایک مسجد کو چھوڑ کر باقی تمام مساجد قدیم طرز کی تھیں۔ ان میں سے دو مساجد ایسی تھیں جن کے اکلوتے مینار لکڑی کے بنے ہوئے تھے۔ واحد نئی مسجد شہر کے مرکز سے ذرا ہٹ کر کئی مکانوں میں گھری ہوئی تھی۔ سڑک سے اس کا صرف مینار نظر آتا تھا۔ مینار کی شکل و شباہت سے کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ مسجد ہی ہے یا کوئی دوسری عمارت۔ ہم نے اپنی الجھن دور کرنے کی خاطر ایک دکان دار سے مینار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
کیا یہ مسجد ہے؟
اس نے ہماری انگلی کی سیدھ میں نظر دوڑائی
یہ مینار ہے مسجد اس کے نیچے ہے۔ وہ زیر لب مسکراتے ہوئے بولا
بوسنیا کے اکثر شہروں اور قصبات کے مقابلے میں جہاں سڑکوں اور کوچوں کی نشان دہی نیلی تختیوں کے ذریعے کی جاتی تھی، وسوکو میں ایسی تمام تختیاں سبز رنگ کی تھیں جو میرے خیال میں اسلامی پہچان کو نمایاں کرنے کی شعوری کوشش تھی۔ قصبہ کے مرکز میں جہاد سینٹر بھی پایا گیا۔ پھر جب مغرب کے وقت مختلف مساجد سے اذانیں فضا میں بلند ہوئیں تو ایسا لگا کہ ان کی دور تک پھیلتی گونج یہ گواہی دے رہی ہے کہ
ع۔ نہ ہے زماں نہ مکاں لا الٰہ الا اللہ۔
اگلے دن ہمارا پروگرام سرائیوو کے بعد بوسنیا کے دوسرے بڑے مسلم اکثریتی شہر زنیسا اور دور عثمانی کے ایک پایۂ تخت ٹراونک کو دیکھنے کا تھا۔ چنانچہ ہم دریائے بوسنا عبور کر کے قصبے سے ذرا باہر واقع بس اسٹیشن تک چلے گئے۔ یہاں پر ایک ٹیکسی ڈرائیور سے بات کر کے اگلے پورے دن کے لیے پچاس مارک کرایہ پر ٹیکسی حاصل کر لی۔
اگلی صبح مقررہ وقت پر ڈرائیور ٹیکسی لے کر ہمارے ٹھکانے پر پہنچ گیا۔ ٹیکسی کی حالت زیادہ اچھی نہ تھی۔ ڈرائیور کا نام مفید تاتار تھا۔ مسلمان ہونے کے ناتے وہ جلد ہی ہم سے بے تکلف ہو گیا۔ وہ بار بار اپنے بیٹے کا ذکر کرتا تھا جس کی عمر چار سال تھی اور جس سے اسے بے حد پیار تھا۔ اس دن ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ ہم کوئی پون گھنٹے کے سفر کے بعد زنیسا میں داخل ہوئے۔ یہ شہر ایک کھلی وادی میں واقع ہے۔ یہاں پہنچ کر دریائے بوسنا اس کے اردگرد ایک ہلال کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ دریا کے کنارے وسیع سبزہ زار ہیں جن میں قائم پارکوں میں بلند اور گھنے درختوں کے سائے میں لکڑی کے بنچ لگے ہیں۔ ہم نے شہر کے گرد ایک چکر لگایا اور شاد ہوئے۔
اس کی کشادہ سڑکوں کے کنارے اونچی عمارتیں پھیلی ہوئی تھیں۔ شہر میں چلنے والی اکثر گاڑیوں کی حالت پاکستانی ٹیکسی گاڑیوں سے مختلف نہ تھی۔ ہم نے شہر کے روبنہ کوچہ ( مارٹ) کے قریب گاڑی کھڑی کی۔ پھر پیدل سینٹر کی طرف نکل گئے۔ سینٹر کچھ زیادہ وسیع نہ تھا۔ دکانوں میں موجود اشیاء کا معیار بھی کچھ ایسا بہتر نہ تھا۔ کچھ وقت یہاں گزارنے کے بعد ہم نے شہر کے عقب میں واقع اس سٹیل مل کا رخ کیا جو کبھی یورپ کی سب سے بڑی سٹیل مل مانی جاتی تھی، لیکن جنگ کے دوران غیر مسلم ہنرمندوں کے شہر چھوڑ جانے کی وجہ سے اپنی استعداد سے بہت کم پیداوار دے رہی تھی۔ زنیسا میں قیام کے دوران بارش کچھ دیر کے لیے تھم گئی تھی لیکن ادھر ہم نے ٹراونک کی راہ لی۔
ادھر یہ ایک بار پھر ہماری شریک سفر ہو گئی۔ زنیسا سے ٹراونک تک جانے والی سڑک کی حالت زیادہ بہتر نہ تھی۔ راستے میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے کروایٹ قصبے پڑتے تھے جن کے نیم تباہ شدہ گھر اس ماضی کی یاد تازہ کرتے تھے، جسے بھلانے کی ہر تدبیر بہت سے لوگوں کی پوری نیک نیتی کے باوجود رائگاں جا رہی تھی۔ یہی بوسنیا کے ہر فرد، کنبے اور خاندان کا سب سے بڑا المیہ تھا۔ پہاڑیوں میں گھرے ٹراونک میں ہم کوئی گھنٹہ بھر کے سفر کے بعد پہنچے۔
ٹراونک ہماری توقعات سے کہیں چھوٹا قصبہ نکلا۔ یہاں اکا دکا جدید عمارتوں کو چھوڑ کر باقی تمام عمارتیں پرانی طرز کی تھیں۔ قصبے کے شروع میں پہاڑی پر ایک قلعہ کی بوسیدہ دیواریں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس قلعہ کی مشرقی دیوار کے نیچے ایک بڑا قبرستان تھا، جو قصبے میں داخل ہوتی ہوئی سڑک سے واضح طور پر نظر آتا تھا۔ قصبے میں مسجدوں کی تعداد اچھی خاصی تھی۔ ان میں بوسنیا کی چند قدیم ترین مساجد میں سے ایک جامعہ علی بیگاوا بھی تھی۔
اس کا سال تعمیر 1757 ء تھا۔ اس مسجد کے گردونواح میں بڑی بڑی لوحوں سے آراستہ امرائے وقت کی کچھ اونچی اونچی قبریں تھیں جن پر لکھے گئے اشعار اور آیات بہت سے الفاظ کے مٹ جانے کی وجہ سے اپنا ربط کھو چکے تھے۔ یہاں جدید کیفے بار اور ریستوران بھی تھے۔ لیکن زیادہ تعداد چھوٹے اور تنگ قدیم قہوہ خانوں کی تھی۔ اقبال نے بوسنیا کی مقبول ڈش کباب چوآپی کے لیے ایک ایسے ہی قہوہ خانے کا انتخاب کیا۔ قہوہ خانے میں بہ مشکل دس بارہ افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ تقریباً اتنے لوگ وہاں پہلے سے ہی موجود تھے۔
ان میں سے ایک بھاری بھر کم جثے والا شخص فوجی وردی میں ملبوس تھا۔ اس کے ساتھ دو بچے تھے۔ یہاں باقی سب بوڑھے جوڑے تھے جو سبز چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے باتوں میں مشغول تھے۔ قہوہ خانے میں داخل ہوتے ہی ہم نے السلام علیکم کہا۔ یوں ہمارے اور ان کے درمیان اجنبیت ختم ہو گئی۔ چہروں پر استقبالیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ قہوہ خانے کے عملے نے کبابوں کے ساتھ اضافی سلاد فراہم کر کے جذبہ خیر سگالی کا اظہار کیا۔ فوجی جوان کے کہنے پر بچوں نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا۔ اس دوران ٹوٹی پھوٹی زبان میں تعارف اور بات چیت بھی شروع ہو گئی۔ ہم جتنی دیر یہاں رہے، اپنائیت کا اظہار جاری رہا یوں مسلمانوں کا آپس میں عمومی طور پر ہر جگہ پایا جانے والا سلیقۂ دل نوازی اپنا رنگ دکھاتا رہا۔
شام کو ہم وسوکو واپس لوٹ آئے اور اگلی صبح ہم نے اپنے میزبانوں سے اجازت چاہی۔ گل افضل ہمیں بس اڈے تک چھوڑنے آیا جب کہ رشید نے یہ تکلف ضروری خیال نہ کیا۔ اقبال کو اس کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا اور بولا
ہمارے ایک ایس پی صاحب نے سچ ہی کہا تھا، ہر پشتو بولنے والا پختون نہیں ہوتا۔
وسوکو سے سٹولک واپسی پر ابھی ہماری دو دن کی چھٹی باقی تھی۔ یہ دو دن ہم نے ٹرے بینیا میں مرزا اور میمن ( موجودہ آئی جی سندھ ) کے ہاں گزارے۔ وہ دن کو صبح آٹھ تا چار دفتر میں مصروف ہوتے۔ اس دوران ہم قصبے میں آوارہ گردی کرتے رہتے۔ شام کو واپسی کے بعد کھانا پکانے کی تراکیب پر مشتمل کتابچے کو کھولتے اور ساتھ ہی ہانڈی چولہے پر رکھ دیتے۔ ادھر مشق تاش شروع ہو جاتی، یہ مشق اس وقت تک جاری رہتی جب تک کہ ہاتھوں کی جنبش اور آنکھوں کا دم نیند کے آگے بے بس نہ ہو جاتا۔
ٹری بینیا میں ایک دن میں نے میرا کے ساتھ اس کے گھر پر گزارا۔ یہ اتفاق تھا کہ پاکستان سے واپسی کے بعد سے میری اس کی ماں سے ملاقات نہ ہو پائی تھی۔ وہ سراپا شفقت اور نہایت وضع دار خاتون تھی۔ اس نے ہمیشہ کی طرح بڑے چاؤ سے میرے لیے کھانا بنایا، جس میں بھنی ہوئی مچھلی بھی شامل تھی۔ ہم جب بھی ملتے تو میرا کی برائیاں ضرور کرتے تھے۔ چنانچہ آج بھی جونہی کھانے سے فراغت ہوئی۔ ہم نے اپنا پسندیدہ موضوع چھیڑ دیا۔ ایسی صورت حال میں میرا ناحق پکڑے جانے کا گلہ بھی کیا کرتی تھی کیوں کہ دم گفتگو اس کا کوئی ”آدمی“ تو کیا وہ از خود موجود ہوتی تھی اور مترجم کے فرائض بھی سر انجام دیتی تھی۔ یہ اس کی روکھی زندگی میں کم کم آنے والا وہ وقت ہوتا تھا جب وہ بہت کھل کر ہنستی تھی۔
چھٹی کے اختتام پر پھر سٹولک تھا اور پھر وہی روز و شب لوٹ آئے تھے۔ چار نیپالی اور دو بنگلہ دیشی افسران کی آمد سے اردو مافیا کو اسٹیشن پر اب واضح برتری حاصل تھی۔ تین شفٹوں میں سے ہر شفٹ میں اب ایسے تین چار ہم زبانوں کا پایا جانا عام تھا۔ سیکا کے لیے یہ صورت حال بڑی پریشان کن تھی۔ وہ کوشش کرتی تھی کہ اردو مافیا کے ساتھ اس کی گشت ڈیوٹی نہ لگے۔ کیوں کہ ادھر یہ ایک سے دو ہوئے اور ادھر داغؔ کی زبان کی دھوم ہندوستان سے باہر تک پہنچانے کا عمل شروع ہو جاتا تھا۔ یوں سیکا کو درپیش معاملہ مرزا غالب سے کچھ مختلف نہ ہوتا تھا یعنی
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ سنیں اور کہا کرے کوئی
ایشور کی موجودگی میں سیکا کی بے زاری کا عالم ایسا نہیں ہوتا تھا کیوں کہ وہ اسے بڑی آسانی سے اردو سے انگریزی کی پٹڑی پر چڑھا لیتی تھی۔ ادھر ایشور سنگھ میر انیس کی تقلید میں پھول تو کیا ہر مضمون کو سو رنگ میں باندھنے کا دعوے دار تھا اور کسی بھی موضوع پر بولتے ہوئے اپنی گرفت جلدی ڈھیلی نہ پڑنے دیتا تھا۔ یوں سیکا کو اپنے مقصد میں بہ آسانی کامیابی حاصل ہو جاتی تھی۔


