تبدیلی


انسان کتنی بھی کوشش کر لے لیکن وہ اپنی زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر کوئی قدرت نہیں رکھتا پھر وہ کتنا ہی اپنی بدقسمتی اور دکھ کا اظہار کرے وہ اس تبدیلی کو اپنی چاہت کے مطابق نہیں ڈھال سکتا۔

میرے نزدیک ایک زندگی اسی کشمکش کا شکار ہو کر رہ گئی ہے کہ کیا انسان تبدیلی چاہتا ہے جس نہیں جب اس کی زندگی میں کوئی بدلاؤ وجود میں آتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کر پاتا اور اس کو ہر زاویے سے برا مانتا ہے اور اس کی مخالفت کرتا ہے۔ مگر دوسری طرف جب یہ بدلاؤ نہ آئے تو زندگی ایک برفانی علاقے میں برف کے پہاڑوں پر جمی برف کی مانند ہو جاتی ہے۔ اس کو لگتا ہے کہ وقت تھم گیا ہے۔ اس کی زندگی میں کچھ بھی دلچسپ نہیں رہا بس وہی خستہ حال اور ایسے جیسے اس کی زندگی رک جانے کا ماتم کر رہی ہو اس حالت کے نتیجے کو ہم سامنے رکھ کر فیصلہ کریں تو انسان کو تبدیلی پر شکر کے بول بولنے چاہیے مگر وہ اس تبدیلی کو بھی نہیں قبول کرتا۔

اس کی سب سے بڑی مثال آج کل کے سیاسی حالات جو کہ ہمارے ملک میں ہیں۔ تازہ ترین خبروں کے ساتھ کسی نہ کسی سوشل میڈیا یا پھر نیوز چینلز پر بتائے جاتے ہیں۔

نہیں! میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے حق میں نہیں لکھ رہی اور نہ ہی کسی لیڈر یا کسی سیاسی رہنما کی تذلیل میرا مقصد ہے اور نہ ہی میں اس بات کو اپنا عنوان بنا رہی ہوں ہو کہ کون یہودیوں کی سازش کر رہا ہے اور کس پر بدعنوانی کے کیس چلے تھے۔ میرا عنوان انہی لوگوں کو سمجھ میں آئے گا جو ان چیزوں سے ہٹ کر اس پر روشنی ڈالیں گے کہ لیڈر اور سیاست کے علاوہ وہ عام آدمی کا کیا ردعمل اور اس کی کیا سرگرمیاں ہیں۔ یعنی وہ اب کیا کر رہا ہے اور تب کیا کر رہا تھا۔ بات یہ ہے کہ حکمران وہ جو تھے جس وہ جو ہیں۔ ایک عام آدمی کی زندگی کا مقصد چند ایک روٹی اپنے بچوں کی پرورش اپنے سے وابستہ تمام ذمہ داریوں کو بخوبی پورا کرنا ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ کو انسان کہلوانا ہے۔ عام آدمی کو یہ زیب نہیں دیتا تا کہ وہ ان اولین ذمہ داریوں سے بالاتر ہو کر اتنے جلال میں آ جائے کہ اپنے جیسے عام انسان کی تذلیل کو اپنی کامیابی کی سیڑھی سمجھے ہم کسی کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ آگے اس پر عمل کرنا اور عمل نہ کرنا اس انسان کے عطا کردہ شعور پر منحصر ہے۔ ہم جتنی بھی کوشش کر لیں کسی کی بھی سوچ کو اپنے مطابق نہیں چلا سکتے۔

کاش! میں ان خبروں کی جگہ وہ تمام سیاسی پارٹی ہو اور ان کے ساتھ دینے والے لوگوں میں ایک پیغام عام کر سکتی کہ۔

”خدارا سیاست میں انسانیت کو نہ بھولے اور نہ یہ بھولیں کہ ہم انسانوں کا پہلا مقصد انسان کہلانا ہے۔“ ۔


One thought on “تبدیلی”

  • 07/09/2023 at 8:22 شام
    Permalink

    Zabardast shah shb

Comments are closed.