دعا یا دوا
کچھ عرصہ قبل اس موضوع پر سر خالد سہیل کا بلاگ پڑھا تو سوچا وقت ملنے پر اس موضوع پر اپنے خیالات بھی لکھوں گی۔ خدا ہے یا نہیں، ہے تو کیا ہے اور کیا نہیں۔ چونکہ اس سوال کا کوئی حتمی جواب موجود نہیں لہذا کسی فلسفیانہ، سائنسی یا مذہبی جواب کو حتمی ماننا یا رد کرنا بھی سہل نہیں۔
مکمل رد کریں تو پھر نطشے کا زاراتھسٹرا دکھائی دیتا ہے۔ ’دس سپوک زارا تھسٹرا‘ میں الفاظ ادا تو ایک کردار کی زبان سے ہوتے ہیں مگر بقول کیرن آرمسٹرانگ کے نطشے کے دل کے کسی نہاں خانے کی آواز ہیں، کہ خدا کو چھوڑنا اس کے لئے لاشعوری سطح پہ کوئی پرمسرت تجربہ نہیں رہا۔ زاراتھسٹرا کا ایک کردار اپنے آپ کو تصور خدا کے جھنجھٹ سے آزاد کرنے کے بعد آخرکار آہ و زاری کرتے ہوئے اسی نا معلوم خدا کو تمام جھنجھٹوں سمیت پھر سے لوٹ آنے کی فریاد کرتا ہے۔
نہیں! لوٹ آؤ
اپنی ان تمام اذیتوں کے ساتھ۔
اہ! لوٹ آؤ
میرے نامعلوم خدا! میرے الم! میری آخری۔ خوشی
ساترے کا کہنا تھا کہ انسان میں ایک ”گاڈ شیپیڈ ہول“ یعنی ایک ’خدا نما خلا‘ موجود ہے، جہاں خدا یا کوئی آفاقی ہستی ہمیشہ سے موجود رہی ہے جس نے اس کی حیات اور وجود کو معنی اور مقصدیت عطا کیے رکھا ہے۔ مگر نطشے کے اعلان، کہ اب خدا نہیں رہا، کے بعد سے وہ جو اس خبر کو یقین کی نگاہ سے پرکھ رہے ہیں، اس تلاش میں سرگرداں ہیں کہ پھر اب اس خلا کو کس شے سے بھرا جائے۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ جب تک اس خلا کو بھرنے کے لئے انسان کے پاس کوئی خدا جتنا ہی طاقت ور تصور، نظریہ یا کوئی اور بامعنی مقصد حیات نہیں ہوتا وہ ایک اضطراب اور بے مقصدیت کا شکار رہتا ہے، جس سے نکلنے کے لئے اسے اپنے باطن کے وسائل پر ہی بھروسا کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ کسی مابعد الطبیعاتی امکان کو رد کر چکا ہوتا ہے۔ وجودیت کا فلسفہ شخصی آزادی اور انفرادیت کا حامی ہوتے ہوئے اس بات کا بھی اقرار کرتا ہے کہ اپنی مرضی سے اپنی شناخت اور زندگی کا راستہ متعین کرنے کی آزادی یا ’مابعد الطبیعاتی بے گھری‘ کا بار سہنا ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں، کہ لامحدود اور لامتناہی آزادی بذات خود ایک کٹھن آزمائش سے کم نہیں۔ شاید خدائی تصور کی عدم موجودگی سے جنم لینے والی یاسیت اور اضطراب کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی فرانسیسی فلاسفر والٹیئر نے کہا تھا کہ خدا انسانی ضرورت ہے، اگر وہ نہیں بھی ہے تو اسے ایجاد کرنا پڑے گا!
تصور خدا کی بحث لامتناہی ہے مگر جیسے ولیم جیمز ’دی ورائٹیز آف ریلیجیس اکسپیرینس‘ میں کہتے ہیں کہ اگر ہمارے آبا و اجداد نے مذہب میں حقیقی اور غیر حقیقی عوامل یکجا کر دیے، یا ان سے خطائیں اور بھول چوک ہوئی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم مذہب کے تصور کو ہی ختم کر دیں۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ مذہب کی عمارت اصل میں کن اصولوں پر کھڑی ہے۔ ادارہ جاتی مذہب کے خلاف ہوتے ہوئے بھی جیمز لوگوں کے یقین کرنے کے حق پر یقین رکھتے تھے، مگر وہ مذہب کے تاریخی، سیاسی یا سماجی حیثیت سے زیادہ ہر انسان کے ذاتی اور انفرادی تجربے کو اہم جانتے تھے۔
ہر دور کے سماجی، سیاسی اور اقتصادی پہلو تصور خدا کی نئی اور جدید جہتیں اور تصاویر مرتب کرتے رہے ہیں۔ تمام تر ترقی کے باوجود بھی تصور خدا بہت سے انسانوں کی اب بھی ضرورت ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی چکا چوند کے پار دیکھنے والا ہر انسان اب بھی یہ بخوبی دیکھ سکتا ہے کہ اس کی زندگی اور موت کے اس پیچیدہ راستے میں اس کے اپنے اختیار کا دائرہ کار بہت ہی محدود ہے۔ اور جب تک انسان اس سفر کے آغاز سے انجام تک مکمل اختیار حاصل نہیں کر لیتا خدا کی ضرورت محسوس ہوتی رہے گی۔
بے شک سائنس نے انسانی دائرہ اختیار کو بہت وسعت دی ہے مگر اب بہت سی جگہوں پر یہ وسعت ایک غیر ضروری اور کسی حد تک خطرناک مداخلت کی صورت بھی اختیار کرتی جا رہی۔ وہاں جہاں قدیم حکمت اور دانائی انسان کا امن اور سکوں قوانین فطرت سے ہم آہنگ ہونے میں دیکھتی ہے، وہاں سائنسی مہم جوئی اختیار، کنٹرول اور جسمانی مشقت سے اجتناب کے حصول کے لئے قوانین فطرت میں نہ صرف مداخلت بلکہ تبدیلی کی بھی خواہاں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے انسان اپنی زندگی پر مکمل اختیار کے خواہاں بھی نہیں کہ ان کے لئے زندگی اپنی اس گمبھیر پیچیدگیوں اور تضادات کے باوجود بھی ایک پراسرار اور انتہائی غیر معمولی معجزانہ تجربہ ہے جہاں زندگی کے مادی حقائق سے ماورا احساس کی بھی ایک اپنی سچائی ہے، جہاں ڈوبتے سورج کی سائنسی حقیقت یا سچائی معلوم ہونے کے باوجود بھی اس کے طلسم سے انکار ممکن نہیں!
رچرڈ ڈاکنز، جو روایتی مذاہب اور سوچ کے بہت بڑے نقاد ہیں، اپنے ایک انٹرویو میں سائنس کے میدان میں غیرقانونی اور غیر اخلاقی عوامل کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائنس محض ایک ادارہ کے طور پر قابل عزت نہیں، کیوں کہ بطور ادارہ اس میں بھی تسلط اور اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے جھوٹ، کرپشن، دھوکہ دہی، حقائق کو من مرضی کے مطابق موڑنا یا مسخ کرنے سمیت وہ تمام برائیاں اور کمزوریاں بدرجہ اتم موجود ہیں جو کسی بھی انسانی ادارے میں موجود ہوتی ہیں۔
(سائنسی تحقیقات اور فارما سوٹیکل انڈسٹری کے گٹھ جوڑ سے کیا کچھ ہو رہا ہے وہ کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں رہا۔ بہت سے صاحب بصیرت لکھاری آنے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی کے تسلط اور انسان کی نجی زندگی میں در اندازی کی ہولناک تصاویر بھی دکھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں نیٹ فلکس کی ’بلیک مرر‘ سیریز بہت ہی فکر انگیز اور چشم کشا ہے ) تو قابل عزت اصل میں سائنس بطور ادارہ نہیں بلکہ قابل ستائش اور تقلید وہ سائنسی سوچ، طریقہ کار اور اصول ہیں جو حقیقت اور سچائی کی تلاش کرتے ہیں اور انسانی زندگی کی تکالیف کا مداوا کرتے ہوئے اسے بہتر اور سہل بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
چونکہ سائنس کی اصل عمارت تجربہ اور تحقیق کے ان اصولوں پر کھڑی ہے جو انسانی زندگی کی فلاح اور ترقی کا موجب بنیں، تو جہاں غیر اخلاقی اور غیر قانونی عوامل ادارے کی ساکھ کو زک پہنچاتے ہیں، وہیں اصولوں کی پاسداری پر اصرار کرنے والوں کے سبب اس کا سفر غلط راستوں پر مڑتے ہوئے، درست سمت میں بھی جاری رہتا ہے۔
مذہب بھی کسی باشعور کو اپنے اصولوں کی وجہ سے متاثر کرتا ہے نہ کہ اس ملغوبے کی وجہ سے جو کسی انسانی ادارے نے تیار کیا ہو۔ محض چند اندھے عقائد اور رسومات کی ادائیگی پر سینہ پھلا کر پھرنے والے کی حیثیت اس خوشامدی اور جی حضوری کرنے والے نکمے شاگرد سے زیادہ نہیں جو محنت کے بجائے استاد کے آگے پیچھے پھرنے پر ہی اپنے آپ کو استاد کی تمام عنایات اور بہترین نتائج کا مستحق سمجھتا ہے۔ اور بے شک پاپائیت اور ملائیت کی مہربانی نے دین کا ایسا ہی کچھ ملغوبہ بنا کر اسے بہت سہل بنا دیا ہے۔
جبکہ مذہب پر عمل محض مذہبی عقائد پر نہیں، بلکہ مذہبی ’اصولوں‘ پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے اور اس کے نتیجے سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے تجربے سے خود گزر کر اپنے اندر پوشیدہ نئی ذات کا ادراک ہے۔ گیان کی تلاش میں نکلے بھکشوؤں سے بدھا کا بھی یہی کہنا تھا کہ جو چند یقینی اچھے اعمال تمھیں معلوم ہیں کم از کم انھیں پر ایمانداری سے عمل کر کے دیکھو، تو باقی گیان خود تم تک چل کر آئے گا نہ کہ تمہیں اس کی تلاش میں نکلنا پڑے۔
بدقسمتی سے ذاتی مفادات کی خاطر مذہب کو تقدیس کی چادر اڑھا نے والوں نے مذہب کے سمجھنے میں تنقیدی رویوں اور علمی روایات کو جو زک پہنچائی ہے مستقبل قریب میں تو اس مذہبی زوال سے سنبھلنے کا امکان بہت ہی کم نظر آتا ہے۔ مذہب کی اصل عمارت کائنات میں اپنے مقصد کو سمجھنے، تشکر، خود احتسابی، اپنے اعمال کی خود داری اور ذمہ داری سے جوابدہی، اور انسانیت کی تکریم کے اصولوں پر کھڑی ہے۔ اگر انسانی شعور جو بھی سچ اور صحیح سمجھتا ہے پھر اسے ایمانداری سے جینے کی سعی کرتے ہوئے، اپنی نگاہ میں سرخرو ہوتا ہے تو وہ سزا اور جزا کی حدود سے ویسے ہی بے نیاز ہو جاتا ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہبی یا نظریاتی فکر سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ بظاہر چند مذہبی اصول کہنے میں سہل پر عمل میں انتہائی دشوار ہیں۔ اور عمل چونکہ ایک مشکل کام ہے لہذا مذہب کے ادارے نے تسلط اور اجارہ داری کی حرص میں اور اپنے پیروکاروں کو قائم رکھنے کے لئے ہر طرح کے شارٹ کٹ ایجاد کر رکھے ہیں۔ مذہب کی ساکھ کو بھی ان اختراعات سے ناقابل تلافی حد تک نقصان پہنچا ہے مگر اصلاً اس کے فلاحی اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر جینے کے اصولوں کے سبب اس کا سفر بھی جاری رہے گا۔ بیشک مذہب کو قبول یا نہ قبول کرنے کے محرکات میں ہر انسان کا ذاتی تجربہ، سب سے اہم ہونا چاہیے۔
کسی مولوی یا عالم کے علم اور احساسات کو اپنے اوپر طاری کرنا انسانی شعور کی اہانت ہے۔ انسانی شعور کی تکریم اسی میں ہے کہ اسے کسی دوسرے کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اپنی آنکھوں سے دنیا کو دیکھنے کا اختیار اور آزادی ہو اور معاشرے میں سوال کرنے اور تنقیدی رویوں کے لئے برداشت اور دوستانہ ماحول، اور اسی میں معاشرے کا ارتقا پوشیدہ ہے۔
ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ اپنی طویل نظم ’دی لٹل گڈینگ‘ میں کہتے ہیں ’ہمیں ہمیشہ کھوج میں رہنا چاہیے اور ہماری تمام کھوج کا منتہا واپس اسی نقطے یا جگہ پر پہنچنا ہو گا جہاں سے ہم نے آغاز کیا تھا اور پھر وہ جگہ ہمیں یوں لگے گی جیسے ہم اسے نئے سرے سے دیکھ رہے ہیں!
یعنی علم اور شعور کے سفر کے بعد ہم اپنے آغاز کو ایک بالکل نئی نظر سے دیکھتے ہیں۔ سفر کا اختتام ہمیں اپنے نقطہ آغاز کو ایک نئے زاویے اور نئی روشنی سے روشناس کراتا ہے۔
روایتی مذہبی انسان کے لئے اپنے نقطہ آغاز کی سنی سنائی اور بنی بنائی دینا کے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا بہت جان جوکھم کام ہے۔ پھر ایک ظاہری لبادے اور چند رسومات کی ادائیگی نے یہ مشکل کام اور آسان کر دیا ہے۔ بہرحال اس کم علمی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کے مسلمان کے موجودہ علم میں نہ گہرائی ہے نہ گیرائی! کیونکہ اس کی بنیاد تجربہ اور سفر نہیں بلکہ محض ایک سیکنڈ ہینڈ، گھسا پٹا ظاہری لبادہ اور چند رٹے رٹائے الفاظ ہیں!
اور اس کسل مندی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو گا کہ آج کے مسلمان نے دنیا کو خود تو کچھ دیا نہیں اور اگر کوئی شب و روز کی محنت سے کچھ دریافت کر لے تو ان کو سب کچھ 1400 سال پہلے ہی پتہ تھا بس دوسروں کو باخبر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اب جو محض یقین و ایمان کی بنیاد پر ایک نقطے سے جنبش نہ کرنے میں بڑائی سمجھتے ہیں اور جو دائرے کا سفر کر کہ نقطہ آغاز تک پہنچتے ہیں، کیا برابر ہیں! کہیں پڑھا تھا کہ:
منزل تو ملے گی بھٹک کر ہی سہی
گمراہ تو وہ ہیں جو گھر سے نکلے ہی نہیں!
دعا کے موضوع پر موجود معلومات کا مطالعہ کرنے سے اور دوسرے مذاہب میں اس کی ہیئت کے بارے میں پڑھ کر بہت سے انفرادی اور سماجی رویوں کے بارے میں پتہ لگا، سائنسی نظریات بھی پڑھے اور پھر ایک طویل دائرے کے سفر سے بہت کچھ سیکھا۔ جو شاید بہت سوں کو تو خیر 1400 سال پہلے ہی معلوم ہو گا!
اور کچھ نہیں تو اپنے عمل کو ہی جانچنے اور بہتر طریقے سے ان اعمال کو جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا جواز بھی ملا۔
مختصراً یہ کہ دعا اور دوا ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ دوا انسانی علم کے طفیل حاصل کردہ اختیار کی نمائندگی کرتی ہے تو دعا انکساری سے اس تمام عوامل کی نمائندگی کرتی ہے جو انسان کے اپنے اختیار اور کنٹرول سے باہر ہیں۔
دعا اصل میں الفاظ ہیں اور الفاظ عدم کو وجود اور حیات عطا کرتے ہیں۔ اور جب کسی چیز کو وجود عطا ہو جائے تو وہ اپنی ایک زندگی جینے لگتی ہے۔ دنیا سے گزر جانے والوں کو بھی ہم انہیں الفاظ کے ذریعے ہی زندہ رکھتے ہیں۔ کتاب کی دنیا کا تنفس بھی الفاظ کا محتاج ہے۔ آدم کی ملائکہ پہ برتری بھی نا معلوم کو الفاظ کے ذریعے سے معلوم کے دائرے میں لانا تھی۔ الفاظ ہی مادہ کو تصوراتی علم کے ذریعے شناخت عطا کرتے ہیں، اور تصور کو مادی اشکال۔
میرے نزدیک دعا کی بنیاد بھی اسی اصول پر ہے۔ خواہش کو الفاظ میں مجسم کرنا، پھر ارادی طور پریقین کے ساتھ اس کے لئے اسباب پیدا کرنے کی سعی کرنا نہ کہ محض الفاظ کی ادائیگی اور تکرار کر کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنا۔ دعا الہ دین کا چراغ نہیں نہ ہی اپنی عبادت کو رشوت کے طور پر استعمال کر کے قوانین قدرت کو بدلنے کی استدعا کرنا ہے۔ بلکہ یہ خدا سے امید باندھنے کے ساتھ ساتھ سعی اور خود احتسابی کا عمل جاری رکھنا ہے۔ خدا سنتا ہے یا نہیں، کائنات کے اس کارخانے میں ہمارے الفاظ کی کوئی اہمیت ہے یا نہیں، کوئی نہیں جانتا مگر دعا کا احساس جو امید، رجائیت اور قوت عطا کرتا ہے وہ بعض دفعہ خود ہی اپنا جواز ہے۔
آج کل کے دور میں manifestation بھی دعا کی ایک شکل ہے۔ فرق یہ ہے کہ دعا میں آپ ایک برتر لائف فورس یا خدا کو شامل کرتے ہیں جبکہ مینیفسٹیشن میں مقصد کے حصول کا انحصار انسانی قوت ارادی اور استقامت پر ہوتا ہے۔ یعنی
’اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے‘
مغرب میں ’خدا نما خلا‘ کو من مرضی کی اشیاء سے بھرنے کے بعد انسان پھر واپس قدیم حکمت اور قانون فطرت سے ہم آہنگی میں اپنا سکوں تلاش کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہا ہے۔ لیکن اگر ’مابعد الطبیعاتی بے گھر مسافر‘ ، وجودیت کے فلسفے کی عطا کردہ آزادی کے مطابق ایک بامقصد اور بھرپور زندگی پانے کی سچائی کو عملی جامہ پہنا سکیں تو شاید مزید لوگ اس بے گھری کی دلیرانہ مہم جوئی کی طرف رجوع کرنے میں دلچسپی دکھائیں۔
انسان کو اس ارضی حیات کے سفر کو بہرحال خود تنہا ہی جینا اور محسوس کرنا ہے چاہے اپنے اندر ڈوب کر سراغ زندگی پانا چاہے یا ستاروں پہ کمندیں ڈال کر دنیا کو اپنی فہم و فراست سے سمجھنا چاہے، ہر صورت میں بہرحال اسے معلوم ہے کھوج کا یہ پراسرار سفر لامتناہی ہے جہاں بہت کچھ جاننے کے باوجود بھی ہمیشہ بہت کچھ جاننا باقی رہے گا۔


