چراغ آفریدم… رفعت سجاد کا ناول ”چراغ آخر شب“


چار چراغ تیرے بلن ہمیشہ
پنجواں میں بالن آئیاں بھلا

اور یہ پانچواں چراغ جلایا ہے رفعت ناہید سجاد نے۔

”چراغ آخر شب“ جب ابھی چھپا بھی نہیں تھا، (اور اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے میں دکھی اور بہت شرمندہ ہوں) کہ مجھے ایک سخت وہم نے آ لیا تھا کہ رفعت نے یہ ناول قرۃ العین حیدر کے ناول "آخر شب کے ہمسفر” کے چھتنار درخت تلے بیٹھ کر تحریر کیا ہو گا کیونکہ اس کے عنوان سے میں اتفاق نہیں کر پا رہی تھی۔ اس لیے کہ اس کا عنوان مجھے فوراً ہی ”آخر شب کے ہمسفر“ کی یاد دلا دیتا تھا۔ پھر سارہ حق کا کردار آنے تک بھی میں اسی کیفیت میں رہی لیکن بہت جلد میں نے جان لیا کہ ناول کا یہی عنوان ضروری تھا۔ اور پھر میں اس کے سحر میں گرفتار ہونا شروع ہو گئی۔ قلم کا وہ سحر جو رفعت کا اپنا اعزاز اور اپنا ہی انداز ہے اور اس کے بعد تو پورا ناول مجھے اپنی گرفت میں جکڑتا چلا گیا۔

میں تو ہمیشہ اس رفعت سے مل پائی جو میری بچپن کی سہیلی رفو تھی۔ اس دوستی کی چھاؤں تلے ہم جی بھر کے جیے، کبھی زندگی کی کٹھنائیوں کی گرہیں لگاتے، کبھی کھولتے، بہت سا ہنسے، بہت سا روئے، بہت سا لڑے، بہت بار صلح صفائی کی۔

اسی اپنے پاکستان کے شہر لاہور میں اس کی شادی سے پہلے کا وہ گھر جہاں جانے والے راستوں میں سے وہ ایک راستہ جس پر میں جانے کتنے ہی قدم چلی ہوں گی، اور وہاں موجود گیٹ جس پر جانے کتنی دستکیں دی ہوں گی پھر اس گیٹ کے اندر۔ ابا جان، آپی جی، بھائی لوگ، بہنوں، پھپھیوں، مامووں، ممانیوں اور ان کی اولادوں تک کو جانتی تھی لیکن یہ رفعت سجاد جس نے ”چراغ آخر شب“ لکھا، مجھے الگ سے تب نظر آئی جب اس کی کتاب ”چراغ آخر شب“ میرے ہاتھوں میں آئی۔

قیام پاکستان کے بعد جو ادب تخلیق ہوا ”چراغ آخر شب“ اس تمام ادب میں ممتاز ترین حیثیت رکھنے والے ادب کا ایک نمائندہ اور معیاری ناول ہے۔ اس میں وطن عزیز کی تمام تر معاشرت، تہذیب تاریخ، روایات اور کلچر تحریری شکل میں سانس لے رہا ہے۔ یہ صرف ایک ناول نہیں ہے، یہ تو پورا پاکستان ہے۔

میں نے اس ناول کے ایک ایک ورق کے ساتھ ایک سچے پاکستانی کی تڑپ کے ساتھ گزری اور اس کے ایک ایک لفظ کے کرب کو محسوس کیا، مجھے لگا میں نے اپنی پوری زندگی پھر سے بتائی ہے۔ جب پاکستان بنا تو ہم نے فکرو احساس کی کس کس گھٹن میں سانس لیے، تب سے آج تک جو جھیلا، وہ سب رفعت نے اپنے پورے جذباتی اور تخلیقی احساس کی مٹی کو گوندھ کر یہ ناول تشکیل دیا۔

رفعت ناہید سجاد

بات یہ ہے کہ اس نے مجھے رفعت سجاد سے کبھی ملنے ہی نہیں دیا۔ تب میں سمجھتی تھی کہ اپنے پاکستان میں بسے کروڑوں کی آبادی جب ایک منظر میں دکھائی پڑتی ہے تو بے شمار نقطے سے آنکھوں میں ٹمٹمانے لگتے ہیں، ہم سب انہی نقطوں میں سے کچھ نقطے ہی تو ہیں۔ لیکن اس کتاب کے بعد میں نے جانا کہ رفو پاکستان کی اس بھری پری آبادی کا محض ایک نقطہ نہیں ہے، وہ تو اپنی ذات میں پورا پاکستان ہے۔ میں اس کتاب سے گزری نہیں ہوں بلکہ اس کتاب کے ورق ورق کے ساتھ میں نے اپنی زندگی پھر سے جی ہے۔

رفعت نے ناول میں پاکستان کا نقشہ نمایاں کیا۔ اس میں وہی رنگ بھرے جو وقت نے آج تک کی تاریخ نے اس کو دیے تھے۔ یہ مشرقی پاکستان سمیت پورے پاکستان کا نقشہ ہے۔ اسے لکھتے لکھتے وہ کیسی کیسی ٹوٹی ہو گی، کہاں کہاں بکھری ہو گی، کن کن ہزیمتوں کو محسوس کیا ہو گا، اس کا اندازہ مجھے وہاں وہاں ہوا، جہاں جہاں میں خود ٹوٹی اور خود بکھری ان ہزیمتوں کے احساس سے گزری۔ وہ جھوٹ بولتی ہے کہ وہ شاعری نہیں کرتی۔ میں نے اس کی نثر میں شاعری کی ممکنہ ترین حدت کو پوری شدت سے محسوس کیا۔ اتنے خوبصورت جملے، تصویریں تراشتے الفاظ اور روح کو کاٹ دینے والے مناظر کی بھرپور تشکیل۔ ڈائیلاگ کا دلکش حسن اور کردار سازی تو رفعت پر آ کے ختم ہو جاتی ہے۔ ایک ایک کردار اپنا بھرپور حق ادا کر رہا ہے۔ واقعات، تاریخ اور تخلیق بے مثال۔ کاش میں رفعت کے لکھے ہوئے کچھ شاندار اقتباسات کو بھی یہاں درج کر سکتی۔ پھر بھی ایک مختصر سا ٹکڑا تو دیکھ لیجیے۔ بندوق کے ظلم کو سرکاری ریڈیو کی ایک پندرہ لفظی خبر میں دستاویز کر دیا ہے۔

”ہم نے تاریخ کی کتابیں پھاڑ کر پھینک دیں اور ضمیمے شائع کر لیے تھے۔ حادثے کی نوعیت کچھ بھی تھی لیکن اخباروں کا کاروبار چل نکلا تھا۔ سائیکلوں کے ہینڈل پر سینکڑوں کی تعداد میں الٹے لٹکے ورق، تیز تیز پیڈل مارتے، ہراساں آوازیں نکالتے ہاکر، ایک ہجوم ان کے گرد جمع ہوتا۔ سائیکل پر لٹکے سب اخبار بک جاتے۔ پھر کوئی اور سائیکل سوار، کوئی اور ورق۔ سکوں سے ان کی جیبیں بوجھل ہو گئی تھیں۔ موت کا کاروبار نئی چیز نہیں۔

ریڈیو پاکستان صرف لہریں نشر کرنے والی ایک مشین تھا۔ اس نے معمول کی نشریات روکیں نہ کوئی نیوز بریک کی۔ نہایت اطمینان سے ہمیشہ کی طرح تربیت یافتہ آواز میں ایک لائن کی خبر نشر کر کے وہ شہر کی بقیہ خبریں اس انہماک سے سنانے میں مگن ہو گیا جیسے رہنماؤں کی پھانسی اور منڈیوں کے بھاؤ میں زیادہ فرق نہ ہو، جس پر پندرہ لفظوں اور سات لمحوں سے زیادہ وقت صرف نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کمرشل سروس کے زمانے میں ریڈیائی لہروں کا ایک ایک لمحہ قابل فروخت ہے۔ کس کا کتنا مول لگتا ہے، کون جانے؟

”آنکھیں غزل ہیں آپ کی اور ہونٹ ہیں گلاب۔“ ریڈیو پر فلمی غزلوں کا نشریہ جاری رہا۔

نیوز کاسٹر جب تک خبریں پڑھتا رہا۔ اس کی آواز ہموار رہی۔ لڑکھڑاہٹ، نہ اشتعال، نہ کسی قسم کے بے بسی۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز کی اس معمولی لغزش سے ملازمت سے ہاتھ دھوتے دیکھا تھا۔ بہت دن نہیں گزرے جب اس کی ساتھی براڈ کاسٹر نے جو ہر صبح اپنے پروگرام کا آغاز کر کے خوش گوار لہجے میں کہتی، ”آج جن جن کی سالگرہ ہے ان کو سالگرہ مبارک۔“ 5 جنوری کی صبح جب اس نے یہی رٹا ہوا فقرہ بے سوچے سمجھے اسی چہکتی آواز میں دہرایا تو پروگرام کے اختتام پر لات مار کر نکال دی گئی۔

اب اخبار کے دفتروں پر تالے پڑے تھے۔ دفتر کی پیشانی پر آویزاں اخباروں کے بورڈ کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیے گئے۔ صحافی اس سے بھی بدتر حالت میں جی رہے تھے۔ صحافت کی اب مزید ضرورت نہیں رہی تھی۔ ریڈیو، ٹی وی کے کمروں کے دروازوں پر برسوں سے لگی نیم پلیٹ تبدیل ہو چکی تھی۔ صرف ایک نخوت بھری دھتکاری ہوئی نظر میں سب دانشور مطعون ٹھہرائے گئے۔ ہر نامور گمنام ہوا۔ ٹی وی کو زمین سے اٹھا کر یہاں تک لانے والے بلیک لسٹ تھے، اور ملک کو گڑھے سے نکال کر کھڑا کرنے والا خود تختہ دار پر لٹک گیا تھا۔ ان کی جگہ ان ہی راہ داریوں میں، ان کمروں میں، ان میزوں کے پیچھے، راتوں رات بھرتی کیے، چور دروازوں سے آئے لوگ سر اٹھا کر حکمرانی کرتے تھے۔ ہمارے ہاں چور کبھی نہیں شرماتا۔ وہ سر اٹھا کر بڑی ڈھٹائی سے اپنی قابلیت کی ڈینگیں مارتا ہے۔ سر چھپاتا پھرتا ہے تو وہ، جس پر ظلم ہوا تھا۔ ”

لیکن معاملہ یہ ہے کہ میں نے یہ ناول سنا ہے، پڑھا نہیں ہے۔ یہاں پر میں بہت عزیز دوست ہما انور کا ذکر ضروری سمجھتی ہوں کیوں کہ اپنی بیماری اور کچھ ذاتی کمزوریوں کے باعث میں اس ناول کو پڑھ نہیں سکتی تھی۔ اس ضخیم ناول کو قسط وار میری پیاری سی چھوٹی سی دوست ہما انور نے اپنی میٹھی اور منتظر رہنے پر اکسانے والی آواز میں مجھے پڑھ کر سنایا۔ وہ ہر روز اپنی نوکری، بیمار والدہ کی تیمار داری اور دیگر بے شمار مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس ناول کی آڈیو ریکارڈنگ بھیجتی رہی، اس بیچ وہ ایک بے پناہ دکھ بھرے حادثے سے بھی گزری کہ اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور یوں درمیان میں ایک دکھ بھرا طویل وقفہ بھی آ گیا۔ لیکن کچھ عرصے بعد اس نے بڑی ہمت کر کے وہی سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ اس بار ناول میں آواز کا درد ناول کو اور بھی جاں شکن بناتا چلا گیا۔ تمہارا بہت بہت شکریہ میری پیاری ہما، اللہ تمہیں ہمیشہ باہمت رکھے اور تمہاری والدہ کو اپنی رحمتوں کی پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین۔

آخر میں میری تمنا ہے کہ رفعت کے اس ناول کو اس کا وہ مقام ملے، جس کا اسے بلا شبہ حق حاصل ہے یہ ناول بڑی بڑی ایوارڈ یافتہ کتابوں کی صف ہونا چاہیے۔ ہو سکتا ہے آج کے اچھل اچھل کر خود نمائی کرتے ہوئے ادب کے اس دور میں اس ناول کو اس کا حق نہ ملے، لیکن مجھے یقین ہے کہ آنے والی نسلیں جب پاکستان کے تناظر میں کوئی ریسرچ سامنے لائیں گی تو اس ناول اور اس کی مصنفہ کے تخلیقی وفور اور مقصدیت کو پیش پیش رکھا جائے گا اور یہ ناول ادب کی دنیا میں اپنے حصے کی تابناک روشنی ضرور حاصل کرے گا۔

Facebook Comments HS