میر تقی میر کی آہ سے میری آہ تک


فسانہ ہائے شب غم ہے داستاں میری
گئی نہ آہ کبھی سوئے آسماں میری
جی ہاں یہ میری ہی ایک غزل کا مقطع ہے مگر زمین میر تقی میرؔ کی ہے

میر تقی میرؔ جدید اردو طرز سخن کا بانی ہے۔ اس سے پہلے دکن کے ایک بادشاہ کو اردو کا اولین شاعر اور اردو غزل کا جدید معمار تصور کیا جاتا ہے۔

تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا

خوبصورت استعاروں اور تشبیہات سے مزین ولی دکنی کے نام سے معروف شاعر آسان زبان میں مشکل احساسات قلمبند کرتا ہے۔ اس کی شاعری خیالی محبوب کی بجائے حقیقی معشوق کے گرد گھومتی ہے۔ آج دکنی اردو کے بہت سے الفاظ اپنی شکل تبدیل کر چکے ہیں، کچھ متروک ہو چکے ہیں اور کچھ صرف لغت کی کتابوں کی زینت ہیں کیونکہ ادبی زبان تو کیا وقت کے ساتھ ساتھ روز مرہ زبان بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ ولی دکنی کے بعد اردو کی خوبصورت ترکیبات، استعارات اور تشبیہات کو میر تقی میرؔ نے بڑی چابکدستی سے استعمال کیا۔

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

میرؔ نے طویل بحروں میں بھی غزلیں کہی ہیں جن میں گہری زبان استعمال کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ میرؔ کی طویل بحروں میں جادو کا سا اثر ہے

کئی دن سلوک وداع کا مرے در پے دل زار تھا
کبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا
دم صبح بزم خوش جہاں شب غم سے کم نہ تھی مہرباں
کہ چراغ تھا سو تو دود تھا جو پتنگ تھا سو غبار تھا
کبھو جائے گی جو ادھر صبا تو یہ کہیو اس سے کہ بے وفا
مگر ایک میرؔ شکستہ پا ترے باغ تازہ میں خار تھا
—–

میر تقی میرؔ نے عام فہم زبان استعمال کر کے اردو غزل کے منظر نامے میں نئے دور کا نہ صرف آغاز کیا بلکہ آسان اور شستہ زبان کے رجحان کا آغاز بھی کیا۔

ولی دکنی اگر اردو زبان کا پہلا شاعر ہے تو میر تقی میرؔ سادہ زبان کا پہلا شاعر ہے۔ جس غزل کی زمین پر اس خاکسار نے مقطع درج کیا ہے اس غزل میں میر کی غزل کا مقطع ہے۔

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری
نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری
———
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
امیدوار وعدۂ دیدار مر چلے
آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
———

اگر میرؔ کا بعد کے زمانوں میں آنے والے سخنوروں سے تقابلی جائزہ لیا جائے تو فطرت کی صناعی اور غنائیت پر دل عش عش کر اٹھتا ہے۔ جیسے کہ میں اکثر کہتا ہوں کہ تخلیق ایک ایسا عمل ہے جو کبھی رکتا نہیں۔ یہ تو مسلسل ہے۔ جاری و ساری ہے۔

——
دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے
(قیصر الجعفری)

داور حشر میرا نامہ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی
(اہم ڈی تاثیر)

آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں
(ناصر کاظمی)
———
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں
——-

جدید شعرا میں خالد شریف، نیئر شہزاد، منظر بھوپالی، زین شکیل، بشیر بدر، وصی شاہ اور فرحت عباس کے علاوہ بہت سے سخنور شامل ہیں۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
(خالد شریف)

نوجوان شاعر زین شکیل کی شاعری میں کیا ہی خوبصورت بے ساختہ پن ہے۔
اتنے بے جان سہارے تو نہیں ہوتے ناں
درد دریا کے کنارے تو نہیں ہوتے ناں
رنجشیں ہجر کا معیار گھٹا دیتی ہیں
روٹھ جانے سے گزارے تو نہیں ہوتے ناں
زین اک شخص ہی ہوتا ہے متاعِ جاں بھی
دل میں اب لوگ بھی سارے تو نہیں ہوتے ناں

وہ نوجوان شاعر جن کا نام درج نہیں کر سکا دل چھوٹا نہ کریں کیونکہ اس فہرست میں ہزاروں شامل ہیں۔ بات میرؔ کی ہو رہی تھی۔ میرؔ بہترین شاعر تھے مگر انہیں ہر زمانے کا اول درجے کا شاعر سمجھنا بہت سے اول درجے کے شعراء جو کہ ہر زمانے میں ہوتے ہیں ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ میرؔ صرف اپنے زمانے کے بڑے شاعر تھے۔

Facebook Comments HS