احتساب رے احتساب
پچھلے دو تین دن سے ملک میں معیشت کو لے کر بہت گہما گہمی پائی جا رہی ہے۔ بزنس کمیونٹی کے ساتھ اہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بات کو صیغہ راز میں رکھنے کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے کہ یہ ملاقاتیں کون کر رہا ہے کیونکہ اب تک یہ بات ہر سوں پھیل چکی ہے۔
خبر ہے کہ ملک میں کڑا احتساب ہونے جا رہا ہے جس میں کسی کو بھی کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
احتساب کا دائرہ کار بہت وسیع بتایا جا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق ملک میں ہر قسم کی چوری کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا اور انہیں احتساب کے شکنجے میں لایا جائے گا۔
زمینوں پر قبضہ کرنے والوں سے لے کر ہر قسم کی اسمگلنگ کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ بیرونی کرنسی سمیت اناج کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ سیاستدانوں سے عوام کے پیسے کا حساب لیا جائے گا، کاروباری طبقے سے ٹیکسز کا حساب لیا جائے گا اور ان کے گھپلوں پر انہیں قانون کے کٹہرے میں بھی لا کر کھڑا کیا جائے گا اور اس سے عوام کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔
اچھا اب یہ ساری باتیں بہت عمدہ ہیں سن کر بہت اچھا لگتا ہے مگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ احتساب کا یہ نعرہ نیا نہیں ہے۔
قوم اب تک چار بار کڑے احتساب کے مراحل بھرپور انداز میں دیکھ چکی ہے اور ہر بار ہوا پھر یہ ہی ہے کہ سیاستدانوں کو آ کر ملک بھی سنبھالنا پڑا ہے اور احتساب کرنے والوں کی ساکھ بھی بحال کروانی پڑی ہے۔
دور حاضر میں اب کچھ بھی چھپا نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کی ترقی نے ملک میں رہنے والے بچوں کو بھی نرم و سخت مداخلت کی تشریح سمجھا دی ہے۔
دودھ کی رکھوالی پر بلی بٹھا دیں اور دودھ کے غائب ہونے پر بلی ہی گھر والوں سے گمشدہ دودھ کا حساب مانگنا شروع کردے تو یہ ذرا اچنبھے کی بات ہے کیونکہ سوال رکھوالی کرنے والے سے کیا جاتا ہے۔
پاکستان اللہ میاں کا سر سبز کھیت ہے جسے نیچے سے اوپر تک سب ہی کھا رہے ہیں مگر احتساب و انصاف کے لیے محض سیاستدان و عوام کو شمار کیا جاتا ہے اور ملک کے حقیقی طبقہ اشرافیہ کو استثنا دے دیا جاتا ہے۔
ہم بہت روادار و روایتوں کے امین لوگ ہیں۔ ہم نے اب تک پچھتر سال پرانی روایات کو بھی بطور ورثہ زندہ رکھا ہوا ہے۔ ہم آج بھی بوقت ضرورت لوگوں میں غداری کے فتوے بانٹ دیتے ہیں اور یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والا ملک اپنے سب سے اہم ہتھیار سے مستفید نہ ہو؟ الحمدللہ ہم طالبان، جماعت اسلامی، تحریک لبیک جیسے کئی نایاب و نادر اثاثوں کے مالک ہیں جنہیں ہم موقع کی مناسبت سے استعمال کرتے رہتے ہیں اس کے علاوہ قوم میں مزید بٹوارے کے لیے ہم فرقہ واریت و لسانیت سے بھی مالا مال لوگ ہیں جہاں جس چیز کی بھی ضرورت ہو اس کا تڑکا لگا دیتے ہیں جبکہ سیاسی مقدمات کی چھڑی تو اپنی جگہ ہے ہی۔
ہمارے ہاں سیاستدانوں سے آج بھی چند لمحوں میں اربوں روپے برآمد ہو جاتے ہیں ساتھ ہی ہیرے جواہر بھی مل جاتے ہیں مگر راوی محو حیرت ہے کہ دوران تفتیش نوٹوں سے بھری لانچوں سمیت سونے کی اینٹیں کہاں غائب ہو جاتی ہیں۔
گزشتہ ایک آدھ ہفتے میں جعلی خبروں کے ذریعے ہم لگ بھگ چار سو ارب روپے کی رقم برآمد کر چکے ہیں۔
ہمارا میڈیا ہر طرح سے ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ جو لوگ کل عمران خان کو ہیرو بنانے میں مصروف تھے انہی کو ہم نے آج کل عوامی حکمرانی کو ناکارہ ترین قرار دینے پر معمور کیا ہوا ہے کہ سیاستدان محض ملک لوٹنے کے لیے آتے ہیں اصل تو ہم ہیں جنہیں غم جاناں (قوم) نے نڈھال کر رکھا ہے اور ہم ہی وہ ہیں جو اس درد کا مداوا بھی کریں گے۔
ہم اپنی قوم کی تو کیا ہی بات کریں سبحان اللہ نہایت ہی صابر و شاکر لوگ ہیں۔ ہر حال میں ایڈجسٹ کر لیتے ہیں۔ دیکھیں جناب بات یہ ہے کہ دنیا تو ہے ہی محض عارضی زندگی اور آخرت کے مراحل نہایت مشکل ہیں اس لیے ہم ابھی سے قوم کو دوزخ میں ”ایڈجسٹ“ ہونے کی عادت ڈال رہے ہیں!
یہ سارے کام ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ جو دودھ ہم پی جاتے ہیں اس کی گمشدگی کا سوال ہم سے نہ کیا جائے نہ ہی کسی کا دھیان ہماری طرف جائے بس اتنا سا ہی تو خواب ہے۔
شومئی قسمت کہ اب ایسا ممکن نہیں رہا۔ قوم جان چکی ہے۔
جس کا کام اسی کو سانجھے کے تحت آپ کام کے ماہرین کو جب تک مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنے نہیں دیں گے وہ عوام کی توقعات کے مطابق نتائج دے نہیں پائیں گے لہذا احتساب کے مواقع آتے جاتے رہیں گے مگر حالات ایسے ہی رہیں گے۔
بدلاؤ تب ہی ممکن ہے جب آپ اپنا آپ بدلیں گے۔


