برکس اجلاس کے بعد بھارت چین کشیدگی میں کمی کا امکان


گزشتہ دنوں جنوبی افریقہ میں ہونے والے برکس کے اجلاس میں نہ صرف یہ کہ اس اتحاد کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا بل کہ چین کے صدر شی جن پنگ اور بھارت کے پردھان منتری نریندر مودی کی ملاقات میں کچھ مثبت پیش رفت بھی ہوئی۔

اس ملاقات کے نتیجے میں بھارت اور چین نے لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر اپنے رویے نرم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب دونوں ممالک اپنی افواج کو کچھ پیچھے کر لیں گے جس سے کشیدگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

یاد رہے کہ لداخ کی ایک وادی گلوان میں جھڑپوں کے بعد بھارت اور چین نے وہاں اپنی افواج میں اضافہ کر دیا تھا۔ لداخ ایک متنازعہ علاقہ ہے جو بھارت میں یونین یا وفاق کے زیرِ انتظام ہے اس کے آس پاس قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑ ہیں اور یہ علاقہ جموں کشمیر سے بھی ملحق ہے۔ اس علاقے پر بھارت، پاکستان اور چین اپنا اپنا حق جتاتے رہے ہیں۔

لداخ کے علاقے کو بھارت نے 1947 سے 2019 تک جموں کشمیر کے حصے کے طور پر زیرِ انتظام رکھا اور پھر اسے ایک الگ انتظامی اکائی بنا دیا۔ تقریباً ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل لداخ کی آبادی صرف تین لاکھ کے قریب ہے۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے دریائے سندھ کا آغاز بھی ہوتا ہے۔

لداخ میں اکثریت بدھ مت کے ماننے والوں کی ہے جو اپنا تعلق چین سے جوڑتے ہیں اور اسی لیے چین اس علاقے پر اپنا حق سمجھتا ہے۔ لیکن لداخ کے مغربی ضلع کارگل میں زیادہ تر مسلم آبادی ہے۔ کشمیر کے ڈوگرا خاندان نے 1834 سے لداخ پر حملہ کر کے 1842 تک اس پر اپنا قبضہ مکمل کر لیا تھا جس کے بعد یہ جموں کشمیر کا حصہ بن گیا تھا۔ 1980 میں لداخ کو دو اضلاع لیہ اور کارگل میں تقسیم کر دیا گیا تھا جو اب بھارتی وفاق کے زیرِ انتظام ہے۔

سن 2020 میں بھارت اور چین کے درمیان بڑی جھڑپ ہوئی تھی جس کے بعد چین نے اپنی افواج کئی علاقوں میں داخل کردی تھیں جن پر بھارت اپنا دعویٰ کرتا ہے۔

اب برکس کے اجلاس میں بھارت اور چین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ باہمی تعلقات کی بہتری کے لیے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کم کرنا ہوگی۔ بھارت اور چین کے رہ نماؤں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی افواج کو پیچھے ہٹنے کا کہیں گے۔ واضح رہے کہ یہ ملاقات مودی کی درخواست پر ہوئی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت اب چین سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ گو کہ اس ملاقات سے صرف دس روز قبل بھارت اور چین کے فوجی کمانڈر مذاکرات کرچکے تھے جن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔

اب برکس اجلاس کے بعد دونوں افواج نے میجرجنرل کی سطح پر مفصل بات چیت بھی کی ہے۔ غالباً یہ سب اس بات کی تیاری ہے کہ ستمبر میں جی 20 کے دہلی میں ہونے والے اجلاس کے لیے ماحول بہتر بنایا جائے۔

جی 20 میں انیس ممالک اور یورپی یونین بیسویں رکن کے طور پر شامل ہے۔ اس کے رکن ممالک میں ارجنٹائن، آسٹریلیا اور برازیل سے لے کر جنوبی کوریا، ترکی، برطانیہ اور امریکا تک دنیا کی بڑی معیشتیں شامل ہیں۔ اس کے اجلاس میں عالمی معیشت کو درپیش بڑے مسائل کے حل کے لیے گفت و شنید کی جاتی ہے خاص طور پر مالیاتی استحکام، ماحولیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی کے لیے اقدام پر غور کیا جاتا ہے۔

گو کہ برکس کے اتحادی ممالک میں بھارت، برازیل، چین، روس اور جنوبی افریقہ عالمی پیداوار کا ایک چوتھائی حصہ تیار کرتے ہیں۔ جی بیس کے 20 ارکان عالمی پیداوار کا اسّی فی صد تیار کرتے ہیں جب کہ عالمی تجارت میں جی 20 کا حصہ پچھتر فی صد ہے اور عالمی آبادی کا دو تہائی حصہ جی 20 میں رہتا ہے۔

1998 کے عالمی معاشی بحران کے بعد دنیا کی بیس بڑی معیشتوں نے مل بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا اور 1999 میں ”جی 20“ وجود میں آیا تھا۔ اس سال ”جی 20“ کے سربراہ اجلاس کا انعقاد دہلی میں کیا جا رہا ہے اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی اس میں شریک ہوں گے۔ غالباً اسی لیے برکس اجلاس کے دوران بھارت چین سربراہ ملاقات میں سرحدی کشیدگی کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

جمہوری ملکوں میں یہ ہوتا رہتا ہے کہ جب بھی کوئی منتخب حکومت سرحدی کشیدگی کم کرنے کے اقدام اٹھاتی ہیں تو حزب مخالف واویلا کرتی ہے۔

مثلاً جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے پہلی بار وزیراعظم بننے کے بعد بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی سے ملاقات کر کے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی تو اس وقت کی حزبِ مخالف کے نواز شریف اور جماعت اسلامی وغیرہ نے شور مچایا کہ بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکے جا رہے ہیں۔ اسی طرح اب بھارت میں حزبِ مخالف الزام لگا رہی ہے کہ مودی حکومت لداخ کی صحیح صورت حال واضح نہیں کر رہی کیوں کہ چین نے لداخ میں بھارت کے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ چین سے سرحدی تنازع کے باوجود بھی بھارت کے تجارتی تعلقات قائم ہیں اور بڑے پیمانے پر باہمی تجارت ہوتی ہے۔ گو کہ سرحدی جھڑپوں کے بعد تجارتی تعلقات کچھ متاثر ہوئے ہیں اور بھارت نے چینی تجارتی اداروں کے لیے سرمایہ کاری کی منظوری پر زیادہ جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔

اب بھارت نے چینی اداروں کے لیے قواعد و ضوابط میں سختی بھی شروع کر دی تھی اور آمدورفت اور نقل و عمل پر کڑی نظر رکھنی شروع کر دی۔ مثلاً ایک قدم یہ اٹھایا گیا کہ چینی مصنوعات پر محصولات میں اضافہ کیا گیا۔ مگر برکس اجلاس میں سربراہ ملاقات کے بعد ستمبر میں جی 20 کے سربراہ اجلاس تک کشیدگی مزید کم ہونے کا امکان ہے جس کا دونوں ملکوں کو فائدہ ہو گا۔

سرحدی تنازع چاہے وہ بھارت اور چین کے ہوں یا کسی اور ممالک کے درمیان دونوں طرف سے لچک کا مظاہرہ کیے بغیر حل کرنے مشکل ہوتے ہیں ان کے حتمی حل کے بغیر ٹھوس پیش رفت نہیں کی جا سکتی جو کسی سمجھوتے کی طرف لے جائے۔

چین کے صدر 2012 سے برسر اقتدار ہیں جب کہ مودی نے پہلی بار 2014 میں انتخابات جیت کر اقتدار سنبھالا تھا۔ گزشتہ نو سال میں دونوں رہ نما بیس مرتبہ ملاقاتیں کرچکے ہیں لیکن 2020 کے بعد یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔ برکس کے اجلاس میں چین اس کوشش میں کام یاب ہو گیا کہ اس اتحاد میں توسیع کی جائے لیکن بھارت کو بہر حال یہ خدشہ لاحق ہے کہ برکس میں بالا دستی چین کی ہی رہے گی اس لیے بھارت برکس کی توسیع پر اتنا پُر جوش دکھائی نہیں دیتا جتنا کہ چین رہا ہے۔

بعض ممبر سمجھتے ہیں کہ چین برکس کو جی سیون کے مقابلے کی تنظیم بنانا چاہتا ہے۔ جی سیون میں امریکا، برطانیہ، اٹلی، فرانس، کینیڈا، جرمنی اور جاپان شامل ہیں جب کہ یورپی یونین اس میں ممبر کے طور پر شریک ہوتا ہے۔ جی سیون ممالک دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ دنیا کی بڑی جمہوری طاقتیں ہیں اسی لیے اس میں چین اور روس جیسے ممالک شامل نہیں جو جی سیون ممالک کی نظر میں جمہوری معیار پر پورے نہیں اترتے۔ پھر بھی جی سیون عالمی پیداوار کا نصف سے زیادہ حصہ تیار کرتے ہیں۔

بھارت اور چین میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ بھارت تمام مغربی ممالک سے بہتر تعلقات کا حامل رہا ہے جب کہ چین کو مغربی ممالک کسی اچھی نظر سے نہیں دیکھتے کیوں کہ چین روس کی طرح نیٹو ممالک کے اتحاد کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے جب کہ بھارت کو نیٹو سے بظاہر کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔

1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد جو امریکا کی بالادستی والا یک قطبی نظام وجود میں آیا تھا پچھلے دس سال میں چین نے اس نظام کو للکارا ہے اور اب دنیا پھر ایک طرح کی نئی سرد جنگ میں مبتلا ہے جس میں بھارت امریکا اور چین دونوں کے بین بین چلنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

چین کو اس بات کا سہرا ضرور جاتا ہے کہ اس نے نہ صرف اکیسویں صدی میں شان دار ترقی کی ہے اور اپنی بڑی آبادی کو غربت سے نکالا ہے اسی کے ساتھ اس نے دیگر ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے وہاں وسیع سرمایہ کاری کی ہے جو امریکا کے مقابلے میں بہتر معلوم ہوتا ہے۔ چین نے اکیسویں صدی میں کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی جب کہ امریکا اپنی فوجی صنعتی اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل جنگوں میں شریک رہا ہے اور لاکھوں اموات کا باعث بنا ہے جب کہ چین کو یہ الزام نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ وہ نسبتاً پُر امن رہا ہے۔

امریکا اور دیگر جی سیون ممالک ایک طرف تو خود بڑی جمہوریتیں ہونے کے دعوے دار ہیں اور دوسری طرف ایسی جنگوں میں ملوث ہوتے ہیں جن سے دنیا کا نظامِ امن متاثر ہوتا ہے۔ چین دنیا کے دیگر ممالک کے سیاسی نظاموں یا انسانی حقوق کی صورت حال سے لاتعلق رہتا ہے۔ ویسے تو امریکا اور جی سیون کی بھی انسانی حقوق سے متعلق بات صرف ایسے ملکوں تک محدود رہتی ہے جو اس کے دوست نہیں ہیں۔

مثلاً امریکا کو اپنے دوست ممالک میں آمریتیں یا بادشاہتیں قابل قبول رہی ہیں۔ دنیا کے بدترین آمروں کو جی سیون ممالک نے بھرپور مدد دی کیوں کہ وہ سوویت یونین کے خلاف امریکا کے ساتھ تھے۔ ایران میں شاہ ایران کا ظلم و ستم ہو یا چلی میں پنوشے کی فوجی آمریت یا پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی طرف سے صحافیوں کو کوڑے لگوانا یہ سب امریکا کو منظور رہا ہے۔

لیکن اب چین کے آگے آنے سے امریکا کی بالادستی میں کمی آ رہی ہے۔ چین کی سرمایہ کاری دنیا کے ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک میں جاری ہے اور بھارت میں امریکا کی دھونس دھمکی کو خاطر میں لائے بغیر روس سے تیل درآمد کرتا رہا ہے جس کا بھارت کو خوب فائدہ ہوا ہے۔

بھارت اور چین کے تعلقات میں ایک بات اور اہم رہی ہے اور وہ یہ کہ 2014 میں مودی نے وزیراعظم بننے کے بعد 2015 میں چین کا دورہ کیا لیکن 2017 میں دوکلام کے سرحدی تنازع کے باعث باہمی تعلقات خراب ہوتے گئے۔ گو کہ 2020 میں بھارت اور چین نے سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ منائی مگر سرد مہری کے ساتھ۔

پھر مئی اور جون 2020 میں جھڑپوں کے نتیجے میں ڈیڑھ درجن بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔ بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جب 2023 کے اوائل میں بھارتی ریاست اروناچل پردیش کا دورہ کیا تو چین نے اس پر اعتراض کیا تھا کیوں کہ وہاں کچھ علاقوں پر چین بھی دعوے دار ہے اور اروناچل کو ایک متنازع علاقہ سمجھتا ہے۔ 2022 میں وہاں کے توانگ سیکٹر پر دونوں ممالک کی جھڑپیں بھی ہوئیں تھیں۔

اروناچل پردیش کے متنازع علاقوں میں بھارت کی مرکزی حکومت نے اربوں روپے سے ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا ہے جس میں بڑی رقوم سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کی جا رہی ہے۔ ان کے علاوہ چین کی سرحدوں کے قریب سکّم، اترکھنڈ اور ہماچل پردیش میں بڑی سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں لیکن حالیہ بارشوں نے ان ترقیاتی کاموں کو بڑی حد تک ملیامیٹ کر دیا ہے اور درجنوں سڑکیں اور پل بہہ گئے ہیں۔

اسی طرح بھارت اور چین کے درمیان ایکچوئل لائن آف کنٹرول کے بہت قریب کیبیتھو کا علاقہ ہے جہاں کی آبادی صرف دو ہزار ہے لیکن یہاں 1962 میں بھارت اور چین کی لڑائی بھی ہوئی تھی اور جنگ میں بھارت کو خاصا نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا اور اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو اس جنگ کے صدمے سے نکل نہیں پائے تھے۔

بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر بڑے تندوتیز بیان دینے کے ماہر ہیں جس سے مودی حکومت اپنی مقبولیت میں اضافہ کرتی ہے لیکن بین الاقوامی تعلقات میں مسلسل گرمی رکھنا بھارت کے مفاد میں نہیں ہے اسی لیے کانگریس کے رہ نما ششی تھرور جو خود ایک اچھے سفارت کار ہیں جے شنکر پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ چین اس کے مقابلے میں بیانات سے زیادہ کام پر یقین رکھتا ہے جس کا چین کو بین الاقوامی طور پر فائدہ ہوتا ہے۔

چین تبّت اور تائیوان کے مسئلوں پر واضح موقف رکھتا ہے جب کہ بھارت ان دونوں محاذوں پر اپنے موقف میں واضح نہیں ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بھارت اب بھی چین کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے کیوں کہ چین کی مجموعی قومی پیداوار بیس ٹریلین ڈالر سالانہ ہے اور بھارت ابھی چار ٹریلین ڈالر کی حد کو بھی نہیں چھو سکا۔

اس طرح چین کی مجموعی قومی پیداوار بھارت سے پانچ گنا زیادہ ہے جب کہ چین کا فوجی بجٹ بھارت سے تین گنا زیادہ ہے اگر چین تقریباً 225 بلین ڈالر فوج پر خرچ کرتا ہے تو بھارت 80 بلین ڈالر بھی خرچ نہیں کر پاتا۔

اب شاید بھارت کو بھی یہ احساس ہو چکا ہے کہ کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں اسے شکست کا منہ دیکھنا ہو گا جیسا کہ 1962 کی جنگ میں ہوا تھا۔ گو کہ بھارت اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے اسے بہتر بین الاقوامی تعلقات کی شدید ضرورت ہے تاکہ وہ جنگ سے بچتے ہوئے ترقی کا راستہ طے کر سکے۔

یاد رہے کہ 2003 میں بھارت میں اٹل بہاری واجپائی کی حکومت نے تبّت کو چین کا حصہ تسلیم کر لیا تھا اور جواب میں چین نے سکّم کو بھارت کا حصہ مان لیا تھا لیکن مکمّل امن کی توقع پوری نہ ہو سکی اور اس کے بعد بھی سرحدی کشیدگی کہیں نہ کہیں سر اُٹھاتی رہی ہے۔

نہرو نے 1954 میں چین سے معاہدے میں آٹھ سال کے لیے چین کا تبّت پر قبضہ تسلیم کیا تھا جو 1962 میں ختم ہوا تو جنگ چھڑ گئی تھی۔ اب یہ خطّہ مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بھارت اور چین سے توقع کی جانی چاہیے کہ وہ ستمبر میں ہونے والے ”جی 20“ اجلاس میں تعلقات کو مزید بہتر بنائیں جس کے اثرات پاکستان پر بھی بہتر پڑ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS