ایتل عدنان، دس لاکھ پرندے اور بیروت: ایک تبصرہ
”دس لاکھ پرندے“ ایتل عدنان کی تحریر کردہ ناول ہے جو کہ بیروت کے پس منظر پر لکھی گئی ہے، اس کتاب کو اردو زبان کے قاریوں تک پہنچانے کا فرض مشہور شاعرہ تنویر انجم نے نباہیا، عکس پبلیکیشن اس کتاب کی پبلشر ہیں۔
یہ کتاب میں نے پہلے اپنے دوست زید رحمت کی بک شلف میں دیکھی تو محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً ”انگشت بدنداں“ کیفیت طاری ہوئی کہ ”دس لاکھ پرندے؟ کہاں کے، کیوں؟ جو جلد ہی دوست نے بھانپ لی۔
”کہا والٹیئر کو جانتے ہو؟“ میں نے کہا بالکل فرانس کے اس عظیم انسان کو کون نہیں جانتا، اس نے کہا ”تو پھر آپ نے یہ بھی سنا ہو گا کہ والٹیئر کو سمجھنے کے لئے آپ کو فرانس کو سمجھنا ہو گا“
میں نے کہاں ہاں لیکن ان باتوں کا اس وقت کہنے کا مطلب کیا ہے؟ اس نے کہا کہ جس کتاب پر آپ کے نظر ہے میں آپ کو دینے کے لئے تیار ہوں لیکن اس کو سمجھنے کے لئے آپ کو بیروت و لبنان کی خانہ جنگیوں کی بارے میں علم ہونا چاہیے۔
چونکہ شام، عراق، فلسطین، لبنان کسی نا کسی طرح سے بہت پہلے سے میرے مطالعہ کا حصّہ رہے ہیں تو میں نے اس کو کتاب اس نیّت سے دوست سے لے کیا کہ چلو آج بیروت کو فکشن کے طرز پر پڑھتے ہیں۔
یہ ناول اپنے موضوع کے علاوہ اور بھی بہت ساری وجوہات کے بنا پر قابل مطالعہ ہے ان میں سے ایک ایتل عدنان کا شاعرانہ طرز بیان کا استعمال کرنا ہے جس نے مجھے اس کتاب کو آخری پَنّے تک پڑھنے کے لئے اکسایا۔
یہ ناول خانہ جنگی سے پہلے ایک خاتون راوی کے ساتھ شروع ہوتا ہے جس میں اس کی دوست شامی تارکین وطن پر مبنی فلم بنانے کی خواہش کو بیان کیا جاتا ہے جو لبنان میں کام کرنے آتے ہیں اور بیروت سے قبل جنگ کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ اس مختصر حصے کے بعد ، ناول نے اپنی توجہ صرف سیٹ میری روز کی موت کی طرف موڑ دی۔ ایتل عدنان بیروت پر مغربی اور مشرقی اثرات کے تضادات کا استعمال کرتے ہوئے ناول کے اہم موضوعات کو واضح کرتی ہے، جس میں صنفی کردار، انفرادیت/ اتحاد/ بیگانگی، سماجی درجہ بندی، اور یقیناً لبنانی خانہ جنگی شامل ہیں۔ لبنانی خانہ جنگی میں ایک ایک عورت کی قتل کی سچی کہانی جو دائیں بازو کی کرسچن کتیب پارٹی کی رکن بن چکی تھی۔ میری روز بولوس شام سے تعلق رکھنے والی ایک تارکین وطن تھیں جنہوں نے بہرے گونگے بچوں کو پڑھایا اور فلسطینی کیمپوں کے لیے سماجی خدمات کو منظم کرنے میں مدد کی۔
جنگ کس حدّ تک خوف ناک ہو سکتی ہے اس بات کا اندازہ آپ ایتل کے اس ناول سے کچھ حد تک اندازہ لگا سکتے ہیں، جیسے کہ اپنے اس ناول میں وہ ایک جگہ لکھتی ہے کہ ”میری خواہش ہے کہ دو راکٹ میرے سر میں سے گزر جائیں مجھے صحیح سالم چھوڑ کے“
ایک اور جگہ پر جب بلڈنگ میں تین مزدور مارے جاتے ہیں تو فلم ساز بغیر کسی غم و افسوس کہتے ہیں، ٹھیک ہے ہم انہیں بھی فلم میں دکھائیں گے، یعنی جو دوسرے لوگ ہیں انہیں ہمدردی نہیں صرف اپنے مفاد سے مطلب ہے
ایک اور جگہ جب قاتلوں کا ایک گروہ پرندوں کے شکار کے لئے آتے ہیں تو عورت اپنے آپ سے کہتی ہے کہ ”میری خواہش ہے کہ لبنان کے آسمان میں دس لاکھ پرندے چھوڑ دیے جائیں تاکہ شکاری ان پر طبع آزمائی کریں اور خون سے بچا جا سکے“
ناول کے دوسرے حصّہ میں راوی کا تبدیل ہونا، گونگے بہرے بچوں کے خیالات جو دیکھ تو سکتے ہیں بول نہیں سکتے۔
کہانی میں، میری روز کو مذہب کی وجہ سے بے دردی سے مار دیا جانا، جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح خود غرضی کی وجہ سے مذہب کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ایتل عدنان ناول میں جنسی برتری پر بھی طبع آزمائی کرتے ہوئی کہتی ہیں کہ یہ مرد خواتین سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ عرب خواتین کو اپنے بیٹوں سے سب سے زیادہ پیار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میری روز، جو جنسی مذہبی اور روایتی اقدار کو چیلنج کرتی ہے تو کس طرح انہیں سزا دی جاتی ہے
مصنف ظاہر کرتی ہے کہ جہاں مشرق وسطیٰ میں خواتین ترقی کر رہی ہیں، وہیں وہ زیادہ نظر آنے پر کم محفوظ بھی ہو گئی ہیں۔ روایتی کرداروں کے خلاف میری روز کی بغاوت نے اس کے قبیلے کے مردوں کو اسے پکڑنے اور سزا دینے پر مجبور کیا۔
یہ کہانی لبنان میں تشدد، اغوا اور مذہبی تقسیم کی تلخ حقیقت کے بارے میں بات کرتی ہے۔ لیکن ہیروئن اور مصنف دونوں کا کہنا ہے کہ اگر لوگ اپنی سوچ کو بدلیں تو چیزیں بدل سکتی ہیں۔ ”Sitt Marie Rose“ ایک مضبوط کہانی ہے جو لبنان کی پیچیدہ اور تکلیف دہ صورت حال کو اس طرح دکھاتی ہیں کہ قاری کو ایسا لگتا ہے وہ بندہ واقعتاً بیروت کے جنگ زدہ ماحول میں زندگی بسر کر رہا ہے

